Muhammad Awais Ghori, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
09 جون 2021 (11:28) 2021-06-09

اگر آپ پاکستان میں یو ٹیوب کا کامیاب چینل بنانا چاہتے ہیں یا اچھے خاصے پیسے کمانا چاہتے تو اس کا سیدھا سا فارمولا یہ ہے کہ پہلے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو سیشن کورٹ سے پھانسی دلوائیں، پھر ہائیکورٹ سے اس کے گلے میں پھندا لگوائیں، اس کے بعد اس کا کیس بھارتی سپریم کورٹ میں لے جائیں اور تاریخ ساز فیصلے کا شور مچا کر اسے ایک بار پھر پھانسی لگوائیں ۔ انڈیا کی عدالتیں ختم ہوں تو اسے عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر یں، وہاں بھی اسے جہنم واصل کریں اور پھر اسے اقوام متحدہ میں لے جا کر پوری دنیا کے مسلمان ممالک سے ووٹنگ کرائیں اور ایک بار پھر پھانسی دلوائیں۔

شدت حیرت سے میرا منہ کھلا ہوا تھا مگر یہاں سوال کرنا تو بنتا تھا، سو میں نے حیرانی سے جسارت کی، مگر اقوام متحدہ سے کیسے ؟ 

پاکستان کے کامیاب ترین یوٹیوبر نے اپنے منحنی سے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ سجاتے ہوئے شایدمیری بیوقوفی کا ماتم کیا اور پھر الٹا سوال داغ دیا ’’ تو کیا باقی جو سب پھانسیاں کرائی ہیں ان کا کوئی وجود ہے ؟ ہم نے تو بس پاکستانی عوام کے جذبات سے کھیلنا ہے ‘‘۔یہ میرے لئے مزید حیرت کا مقام تھا ۔ ’’ کیا مطلب، آپ یہ سب کرتے ہیں تو کیا پاکستانی عوام کو پتہ نہیں چلتا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں، ان کی عقل کا مذاق اڑا رہے ہیں ‘‘۔ میرا یہ سوال بھی بچگانہ سا تھا لیکن اس کا حیران کن جواب آپ کیساتھ شیئر کرنے سے پہلے میں آپ کو اس شخصیت سے تو ملوا دوں جن سے یہ گفتگو ہو رہی تھی۔

میرے سامنے پاکستان کا چوٹی کا یوٹیوبر بیٹھا ہوا تھا، جی ہاں اگر آپ ان کے چینل پر جائیں تو ایک ایک ویڈیو پر کئی ملین ویوز ہیں، ان کا یہ ایک چینل ہی اندازاً دس سے پندرہ لاکھ اور کئی بار اس سے زیادہ ماہانہ کماتا ہے ۔ چینل کی ویڈیوز بہت سادہ سی ہوتی ہے، ایک وائس اوور چلتی ہے اور سکرین پر تصاویر ادھر سے ادھر تیرتی رہتی ہیں، سکرپٹ میں کوئی جان نہیں ہوتی، بولنے والا اپنے انداز سے ہی کم تعلیم یافتہ اور سطحی سا انسان لگ رہا ہوتا ہے لیکن حیران کن طور پر 

پاکستان میں اس طرح کے یو ٹیوب چینلز بہت کامیابی سے چل رہے ہیں اور اچھے خاصے پیسے کما رہے ہیں۔ جن صاحب سے میں ملنے آیا یہ میرے ساتھ ایک ٹی وی چینل میں کام کرتے تھے، وہاں سے انہوں نے یو ٹیوب کا ایک چینل بنایا، پھر دو ہوئے اور اب اللہ کے فضل و کرم سے ان کے درجنوں چینلز ہیں اور ا ن تمام چینلز پر یہ ایک ہی مواد بیچ رہے ہیں، ایک ہی سکرپٹ تھوڑے سے ردوبدل کے ساتھ تمام چینلز پر چلتا ہے، وائس اوور تبدیل ہو جاتا ہے اور اللہ کے سہارے نائو ہے کہ چلتی جا رہی ہے ۔ 

میرا سوال تھا کہ کیا پاکستانی عوام اتنی کند ذہن ہے کہ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں، آپ مودی کو پھانسی پر پھانسی دے رہے ہیں، ترکی کی فوجیں امریکہ بھجواکر اسے تباہ کر رہے ہیں، اسرائیل کے ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہیں، کورونا کے دنوں میں بھارت میں بت توڑ رہے ہیں اور ہندوئوں کو دھڑا دھڑ مسلمان کر رہے ہیں، کشمیر میں بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں، پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے دنیا بھر میں آئے روز کامیاب مشن کرائے جا رہے ہیں، فلسطین کی فوجوں کو اسرائیل میں داخل کر کے درجنوں فوجیوں کو ہلاک کرا رہے ہیں، مسلمانوں کا نیا عالمی بینک بنا کرمغربی معیشت کی کمر توڑ رہے ہیں یا ایسے ہی ان گنت جھوٹ بول رہے ہیں لیکن پاکستانی عوام آپ کی بات پر یقین کر رہی ہے ؟ یوٹیوبز صاحب کا فرمانا تھا کہ ’’ پاکستانی عوام بہت جاہل ہے ( میں ویسے اس سے اتفاق نہیں کرتا ) ، انہیں گھٹی میں یہ بات دی جاتی ہے کہ انڈیا کو تباہ کرنا ہے، اسرائیل کو نیست و نابود کرنا ہے، ہندو ہمارے دشمن ہیں، سائنس جھوٹ پر مبنی ہے، پاکستان کو سیاستدانوں نے تباہ کر دیا ہے اور اس کے ساتھ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ پاکستانی عوام کو کتابیں پڑھنے کا کوئی شوق نہیں، عالمی سائنسی فتوحات سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں، تاریخ کا ان کو شدھ بدھ نہیں اور جو ان کو سینہ بسینہ ملا ہے یہ اسی پر من و عن یقین کرتے ہیں، ان کو آپ کوئی بھی سائنسی تھیوری بتا دیں یہ اس پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیں گے، یہ کوشش نہیں کریں گے کہ انٹرنیٹ پر جاکر اس کی تصدیق کر لیں۔ اسی طرح پاکستانی عوام مذہب سے والہانہ لگائو رکھتی ہے، کفار سے بے انتہا نفرت کرتی ہے اور علم سے ان کا کوئی تعلق نہیں، ان کو آپ کوئی بھی مذہبی واقعہ یوٹیوب پر سنا دیں یہ ہزاروں کی تعداد میں اس پر سبحان اللہ کرتے نظر آئیں، آپ مودی کو پھانسی لگا دیں یہ اس پر ریاستی اور مذہبی نعرے لگاتے نظر آئیں گے ۔

یوٹیوب صاحب نے کافی کا سپ لیتے ہوئے اپنا بیان جاری رکھا، پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان نے اسی لئے تو تسبیح ہاتھ میں پکڑ لی ہے کہ وہ اس کو دکھا دکھا کر وقت پورا کر لیں گے اور کوئی ان سے صرف اسی لئے سوال نہیں کرے گا کہ یار بندہ تو نیک ہے، ہم جب اپنے یوٹیوب چینل پر عمران خان کی تسبیح والی تصویر لگاتے ہیں تو پاکستانی عوام اس کو بہت پسند کرتے ہیں اور ہم پر ڈالروں کی بارش ہوتی ہے، پاکستانی عوام کا اس بات پر یقین ہے کہ سیاست چور ہوتے ہیں اس لئے ہم سیاستدانوں کو جتنی بھی گالیاں نکال لیں، ان کے جتنے بھی جھوٹے سکینڈل سامنے لے آئیں ہمارے بینک بیلنس میں اضافہ ہی ہوتا ہے ۔ ہم عمران خان کا ایک بیان لے کر جھوٹے کارنامے گنوانا شروع کردیتے ہیں اور پاکستانی عوام ہماری لمبی لمبی جھوٹ پر مبنی ویڈیوز دیکھتی ہیں۔

یوٹیوبر اب شاید بات ختم کرنا چاہ رہے تھے ’’ آپ دیکھیں کہ ہماری ویڈیو پر ملینز میں ویوز آتے ہیں جبکہ آپ جیسے جتنے بھی لوگ پاکستان میں ہسٹری پر، کرنٹ افیئرز پر ویڈیو بناتے ہیں ان کی ویڈیو پر شاز و نادر ہی ویوز لاکھ سے اوپر جاتے ہیں، آپ لوگ ایک ایک سکرپٹ پر کتنے دن محنت کرتے ہیں، یوٹیوب چینل کیلئے پوری ٹیم ہائر کرتے ہیں مگر آپ کا منجن پاکستان میں بکنے والا نہیں۔ وہ آپ کو پی کے مووی کا سین یاد ہے جس میں عامر خان ایک کالج کے باہر پتھر پر تلک لگا کر مذہب کی دکان بنا لیتا ہے اور پھر وہاں پر مذہب کا د ھندا چل نکلتا ہے اور سٹوڈنٹ امتحان میں کامیاب ہونے کیلئے سجدے شروع کر دیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ہم نے بھی پاکستان میں جہالت کا دھندہ شروع کر رکھا ہے، ہم جھوٹے بولتے جا رہے ہیں اور پاکستانی عوام ہمارے سامنے سر جھکائے ڈالروں کے ڈھیر لگاتی جا ر ہی ہے۔ رہے نام اللہ کا ۔


ای پیپر