پرانی کشمکش، آج بھی جاری ہے
09 جون 2018 2018-06-09

قوم ملکی تاریخ کے گیارہویں عام انتخابات کے دھانے پر کھڑی ہے ۔ 25 جولائی کی شام کو طے ہو جائے گا عوام کونسی جماعت کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں۔۔۔ لیکن کیا عوام کو واقعی پوری آزادی اور شرح صدر کے ساتھ فیصلہ کرنے دیا جائے گا یا ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے اور ایسی تراکیب زیر استعمال ہیں کہ نہایت چابکدستی کے ساتھ کوئی اور فیصلہ برآمد کر لیا جائے۔۔۔ اصل حکمرانوں کی بن آئے گی۔۔۔ نام عوام کا استعمال ہو گا اور حتمی نتائج کسی اور کی مرضی کے ہوں۔۔۔ یہ لمحہ موجود کا بہت بڑا سوال ہے جو مختلف الفاظ اور پیرایہ اظہار کے ساتھ ملک بھر کے صاحبان دماغ اور اصحاب شعور، سیاسی کارکنوں یہاں تک کہ عام آدمی کی سوچوں پر چھایا ہوا ہے ۔۔۔ ڈرائنگ رومز کے اندر زیر بحث ہے ۔۔۔ اب چائے خانوں اور کافی ہاؤسز کا پہلے کی مانند رواج نہیں رہا۔۔۔ لیکن سیاسیات ملکی سے معمولی دلچسپی رکھنے والے لوگ بھی جہاں جہاں اکٹھے ہوتے ہیں۔۔۔ باہمی تبادلہ خیال کے دوران بات کی تان اسی نکتے پر آن کر ٹوٹتی ہے ۔۔۔ رمضان کا آخری عشرہ ہے گزشتہ دو اڑھائی ہفتوں کے دوران ملک بھر کی افطار پارٹیوں میں غالباً سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا یہی موضوع تھا۔۔۔ جو میڈیا کے اندر بھی جہاں تہاں کھل کر یا مخفی انداز میں اظہار پاتا ہے ۔۔۔ اور وہ جسے سوشل میڈیا کہتے ہیں اس میں اس سے متعلقہ کئی مثبت اور منفی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔۔۔ بلوچستان اسمبلی اور سینیٹ آف پاکستان کے گزشتہ وسط مدتی انتخابات کا تجربہ سب کے سامنے ہے اس کی تفصیل میں جانے کی چنداں حاجت نہیں کیونکہ کل کی بات ہے ۔۔۔ اہل شعور اور باخبر لوگ جزویات تک سے واقف ہیں۔۔۔ یہ فقرہ زبان زد عام ہو چکا ہے کہ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔۔۔میں کل صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد باہر نکلنے کے لیے مسجد کے صحن میں آیا تو محلے کی ایک کاروباری شخصیت نے کہ سیاست سے سروکار نہیں۔۔۔ اوسط درجے کے تعلیم یافتہ ہیں۔۔۔ روک کر پوچھا فلاں تقرری کس کے ایما اور آشیر باد کے ساتھ ہوئی ہے ۔۔۔ سنا ہے اپنے مضامین اور خیالات کے حوالے سے امریکہ نواز ہیں دیکھا آپ نے وہاں سے ٹیلیفون بھی آنا شروع ہو گئے ہیں۔۔۔ بات خواص اور انتہائی باخبر حلقوں تک محدود نہیں رہی۔۔۔ جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا حال ہمارا جانے ہے ، والا معاملہ ہے ۔۔۔ زیر سطح آب وہی پرانا قضیہ ہے جس نے مملکت پاکستان کو پچاس کی دہائی کے سالوں سے لے کر اب تک جکڑ بندی میں لے رکھا ہے اور کشمکش جاری ہے کہ اس ملک پر حکمرانی کا حق کسے حاصل ہے ۔۔۔ آئین کے تحت عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ یا مقتدر قوتوں کو عرف عام میں جنہیں اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے ۔۔۔ جو اتنی طاقتور ہیں اور اس کی بدولت رسوخ بھی بے پناہ رکھتی ہیں۔۔۔ قوت کے بل بوتے پر اپنا فیصلہ منوا لیتی ہیں۔۔۔ پہلے مارشل لاء لگائے جاتے تھے۔۔۔ اب نئے نسخہ ہائے ترکیب استعمال ایجاد کر لیے گئے ہیں۔۔۔ آئین بھی رہے۔۔۔ اسمبلیاں بھی وجود میں آتی رہیں۔۔۔ جمہوریت کا کھڑاک جاری رہے۔۔۔ اسی کی آڑ میں راج ہمارا سلامت رہے۔
قیام پاکستان کے گیارہ برس بعد 1970ء میں پہلے عام انتخابات ہوئے۔۔۔ اس سے قبل 1956ء میں جب پہلا آئین منظوری کے بعد نافذ ہوا تھا تو اڑھائی برس کی لیت و لعل کے ساتھ فروری 1959ء کو چناؤ کی تاریخ طے پا گئی تھی۔۔۔ 1956ء کے آئین کی بنیاد 1949ء میں منظور ہونے والی قرار داد مقاصد تھی جس میں بانیاں پاکستان پر مشتمل و ستور ساز اسمبلی نے طے کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کے تحت اس ملک پر حکمرانی کا حق صرف اور صرف عوام کے منتخب نمائندوں کو حاصل ہے ۔۔۔ مشرقی
پاکستان سے تعلق رکھنے والے تمام سیاستدان اور ان کی جماعتیں فروری 1959ء کے چناؤ میں حصہ لینے کے لیے تیار نہیں پر جوش بھی تھیں۔۔۔ خواجہ ناظم الدین ، حسین شہید سہروردی اور مولوی تمیز الدین یہاں تک کہ مولانا عبدالحمید بھاشانی جیسی محترم اور قد آور شخصیات اپنی اپنی جماعتوں کے پلیٹ فارمز پر ان میں حصہ لینے کے لیے پوری طرح آمادہ تھیں۔۔۔ ان میں سے کسی ایک کی جماعت محض مشرقی پاکستان تک محدود نہ تھی۔۔۔ یہ سب ملک گیر سیاسی پارٹیوں کے چوٹی کے عہدیدار بلکہ سربراہان میں سے تھے۔۔۔ ان کی سیاسی جڑیں مغربی پاکستان میں بھی تھیں۔۔۔ وحدت پاکستان ان کے سیاسی ایمان اور قومی ایقان کا جزو تھی۔۔۔ کچھ وفاق کے اندر رہتے ہوئے صوبائی خود مختاری کے طلبگار ضرور تھے۔۔۔ مگر شیخ مجیب کے چھ نکات کا نام تک نہیں لیا جاتا تھا۔۔۔ آج ہم اس پر کف افسوس ملتے ہیں اگر فروری 1959ء کو عام انتخابات کا انعقاد ہو جاتا۔۔۔ اقتدار مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں صوبوں کی متحدہ منتخب قیادت کو منتقل ہو جاتا تو ایوب خان کے پہلے مارشل لاء کی نوبت نہ آتی۔۔۔ 1956ء کا دستور برقرار رہتا اور متحدہ پاکستان کے وجود پر اتنی کاری ضرب نہ آتی کہ دو ٹکڑے ہو جاتا۔۔۔ مگر بنیادی قضیہ اس وقت بھی یہ تھا کہ حکمرانی کا حق صحیح معنوں اور عملی زبان میں عوام کو دے دیا گیا تو مقتدر قوتوں کا راج باقی نہیں رہے گا۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ کی کارفرمائی ختم ہو جائے گی۔۔۔ یہ امر ہمارے صاحبان ذی وقار کو منظور تھا نہ ان ان کے سرپرست امریکہ کو جو پاکستان کے اندر خفیہ فوجی اڈے قائم کرنے کی جلدی میں تھا۔۔۔ جن کی منظوری اس ملک کی کوئی بھی منتخب پارلیمنٹ نہ دے سکتی تھی۔۔۔ لہٰذا پہلا مارشل لاء لگا دیا گیا امریکہ کو اڈے مل گئے۔۔۔ ہماری سرحدوں کے پاسبانوں کے حصے میں پورے ملک کا راج آیا۔۔۔ 1970ء کے انتخابات اسی لیے جان لیوا ثابت ہوئے کہ بالادست طبقے اپنے تفوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونے دینا چاہتے تھے ورنہ اگر چھ نکات پر مکمل طور پر عمل بھی ہو جاتا تو (جو ممکن نہ تھا۔۔۔ بیچ کا راستہ نکالا سکتا تھا)۔۔۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا فیڈریشن کی جگہ کنفیڈریشن لے لیتی۔۔۔ ملک تو ایک رہتا۔۔۔ بھارت جیسے کمینے دشمن کی فوج کے آگے ہتھیار نہ پھینکنے پڑتے مگر عوام کی حقیقی حکمرانی کے آگے سر تسلیم ختم کر دینا ہر صورت میں ناقابل قبول تھا۔
1977ء کے انتخابات بھٹو کی دھاندلی کی نذر ہو گئے از سر نو چناؤ کے لیے معاہدہ ہوا چاہتا تھا کہ تیسرے مارشل لاء نے آن دبوچا۔۔۔ نوے دن کے اندر انتخابات کا وعدہ اس لیے وفا نہ ہوا کہ مرضی کے نتائج حاصل نہیں ہو رہے تھے۔۔۔ البتہ عوامی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ مل کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا بانی تھا قتل کے الزام کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔۔۔ ضیاء الحق نے 1985ء کے غیر جماعتی اپنی آمریت کے انتظام و انصرام میں کرائے اور پارلیمنٹ جیسی بھی تھی اسے بے دست و پا بنانے کے لیے آٹھویں ترمیم (58-2-B) متعارف کرائی۔ بات پھر بھی نہ بنی۔۔۔ مرضی کی پارلیمنٹ پر لات رسید کر دی۔۔۔ 1988ء کے چناؤ کے بعد بے نظیر بھٹو کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے وزیراعظم بنایا گیا۔۔۔ 1990ء کے انتخابی نتائج کو اپنی بھٹی میں ڈھالنے کی خاطر اصغر خان کیس کا (جو آج بھی زندہ ہے ) سوانگ رچایا گیا۔۔۔ اس سارے عمل کی کوکھ سے نواز شریف نام کا باغی وزیراعظم برآمد ہوا۔ 1993ء کے چناؤ کے بعد بینظیر دوبارہ آئیں اور اڑھائی سال کے اندر اپنی آنکھوں کے سامنے بھائی کے قتل کا المیہ ہوتا دیکھ کر گھر بھجوا دی گئیں۔۔۔ 1997ء میں ن واز شریف دو تہائی اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوا۔۔۔ ایٹمی دھماکہ کر کے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بھی بنایا مگر اٹھا کر کارگل کے مہم جو جنرل کی آتش میں پھینک دیا گیا۔۔۔ عوام کی حکمرانی کسی طور گوارانہ تھی۔۔۔ 2002ء میں جنرل مشرف اپنی نگرانی میں انتخابات کرا کے انگوٹھا چھاپ پارلیمنٹ کو وجود میں لایا۔۔۔ اس کا انجام 3 نومبر 2007ء کی ایمرجنسی کے ذریعے آئین اور عدلیہ دونوں کو تہ و بالا کر دینے پر ہوا۔۔۔ 2008ء کے عام انتخابات ہوئے سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی حکومت بنائی۔۔۔ اس نے پانچ سال کا عرصہ مکمل کیا لیکن عین بیچ راستے میں عدالت عظمیٰ کے حکم کے ذریعے اس کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو پانچ سال کے لیے نا اہل قرار دیا گیا کیونکہ وہ ریاست کے اندر ریاست کے الفاظ زبان پر لانے کا گناہ کر چکا تھا۔۔۔ 2013ء میں نواز کی مسلم لیگ (ن) نے ایک مرتبہ پھر عوامی مینڈیٹ کی طاقت حاصل کی۔۔۔ اس کی تیسری حکومت کے چار سال مکمل نہ ہونے پائے تھے کہ اقامہ کے کھوکھلے الزام پر تاحیات نا اہلی کا تمغہ دے کر اقتدار چھین لیا گیا۔۔۔ اب وہ خم ٹھونک کر سامنے کھڑا ہے ۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ کو للکار رہا ہے ۔۔۔ رائے عامہ کے جائزے 2018ء کے انتخابات میں اس کی کامیابی کے اشارے دے رہے ہیں۔۔۔ اسے کیسے روکا جائے۔۔۔ انتخابات بھی ہو جائیں اور یار لوگوں کا تسلط بھی قائم رہے۔۔۔ مقتدر قوت اور عوام کے حق حکمرانی کے درمیان وہی پرانی کشمکش جو کوئی پینسٹھ برس پہلے شروع ہوئی تھی، آج بھی جاری ہے ۔۔۔ انتخابات 25 جولائی کو عین وقت پر ہوں یا نہ ہوں زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔۔۔ بندوبست دوامی ہے ۔۔۔ لیکن عوام کا کیا کیجیے۔۔۔ وہ پنجابی محاورے کے مطابق اپنی آئی پر آجائیں تو بیلٹ بکس پر پہنچ کر قطعی فیصلہ صادر کرنے میں دریغ نہیں کرتے۔۔۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہو گیا تو ان کے مینڈیٹ کو کس حشر سے دوچار ہونا پڑے گا۔۔۔ اس کی تیاریاں بھی مکمل سمجھیے۔۔۔ ’ہم‘ کچی گولیاں نہیں کھیلے ہوئے۔


ای پیپر