بجلی بحران اور اس کا حل
09 جون 2018 2018-06-09

سینیٹر منتخب ہونے سے قبل میں دو بار صوبہ خیبر پختونخوا کا وزیر خزانہ رہ چکاہوں ۔ جس مسئلے پر مجھے سب سے زیادہ فون اور طعنے سننے پڑتے ہیں اور ووٹرز کا غصہ برداشت کرنے پر مجبور ہوتاہوں ، وہ لوڈشیڈنگ ہے ۔ اس وقت بجلی کا مسئلہ ہر فرد کا مسئلہ بن چکاہے اور اگر اس پر جلد قابو نہ پایا گیا تو بپھرے ہوئے عوام کچھ بھی کر گزرنے پر تیار ہو جائیں گے ۔
بجلی کی لوڈشیڈنگ پاکستان کے ان سنگین مسائل میں سے ہے جن کو ایک سال میں حل کرنے کے دعوؤں کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت 2013 ء میں برسراقتدار آئی تھی لیکن پانچ سال حکومت کرنے اور تمام تر دعوؤں کے باوجود حکمران پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب ان الفاظ کے ساتھ رخصت ہوئے ہیں ’’ اب آپ جانیں اور لوڈشیڈنگ ‘‘ ۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں شدید ترین گرمی کے باوجود ملک کے تقریباً تمام علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے طویل دورانیے سابقہ حکمران جماعت کی کارکردگی کا پول کھول رہے ہیں ۔ صرف یہی نہیں بلکہ توانائی کے شعبہ کی بد انتظامی کا واضح ثبوت وہ گردشی قرضہ ہے جس کی موجودہ مالیت 400 ارب سے زائد ہے اور جس مد میں گزشتہ ماہ 80 ارب روپے کی ادائیگی پر آڈیٹر جنرل پاکستان نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں ۔ زیر نظر مضمون میں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان میں توانائی کے بحران کے جعلی اسباب کا ایک مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے دیرپاحل کے لیے دستیاب طریقوں میں سے بہتر طریقہ تجویز کیا جاسکے ۔
پاکستان میں اس وقت بجلی کی ضرورت کا تخمینہ 22ہزار سے 24 ہزار میگاواٹ تک کا ہے اس طلب میں ہر سال تقریباً پانچ فیصد کی شرح سے ایک ہزار سے بار سو میگاواٹ کی طلب کا اضافہ ہو جاتاہے ۔ اس طلب کے مقابلے میں بجلی کی پیداوار 18ہزار میگاواٹ سے نہیں بڑھ سکی ہے ۔ حکومت کے دعوے تو 24 ہزار میگاواٹ کی پیداوار کے بھی رہے ہیں مگر حکومتی ادارے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن کمیٹی (NTDC) کے ذرائع بھی حکومتی دعوؤں کی تصدیق نہیں کرتے اس لیے کہ اس ادارے کا بجلی کی ترسیل و تقسیم کا نظام 18ہزار میگاواٹ سے زیادہ کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بجلی پیدا کرنے والے کئی نئے اداروں بشمول سندھ میں پیدا ہونے والی ہوائی توانائی Wind Powar پیدا کرنے والے اداروں کو ایک مخصوص حد سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ۔ بجلی کی پیداوار اور ترسیل کی صلاحیتوں کے درمیان فرق بھی ہمارے فیصلہ کرنے والے اداروں کی نااہلی کا اظہار ہے ۔ پیداوار اور ترسیل و طلب میں اسطرح سے تقریباً 6ہزار میگاواٹ کا فرق موجود ہے جس کا اظہار پورے ملک میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ سے ہوتاہے ۔ یقیناً اس پانچ سالہ دور حکومت میں بجلی پیدا کرنے کے کئی منصوبے مکمل کیے گئے لیکن اس کے باوجود بھی طلب و رسد کے درمیان فرق جو 2013 ء میں تقریباً پانچ ہزار میگاواٹ تھا ، اب بڑھ کرچھ ہزار میگاواٹ ہوچکاہے ۔ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں مکمل کیے جانے والے بجلی کے منصوبوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس حکومت نے صرف ایل این جی اور کوئلہ سے پیدا کی جانے والی بجلی کے منصوبوں کا آغاز کیا اور مکمل کیا جبکہ برقابی توانائی Hydro Powar اور جوہر ی توانائی کے صرف وہ منصوبے مکمل ہوئے ہیں جو موجودہ حکومت سے کئی سال پہلے شروع ہوچکے تھے اور 2013 ء میں تکمیل کے آخری مراحل میں
تھے ۔ یہی صورتحال قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی ہے جس میں ہوائی اور شمسی توانائی کے منصوبے بھی شامل ہیں ۔ یہ صورتحال واضح طور پر بتارہی ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں وہ منصوبے شامل نہیں ہیں جن سے بجلی کسی بیرونی ذریعہ ، مثلاً ایل این جی یا درآمدشدہ کوئلہ کے بغیر چل سکیں ۔ اس صورتحال کا یہی نتیجہ ہے کہ گردشی قرضے چار سو ارب سے اوپر ہوچکے ہیں جس رقم سے حکومت 2 ہزار میگاواٹ کے ہوائی ، شمسی یا برقابی توانائی کے منصوبے مکمل کر سکتی تھی ۔ اس حوالے سے یہ امر بھی محل نظر رہے کہ دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ جس سے 6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی کے علاوہ 4500 میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور جو اس کے نیچے Powar Stram میں بننے والے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی بھی پیداواری صلاحیت میں کم از کم 30 فیصد کا اضافہ کر سکتاہے اس انتہائی اہم پراجیکٹ کو جو 2013 ء سے بھی بہت پہلے سے ہر لحاظ سے تیار تھا ،عملی آغاز کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھا یا گیا ۔ ہاں البتہ خاقان عباسی صاحب نے اپنی رخصتی سے ایک ماہ قبل ECNEC سے 474 ارب روپے کی منظوری کا اعلان کر کے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری ہے یہی منظوری اگر 2013 ء میں کر کے عملدرآمد کا آغاز کیا جاتا اور لیپ ٹاپ کی تقسیم جیسے غیر منافع بخش منصوبوں کی بجائے سو ارب روپے سالانہ اس کام پر خرچ کیے جاتے تو کم از کم ڈیم اور آبی ذخیرہ تو تیار ہو جاتا اور اس تیار منصوبے پر بجلی کی پیدوار کے لیے ضروری سہولیات کی تنصیب کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے جھولی پھیلانے کی بجائے بجلی کے پیداواری آلات بنانے والے اداروں سے بعد میں ادائیگی کی شرائط پر تنصیب کا آغاز کیا جاسکتا تھا لیکن ’’کون جیتاہے تیری زلف کے سرہونے تک ‘‘ کے مصداق اس منصوبے پر جو چاہے قوم کے لیے کتنا ہی ناگزیر ہو ، پیسے خرچ کرنے کی زحمت کیوں کی جاتی جس کی تکمیل اور افتتاح حکومت کے پانچ سالہ دور میں ممکن نہیں تھا ۔ یہی وہ ستم ظریفی ہے جس کی وجہ سے اتنا اہم منصوبہ پرویز مشرف اور یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں کئی سال پہلے سنگ بنیاد رکھے جانے کے باوجود آج تک نہ ہی اس کی زمین پر تعمیر کاآغاز ہوا ہے اور نہ ہی کسی واقعی عملی اقدام کو اٹھایا گیاہے۔ ہائیڈروپاور یا برقابی توانائی پاکستان کے لیے سب سے پائیدار اور سستی بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے لیکن گزشتہ حکومت نے حسب سابق اس شعبہ کو تقریباً نظر انداز کیے رکھا اور ایل این جی اور کوئلہ کو نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر اپنی ترجیح اول بنائے رکھا ۔ اب تک پانی و بجلی کے وفاقی ادارے WAPDA کی تحقیقات کے مطابق تقریباً ایک لاکھ میگاواٹ بجلی برقابی ذرائع سے پیدا کرنے کی گنجائش پاکستان میں موجو د ہے جس میں سے تقریباً 65 ہزار میگاواٹ کے منصوبوں پر ابتدائی سطح سے لے کر تفصیلی ڈیزائن کے کام کیے جاچکے ہیں ۔یہی معاملہ پاکستان میں قابل تجدید توانائی Renewable Enrgy کے دیگر ذرائع ہوائی اور شمسی توانائی کے ساتھ بھی کیا گیاہے ۔ جلنے والے توانائی کے ذرائع) (Fossil Fuel کے دنیا بھر میں کم ہوتے ذرائع اور ماحولیاتی آلودگی کے مسائل نے دنیا بھر میں توانائی کی صنعت کا رخ بالکل تبدیل کردیاہے اور تمام تر ترقی یافتہ ممالک بشمول امریکہ ، چین اور جرمنی کے علاوہ ہمارا پڑوسی ملک بھارت بھی بہت تیزی کے ساتھ اب حرکی توانائی (Thermal Enrgy) سے تبدیل کر کے قابل تجدید توانائی کو بڑھا رہے ہیں۔ چین میں ہوائی توانائی پیدا کرنے کے موجودہ پلانٹس کی پیداواری صلاحیت 114 ہزار میگاواٹ اور شمسی توانائی کے پلانٹس کی پیداواری صلاحیت 28 ہزار میگاواٹ ہے۔ جرمنی جو پاکستان کے مقابلہ میں رقبہ میں نصف سے بھی کم ہے ، اس وقت 39 ہزار میگاواٹ ہوائی بجلی پیدا کر رہاہے جبکہ شمسی حدت Sunshine کے سالانہ گھنٹوں کی تعداد بھی پاکستان سے تقریباً نصف ہونے کے باوجود شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی جرمنی کی صلاحیت 38 ہزار میگاواٹ ہے تو کیا ہم پاکستان میں اپنی طلب جو ابھی 30 ہزار میگاواٹ تک بھی نہیں پہنچی ، برقابی بجلی کے ساتھ ساتھ ہوائی اور شمسی توانائی کے ذرائع استعمال کر کے نہ صرف ارزاں ، پائیدار ،زر مبادلہ کے خرچ سے محفوظ اور ماحول دوست پلانٹس لگا کر اپنی ضروریات نہیں پوری کر سکتے ؟ اس حوالے سے امریکی ادارے نیشنل رینوبل انرجی لیبارٹری( NREL ) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہوائی اور شمسی توانائی کی ناقابل یقین حد تک گنجائش موجود ہے ۔شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی گنجائش کا تخمینہ NPEL سے 2900 ہزار میگاواٹ کا لگایا ہے جو موجودہ طلب سے سو گنا زیادہ ہے ۔ جبکہ ہوائی توانائی پیدا کرنے کی گنجائش پاکستان میں 346 ہزار میگاواٹ ( پاکستان کی موجودہ طلب سے پندرہ گنا زیادہ )ہے ۔کیا ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کی گئی عظیم نعمتوں ہوا ، پانی اور سورج کے ذریعے فراہم کردہ لامتناہی اور کبھی نہ ختم ہونیوالے برقی توانائی کے ذرائع کو نظر انداز کر کے غیر ملکی سرمایہ کاری ، قرض اور سود کے ساتھ ساتھ خطیر زرمبادلہ کے اخراجات کو ترجیح دے کر ناشکر ی کا بھر پور مظاہرہ نہیں کر رہے ؟
حقیقت یہ ہے کہ اب وقت آگیاہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے مفادات کا تحفظ کرنا سیکھیں اور اپنے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ اپنے وقتی مالی مفادات کی خاطر غلط ترجیحات کے تعین کی بجائے ملک کی توانائی کی پالیسی کو صحیح رخ پر ڈالیں ۔


ای پیپر