مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کی عید
09 جون 2019 2019-06-09

بھارت میں بی جے پی اور نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد جہاں انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات بڑھ گئے ہیں اور انہیں گائے ذبیحہ اور دیگر بے بنیاد الزاما ت کے تحت وحشیانہ ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے‘ اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی دہشت گردی اور قتل و غارت گری پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے۔ رمضان المبارک کے مقد س ایام میں روزانہ کسی نہ کسی علاقے میں نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر کشمیریوں کو خون میں نہلایا جاتا رہا ، لوگوں کی املاک تباہ کی گئیں اور ان کی معیشت کو نقصانات سے دوچار کیا گیا۔سینکڑوں افراد ایسے ہیں جنہیں اسی ماہ مقدس میں پیلٹ گن کے چھروں، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ سے زخمی کیا گیا۔ درجنوں نوجوان وہ ہیںجن کی آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے ان کی بینائی ختم ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ بھارتی فوج اور قابض انتظامیہ کی درندگی کا عالم یہ ہے کہ اس مقدس مہینہ میں بھی ہر جمعہ کے موقع پرسری نگر کی تاریخی جامع مسجد سیل کر کے ہزاروں کشمیریوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکا جاتا رہاجس پر ہزاروں کشمیریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے مداخلت فی الدین قرار دیامگربھارتی فوج اور حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ ماہ مبارک کے ایام میں دنیا بھر میں مسلمان عیدالفطر کی خوشیاں منانے میں مصروف رہے لیکن مقبوضہ کشمیر ایسا خطہ ہے جہاں عوام کو عید کی خوشیاں بھی صحیح معنوں میں دیکھنا نصیب نہیں ہوئیں۔ عیدکی آمد سے قبل ہی بھارتی فورسز نے پورے کشمیرکو فوجی چھائونی میں تبدیل کر دیا ، حسا س علاقوں میں اضافی نفری تعینات کی گئی او رجامع مسجد سری نگر سمیت دیگر علاقوں میں نام نہاد سکیورٹی انتظامات کے بہانے کرفیو کی صورتحال پیدا کر کے کشمیریوں کا جینا دوبھر کر دیا گیا۔ مقبوضہ کشمیرمیں ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوامظلوم کشمیری قوم کو ہر سال عید کے پرمسر ت موقع پر ایسی ہی کربناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بھارتی فوج کی طرف سے کشمیر میں اس وقت دو لاکھ سے زائد کشمیری شہید کئے جاچکے ہیں۔ دس ہزار سے زائد نوجوان لاپتہ ہیںمگر ان کے بارے میں کسی کومعلوم نہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں؟ہر سال جب عید الفطر، عیدالاضحی یا کوئی اور خوشی کا موقع ہوتا ہے تو ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ نوجوانوں کے اہل خانہ کے زخم پھر سے ہرے ہو جاتے ہیں۔وہ سالہاسال سے اپنے پیاروں کی تلاش میں خاک چھانتے پھرتے ہیں مگر آج تک ان سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

کشمیر میں قابض بھارتی فوج کا معمول ہے کہ وہ ہر سال عیدین کے موقع پر بھی ظلم و دہشت گردی سے باز نہیں رہتی۔ اس عید پر بھی بھارتی فوج نے بدترین درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4کشمیری نوجوانوں کو شہید اور بیسیوں افراد کو زخمی کر دیا۔ سری نگر سمیت دیگر کئی علاقوں میں چیکنگ کے نام پر لوگوں کو زبردستی نماز عید کی ادائیگی سے روکا جاتا رہاجس پر مختلف علاقوں میں بھارتی فورسز اور کشمیریوں کے مابین جھڑپیں ہوئیں اور نوجوانوں کی جانب سے زبردست پتھرائو کے واقعات بھی پیش آئے۔ مقبوضہ کشمیر میں اس سال عیدالفطر ایسے موقع پر آئی ہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والے لوک سبھا الیکشن میں ایک مرتبہ پھر بی جے پی برسراقتدار آئی ہے اور نریندر مودی نے اپنی کابینہ کے وزراء سمیت حلف اٹھالیا ہے۔ بی جے پی کی جیت کے ساتھ ہی کہا جارہا تھا کہ اب کشمیر میں ظلم و دہشت گردی بڑھے گی اورہندوستانی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی جانب سے کشمیری رہنمائوں کو جیلوں میں ڈالنے اور جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت والی دفعات ختم کرنے کی سازشوں میں شدت آئے گی۔ دیکھا جائے تو یہ سب باتیں درست ثابت ہوئی ہیں۔ بھارت میں اجیت دوول جنہیں مودی حکومت کی جانب سے قومی سلامتی کا ایک بار پھر مشیر مقرر کیا گیا ہے‘ نے حال ہی میں کشمیر سے متعلق اہم میٹنگیں کی ہیں جن میں بظاہر تو کشمیر کی سکیورٹی صورتحال اور دوسرے امور کا جائزہ لینے کی بات کی گئی ہے تاہم حقیقت ہے کہ سرکاری سرپرستی میں کشمیریوں کی نسل کشی کی نئی منصوبہ بندی کی گئی۔ قابض سرکار نے امرناتھ یاترا کی سکیورٹی کے بہانے الیکشن کے دنوں میں تعینات کی جانے والی فوج بھی کشمیر میں روک لی ہے اور انہیں وادی کشمیر کے حساس علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے جس سے بھارتی عزائم کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔ اس لئے یہ کہنا بعید از قیاس نہیں ہے کہ آنے والے دنوں میں کشمیرمیں قتل و غارت گری میں مزید اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ کشمیر میں اس مرتبہ پی ڈی پی الیکشن ہار گئی ہے۔ محبوبہ مفتی اپنی نشست بھی نہیں بچا سکیں۔ کشمیری عوام نے پی ڈی پی کے بی جے پی سے اتحاد اور اس کے ساتھ مل کر اختیار کی گئی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا اس لئے نیشنل کانفرنس وادی کشمیر میں لوک سبھا کی تینوں نشستوں پر کامیاب رہی ہے۔ فاروق عبداللہ سری نگر،محمدا کبر لون بارہمولہ اور جسٹس (ر) حسنین مسعودی اسلام آباد(اننت ناگ)سے کامیاب ہوئے ہیں۔اگرچہ نیشنل کانفرنس نے بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے سے انکار کیا ہے لیکن یہ سب کٹھ پتلیاں او ربھارت کے اشاروں پر ناچنے والے لوگ ہیں، اس لئے ان کے متعلق یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ کیا رخ اختیار کریں گے۔ بہرحال ایک بات طے ہے کہ بی جے پی کی حکومت حریت کانفرنس کے قائدین پر شکنجہ مزید کسنا چاہتی ہے۔ پہلے جماعت اسلامی اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندیاں لگائی گئیں۔ محمد یٰسین ملک، شبیر احمد شاہ ، سیدہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین اور دیگر لیڈروں کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنا کر انہیں ہندوستانی جیلوں میں ڈالا گیاتو اب حریت کانفرنس پر بھی پابندیاں لگانے کی کوششیں کی جائیں گی۔ بزرگ کشمیری قائد سیدعلی گیلانی پہلے ہی طویل عرصہ سے نظر بند ہیں اور انہیں جمعہ اور عیدین کی نمازوں کی ادائیگی تک کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اسی طرح میر واعظ عمر فاروق کو بھی بار بار نوٹس بھجوا کر نئی دہلی طلب کیا جاتا ہے۔ مودی سرکار نے پچھلے دو سال میں این آئی اے کو کشمیری قیادت کے خلاف جنگی ہتھیار کے طو رپر استعمال کیا ہے۔ اب جب انڈیا میں دوبارہ بی جے پی کی حکومت آئی ہے تو حریت کانفرنس پر پابندیوں اور جو کشمیری لیڈر ابھی آزاد ہیں ان کے خلاف مقدمات بنا نے جیسے مذموم حرکتیں ضرور کی جائیں گی۔ بھارت کی پوری کوشش ہے کہ کشمیری قائدین میں سے کوئی بھی آزادانہ طو ر پر چلتا پھرتا نظر نہ آئے تاکہ کوئی کشمیری قوم کی قیادت کرنے والا نہ ہو اور وہ اپنے مذموم ایجنڈوں پر آسانی سے عمل پیرا ہو سکیں۔ اگرچہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں ظلم و دہشت گردی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی مگر اس کے باوجودکشمیری پرعزم ہیں اور میدانوں میں برسرپیکار رہتے ہوئے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھامے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے مطابق روزے رکھتے اور عیدمناتے ہیں۔وہ اپنی گھڑیوں کو پاکستانی وقت کے مطابق رکھنا پسند کرتے ہیں اورالحاق پاکستان کی بات کرتے ہوئے اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ کشمیری قوم پاکستان کو اپنا سب سے بڑا وکیل سمجھتی ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستانی حکومتوں نے مظلوم کشمیریوں کی مددوحمایت کیلئے وہ کردار ادا نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھے۔ موجودہ حکومت بھی اس سلسلہ میں ابھی تک کوئی مضبوط پالیسی مرتب نہیں کر سکی ہے۔ بی جے پی نے برسراقتدار آتے ہی جس طرح جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے حکومت پاکستان کو بھی ہر قسم کی مصلحت پسندی سے بالاتر ہو کر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بھرپور سفارتی مہم چلائی جائے اور بھارت پر دبائو بڑھایا جائے کہ وہ کشمیریوں کو یو این کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق خودارادیت دے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ دنیا کو یہ بات بھی باور کروائے کہ یہ مسئلہ کشمیر ہی ہے جس نے دو ایٹمی طاقتوں کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ جب تک انڈیا کا کشمیر پرناجائزقبضہ قائم رہے گا اور کشمیریوں کو ان کے حقوق نہیں ملیں گے جدوجہد آزادی کشمیر ہر صورت جاری رہے گی اور جنوبی ایشیا میں کسی صورت امن قائم نہیں ہوسکے گا۔


ای پیپر