کورونا ، سرکار اور عوام
09 جون 2020 2020-06-09

کورونا کے حوالے سے لاپرواہی و بداختیاطی کے جس بدترین مقام پر ہمارے حکمران کھڑے ہیں بالکل اس مقام پر عوام بھی کھڑے ہیں۔ چنانچہ کورونا جنگل میں آگ کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔ اور ہمارے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں ہم خود کو مکمل طور پر کورونا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں کہ اب جو کرنا ہے کورونا نے کرنا ہے۔ عوام نے وہ کچھ بھی نہیں کیا جو ہم آسانی سے کر سکتے تھے اور اس آزمائش یا وباءکے اثرات سے کسی حد تک بچا جا سکتا تھا۔.... دوسری جانب ہمارے حکمران ہیں جو چھوٹے چھوٹے بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، ان بے چاروں میں اتنی اہلیت ہی نہیں تھی اتنی بڑی وباءیا اتنے بڑے بحران سے نمٹنے کے لئے کوئی حکمت عملی کسی سے بھی ادھار ہی پکڑ لیتے جس سے جانی نقصان ذرا کم ہوتا۔ یہ درست ہے پوری دنیا اس وباءکی لپیٹ میں ہے اور ترقی یافتہ ممالک کو بھی اس سے نمٹنے کے لئے خاصی دشواریوں کا سامنا ہے اس کے باوجود کہ ترقی یافتہ ممالک نے اس وباءسے نمٹنے کے لئے ہر حربہ یا طریقہ آزمایا مگر اس میں انہیں قابل ذکر کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ سو ان حالات میں پاکستان جیسا ملک جس کے حکمران چھوٹے سے کسی بحران کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ، نہ ہی ان کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ ایسے بحرانوں سے وہ نمٹ سکیں، ہم ان سے کیا توقعات وابستہ کر سکتے ہیں؟۔ البتہ اس حوالے سے وہ اپنا یہ ”بنیادی فریضہ“ ضرور ادا کرتے رہے ہیں کہ اس معاملے میں بھی اپنی نااہلیوں کا سارا ملبہ سابقہ حکمرانوں پر ڈال کر خود کو مکمل طور پر بری الزمہ قرار دیں۔.... نااہل حکمران تو خیر ویسے ہی آبادی کم کرنے کے ”کورونائی فارمولے“ پر عمل کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ پر مجھے حیرت اپنے عوام پر بھی ہوتی ہے جنہیں موت کا کوئی خوف نہیں رہا۔ حالانکہ موت کا اس صورت میں ڈبل خوف ہونا چاہئے کہ ہمارے حکمرانوں کے پاس اس وباءسے نمٹنے کے لئے سوائے خالی بیان بازیوں کے عملی طور پر کچھ نہیں ہے.... میں جب پوری احتیاطی تدابیر اختیار کر کے کسی بازار کسی محلے کسی سڑک پر نکلتا ہوں مجھے لوگوں کی بے احتیاطیاں دیکھ کر خوف آتا ہے۔ دوچار لوگوں نے اگر غیر معیاری ماسک پہنے بھی ہوتے ہیں تو یہ ماسک منہ یا ناک پر رکھنے کے بجائے ”تھوڈی“ پر رکھے ہوتے ہیں۔ اور جن بے شمار لوگوں نے ماسک نہیں پہنے ہوتے وہ ابھی تک اس انوکھی منطق کے نہ صرف خود قائل ہیں بلکہ دوسروں کو بھی قائل کرنے کی پوری کوششیں کرتے ہیں کہ ”جو رات قبر میں آنی ہے باہر نہیں آ سکتی“۔ انہیں آپ لاکھ سمجھالیں ”حضور احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کا سیدھا سیدھا مطلب ”خود کشی“ ہے، جو اسلام میں حرام ہے“۔ پر وہ اپنے اس موقف میں ذرا نرمی برتنے کے لئے تیار نہیں کہ موت کا ایک دن مقرر ہے۔ لہٰذا کورونا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا.... یہ بھی درست ہے اس وقت ملک میں غربت اسقدر بڑھ چکی ہے کہ حکومت کی جانب سے عوام کو کورونا سے بچنے کے لئے جو اختیاطی تدابیر اپنانے کے لئے کہا جا رہا ہے اپنی غربت کے باعث وہ ان پر عمل کرنے سے قاصر ہیں۔ غربت کے مارے ہوئے اکثر لوگ ایک صابن تک خریدنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے۔ میں نے کئی ایسے غریب لوگ دیکھے جو ہاتھوں پر مٹی مل کر ہاتھ صاف کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ معیاری ماسک کا ان کے ہاتھ لگنا بھی ایک ناممکن عمل ہے۔ یقین کریں میں نے کچھ ایسے لوگ بھی دیکھے جنہوں نے منہ پر شاپر باندھ رکھے تھے۔ ہماری حکومت عوام کو بار بار اختیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کرتی ہے پر وہ اس حقیقت کو سمجھنے سے عاری ہے کہ بے شمار لوگ یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔ حکومت کو چاہئے اپنی ”ٹائیگر فورس“ جو کہیں دیکھائی نہیں دے رہی ، یا صرف سوشل میڈیا اور کاغذوں میں ہی دیکھائی دے رہی ہے کا کوئی وجود اگر ہے تو اس کے ذریعے بڑی تعداد میں ماسک ، صابن اور سینی ٹائزر وغیرہ۔

غریبوں کی بستیوں خصوصاً کچی آبادیوں میں تقسیم کروائے۔ اور ساتھ ہی ساتھ ایک ٹیم انہیں اس کے پراپر استعمال کے طریقے بھی بتائے اور انہیں قائل کرے کہ یہ عمل ان کی صحت کے لئے کسی قدر ضروری ہے۔ حکمرانوں خصوصاً محکمہ صحت کی جانب سے ایسا کوئی اقدام ابھی تک نہیں ہوا۔ ہماری حکومت کے بے شمار اقدامات سے یوں محسوس ہوتا ہے ہمارے حکمرانوں نے کسی خاص مقصد کے تحت لوگوں کو خود اجازت دے رکھی ہے کہ وہ کورونا کے معاملے میں بے احتیاطی کا مظاہرہ کر کے موت کے منہ میں اگر جانا چاہیں انہیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ بلکہ اس صورت میں انہیں یہ ”سہولیات“ بھی فراہم کی جائیں گی کہ احتیاط نہ کرنے والوں کو سزا نہ دینے کی کوئی پالیسی نہیں بنائی جائے گی جس سے لوگوں کے دلوں میں کوئی خوف پیدا ہو ، جو جان بوجھ کراحتیاط نہیں کرتے انہیں باقاعدہ کسی قانون کی گرفت میں لا کر باقیوں کو کوئی سبق دیا جائے۔ یہ بھی ایک المیہ ہے اس حوالے سے کوئی قانون یا ضابطہ اگر بنایا بھی گیا اس پر عمل درآمد کروانے والے ادارے اور شخصیات بجائے اس کے انسانیت کی سچی خدمت کے تحت نیک نیتی کے ساتھ اس پر عمل کروائیں الٹا اس سے اپنی جیبیں گرم کرنے لگیں گے۔ جیسا کہ پچھلی بار لاک ڈاﺅن کے دوران کچھ لوگ دکانیں کھول کر سرکار کی لاک ڈاﺅن پالیسی کو پاﺅں تلے روند کر مختلف اداروں اور ان سے وابستہ شخصیات خصوصاً پولیس کی خوب جیبیں گرم کرتے رہے۔ پولیس اور انتظامیہ سے وابستہ لوگ چھوٹے چھوٹے دکانداروں کو دکانیں کھولنے کے جرم میں پکڑ کر لے جاتے تھے اور ”نذرانے“ وغیرہ وصول کر کے انہیں چھوڑ دیتے تھے.... ہماری حکومت اور ہمارے حکمرانوں کی نااہلیاں تو کورونا کے تیزی سے پھیلاﺅ سے بہت پہلے ہی شروع ہوگئی تھیں۔ کم از کم مجھے اپنی زندگی میں پہلی بار یہ احساس ہو رہا ہے اس ملک کا اور اس کے غریب عوام کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ ان کی ”عقل مندی“ ذرا دیکھیں جب کورونا ابتدائی مراحل میں تھا۔ ابھی چند ہلاکتیں ہی ہوئی تھیں پورے ملک کو لاک ڈاﺅن کر دیا گیا اور اب جبکہ کورونا ہر گلی ہر محلے ہر شہر ہر گاﺅں ہر قصبے میں پوری طرح اور بری طرح اپنے پنجے گاڑ رہا ہے اور اموات کی شرح خوفناک حد تک بڑھ رہی ہے تو حکومت اس جواز کے تحت ہر چیز کھولتی جا رہی ہے کہ ”ہم لوگوں کو بھوک سے نہیں مار سکتے“۔ کاش کوئی انہیں بتائے بھوک سے کوئی نہیں مرتا۔ رزق کے معاملات اللہ نے اپنے ذمے لئے ہیں۔ وہ پتھروں میں کیڑوں کو رزق پہنچا سکتا ہے تو کہیں بھی پہنچا سکتا ہے!!


ای پیپر