Source : Naibaat Mag

کتابی سیاست کا آغاز ۔۔۔جنرل درانی کے بعد ریحام خان
09 جون 2018 (20:58) 2018-06-09

عثمان یوسف قصوری:تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے کپتان کی زندگی میں قدم رکھا اور میدان سیاست میں ہلچل مچا دی اور شادی سے شروع ہونے والی اس ہلچل کا سلسلہ ہے کہ تھمنے میں ہی نہیں آرہا ،عمران خان سے شادی سے قبل ریحام خان اپنی کوئی جداگانہ سیاسی شناخت نہیں رکھتی تھیں۔ گو کہ یہ شادی محض ایک سال کے قریب ہی چل پائی لیکن کپتان سے علیحدگی کے بعد ریحام خان اُن کے خلاف ایسا کوئی بھی موقع ضائع نہیں ہونے دیتیں ،جس سے عمران خان کی تضحیک کا پہلو نکلتا ہے۔

تحریک انصاف اور اس کے رہنماءریحام خان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے رہنماءاُنہیں اپنے مقاصد اور مخصوص مفادات کے حصول کےلئے استعمال کر رہے ہیں،اب ہر طرف ریحام خان کی اُس کتاب کے چرچے ہیں جو ابھی تک شائع ہی نہیں ہوئی، شاید ان سطور کی اشاعت پر یہ منظر عام پر آچکی ہو،بہرحال اس کے متعلق یہ کہا گیا کہ کتاب کا مسودہ اشاعت کے لئے تیار ہے،ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہہ دیا گیا کہ کتاب کے مسودے کا بڑا حصہ ہیک کر لیا گیا ہے۔کہا جا رہا ہے کہ یہ کتاب عمران خان کے خلاف لکھی گئی ہے اور اس میں تحریک انصاف کے چیئرمین اور بعض دیگر شخصیات کے خلاف نہایت سخت زبان استعمال کرتے ہوئے الزامات لگائے گئے جبکہ د وسری جانب ریحام نے اپنے اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کی تعریفیں کیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ہر جانب اس کتاب کے حوالے سے بحث و مباحثے شروع ہو گئے۔


اسی دوران معروف ٹی وی اداکار تحریک انصاف کے رہنماءحمزہ علی عباسی میدان میں آئے اور ریحام خان کی کتاب کے حوالے سے اہم انکشافات کا سلسلہ شروع کردیا،حمزہ علی عباسی اور ریحام خان نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ حمزہ علی عباسی نے اپنی ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ وہ عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی آنے والی کتاب پڑھ چکے ہیں۔اُنہوں کا کہنا تھا کہ کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ ”عمران خان شیطان شخص جبکہ ریحام خان تہجد گزار خاتون اور شہباز شریف سب سے اچھے انسان ہیں“۔ ریحام خان پی ایم ایل این ایجنڈا‘ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔ کتاب کی اشاعت کی ٹائمنگ بہت اہم ہے کیونکہ عام انتخابات کابگل بجتے ہی شریف برادران نے عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان سے لکھوائی کتاب سے لندن جاری کروانے کا فیصلہ کیا۔ ریحام خان نے سیاسی مقاصد کیلئے لکھی گئی کتاب میں خاوند اور بیوی کے مقدس رشتے کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دی ہیں۔ ریحام خان نے اپنے سابقہ خاوند اعجاز خان پر بھی گھٹیا الزامات لگانے کےساتھ ساتھ عمران خان کی ذات پر بھی ذومعنی حملے کئے۔

دوسری طرف ریحام خان نے حمزہ علی عباسی کو انہیں پریشان کرنے پر پولیس سے رجوع کرنے کی دھمکی دے دی۔ ریحام خان کی مجوزہ کتاب سے متعلق مواد آشکار کرنے پر ریحام اور حمزہ عباسی میں سوشل میڈیا پرجنگ چھڑ گئی۔اداکار حمزہ عباسی نے کتاب سے کچھ مواد سوشل میڈیا پر شیئر کیا تو ریحام بھڑک اُٹھیں۔انہوں نے کہا کہ حمزہ کا کتاب کے مسودے تک رسائی کا دعویٰ فراڈ ہے۔ ریحام خان نے حمزہ علی عباسی کی 2017ءمیں کی جانے ای میل ٹوئٹر پر جاری کر دی، کہا کہ حمزہ انہیں کافی عرصے سے پریشان کر رہے ہیں،مبینہ ای میل میں حمزہ عباسی نے ریحام سے متعلق اہم معلومات ہیک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔حمزہ علی عباسی کے بعد گلو کارسلمان احمد بھی میدان میں آ گئے اور اُنہوں ریحام خان پر الزام لگایا کہ مسلم لیگ ن نے عمران خان کے خلاف گند اُچھالنے کےلئے ریحام خان کو ایک لاکھ پاو¿نڈ دیئے ہیں،اس طرح کتاب مارکیٹ میں آنے سے پہلے متنازع بن گئی اور ریحام خان کو تنقید کا نشانہ بنایاجانے لگا۔

سلمان احمد نے الزام عائد کیا کہ ریحام نے اِنہیں بھی عمران خان کے خلاف کیچڑ اُچھالنے کو کہا۔ اس حوالے سے اُن کے پاس ای میل اور دو فون کالز کا ریکارڈ موجود ہے۔اگر میں غلط ہوں تو میرے خلاف عدالت جائیں، وقت آنے پرثبوت دکھادوں گا۔ گلوکار سلمان احمد کاکہنا تھا کہ ریحام کی کتاب کا اسکرپٹ دیکھا ہے ، لگتا ہے نوازشریف اور مریم نواز بالکل بے قصور ہیں۔ شہباز شریف اگلے وزیراعظم اور مریم نواز مستقبل کی وزیر اعظم ہوں گی۔ عمران کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ منافق اور جھوٹے ہیں۔


اسی طرح تحریک انصاف کے دیگر رہنماﺅں اعجاز چودھری،ڈاکٹر یاسمین راشد،مہر واجد اور نبیلہ حاکم کا کہنا تھا کہ ریحام خان سے یہ کتاب مسلم لیگ نواز نے لکھوائی ہے،اس کتاب کی اشاعت کے لئے دوسال تک انتظار کیا گیا،کتاب کی ایڈیٹنگ اور پروف ریڈنگ ایک مقامی اخبار کے چیف ایڈیٹر کے گھر کی گئی،کتاب پر انوسٹمنٹ مریم نواز،احسن نواز،امیر مقام اور حقانی جیسے لوگوں نے کی، ریحام خان عائشہ احد جیسی خواتین کی مدد کیوں نہیں کرتیں؟اسی طرح علیم خان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ عمران خان کے خلاف جتنی مرضی سازشیں کر لے وہ اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی،فواد چودھری نے کہا کہ ریحام خان کی ملاقاتوں کا مکمل ریکارڈ اور ثبوت مل چکے ہیں ،اور ساری کہانی سامنے آچکی ہے، ریحام خان نے مریم نواز بھی ملاقات کی جس کا اہتمام احسن اقبال نے کروایا ۔

دوسری طرف ریحام خان نے فواد چودھری کے حوالے سے کہا کہ اگر اُن کے پاس میرے خلاف ثبوت ہیں تو سامنے لائیں۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے دوست ذوالفقار ( ذلفی) بخاری نے متنازعہ کتاب کی اشاعت پر ریحام خان کے خلاف دنیا بھر میں قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دے دی ہے۔ اُنہوں نے ریحام خان کی کتاب کو انتہائی گھناو¿نا اور افسوس ناک امر قرار دیا،اسی طرح پی ٹی آئی کے دیگر رہنما ءبھی انتخابات کے عین موقع پر ریحام خان کی کتاب منظر عام پر لانے کے عمل کوخفیہ ایجنڈا قرار دے رہے ہیں۔پی ٹی آئی کارکنوں کا کہنا تھا کہ عمران خان سے طلاق لینے کے بعد ریحام خان میاں شہباز شریف اور امیر مقام کی وساطت سے مسلم لیگ (ن) کا مہرہ بن کر رہ گئی ہیں اور یہ کتاب بھی اُنہوں نے مسلم لیگ کی ایماءپر ہی لکھی ہے تاکہ تحریک انصاف اور اس کے چیئر مین کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے سیاسی فوائد اور مقاصد حاصل کیے جا سکیں،اس کتاب کا مقصد یہ ہے ووٹرز کو پی ٹی آئی سے بدظن کرنا ہے۔مسلم لیگ کے رہنماءاور سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ ریحام خان کی کتاب سے ن لیگ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اُنہوں نے ان امکانات کی تردید کی کہ ریحام خان کی کتاب سے ن لیگ کو کوئی فائدہ ہوگا،ساتھ ہی اُن کا ذومعنی انداز میں یہ بھی کہنا تھا کہ یہ کتاب عمران خان کی شخصیت کیلئے نقصان دہ ہوگی۔


دوسری جانب عمران خان کے دوست ذلفی بخاری اور کرکٹر وسیم اکرم کی طرف سے کتاب کی مصنفہ ریحام خان کو قانونی نوٹسز بھیج دیئے گئے جبکہ مصنفہ کی جانب سے اداکار، اور پی ٹی آئی رہنما حمزہ علی عباسی کو نوٹس بھجوایا گیا۔پاکستان تحریک انصاف میڈیا سیل کے مطابق ریحام خان کو بذریعہ ای میل بھیجے گئے قانونی نوٹس میں پارٹی رہنما انیلہ خواجہ اور مصنفہ کے سابق شوہر اعجاز رحمن کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وسیم اکرم کی مرحومہ اہلیہ پر گھناو¿نے الزامات لگائے گئے ہیں جبکہ زلفی بخاری پر لندن میں ایک خاتون کے اسقاط حمل کرانے کا غلط الزام لگایا گیا۔

ریحام خان نے اپنی کتاب میں تحریک انصاف کی انٹرنیشل میڈیا کوارڈینیٹر انیلہ خواجہ کے عمران خان کے ساتھ تعلقات کا الزام بھی لگایا اور انیلہ خواجہ کو چیف آف حرم کہا۔نوٹس کے مطابق ریحام خان نے سابق شوہر اعجاز رحمن پر تشدد کا الزام لگاتے ہوئے انہیں پہلی شادی کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ریحام خان کے ای میل ایڈریس پر بھیجے گئے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی آنے والی کتاب میں جو بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات لگائے ہیں وہ واپس لیے جائیں۔ ریحام خان کی جانب سے بھی حمزہ علی عباسی کو قانونی نوٹس بھجوایا گیا ہے جس میں حمزہ عباسی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے بصورت دیگر ان کے خلاف پانچ ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائرکرنے کا کہا گیا ہے۔پی ٹی آئی نے ذرائع ابلاغ کو ایک خط بھجوایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ریحام خان کے سابق شوہر اعجاز رحمان، سابق کرکٹر وسیم اکرم، برٹش پاکستانی تاجر زلفی بخاری اور پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی برٹش پاکستانی خاتون انیلہ خواجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ریحام خان نے اپنی آنے والی کتاب میں ان کا ذکر توہین آمیز طریقے سے کیا ہے۔

خط کے مطابق مغربی لندن کی ایک لا فرم نے، جو ان افراد کی پیروی کررہی ہے، دعویٰ کیا ہے کہ ریحام خان کی کتاب کے مسودے میں ان کے موکلین کے خلاف جھوٹے اورانتہائی گمراہ کن الزامات عائد کئے گئے ہیں۔خط کے جواب میں ریحام خان کا کہنا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے بے بنیاد الزامات برداشت نہیں کریں گی، اُنہیںدھمکایا جارہا ہے لیکن انہوں نے غلط خاتون کا انتخاب کیا ہے، میں پی ٹی آئی کو چیلنج کرتی ہوں کہ وہ میرے خلاف الزامات ثابت کرے۔ ریحام خان نے اپنے سابق شوہر اعجاز رحمان، سابق کرکٹر وسیم اکرم، برٹش پاکستانی تاجر زلفی بخاری اور انیلہ خواجہ کی جانب سے مشترکہ قانونی کارروائی پر کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ پی ٹی آئی ڈاکٹر اعجاز رحمان کی جانب سے قانونی نوٹس کس طرح بھیج سکتی ہے، کیا وہ اس کے ترجمان ہیں یا پی ٹی آئی کے عہدیدار ہیں؟ جہاں تک میں سمجھتی ہوں کہ یہ قانونی نوٹس نہیں ہے کیونکہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔


ریحام خان کے متعلق یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ اُنہوں نے کسی خاص مشن کے تحت تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان سے شادی کی تھی، اس حوالے سے معروف صحافی ضیاءشاہد نے اپنے کالم میں بھی انکشاف کیا تھا کہ ریحام خان نے کسی خاص مقصد کے تحت عمران خان سے شادی کی تھی۔ ریحام خان عمران کےساتھ شادی سے پہلے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل سے بھی ملنے گئی تھیں، حمید گل نے اپنے گھر والوں کو دوسرے کمرے میں بھیج کر ریحام خان سے گفتگو کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حمید گل بعض وجوہات کی بناءپر ریحام خان اور عمران خان کی شادی کے خلاف تھے۔ ملاقات ختم ہوئی اور ریحام جانے لگیں تو وہ بہت پریشان تھیں ،عبداللہ گل کا کہنا تھاکہ والد نے مجھے بتایا کہ میں نے ریحام سے کہا ” میں آپ کو نہیں جانتا لیکن کیا آپ فلاں فلاں شخص کو جانتی اور کیا فلاں ادارے سے آپ کا تعلق نہیں رہا اور کیا آپ کو پاکستان بھجوانے اور عمران سے ملوانے میں فلاں فلاں اشخاص سرگرم نہیں رہے؟ عبداللہ گل کے بقول ریحام خان اس پر اپ سیٹ ہو گئیں اور جلد ہی وہ اٹھ کر چلی گئیں۔کیونکہ ریحام خان کو پتہ چل گیا ہے کہ میرے والد ان کی حقیقت کو پہچان گئے ہیں لہٰذا انہوں نے فرار ہی میں عافیت جانی۔

عمران خان سے طلاق کے بعد ریحام خان کا کہنا تھا کہ مجھ پر عمران خان پر ہاتھ اُٹھانے، اِنہیں چوہے مار زہر دینے اور ایم آئی 6 کا جاسوس ہونے کے الزامات لگائے گئے۔ ریحام خان کے سابق شوہر ڈاکٹر اعجاز رحمان کا کہنا تھا کہ میں ریحام خان کی اصلیت پوری طرح جانتا ہوں کہ وہ کیا ہیں کیونکہ انہوں نے عمران خان کے ساتھ صرف دس ماہ گزارے لیکن میرے ساتھ 15 سال گزارے اور میں اُن کی اصلیت سب کے سامنے لاکر چھوڑوں گا،سابق امریکی سفیر حسین حقانی کی پاکستان کےلئے”خدمات“ بھی سب کے سامنے ہیں ، ریحام کی ان کے ساتھ ملاقات بھی چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ اس طرح پاکستان کی سیاست میں ریحام خان کی ہلچل کا سلسلہ جاری ہے ،اس سطور کی اشاعت تک مزید انکشافات سامنے آچکے ہوں گے اور صورتحال بھی واضح ہو جائے گی۔
٭٭٭


ای پیپر