شہباز شریف کیا کرنے آئے ہیں؟
09 جون 2019 2019-06-09

میرے سوال پر انہوں نے بھنویں چڑھائیں، چہرے پر ناگواری کے تاثرات کو جگہ دی، بے زاری کے ساتھ بولے، ’ کیا شہباز شریف کو واپس نہیں آنا چاہئے تھا، وہ پاکستانی شہری ہیں، ذمہ دار سیاستدان ہیں، ملک کے سب سے بڑے صوبے کی ریکارڈ خدمت کی ہے ، وہ کبھی جلاوطنی کے حق میں نہیں رہے۔۔ اس وقت بھی نہیں جب پورا خاندان سعودی عرب بھیج دیا گیا تھا، اب ان کے میڈیکل ٹیسٹ مکمل ہو ئے ہیں، ڈاکٹر اب بھی انہیں روک رہے تھے مگر وہ پروپیگنڈے کے توڑ کے لئے وطن واپس لوٹ آئے ہیں‘۔ وہ ایک بڑے رہنما اورباخبر دانشور تھے اور شہباز شریف کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے، وہ شہباز شریف کا سایہ نہیں تھے کہ سایہ اندھیرے میں ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ مزید بولے ’ یہ درست ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں اپوزیشن کے رہنما معروضی حالات کی وجہ سے خود ساختہ جلاوطنیاں بھی اختیار کرتے ہیں مگرسب جانتے ہیں کہ شہباز شریف کو ماتحت عدالتوں سے ملنے والی سزاو¿ں کااعلیٰ عدالتوں میں پوسٹ مارٹم ہو چکا ، ان سزاو¿ں میں سے الزامات لگانے والوں کی بدنیتی کے سوا کچھ بھی نہیں نکلا، ایک پائی کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہوئی۔۔۔‘

میرے سوال کی نوعیت کچھ دوسری تھی، سوال یہ تھا کہ شہباز شریف ، اپنی پارٹی اور مقتدر حلقوں کے درمیان تعلقات ،بہتر کرنے میں ناکام رہے اوراس کے لئے انہیں ایک سے زائد مرتبہ وقت اور موقع دیا گیا اور بالآخر ان کا بیانیہ ہار گیا، فیصلہ ہو گیا کہ ان سے پارلیمانی پارٹی کی قیادت اور پی اے سی کی سربراہی واپس لے لی جائے، پارٹی کے مرکزی اور صوبائی عہدوں پر ان لوگوں کو لگا دیا جائے جو ان سے بہت مختلف موقف رکھتے ہیں، وہ حمزہ شہباز جو کہتے تھے کہ ہم اپنے تایا کو سمجھائیں گے وہ خود سمجھ گئے کہ اپنی بڑی بہن مریم نواز کا ہاتھ پکڑ کر ہی بلند کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، پارٹی کے اندرشہباز شریف کی پارٹی اوور ہو چکی ہے، ان کے نام کے ساتھ چلنے والا اب کوئی کارکن بھی نہیں ہے‘۔انہو ں نے تحمل سے میرے فلسفے کو سنا ، بولے، ’ سب سے آخری بات سب سے پہلے کردیتا ہوں کہ بالآخر شہباز شریف کا نظریہ اور راستہ ہی منزل پر لے جائے گا، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ دیوار سے ٹکر مار کے راستہ نکالا جا سکتا ہے تو غلطی پر ہے، یہ درست ہے کہ شہباز شریف مطلوبہ راستہ بنانے میںمکمل کامیاب نہیں ہوئے مگر وہ مکمل ناکام بھی نہیں ہوئے، آج مریم نواز جیل سے باہر ہیں، وہ بھرپور سیاست میں واپس آ چکی ہیں، پارٹی فعال بھی ہے اور اپنی جگہ پر موجودبھی ، یہ شہباز شریف ہی کی وجہ سے ہے ورنہ اگر پہلے دن سے تصادم کا راستہ اختیار کیا جاتا تو اس وقت سیاست کی نئی عمارت تعمیر کرنے کے بجائے ملبہ سمیٹا جا رہا ہوتا‘۔ مجھے ان کی باتوں سے جزوی اتفاق تھا کہ سیاسی جماعتیں آپشنز کواوپن رکھتی ہیں مگر ذہن میں یہ سوال بھی تھا کہ کیا واقعی مریم نواز کی سیاست ، شہباز شریف کی مرہون منت ہے یا مریم نواز اس وجہ سے باہر ہیںکہ اس کے بغیر نواز شریف نے سسٹم کو قبول کرنے اور چلائے رکھنے سے مکمل انکار کر دیا تھا کہ جب بات بیٹی تک آجائے تو پھر کوئی بات باقی نہیں رہتی لہٰذا یہاں سب کچھ ہارے ہوئے نواز شریف کی جیت ہوئی۔

شہباز شریف کے آنے پر کارکنوں کو جوش اور ولولہ دلایا جا رہا ہے، کیا وہ کوئی متحرک کردارادا کریں گے، کیا ان کے بیرون ملک قیام کے دوران کوئی جوہری تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ اس کا جواب تھا کہ فی الحال ایسی کوئی بات نہیں، ایسی بات ہوتی تو فلایٹ کا ٹائم صبح فجر کی نماز کا نہ ہوتا کہ جس وقت تاریخی استقبال مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے، استقبا ل کی اہمیت ہوتی تو وہ وطن واپسی کے لئے سہ پہر یا شام کی کوئی فلائیٹ لیتے۔ یہ درست کہ کوئی گرم جوشی نہیں مگر اس سے بھی انکار نہیں کہ برف ٹوٹنے ضرور لگی ہے اوراس کی وجہ اپوزیشن نہیں بلکہ خود حکومت کی معیشت کے میدان میں نااہلی ہے۔ جولائی سے دسمبر تک کا عرصہ اہم ہے۔ یہ نہیں کہ اس دوران پورا نظام تبدیل ہوجائے گا مگرمزید تبدیلیاں آئیں گی جونواز لیگ کو ریلیف دیں گی۔ شہبازشریف کی واپسی اب دوہری حکمت عملی کا مظہرہو گی، پارٹی میدان میں بھی زور لگائے گی تاکہ ڈرائنگ روموں میں ہونے والی بحثوں میں تبدیلی آ سکے اور سب جان لیں کہ تبدیلی کہیں اور سے ہی آتی ہے جیسے ضیاءالحق کے دور میں آئی تھی اور ان کا طیارہ پھٹ گیا تھا ، جیسے مشرف کے دور میں آئی تھی ، جب بی بی نے این آر او قبول کر لیا تھا اور پرویز مشرف نے وردی اتار دی تھی۔ یہ عوامی بے چینی اور مظاہرے وغیرہ تبدیلی کی آئس کریم کی ٹاپنگ ہوتے ہیں، یہ بھلا اصل آئس کریم کب ہوتی ہے۔

وہ بولے، تم ایک صحافی ہو اور تمہاری ذمہ داری ہے کہ عوام تک حقیقی صورتحال پہنچاو ¿اور وہ یہ ہے کہ نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کے لئے مقتدر حلقوں کی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، وہ ابھی تک کنوینس ہیں کہ موجودہ ملکی صورتحال کی ذمہ داری نواز شریف اور آصف علی زرداری جیسے ’ کرپٹ ‘ اور ’گستاخ‘ سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے ، یہ حقیقی محب وطن قوتوں کی نظروں میں مشکوک ہیں اوریہی وجہ ہے کہ پاک فوج نواز شریف کے دور میں تمام ضروریات پوری ہونے اور بجٹ میں اضافے پر بھی اطمینان کا اظہار نہیں کرتی مگر عمران خان کے دور میں اسی بجٹ میںکمی تک کا رضاکارانہ طور پر اعلان کر دیتی ہے۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی سوشل میڈیاجمہوریت اور انسانی حقوق کے شعور کے لئے اہم کردارا کر رہا ہے مگر یہ اس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا جب تک سیاستدان اپنی ساکھ کو خود بہتر نہ کریں۔ یہ سیاستدان فواد چودھری کی طرح ہیں کہ جب یہ خود مقتدر حلقوں کے ذریعے عہدہ اور طاقت لیں تو یہ عین قومی مفاد میں ہے مگر جب ان کی پسند کی وزارت چھِن جائے تو یہ کہنے لگتے ہیں کہ فوج ملک نہیں چلا سکتی۔ یہ بات بھی یاد رکھو کہ آصف زردار ی کی یہ بات سو فیصد درست نہیں کہ ہم ہمیشہ رہنے کے لئے ہیں اور تم تین سال بعد بدل جاتے ہو۔ اب یہ ایک مائنڈ سیٹ ہے جو قائم ہو رہا ہے اورا س میں تبدیلی کی صرف چند فیصد گنجائش ہے، یہی سمجھ لو کہ پاکستا ن میں جمہوریت کا یہی ماڈل تھا، ہے اور رہے گا، کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے۔ بنیادی خرابی نواز شریف اور ان کے حامیوں کے تصور میں ہے کہ کیک ان کا ہے اور وہ کیک میں سے شئیر دیں گے جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کیک ان کے پاس نہیں ہے، شیخ سعدی کی روایت کی طرح یہ فیصلہ طاقت کرتی ہے کہ شکار میں سے کس کا حصہ کتنا ہو گا۔

میں نے کہا،’اس کا مطلب یہ ہوا کہ ۔۔۔، میری بات کو انہوں نے اُچک لیا اور مسکرا کے بولے، اس کا مطلب یہی ہوا کہ سیاستدانوں نے مقتدر حلقوں سے لڑے بغیر اپنی ساکھ بہتر بنانی ہے اور وہ اس کے لئے بہرحال روایتی طریقے استعمال نہیں کر سکتے کہ بچوں کے ذہن میں نصابی کتب کے ذریعے سیاستدانوں اور پارلیمنٹ کا تقدس راسخ کر دیا جائے۔ انہیں اپنے روئیوںاور کارکردگی سے ایک لمبی جدوجہد کرنی ہے۔ انہیں اپنے اوپر قوم کا اعتماد قائم کرنا ہے کہ وہ بھی ڈیلیور کر سکتے ہیں، پرفارم کر سکتے ہیں اور یہی شہباز شریف کا ماڈل ہے جسے ان کی اپنی پارٹی نے بھی مسترد کر رکھا ہے ۔


ای پیپر