عید کے بعد
09 جون 2019 2019-06-09

عید تو جیسے تیسے گزر گئی۔قوم کو اور کچھ نہیں تو طویل چھٹیاں مل گئی۔ مہنگائی ، گرانی اور ذخیرہ اندوزوں کی چیرہ دستیوں کا شکار قوم نے کچھ روز تو گھروں میں چھپ کر گزار لیے ہوں گے۔ باہر تو ان کے اپنے ہم وطن تاجر گھات لگا کر لوٹنے کیلئے تیار بیٹھے تھے۔ کوئی قسمت کا مارا سبزی ، پھل گوشت خریدنے باہر تو نکلے۔ پھر اس کو من مانے نرخوں کی تیز دھار چھری سے ایسا ذبح کیا جائے گا۔ کہ گردن ہلانے کی مہلت بھی نہ ملے۔ عید گزر گئی لیکن مہنگائی کا یہ طوفان اپنے زور و شور جاری و ساری ہے۔ البتہ حکومت وقت نے اپنے تئیں اپنے شغلیہ دور حکومت میں عوام کو بھر پور تفریح مہیا کی۔ پی ٹی آئی کے فدائین کو نئی تاریخ رقم کرنے کا موقع ملا۔ اہل پاکستان نے یہ تاریخی منظر دیکھا کہ ایک صوبہ نے جہاں سب سے پہلے تبدیلی کا نزول ہوا تھا۔ اس صوبے میں عوام الناس نے اٹھائیس روزوں پر عید منائی۔ صوبائی وزیر نے آن ریکارڈ فرمایا کہ عید منانے کیلئے حاکم وقت سے باقاعدہ اجازت لی گئی۔ وہی مفتی پوپلزئی جو کبھی غیر سرکاری طور عید کا اعلان کیا کرتا تھا۔ اس دفعہ اس کے اعلان کو سرکاری حیثیت کی سند مل گئی۔ ایک ہی پارٹی کی حکومت میں مرکز اور صوبوں میں الگ الگ عیدیں منا کر نئے پاکستان کی سچی اور حقیقی عملی تصویر پیش کی گئی۔ عید کے روز بھی حاکم وقت نے اپنی رہائش گاہ پر نماز عید ادا کرکے اور اپنے ہی عملہ کے ساتھ گھل مل کر ایک اور تاریخ ساز ریکارڈ اپنے نام کیا۔ اعتماد کا یہ عالم کہ اس مختصر سے عوامی اجتماع کی تصاویر اور بھونڈے انداز میں ایڈیٹ کی گئی ویڈیو بھی بصد اہتمام ریلیز کی گئی۔ نماز عید کے وقت کے متعلق فی الحال سرکاری راوی مہر بلب ہے۔ عید ہی کی چھٹیوں میں تین مرتبہ کے وزیر اعظم نواز شریف کو اہل خانہ سے ملاقات کا اذن بھی نہ ملا۔ نہ ہی خوش قسمت صوبہ پنجاب کے اڑتیس ترجمانوں کو فرصت ملی کہ وہ عوام کو یہ بتا دیتے کہ تاحیات نااہل نواز شریف کے ساتھ ملاقات کی اجازت مل جاتی تو کون سی قیامت آجاتی۔ ہم نے تو سنا ہے کہ قیدیوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔لیکن یہ تین درجن ترجمان تو شاید ترجمانی کیلئے کسی کام کی تلاش میں ہے۔ ورنہ نواز شریف اور مریم نواز پر تنقید کے سوا بھی بہت کام باقی تھے۔ مریم نواز کا نام مریم صفدر ہے یا بلاول بھٹو کے ساتھ زرداری لگنا ہے یا بھٹو۔ اس سے بھی ضروری کئی کام تھے۔ ساہیوال کے ہسپتال میں دم گھٹنے سے مرجانے والے بچوں کے مجرم کو بھی تلاش کیا جاسکتا تھا۔ سانحہ ساہیوال میں یتیم ہونے والے بچوں کے سر پر ہاتھ بھی رکھا جاسکتا تھا۔ جناب چیف ترجمان لاہور میں ان تین بہن بھائیوں کے گھر کا وزٹ کرتے تو فوٹو سیشن بھی اچھا ہو جاتا۔ ویسے بھی عید کا دن تھا رسم دنیا بھی تھی موقع بھی تھا دستور بھی تھا۔

عید گزشتہ تو نئے پاکستان کی پہلی عید تھی۔ آج جب عید کے ہنگامے ماند پڑ گئے۔ طویل رخصت پر گئے پردیسی اپنے دفتروں میں لوٹ آئے۔ ایسے میں وفاقی دارالحکومت کا سیاسی ٹیمپریچر رفتہ رفتہ بڑھ رہا ہے۔ڈیل کی باتیں تو اب داخل دفتر ہوئیں۔ نہ جانے کیوں پورے تیقن کے ساتھ ڈیل کی خبریں پھیلانے والے شرمندہ کیوں نہیں ہوتے۔ شاید دل میں ہوتے ہونگے۔ اتوار کی صبح شہباز شریف ڈیل کی خبروں پر "ریجکٹڈ " کی مہر لگانے لاہور ائر پورٹ پر لینڈ کر چکے ہیں۔ سوموار کے روز ہی مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس ہوگا۔ آج ہی آصف زرداری کی عبوری ضمانت کے حوالے سے پیشی ہے۔کئی مرتبہ ان کو عبوری ضمانت مل چکی ہیڈ لیکن کب تک۔ پچھلی پیشی پر تو قرائن بتاتے تھے کہ ضمانت مسترد ہوگئی۔ کو رٹ روم کے دروازے پر بکتر بند گاڑی لگ چکی تھی۔لیکن پھر مزید توسیع مل گئی۔ بہر حال آج اس کا فیصلہ ہوگا۔ آج ہی کے روز سالانہ قومی اقتصادی سروے جاری ہوگا۔ دستاویز تو خفیہ ہے۔ لیکن اشارے مل رہے ہیں کہ نو آموز طالب علم نہایت اعلی نمبروں سے فیل ہورہا ہے۔ منگل کے روز نواز شریف کی درخواست ضمانت پر فیصلہ کے اور اسی روز سالانہ میزانیہ پیش ہوگا۔ اس پر تبصرہ بعد میں۔ چودہ جون کو سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر صدارتی ریفرنس کا پل صراط درپیش ہوگا۔ وکلا دھرنا دیے بیٹھے ہوں گے۔ اسی ہفتہ کے اختتام پر مریم نواز کے خلاف الیکشن کمیشن میں دائر ریفرنس کی سماعت ہے۔ بجٹ پاس ہونے کا مرحلہ ابھی دور ہے۔ یہ ہفتہ رواں بہت اہم ہے۔ اس ہفتے کے واقعات سیاسی مستقبل کے اہم فیصلوں کے نقیب ہوں گے۔ عید کے بعد شاید خبروں کے متلاشی اہل صحافت کو سر کھجانے کا موقع بھی نہ ملے۔


ای پیپر