کمر توڑ مہنگائی کیخلاف کمر توڑ تحریک؟
09 جون 2019 2019-06-09

عید الفطر کی گہما گہمی ختم ہوتے ہی اپوزیشن نے کمر کس لی، کہتے ہیں کمر توڑ مہنگائی کیخلاف کمر توڑ تحریک چلائیں گے۔ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر صرف بیانات کے گولے داغنے سے ’’دشمن‘‘ کے مورچے تباہ کیسے ہوں گے۔ گرما گرم تحریک کیسے چلے گی؟ اپنی کمر مضبوط نہیں حکومت کی کمر کیسے توڑیں گے؟ جس کی کمر ایک سال بعد بھی بادی النظر میں خاصی مضبوط ہے شاید اسی لیے حکومتی وزیروں، مشیروں، گرد و نواح کے ایروں غیروں کو کامل یقین ہے کہ کچھ نہیں ہوگا۔ ایک صوبہ کے گورنر نے بڑے طمطراق سے کہا اپوزیشن کی تحریک پانی کا بلبلہ ثابت ہوگی۔ کسی نے ہانک لگائی سیاں بھئی کو توال پھر ڈر کاہے کا، بیانات سے کچھ نہیں ہوتا۔ بس اندھیروں کی پرستش ہو رہی ہے۔ چراغوں کو بجھایا جا رہا ہے۔ کمر توڑ تحریک کیلئے حکمت عملی کیا ہے؟ کچھ پتا نہیں، شنید ہے کہ مولانا فضل الرحمان آل پارٹیز کانفرنس بلا رہے ہیں اس میں کوئی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ اس سے پہلے ہی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 10 جون کو ہی کارکنوں کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دے دی۔ یعنی پیپلز پارٹی نے دیگر اپوزیشن پارٹیوں کا انتظار کیے بغیر ہی حکومت مخالف تحریک شروع کردی، تحریک شروع کی ہے تو ’’کچھ باعث تحریک‘‘ بھی ہے۔ والد محترم کی پیشی ہے ضمانت میں توسیع ہوگئی تو خیر ورنہ گرفتاری، سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گرفتاری اتنی آسان نہیں ہوگی حالات بگڑیں گے کارکن چپ نہیں رہیں گے۔ مظاہروں کیلئے سڑکوں پر نکل آئے تو بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوں گے۔ جس کے بعد ژالہ باری ہوگی اور ’’دشمن‘‘ کھائے ہوئے بھوسے کی طرح تباہ و برباد ہوجائے گا۔ اس کے ایک ہفتہ بعد ہی یعنی 16 جون سے جماعت اسلامی کے ’’سربکف مجاہدین‘‘ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ سولو فلائٹ لیکن عزم و حوصلہ اور عددی لحاظ سے تحریک کے خطرناک مرحلے کا آغاز ہوجائے گا بقول شخصے۔

مظلوم جب کریں گے بغاوت کا فیصلہ

وہ فیصلہ ہی ہوگا قیامت کا فیصلہ

لیکن ن لیگ ابھی تک چلمن میں بیٹھی ’’تماشائے اہل کرم‘‘ دیکھ رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کتنا سمجھایا کہ’’ تماشا خود نہ بن جانا تماشا دیکھنے والے‘‘ لیکن ن لیگ ابھی تک مزاحمت اور مفاہمت کے دوراہے پر کھڑی کسی انجانی سمت سے گرین سگنل کا انتظار کر رہی ہے۔ حوصلوں کی کمی ہے یا حکمت عملی کا فقدان، پالیسیاں بنانے والے ساتھ چھوڑ گئے یا چراغوں نے اپنا مزاج بدل لیا اور مصلحتوں کی بکل مارے منہ چھپا کر بیٹھ گئے۔ چاروں کھونٹ بکھرے کارکن کسی فیصلے کے منتظر مگر فیصلے صادر کرنے والا خود اوپر کے کسی فیصلے کے انتظار میں 7 سالہ قید کے دن اور رات شمار کر رہا ہے اور جمعرات کی جمعرات ملاقات کرنے والوں سے کہہ رہا ہے کہ

قفس میں ہوں مجھے آزادیاں آواز دیتی ہیں

کہ پھر پر تول لو پروائیاں آواز دیتی ہیں

سارے حلیف اسی کے منتظر لیکن حریف جانتے ہیں کہ جس دن جیل کے دروازے کھل گئے اسی دن روشنی کی دشمن ہوائوں کے اشاروں پر چلنے والے چراغ بجھ جائیں گے۔یہ مبالغہ نہیں لوگوں کے دلوں کا خوف بیانات کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ۔ اس ایک شخص کی شرکت کے بغیر کمر توڑ تحریک کسی متحدہ پلیٹ فارم کے بغیر چلے گی۔ کامیابی یا ناکامی جواب ففٹی ففٹی، تجزیاتی رپورٹ کے مطابق تحریک کے نتیجے میں تحریک ضرور پیدا ہوگی لیکن کمر نہیں ٹوٹے گی، بلا شبہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے لوگ خوف سے سہمے ہوئے ہیں کہ بجٹ کے بعد مہنگائی 20 فیصد بڑھ جائے گی۔ غربت میں 34 فیصد اضافہ ہوجائے گا اخبارات روزانہ خبریں شائع کیا کریں گے کہ

کل پھر کسی غریب نے تنگ آ کے بھوک سے

اپنے جگر کے ٹکڑے کو نیلام کردیا

آئی ایم ایف کے 6 ارب ڈالر کا معاہدہ بجلی گیس پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، روپے کی بے قدری بلکہ بے عزتی اور ڈالر کی قوت پرواز میں اضافہ سے مشروط ہے۔ بجٹ خسارے میں کمی کی خوشخبری کسی جھرلو کی مرہون منت نہیں بلکہ مہنگائی میں ہوشربا اضافہ اور سبسڈی کے خاتمے کا نتیجہ ہے۔ کھربوں کے نوٹ چھاپتے جائو افراط زر میں اضافہ ہوگا۔ مہنگائی کر کے ہی خسارے میں کمی کی جاسکتی ہے۔ اقتصادیات کا سیدھا فارمولا فہوالمطلوب، 2700 ارب کا تاریخی خسارہ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ وزیر مشیر مہنگائی کا اعتراف کرتے ہیں لیکن اسے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی لوٹ مار کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، کمال ہے دونوں کی حکومتوں کے دوران کبھی یہ شور و غوغا نہیں ہوا کنٹینر سے بھی مہنگائی کی صدائیں نہیں ابھریں 126 دن کے تاریخی دھرنے کے دوران صرف کرپشن کے نعرے لگتے رہے، کرپشن آج تک ثابت نہ ہوسکی، ایک سال میں کیا تباہی آگئی کہ ہر طرف مہنگائی کے نعرے بلند ہونے لگے، ن لیگ کے ذمہ دار تو آج بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے ایسی معیشت چھوڑی جس کی شرح نمو 5.8 فیصد تھی اور آنے والے مالی سالوں میں شرح نمو میں اضافہ کا یقین ظاہر کیا جا رہا تھا اس شرح نمو کے ساتھ ملک میں ہر ماہ ایک لاکھ 25 ہزار ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے تھے۔ مہنگائی کی شرح چار فیصد سے کم اور اسٹیٹ بینک کی شرح سود 6.25 فیصد تھی۔ لوڈ شیڈنگ ختم کردی گئی، سی پیک کے تحت ملک ترقی کی منازل تیزی سے طے کر رہا تھا۔ بریک کس نے لگا دیے۔ اب کیا ہے؟ ملکی کرنسی کی قدر میں 20 فیصد کمی سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ، شرح سود بڑھا دی گئی، اس سے شرح نمو کم ہوگئی، معیشت 313 بلین ڈالر سے کم ہو کر 280 بلین ڈالر رہ گئی۔ 33 بلین ڈالر کا نقصان کس کی غلطی یا پے در پے غلطیوں سے ہوا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اربوں کھربوں کی ٹریڈ کرنے والے سر پکڑے بیٹھے ہیں کہ سیاسی غیر یقینی اور وقت پر فیصلے نہ ہونے سے اسٹاک مارکیٹ 1758 ارب کے خسارے سے دوچار ہوگئی، چیخیں کرپشن کرنے والوں کی نہیں غریب عوام کی نکل رہی ہیں، اونچے ایوانوں میں سنائی دے رہی ہوں گی لیکن برسوں سے اپنے تجربوں کی طرح جینے والے 22 کروڑ عوام کو ان ہی تجربوں کی کسوٹی پر آزما رہے ہیں، اب تو اپنے بھی کہنے لگے ہیں کہ سمت درست نہیں، سمت معاف کیجیے کس کی درست نہیں، حکومت ابھی تک سمت درست کرنے کے لیے کوشاں لیکن اس عرصہ میں غریب کی کمر دہری ہوگئی۔ اپوزیشن کے اپنے اندازے کہ کمر توڑ مہنگائی کیخلاف عوام لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر ہوں گے۔ صرف اندازے، ذہنی سوچ ،کا غذی نقشے، حکمت عملی کا پتا نہیں، ان ہائوس تبدیلی انتہائی آسان لیکن اس پر توجہ نہیں، اختر مینگل اُدھر سے مایوس ہو کر اِدھر آنے کو بے چین لیکن کسی نے ڈھارس نہیں بندھائی۔ مایوس ہو کر ہی چپ ہوگئے ہوم ورک کرنے والے ندارد، صرف بیانات پر گزارہ، کارکنوں کو ابھی سے سڑکوں پر لانا اپنے کمزور کارڈ شو کرنے کے مترادف، صف بندی کے بغیر حملہ بے سود، کامیابی کا کیا امکان ہوگا، چند روز کا شور و غوغا، اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کی مصروفیات میں اضافہ، دونوں جانب سے بیانات کی بھرمار، قومی اسمبلی میں ان ہتھیاروں سے کتنی کامیابی ملی، سڑکوں پر آنے والے کارکنوں کی شامت جو پکڑے گئے ان کی ضمانتوں میں تاخیر سے بال بچے مشکلات کا شکار، مقدمات درج، نیب کے ریڈار پر پیپلز پارٹی کے چند، ن لیگ کے سارے لیڈر گرفتاریوں کے خطرات سے دوچار، قائد کی ضمانت کے فی الحال آثار نظر نہیں آتے، اس لیے وہ مہر بلب، دبے لفظوں میں تنقید سے مسلم لیگی کارکن غیر یقینی صورتحال کا شکار، صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں، کچھ تو کہیں، یہی حالات ہیں تو کمر توڑ مہنگائی کیخلاف تحریک سے کس کی کمر ٹوٹے گی، کچھ اندازہ ہے؟


ای پیپر