دھوکہ
09 جون 2019 2019-06-09

ہمیں نہیں معلوم کہ اس رکشہ ڈرائیور کے جذبات کیا ہیں جو "اسلامی ریاست "کی شا ہراہوں پہ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کا دکھ اٹھا رہا ہے جو ہر بیتے لمحہ کے ساتھ یہ سوچ کر اپنے آرام کو تج دیتا ہے کہ اس کی محنت کے پیسے سے اس کی بیٹی کے ہاتھ پیلے ہوں گے ، اس کے بچوں کی پڑھائی کے اخراجات اٹھیں گے، ان خوابوں کی تکمیل کیلئے اس کی زوجہ بھی اس کا ہاتھ بٹاتی ہوئی گھروں میں کام کی مشقت اٹھا تی رہی ،یہ ان کی نہیں ہر والدین کی آرزو ہو تی ہے جنہوں نے دیکھتی آنکھوں میں بچوں کے سہانے خواب سجا رکھے ہو تے ہیں ۔یہ فطری جذبہ ہے ،فرق صرف اتنا تھا کہ رکشہ چلانے والا مومن نہیں، اس کا مذہب دوسرا ہے پھر بھی اس کے حقوق آئین پاکستان میں رقم ہیں ۔بانی پاکستان بھی ان کے تحفظ کی ضمانت دیتے رہے ۔علما ئے کرام بھی ا س کی’’ گردان‘‘ کر تے ہیں ان کے حقوق سیکولر طبقہ کے ایجنڈہ کا خاص حصہ شمار ہو تا ہے ہم سب ان کیساتھ کھانے کو جائز قرار دیتے ہیں اور کبھی کبھار سماجی طور پر ان کی خوشیوں میں شرکت کو’’ گناہ‘‘ تصورنہیں کر تے ،اپنے تعلیمی اداروں میں تعلیم دینے کو برا خیال نہیں کرتے ۔ذات پات کی کوئی تفریق نہیں رکھتے اس حسن سلوک کے لیے دلیل نبی مہربان کی تعلیمات سے لاتے ہیں ۔

گذشتہ دنوں دختران پاکستان کی ڈرامائی انداز میں چینی شہریوں کے ساتھ شادی کا جو شور و غوغہ اٹھا یہ ہر طرف "بریکنگ نیو ز "بن گیا اس سے جو شر برآمد ہوا اس نے سارا ملبہ متاثرین خاندان پہ ڈال دیا ۔ان بچیوں پہ کیا گزری ،خاندان پہ کون کون سے الزامات لگے، انہیں کن کن القابات سے نوازا گیا اس سے نہ تو ریاست کو کوئی سرو کار ہے نہ ہی میڈیا کو اس کا کوئی ادراک۔اس کے بعد متاثرہ لڑکیاں اور خاندان کن نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہیں،سرکا ری اداروں ، سہولت کاروں اور مافیاز کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے ۔ لڑکیوں کا خانگی مستقبل کیا ہے ہمہ وقت رکشہ ڈرائیورکی سوچوں کا یہی محورہے ۔

عالمی میڈیانے جب فرضی ناموں کیساتھ متاثرہ خاندانوں اور بچیوں کے انٹر ویوز کئے تو بہت سے چہرے بے نقاب ہوگئے ہماری انسانیت کا پول کھل گیا اور مسلمانی دھری کی دھری رہ گئی ۔

جب زندہ دلان لاہور کی سٹرکوں پہ اس نوع کی شادیوں کے بڑے بڑے بینرز رابطہ نمبرز کے ساتھ آویزاں تھے ’’۔ملن‘‘ کی دعوت عام دی جارہی تھی تو نہ جانے سرکا ری ادارے کن سوچوں میں گم تھے ۔ کیا وہ سمندر سے گہری ، ہمالیہ سے اونچی ، شہد سے میٹھی پاک چین دوستی کا دم بھر رہے تھے؟ کہ ان کی ناک کے بالکل نیچے نو سر باز صنف نازک کے جذبات سے کھیلنے میں مصروف تھے ۔ جب پانی حد سے گزر گیا تو قانون کو بھی متحرک ہونے کا خیال آیا لیکن اس وقت تک عیسائی برادری کی غربت زدہ بچیاں مادہ پرستی کی حوس کی بھینٹ چڑھ چکی تھیں ۔کیا ریاست کی رٹ اتنی کمزور ہے کہ سرحد پار سے کوئی بھی شہری اس کی دیوارمیں سراخ کرکے فائر کھول کر ا نسانی جذبات کا خون کردے ۔

اہل کتاب کے حق میں سیر ت طیبہ سے دلائل دینے والے کہاں گم ہو گئے ۔ اس سے بڑا المیہ او رکیا ہو گا کہ دھو کہ دینے والوں میں اہل ایمان بھی شامل تھے ۔ اور بڑی بد قسمتی یہ کہ بنت حوا کے ذریعے غریب والدین اور بچیوں کو ور غلا یا گیا ۔اچھے مستقبل کے بہکا وے میں اگر لالچ کا عنصربھی ایک لمحہ کیلئے شامل کر لیا جائے تو کیا اخلاقی ، مذہبی اعتبار سے کسی مومن کیلئے زیبا ہے کہ وہ اہل کتا ب کو دھوکہ دے ایک طرف ہمارا یہ دعوی کہ ریاست اسلام کے نام پر قائم ہو ئی دوسری طرف ہمارا یہ طریقہ’’ واردات‘‘ کیونکر غیر مسلموں کودائر ہ اسلام میں داخل ہونے پر آمادہ کرے گا ۔

کیا یہ ضروری نہیں تھا کہ قانونی اور انتظامی تقاضوں کے ساتھ ساتھ سماجی طور پر بھی اقدامات اٹھائے جاتے اور متاثرہ بچیوں کے نفسیاتی علاج کا اہتمام کیا جا تا جن کے خواب چکنا چو ر ہوئے اور جو غربت کی دلدل میں اتر گئیں والدین کے پاس اتنے وسائل کہاں کہ وہ انہیں نارمل زندگی میں دوبارہ داخل کر سکیں ۔اس بڑے سماجی حادثہ کے بعد کیا کسی مذہبی شخصیت ، علمائے کرام کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ خطبات میں ان مسلم دھوکہ بازوں کی مذمت کرتے اور ان کے سماجی بائیکاٹ کی تحریک چلاتے جو اس فریب کاری شریک جرم تھے ۔اس سماج میں آئمہ ،علمائے کرام کا ہی ایک طبقہ ایسا ہے جس کا رابطہ ہفتہ وارکی بنیاد پرگلی ، محلہ ، کالونی ، دیہات ، شہر میں عوامی سطح پر ہوتا ہے کاش! وہ اپنے خطبات میں ناانصافی ، بد امنی ، جھوٹ ،فریب ، دھوکہ دہی ، عا ئلی معاملات اور دیگر خلاقی جرائم کو موضوع سخن بناتے اور یہ تسلسل جاری رہتا تو غالب امکان تھا کہ خدا خوفی کا کچھ نہ کچھ اثر سماج پہ ضرور ہو تا ،جرائم کی بیخ کنی میں خاصی مد د ملتی اور یہ بھی امکان روشن تھا کہ اقلیتوں کے افراد بھی اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر ہدایت یافتہ ہو جاتے، اس کے برعکس ہم ان خاندانوں کی تضحیک کا سبب بنے ہیں جن کی بچیاں آج بے بسی کی تصویر بنی بیٹھی ہیں ۔

اس میں کوئی دور ائے نہیں کہ سماج کے غربا ء میں بڑی تعداد غیر مسلموں کی بھی ہے ہر چند قانونی و آئینی اعتبارسے ترقی کرنے کے انہیں یکساں مواقع میسر ہیں لیکن امیر اور غریب کا تفاوت اس گروہ بھی دکھائی دیتا ہے جس کا فائدہ نو سر باز اٹھاتے ہیں، اگرچہ مومنین کیلئے چیریٹی کا خاصہ سماں مو جود ہے مگر اقلیتوں کیلئے وہ جذبہ مفقودہے۔ ہم تاریخی اعتبار سے اس اسلامی ریاست کو تو جانتے ہیں جو جزیہ لے کر اس’’ کمیونٹی ‘‘کے جان ومال ، عزت و آبرو کی حفاظت کیا کرتی تھی ۔ فی زمانہ مدینہ ریاست کا غلغلہ بھی عام ہے دیکھنا یہ ہے کہ متاثرہ بچیوں کی شنوائی کس انداز میں ہوتی ہے۔ تاہم غیر سرکاری تنظیموں کے نا تواں کندھوں پر یہ ذمہ داری تو عائد ہوتی ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی عزت نفس کی بحالی اور دوشیزائوں کی دوبارہ شادی کا اہتمام اس کمیونٹی کے افراد سے مل کر ضرور کرے تاکہ انہیں ایک اسلامی ریاست کے محفوظ شہری ہونے کا احساس ہوسکے ۔ سچ یہ ہے کہ اس ما فیا میں شریک مو من مرد وخواتین نے دوسروں کی بجائے خود کو ہی دھوکہ دیا ہے بھلا اس ذات کو دھوکہ کیسے دیا جاسکتاہے جس سے نا اونگھ آتی ہے او رنہ نیند ۔


ای پیپر