اردو کی ہم رشتگی پنجابی کے ساتھ
09 جون 2018 2018-06-09

جس میں ہندی کے پہلو بہ پہلو فارسی اور عربی کے الفاظ بھی نظر آتے ہیں۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اردو کا لفظ اس وقت رائج ہوا ، جب یہ لشکر کی زبان کی حثیت میں واضح طور پر ابھری۔ ریختہ کے لغوی معنی بھی گرے پڑے اور پریشان کے ہیں۔ ترکی زبان میں اردو کا مطلب فوج یعنی آرمی سے ہے۔ اس زمانے میں عوام الناس کے پاس ریختہ کے استعمال کے سوا ارد کو کی چارہ کار بھی نہ تھا۔ کیونکہ دیسی اور پردیسی اپنے کاروبار کے لیے ایک کہ زبان کے استعمال پر مجبور تھے۔ لیکن لکھنے کی زبان میں کچھ فرق ضرور تھا۔ نووارد زیادہ تر فارسی میں لکھتے تھے جیسے کہ عرض کیا درباری زبان اور جہاں ۔۔۔ کہ مدارس کی زبان عربی زبان میں اظہار خیال کی ضرورت محسوس ہوئی تھی، وہاں فارسی اور ہندی کے امتزاج کو بروئے کار لاتے تھے۔ دوسری طرف اہل ہند اور سکرت کے الفاظ زیادہ ہوتے تھے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بارھویں اٹھارویں سے سترھویں صدی تک ریختہ کا نہ صرف عام مزاج ہندی سے ملتا تھا بلکہ اس میں فارسی اور عربی کے الفاظ کی وہ فراوانی بھی نہ تھی جو اٹھاوریں صدی میں ایک شعوری کوشش کے باعث وجود میں آئی!
خواتین وحضرات ! اردو زبان کے اس تاریخی اور تہذیبی پس منظر کے بیانیے کے بعد اب دیگر زبانوں بالخصوص پنجابی سے اس کی مماثلت اور رشتے پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں۔ آریاؤں کی وادی سندھ پر یلغار کے بعد، جو مقامی باشندے بچ رہے ، وہ داس، پانڑی اور بعد ازاں شودر کے نام سے ان کے ساتھ منسلک ہو گئے۔ کچھ حملہ آوروں سے بچ کر ہجرے کر گئے۔ قیاس غالب ہے کہ وادی سندھ کے باشندوں نے دکن کی طرف ہجرے کی اور وہاں آباد ہو گئے، دکنی زبان میں پنجابی کے الفاظ کی فراوانی اس ہجرت کا اہم ثبوت ہے۔
تو پیاری عشق بھی تیرا ہے پیارا
لگیا بہت تج سوں دل ہمارا۔( عبداللہ قطب شاہ)
اور
جہاں توں واں ہوں میں پیارے سنج کیا کام ہے کس سوں
نہ بت خانہ کا سنج پروا نہ مسجد کا جند منج کوں
(قلی قطب شاہ)
یہ مثالیں بتاتی ہیں
اس زمانے کے شاعری پر دیسی اثرات واضح ہیں۔
ہندی، اردو ، فارسی، کلاسیکی شاعری کے اہم ستون ، امیر منگرو نے بہ زبان پنجابی با عبارت مرغب مقد مہ جنگ، غازی الملک تغلق، یعنی غازی الملک تغلق کی ’’ وار ‘‘ جو پنجابی شاعری کی مشہور صنف ہے۔ لکھ کر ، پنجابی سے اردو کے رشتے کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بعد چودھویں صدی میں اس ریجن کی دو اہم زبانوں کے اشتراک کا ایک اور ثبوت ہمیں شاہ برہان الدین غربت (1337) کے تذکرے سے ملتا ہے۔ جو شیخ فرید کے ہاں
دکن میں ٹھرے ہیں۔ اور ان کی بیٹی بی بی عائشہ پر نگاہ پڑتی ہے تو اک خفیف مسکراہٹ ان کے لبوں پر آتی۔ جس پر شیخ فرید بہ زبان پنجابی کہہ اٹھتے ہیں۔ اے برہان الدین ! ساڈی دھی کوں کیمہ سیدا ایں !
برہان الدین انڈو آدیں کی قدیم (why are you laughing at our daughter) پنجابی ، وادی سندھ زبان جس کا تہذیبی دامن کشادہ اور روح محبتی تھی۔ سورا سینی پر اکرت سے جنم لینے والی یہ پرانی زبان، گیارھویں صدی میں تب independent language قرار پاتی ہے۔ جب اس میں لٹریرل ایکسٹیوپٹی شروع ہوئی ہے اور اس کی ابتدا کون کرتا ہے۔ ! بابا فرید الدین گنج شکر ؒ !
فریدا خاک نہ تندیے، خاکو جید نہ کوئے۔ جیوندیاں پیراں تھے موئیاں اپڑ ہوئے !
اور پھر اس کے بعد۔ شاہ حسین۔ سلطان باہو۔ بابا بلھے شاہ۔ پیر وارث شاہ۔ خواجہ فرید۔ سچل سر مست جیسے عظیم صوفی بزرگوں علم، عشق اور عرفان کی چمیار جانب جیسے دمنک سی بھیر دل، ابتدائی پنجابی لٹریچر کی روح روحانیت کے نور میں گندھی ہوئی تھی۔ ہمارا سارافوک اور انہی صوفی بابوں کی دین ہے۔! 1600 اور 1850 ء کے درمیان علم، کا جنگ نامہ fine poetry کا ایسا شاہکار ہے جس کی مثال نہیں ملتی، جو پہلی Anglosikh جنگ پر مشتمل ہے۔ اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بعد وجود میں آیا، گرو گرنتھ صاحب جو سکھوں کی مذہبی کتاب ہے۔ پنجابی ، برج بھاستا، کھڑی بولی، سنسکریت اور فارسی کو مجموعہ ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری سمجھتی ہوں۔ کہ کلوینل عہد جسے ہم دور غداری کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اگرچہ بہت تاریک تھا۔ مگر اس میں زبان و ادب کے حوالے سے اچھے کام بھی ہوئے۔ مثلاً پنجابی زبان کے لیے جو خود پنجابی نہ کر سکے۔ وہ کام ماہر لسانیات (George Araham Grierson) نے کر دیا، dinguistic survay of india کی شکل میں، جو کئی جلدوں (volums) پر مشتمل تھا۔ قدیم 1904 ء سے 1928 ء تک کے اس سروے میں، Gaierson نے پہلی دفعہ اس زبان کے لیے پنجابی لفظ استعمال کیا۔ اور بتایا کہ پنجاب ریجن میں جو زبان بولی جاتی ہے۔ اس کا نام پنجابی ہے۔ جس کے بعد سرائیکی، پوٹھوہاری، اور ہند کو کو الگ زبانوں کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ صوبے کے انتظامی امور چلانے کے لیے، کلونیل عہد میں اردو کو پنجاب کی دفتری زبان کے طور پر 1854 ء میں رائج کیا گیا۔ جس کے بعد اردو سے پنجانی کا رشتہ کچھ اس طرح استوار ہوا کہ اقبال، فیض، میراجی، رانشو، بیدل، منٹو، کرشن چندر احمد ندیم قاسمی، مجید امجد، منیر نیازی، اور ظفر اقبال تک اردو زبان و ادب کے ایسے مینار دکھائی دیتے ہیں۔ جو بزعم خود اردو سے پنجانی کے رشتے کی اک بہت بڑی دلیل ہیں۔ دونوں زبانیں چانکہ انڈو آرین زبانیں ہیں اور فارسی اسکرپٹ کی مماثلت کی وجہ سے ، پڑھنے میں کچھ غیر نہیں لگتا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں جہاں پنجابی بولی جاتی ہے۔ وہاں اردو ۔۔۔۔ ایک معتبر اور شناسا حیثیت میں موجود ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا ، یہ وہ زبان ہے، جو رابطے کی زبان ہے۔ مقامی زبانوں سے اردو کا یہ رشتہ ایسا ہے۔ جس نے سب کو وحد ت کی لڑی میں پرو رکھا ہے۔ اور پھر ہمارے صوفی بابے، جنہوں نے انڈو پاک کے تہذیبی ، تاریخی اور لسانی ورثے کو اپنے لافانی کلام کے ذریعے محفوظ کر کے ہمیں زمانے میں معزز کیا، کیا کوئی اردو بولنے والا ورثے کا انکار کر سکتا ہے۔
یہ ہمارا وہ مشترکہ ورثہ ہے جس پر ہم باقاعدہ فخر محسوس کرتے ہیں ۔یاد آتا ہے، جنگ آزادی کا ایک ہیرو جسے تاریخ شہید ادھم سنگھ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ جس نے جلیانوالہ باغ معصوم شہریوں کا قتل عام کرانے والے جنرل ڈائر کو نے یہ تاریخی الفاظ کہہ کے Assassinate کیا تھا۔ جب اسے حلف اٹھانے کو کہا گیا۔ تو اس نے یہ تاریخی الفاظ کہے کہ میں کسی مذہبی کتاب پر ہاتھ رکھ کر حلف نہیں اٹھاؤں گا، ہیرو وارث شاہ لائیں کہ میرے لیے اس سے متبرک اور کوئی کتاب نہیں۔!
یہ کتاب اور اس جیسی دیگر کتابیں، محبت کی کتابیں ہیں۔
امیر خسرو نے پہلے مجنوں اور شیریں فرہا کے پنجابی قصوں کو فارسی مثنویوں میں ڈھال کر یہ ثابت کیا کہ بولی جانے والی زبان ہمیشہ کتھا میں ہوئی ہے۔ اور ہر نیا قدم یا تجربہ اس کے سرما ئے میں اضافہ کرتا ہے۔ اور اسے اوپر کو اٹھاتا ہے۔ اردو کے مقامی زبانوں بالخصوص پنجابی سے رشتے کی غرض و غایت بھی یہی ہے۔ اگر کسی کو شک ہے تو ذرا ماضی میں جھانکیے!
پرانے وقتوں میں ، دہلی کے بہت سے شعراء جن میں اکبرو حاتم، اور مرزا مظہر جان جاناں شامل تھے ۔ نے ریختہ کو بھاشا کے الفاظ ، تلمیحات اور محاوروں سے پاک صاف کرنے کی ایک مہم کا آغاز کر دیا۔ رام بابو سکسینہ نے لکھا ہے۔ ’’ اس دور میں سنسکریت‘‘ بھاشا اور قدیم دکنی کے الفاظ کا اخراج ہوا جو مہرو سودا کے زمانے میں جاری رہاا ور شیخ ناسخ کے عہد تک جس کی تکمیل ہوئی۔ زبان کو پاک کرنے کی اس مہم نے اردو کو ایک طویل عرصہ کے لیے مٹی کی زبان اور فضا سے گویا منقطع کر دیا ، تاہم اردو کی خوش قسمتی کہ 1857 ء کے بعد اسے درباروں اور درباری اثرات سے گویا نجات مل گئی۔ اور اس میں ایک ایسی قوت اور خوبصورتی پیدا ہوئی کہ آج اسے دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کا ہم پلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ پھر ہم آہستہ آہستہ اس زبان سے دور کیوں ہوتے جا رہے ؟ اس زبان کے شعر وادب اور اردو کتاب سے یہ دوری ہمیں کہاں لے کر جا رہی ہے۔ کسی بھی قوم کی پہچان اس کی زبان ، ادب اور اس کی ثقافت اور ثقافتی اقدار سے بھی بے گانہ ہوتے جا رہے ہین۔ یہ بے گانگی ہمیں من حیث القوم کہاں لے کر جا رہی ہے۔ کیا کسی کے پاس فرصت ہے سوچنے کی ؟؟؟


ای پیپر