دہشت گردی کا سدِ با ب
09 جون 2019 2019-06-09

پہلے تو حا لیہ عیدا لفطر کے تیسرے رو ز کی یہ درد نا ک خبر ملا حظہ فر ما یئے جس کے مطا بق شما لی وز یر ستا ن کے علا قے خا ڑ کمر میں ایک فو جی گا ڑ ی کو د ہشت گر دو ں نے با رودی سر نگ کے ذ ر یعے د ھما کے سے اڑا دیا۔نتیجتاًگا ڑ ی میں سوا ر تین آ رمی آ فیسر ز اور ایک لا نس حولدا ر شہید ہو گئے، جبکہ چا ر کے ز خمی ہو نے کی اطلا ع ہے۔ یہا ں یہ تحر یر کر نا بے جا نہ ہو گا کہ پچھلے ایک ما ہ کے دو ران دس سیکیو ر ٹی پرسنلز جا مِِ شہا دت نو ش کر چکے ہیںاور پینتیس زخمی ہو ئے ہیں۔ا ب کہنے کی با ت یہ ہے کہ وطن عزیز میں جاری دہشت گردی کی نفسیات کو سمجھنا اتنا آسان نہیں جتنا وہ بظاہر نظر آتا ہے۔ لیکن اس کو سمجھنا اور اس کا تدارک ناممکن بھی ہرگز نہیں۔ نقادوں کی ایک بڑی تعداد، قطع نظر اس حقیقت کے کہ ان کی اصل نیت کیا ہے، دہشت گردی کو صرف اور صرف یہاں پہ پائوں پسارے غربت اور مفلسی سے جوڑنے پہ مصر ہیں۔ ایسا کہنے اور یقین رکھنے پہ وہ سطحیت کا شکار ہیں۔ ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ غربت دہشت گردی کی آگ کو بہترین ایندھن فراہم کرتی ہے۔ لیکن اس آگ کا منبع تو کہیں اور ہے۔ اگر غربت ہی اکلوتی اس کی وجہ ہوتی تو 1990ء یا کہہ لیجئے 1980ء سے پہلے غربت موجودہ دور کی نسبت کہیں زیادہ شدید تھی۔ مگر تب تو دہشت گردی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ دہشت گردی کیا، سٹریٹ کرائمز کی شرح بھی نہایت کم تھی۔ عام سے گھروں کے گلی میں کھیلنے والے دروازوں پہ ٹاٹ کا سا پردہ پڑا ہوتا اور وہ کھلے رہتے۔ ان کھلے دروازوں سے ننگے پائوں والے محلے بھر کے بچے اندر آجارہے ہوتے۔ غربت کا یہ عالم تھا کہ ملک کی اکثر آبادی پاجاموں میں ملبوس ہوا کرتی۔ اوسطاً ایک گلی میں ایک یا دو ٹیلیفون ہوا کرتے۔ ایئرکنڈیشنڈ ٹھنڈے کمروں کی باتیں زیادہ سننے کو ملتیں اور ان کی زیارت کم کم نصیب ہوتی۔ 1964ء میں جب ٹی وی متعارف ہوا تو جس گھر پہ ٹی وی کا اینٹینا لگا ہو اسے متمول گھرانے کا رتبہ حاصل ہوتا۔ بیوٹی پارلرز کا وجود تو دور کی بات، تصور تک نہ تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ’’ٹکے دا مسکارا مل کے منڈا موہ لیا تعویتاں والا‘‘ قسم کے شعر سننے کو ملا کرتے۔ جب ریفریجریٹر مارکیٹ میں آئے تو ان کے امیر خریداروں نے اپنی امارت کے اظہار کے لیے انہیں باورچی خانے میں رکھنے کی بجائے ڈرائنگ رومز میں رکھا۔

انہی دنوں امریکہ نے نئے نئے وجود میں آنے والے پاکستان کو اس کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر اپنی دوستی کے پھندے میں پھانسنا شروع کیا۔ اس دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ بہادر نے پشاور ایئرپورٹ سے اپنے جاسوس طیارے U2 کو اڑانا شروع کیا۔ U2 طیارہ فضا سے روس کے حساس علاقوں کی جاسوسی کیا کرتا۔ روس نے جواباً امریکہ کے خلاف کارروائیاں کیں سو کیں لیکن ساتھ ہی اس نے پاکستان کو انتباہ کردیا کہ اس نے نقشے پہ پشاور کے اوپر سرخ کراس لگادیا ہے۔ بات کو مختصر کرتے ہوئے عرض کرنا مقصود ہے کہ 1979ء میں روس افغانستان میں وارد ہونا شروع ہوا۔ امریکہ افغانستان کے راستے اب روس کے داخلی معاملات پہ اثر انداز ہونے کی کوشش کررہا تھا۔ دوسری طرف روس کا افغانستان میں ورود پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں امریکہ اور پاکستان نے اپنے اپنے مفاد کے تحت روس کو پیچھے دھکیلنے کی مشترکہ کارروائی کا آغاز کیا۔ البتہ پاکستان نے یہ جنگ گوریلا انداز میں لڑی۔ امریکہ اپنے اہداف حاصل کرنے کے بعد ایک طرف ہوگیا۔ مگر پاکستان تب سے لے کر آج تک دہشت گردی کی صورت میں آج تک اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔

پھر 2001ء میں نائن الیون ہوگیا۔ اپنے وقت کی واحد دنیاوی لحاظ سے طاقت ور ترین ملک امریکہ میں یہ دہشت گردی کااس کی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔ امریکہ نے اس کا ذمہ دار افغانستان میں موجود القاعدہ کو سمجھا۔ دنیا بھر کے ساتھ ساتھ پاکستان کو خصوصی طور پر متنبہ کیا کہ وہ اس جنگ میں غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق پاکستان کو امریکہ کا ساتھ دینا پڑا۔ اس جنگ میں پاکستان کو ایک عجیب قسم کی بدقسمتی کا سامنا رہا۔ مثال کے طور پر اگر کسی مقام پر اپنے قومی مفادات کو عزیز رکھتے ہوئے پاکستان امریکہ سے پیچھے ہٹا تو امریکہ نے اسے اپنے خلاف ڈبل کراس سمجھتے ہوئے پاکستان سے بدلہ لینے کی ٹھانی۔ اور امریکہ نے بھی یہ بدلہ وطن عزیز میں دہشت گردی برپا کرکے لیا۔ اپنے خلاف دہشت گردی کا جواب جنرل پرویز مشرف اور جنرل اشفاق سے ہٹ کر جنرل راحیل نے نہایت مؤثر اور واشگاف انداز میں دیا۔

تاہم دہشت گردی کی یہ نئی انگڑائی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم نے کہاں غلطی کی اور کہاں غلطی کررہے ہیں۔ بلاشبہ جنرل قمر جاوید باجوہ انتہائی ایماندار، محنت کش اور سلجھے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف ہیں۔ مگر ہمارا ایک المیہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے ہر واقعہ کے بعد ہم ہر پلیٹ فارم پہ پہلے تو بڑے بڑے بیانات داغتے ہیں۔ ہم قسم اٹھاتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑے بغیر چین سے نہ بیٹھیں گے۔ اس کے بعد میڈیا پہ اور حزب اختلاف میں ہمارے بیانات پہ تنقید شروع ہوجاتی ہے اور پھر کچھ ہی عرصہ میں ہم سب کچھ بھلا چکے ہوتے ہیں، تاوقتیکہ اسی طرح کا ایک اور سانحہ پیش نہیں آجاتا۔

ضرب عضب کے اوائل میں اعلیٰ اداروں کو یہ ادراک ہوگیا تھا کہ وطن عزیز میں موجود سب ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹلیجنس ایجنسیوں کو ایک صفحے پہ ہونے کی ناگزیر ضرورت ہے۔ اس پہ عمل بھی ہوا۔ مگر اب اس میں پھر سے جھول پڑنا شروع ہوچکا ہے۔ ہمارے سویلین عہدیداروں اور سیاستدانوں کے ایک طبقے نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام پر اعتراض کیا تھا۔ حالانکہ نیشنل ایکشن پلان نے وضاحت کردی تھی کہ یہ عدالتیں دو سال کے لیے قائم کی جارہی ہیں۔ دہشت گردی کے مرتکب افراد کے خلاف فوری کارروائی کے علاوہ ان کا مقصد پولیس کی دہشت گردی کے حوالے سے تربیت کرنا تھا۔ دو سال گزرنے کے بعد محسوس کیا جانے لگا کہ فوجی عدالتوں کی ضرورت ہمیں آج بھی ہے۔ لیکن امر واقعہ یہ بھی ہے کہ اس ملک میں دہشت گردوں سے ہمدردی رکھنے والے پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔ وہ فوجی عدالتوں کو طوالت دینے کے پروگرام پر انتہائی پریشان نظر آرہے ہیں اور آئین میں اس طرح کی ترمیم کے خلاف ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ اس امر کی تردید کی کہ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں پاکستان میں ہی ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ دہشت گرد اپنی کارروائیوں کے لیے سرحد پار افغانستان سے آتے ہیں۔ پھر ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو دہشت گردی کی آڑ میں ہرقسم کے دینی مدارس کے خلاف ہے۔ وہ ہر قسم کے دینی مدارس پہ پابندی لگوانے کے درپے ہے۔ پھر ایک طبقہ مدارس کے بارے میں گومگو کی حالت میں ہے۔ ایسے میں حکومت کا فرض بنتا ہے کہ ملک بھر سے بڑی مساجد اور مدارس سے تمام مکتبہ فکر کے علماء کو بلا کر اس بات پر مائل کرے کہ وہ اپنے اپنے مساجد اور مدارس میں دہشت گردی کے خلاف تعلیم کو عام کریں۔ علماء اپنے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے ناپختہ ذہنوں کو سمجھائیں کہ دہشت گردی اور خود کش حملوں کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔


ای پیپر