اور تم کیا جانو شب قدر کیا ہے !
09 جون 2018 2018-06-09

پاکستان 27 رمضان کو وجود میں آیا۔ دنیا کی تقدیر بدلنے کی اس رات میں برصغیر کے مسلمانوں کے حق میں رب تعالیٰ نے تاریخ ساز فیصلہ دیا۔ آنکھ پھڑکنے ، کوا بولنے ، کالی بلی (بے چاری!) کے راستہ کاٹنے سے شگون لینے، معنی اخذ کرنے (جو لغو ہے ) والی قوم۔ اللہ کا اشارہ سمجھنے سے قاصر ہے ؟ شوال ، شعبان میں نہیں عام شب و روز میں نہیں ، آخری عشرے کی لیلۃ القدر کی مبارک گھڑیاں ہوں اور ہمارے وعدے اور دعوے۔۔۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ ۔۔۔ پر ہماری تاریخ اور نیا جغرافیہ رقم ہو جائے۔؟ شاید ہم اس رات کی عظمت و تقدیس بھولے بیٹھے ہیں۔ خود کو بھول گئے۔ خدا کو بھول گئے۔ اس کائنات کی تاریخ میں دو دن اور ایک رات نہایت اہم ، انقلابی اور تاریخ ساز تھے۔ ایک تخلیق آدمؑ کا دن ۔ جب پہلے سے موجود اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے باپ آدمؑ کو وجود بخشا۔ ابتدائی تعلیم و تربیت سے نوازا۔ اشرف المخلوقات ٹھہرایا۔ مسجود ملائک۔ ابلیس حکم عدولی کی بنا پر تکبر کی مار کھا کر مردود ٹہرا۔ دوسرا دن وہ جب ھبوط آدمؑ ہوا۔ دنیا وجود پا چکی تھی۔ لامنتہا نعمتوں سے سجائی جا چکی تھی۔ ’اگر تم نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو گن نہیں سکتے!‘۔ خوراک ، لباس ، ضروریات، رہن سہن بودوباش مہذب زندگی کے لوازم کے بیچ ہمارے باپ آدم علیہ السلام اپنی زوجہ مطہرہ یعنی ہماری حواؑ کے ہمراہ لابسائے گئے۔ نہ صرف انسان تھے (نعوذ باللہ بوز نے ڈارون کے بے مجد باپ نہیں!) بلکہ نبوت کے نور سے قلب و ذہن ، سیرت و کردار سجایا گیا تھا۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے بعد آخری مرتبہ دنیا کو وحی الٰہی سے نوازا جانا مقدر ہوا۔ تقدیر کے اس بے مثل فیصلے کی رات ، ہزار مہینوں۔ یعنی ہزاروں لاکھوں راتوں سے زیادہ قیمتی۔ اس رات میں اللہ نے دنیا کی تاریکیاں ابد تک دور کرنے کو جبرئیل امین بھیجے۔ محمدؐ جو الصادق الامین تھے۔ دعائے خلیلؑ اور نوید مسیحا بھی تھے۔ رسالت مآب بھی ہو گئے! یہ رات صرف نزول قرآن کی نہیں۔ اللہ نے مجھے میرا ہادی ، رہبر و رہنما ۔ مصطفی عطاء فرمایا۔ اللھم صل علیٰ محمد! یہی رات نزول قرآن کی ہے ۔ جبرئیلؑ امین جیسی تقدس مآب ہستی سے ہمارے تعارف کی ہے اور ہمارے محبوب نبیؐ کی بعثت ورسالت کی ہے ۔ رہتی دنیا تک کی جہالت مٹانے۔ انسان کو احسن تقویم۔ (جس پر اللہ نے اسے پیدا کیا تھا) پر لوٹانے کا نسخہ کیمیا عطا ہوا تھا۔ انسان کو وہ علم دیا جس سے وہ نا آشنا تھا۔ پس پردہ حقائق کھلے۔ چلتے ہیں جبرئیل کے پر جس مقام پر۔ اس کی حقیقتوں کے شناسا تمہی تو ہو! مقصد زندگی اور زندگی بعد موت کا علم عطاء ہوا۔ سراج منیر کے سیرت و کردار کی ضو ، دمکتے سورج کی سی ایمانی حرارت، قوت کو صحابہ کرام نے سولر پینل کی مانند جذب کیا ۔ اور ان کی شخصیات لائٹ ہاؤس ، پاور ہاؤس بن کر تاریک دنیا کے اندھیرے آپؐ کے بعد دور کرنے والی بن گئیں۔ اس نور سے شرق تا غرب روشن ہوئے۔ حضرات بلالؓ و خبابؓ ، ابوبکرؓ و عمرؓ ، عثمانؓ و علیؓ۔ ابوعبیدہ بن جراحؓ ، خالد بن ولیدؓ جیسی فلڈ لائٹس ۔ دنیا البعقہ نور بن گئی۔ اسی حرارت اور نور سے اجڈ گنوار یورپ کو طارق بن زیادؒ نے تہذیب آشنا کیا ۔ بت پرست ، جہل کے اسیر ہندوستان میں محمد بن قاسمؒ دیوتا کا درجہ پا گیا۔ سیرت و کردار کی عظمت سے مبہوت عوام ، اپنے ظالم و جابر، بے انصاف ، استحصالی راجاؤں کے مقابل محمد بن قاسم کو پا کر دم بخود رہ گئے۔ صلاح الدین ایوبیؒ تا اورنگ زیب عالمگیرؒ ۔ لامنتہا ناموں کی دمکتی فہرست اس دنیا کا مقدر ٹھہری۔ لیلۃ القدر ۔ اپنے جلو میں یہ نگینے لئے آئی۔ ہم پر آزادی کی صورت لیلۃ القدر کی صبح ، شہدائے ہجرت کے خون کی مہک سے بسی نسیم سحر لئے آئی۔ اب اس عظیم الشان نعمت پر امتحان ہمارا تھا جو شروع ہوا۔ وہ قرآن جو اس رات میں اتارا گیا۔ اسے ہمارا لائحہ عمل ، آئین ، انفرادی اجتماعی زندگی کا رہنما ہونا تھا۔ علامہ اقبال کا خواب یہی تھا۔ بانی پاکستان محمد علی جناح کا وعدہ بھی یہی تھا۔ مگر پھر اس ملک کی تقدیر پر دولے شاہ کے چوہوں کا نزول شروع ہو گیا۔ یعنی نسل در نسل ہم پر مسلط ہو جانے والی قیادتیں۔ جو لارڈ میکالے کے نظام تعلیم وتربیت سے نکلیں۔ انگریز کے ورثے میں طے کردہ نظام ہائے قیادت سازی کے خود سروں پر چڑھائے غلاموں کی کھیپ تیار ہوئی تھی۔ جن کے رنگ روپ پاکستانی لیکن کنٹوپوں تلے پچکے دماغ ، گورے کی غلامی کا سودا سروں میں لئے تھے اپنی شناخت ، اپنی تاریخ ، تجزیاتی نگاہ ، آزادی کے تقاضوں تک سے نا آشنا تھے۔ رمضان میں ایک طرف قرآن ، اپنی تمامتر عظمت ، عالی شان پیغام ، حیات بخش نظام زندگی لئے رگ و پے کو منور کرتا ہے ۔ اس کے بعد اخبار اٹھانے اور ملک کا حال، حلیہ ، چال ڈھال ناک نقشہ ، زبان و بیان پڑھ دیکھ کر ، اپنی قوم کی کسمپرسی پر دل غم سے بھر جاتا ہے ! تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی۔ کہ گفتار و کردار تو ثابت وہ سیارہ ۔ وہ رات جب رہتی دنیا تک کے لئے ہمیں آسمانی ، ربانی پیمانے عطاء ہوئے۔ ہم فیض رہ گئے؟ دنیا کو اسلام نے اپنے عروج کے دور میں بے مثل سلامتی سے نوازا۔ سونا اچھالتے نکل جائے ایک اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہو۔ دنیا کو بے مثل معاشی ترقی ، عدل و انصاف سے شاد آباد کیا ۔ تاریک ادوار میں ٹامک ٹوئیاں مارتے یورپ کو سپین کا دمکتا ہیرا عطاء کیا ۔ اسلام نے طارق بن زیادؒ اور ان کے مجاہدین نے اور بعد ازاں مسلم حکمرانوں نے ۔ عقیدہ جس رات اترا ، عمل سے ہم آہنگ ہو گیا۔ سجدوں سے بھی لذت آشنا کر گیا۔ حکمرانی کے آداب بھی عجز اور خدمت عوام میں گندھے ہوئے سکھا گیا۔ آج دنیا بے پناہ مادی ترقی اور پیداواری قوت کے باوجود بحیثیت انسان اور معیار انسانیت کی سطح پر ، بدترین دور سے گزر رہی ہے ۔ انسان ہائی ٹیک (بے روح ، بے خدا ، تشنہ، جاں بلب) درندہ بن چکا ہے ۔ ملکوں ، ملکوں حکمران نہیں ، لوٹ مار کرنے والا قبضہ گروپ نوعیت کا مافیا ہے ۔ شقاوت و بدبختی ، خود کشی ، حرام اولاد ، رشتوں ، معاشرتی نظاموں کی شکست و ریخت، نفسیاتی امراض کا دور دورہ ہے ۔ ظلم و درندگی میں بھیڑیوں کو شرما دینے والے بہت بڑے بڑے نام۔ میڈیا، اخباروں کی شہ سرخیوں پر راج کرنے والے۔ ٹرمپ ، مودی ، نیتن یاہو، بشار الاسد ، پیوٹن ، چیونٹی نہ مارنے والے مگر مسلمانوں کا خون پی جانے والے برمی بدھ! اس دنیا میں اسلام اور مسلمان کا دوسرا نام دہشت گردی رکھ دیا گیا! ٹھیک کہتے ہیں۔ وہ اس دین اور اس کے ماننے والوں سے دہشت زدہ ہیں۔ اسلام کی پاکیزگی ، اس کی اعلیٰ اقدار ان کے لئے ایک چیلنج ہے ۔ ان کا طرز زندگی اس دین کے مطابق شدید گرفت کے لائق ہے ۔ ملکوں قوموں اور ان کے عوام کا استحصال کرنے والوں کے لئے اسلام موت کا پیغام رکھتا ہے ۔ ان کی کرتوتیں کوڑوں کی مار پر رکھے جانے کے لائق ہیں۔ ان کی فحش کاری ، بے حیائی ، نسلوں کو نسب کے شرف سے محروم کرنے والی زندگی کو اسلام سنگساری کے قابل ٹھہراتا ہے ۔ گورے کالے ، عربی عجمی ، آقا غلام کی تفریق مٹاتا ہے ۔ بے لاگ انصاف قائم کرتا ہے ۔ (فاطمہؓ بنت محمدؐ بھی چوری کرتی تو ہاتھ کاٹ دیا جاتا۔۔۔ جیسا انصاف !) یہ نظام ٹرمپوں ، مودیوں ہی کے لئے نہیں۔ مسلم ممالک پر حکمران کٹھ پتلیوں کے لئے بھی موت کا پیغام ہے ۔ اسی لئے یہ دہشت گردی ہے اور شریعت کے لئے آواز اٹھانے والے بھی انہیں لرزا کر رکھ دیتے ہیں۔ ہر زور کی آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں! (المنافتون۔4 ) ایسے میں جب چیف جسٹس نے یہ کہا کہ ’حاکمیت صرف اللہ اور قانون کی ہے ‘ ۔ تو ہم حیران ہو کر اللہ کی حاکمیت تلاش کرتے رہے۔ قانون ملکہ برطانیہ کا چل رہا ہے جس کا تولیہ سر پر رکھے آج بھی ہمارے جج صاحبان عدالتوں میں موجود ہیں۔ ۔ اللہ کی حاکمیت ٹیلی وژن پر؟ نظام تعلیم میں؟ معیشت (سود بھری) میں؟ معاشرت ؟ سیاست !!! ہمارے نگران وزیر اعظم کی آرمی چیف سے ملاقات کی تصویر ملک میں اصل حکمرانی کس کی ہے ، پر روشنی ڈالنے کو بہت کافی ہے ۔ انتخابات اور جمہوریت کا حال بھی بیان کر رہی ہے ۔ نگران وزیر اعظم کی بدن بولی ’جی جناب‘! (Yes Sir)، حاضر جناب! کی منہ بولتی تصویر ہے ! یہ وزارت عظمیٰ ، (حلوائی کی دوکان پر دادا جی کی فاتحہ کے محاورے میں ادنیٰ تصرف کے ساتھ) عوام کی جیب پر اباجی کی فاتحہ۔ دلوانے تک کے حقوق سے مالا مال ہے اور بس! (خبریں اور وڈیوز وائرل ہوتی رہیں اسلام آباد سے سرکاری بیڑے کے اس ضمن میں پناہ اخراجات پر) ۔ ایسے میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے وزیر اعظم سے عافیہ کے لئے انصاف مانگا ہے ! شنید ہے کہ ناصر الملک صاحب جب عدلیہ کی منصب پر تھے تو اپنے گارڈ کے لاپتہ کئے گئے بیٹوں تک کو انصاف دلوانے سے قاصر رہے۔ کجا کہ لاپتہ کرنے کے بعد امریکہ حوالگی والی بیٹی عافیہ بارے میں مدد دے سکیں! فوزیہ کو بھی آرمی چیف ہی سے رجوع کرنا چاہئے۔
مسلم ممالک کی مضبوط ترین فوج ہماری بیٹی واپس لائے۔ سو آپ صحیح دروازہ کھٹکھٹایئے۔ جن کے ہاتھ میں پاکستان کی شاہ کلید ہے ۔ ایمان اور مسلمانوں کی ہمدردی ساری اب لگتا ہے دنیائے کفر کے سینوں میں جاگ اٹھی ہے ۔ غزہ کے بچوں کی اپیلوں اور فلسطینی سفیر کی شاندار سفارت کاری پر فٹ بال کے عالمی ہیرو اور ارجنٹائن کے
قومی فٹبال ٹیم کے کپتان نے اسرائیل اور ارجنٹائن کے مابین مقبوضہ بیت المقدس میں کھیلا جانے والا میچ منسوخ کر دیا ہے ! جو فلسطینیوں کی مظلومیت کے ساتھ شاندار اظہار ہمدردی اور یک جہتی ہے ! اسرائیل کے منہ پر طمانچہ ہے ! اللہ اس ٹیم کو ایمان عطاء فرمائے۔ ہم تو مبارک راتوں میں اس سے بڑی دعا اور انعام نہیں جانتے!


ای پیپر