اک۔۔۔تباہ۔۔۔سات (اقتباسات)۔۔۔
09 جون 2018 2018-06-09

دوستو، جب کتاب کے حوالے سے کالم ’’کی ۔تاب‘‘ تحریر کیا اور اس میں آخری پیراگراف اس کتاب کے حوالے سے دیا جس کے چرچے ان دنوں برقی اور ورقی میڈیا پر ہے تو دوستوں کی اکثریت نے اصرار کیا کہ مزید اقتباسات بھی سامنے لائے جائیں۔ہمیں شدید قسم کی حیرت ہوئی کہ کالم میں اتنی ساری کام کی باتیں کیں لیکن ’’چس‘‘ آپ لوگوں کو صرف لاسٹ پیراگراف میں آیا،اس پر افسوس کریں یا مبارکباد دیں۔یہ تو وہی حال ہوگیا کہ کسی نے نمازجنازہ کے بجائے عید کی نماز پڑھادی، جس پر پیچھے کھڑے لوگوں کاکہنا تھاکہ، مبارک ہو،بڑا افسوس ہوا جناب۔خیرہم نے آپ لوگوں کی ہی فرمائش پہ، کالاجوڑا تو نہیں ’’پایا‘‘ لیکن کوشش کی ہے کہ ایسی کتاب جس کے میڈیا پر بڑے چرچے ہیں، اس کے چند اقتباسات آپ لوگوں تک پہنچادیں،جس طرح کتاب لکھنے والی محترمہ اب تک سامنے آنے والی باتوں کے حوالے سے تردید یا تصدیق نہیں کررہیں، اسی طرح ہم بھی تردید یا تصدیق نہیں کریں گے کہ یہ اقتباسات کتنے مصدقہ ہیں۔۔۔ فی الحال تو آج چھٹی کا دن ہے اور اپنی چھٹی اور روزے کو ان اقتباسات سے بہلائیں۔جو ہماری نظر میں اقتباسات نہیں بلکہ، ’’ اک تباہ سات ‘‘ ہیں۔
آنے والی کتاب میں شائع ہونے والی باتوں کو سامنے لانے سے پہلے کتاب کے پس منظر پر کچھ بات کرلی جائے۔۔۔کسی دل جلے نے شکوہ کیا ہے کہ ۔۔۔ میڈم، یہ پاکستانی قوم ہے، کتابیں بالکل بھی نہیں پڑھتی ، ہاں البتہ اگر آپ کوئی ’’ٹوٹا‘‘ واٹس ایپ پر ڈال دیں تو بہت شدید قسم کا رسپانس ملے گا اور تیزی سے پورے ملک میں پھیل جائے گا،لوگ آپ کی بات کا ’’بیک گراؤنڈ‘‘ بھی اچھی طرح سے جان جائیں اور سمجھ بھی لیں گے۔ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے۔ نوازشریف کا مقابلہ آسمانی (خلائی مخلوق)سے ہے تو عمران خان کا نسوانی مخلوق سے ہے۔وہ مزید فرماتے ہیں کہ، شادی کرلینی چاہیئے، اگر شادی کامیاب ہوگئی تو زندگی اچھی، نہ ہوئی تو کتاب اچھی۔پیارے دوست مزید کہتے ہیں۔کچھ عورتوں کے ریحام خان سے متعلق تاثرات جان کر اندازہ ہوا،بے شک عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ماہ صیام کے حوالے سے وہ مزید کہتے ہیں کہ، روزہ ٹوٹنے کے مسائل ہیں، پانچ وجہ سے روزہ ٹوٹ سکتا ہے۔جان بوجھ کے قے کرنا، کھانا پینا، خون بہنا، خودکشی کرنا۔اور ریحام خان کی روزے کے دوران کتاب پڑھ لینا۔ہمارے ایک سینئر صحافی فرماتے ہیں۔ کپتان کو ہمیشہ پڑھی لکھی بیویاں ملیں، پہلی ای میل لکھتی تھی، دوسری نے کتاب لکھی اور تیسری تعویز لکھتی ہے۔کراچی میں ہمارے ایک بزرگ صحافی نے ہمیں میسیج کیا، تراویح پڑھ کر جیسے ہی گھر میں داخل ہوا تو دیکھا، بیگم صاحبہ کاغذ پر قلم سے کچھ لکھنے میں مصروف تھیں، یہ دیکھ کر میرا تو ’’تراہ‘‘ نکل گیا،پوچھ بیٹھا کہ بیگم کیا کررہی ہو،خدانخواستہ کسی کتاب کا پروگرام تو نہیں بنالیا، وہ مسکراکربولی، ابھی ٹی وی پر ایک ’’ رے سی پی‘‘ دیکھی تھی وہی لکھ رہی تھی،تاکہ کل نئی ڈش بناسکوں۔
اب کتاب سے کچھ اقتباسات ، جن کے متعلق ہمارا دعویٰ ہے کہ، آپ اسے پہلی بار پڑھیں گے اور اس سے پہلے ایسے اقتباسات کسی ’’برقی اور ورقی‘‘ میڈیا میں سامنے نہیں آئے۔اور ہاں اگر کسی کو برا لگے تو دیوار پر ٹکر دے مارے کیوں کہ ہم نے آپ کے اعتراض یا احتجاج کا کوئی نوٹس نہیں لینا۔
کتاب کے تیسرے باب میں ایک جگہ لکھا ہے۔ایک دن نعیم الحق گھر آئے تو جلدی میں ان کو میں نے شیرو کے برتن میں کھانا دے دیا، نعیم الحق کے چلے جانے کے بعد عمران مجھ پر بہت غصے ہوئے کہ شیرو کے برتن میں نعیم کو کیوں کھانا دیا؟ اب مجھے شیرو کے نئے برتن لانے پڑیں گے۔ ۔(صفحہ نمبر ایک سوبتیس)۔۔۔ایک اور جگہ محترمہ لکھتی ہیں۔۔۔خان صاحب رات کے تیسرے پہر اٹھ کر نہانے جاتے تھے شیروانی پہن کر مجھے نیند سے جگا کر اکثر پوچھتے ، لگ رہا ہوں نہ وزیر اعظم ؟؟۔۔۔ایک اور جگہ بڑے واضح انداز میں لکھا ہے کہ۔ شیروانی تو وہ اکثر پہنتے ہی رہتے تھے، ایک روز منہ پر انڈویئر پہن کر کہنے لگے، مجھے ’’بیٹ مین‘‘ بولو۔۔۔نویں باب اور صفحہ نمبر دوسوتراسی پہ تحریر ہے۔وہ کبھی کبھار میرا نام بھول جاتے تھے اور مختلف ناموں سے مجھے پکارتے تھے، جیسے جمائما، سیتا، زینت، مریم اور بہت سے ایسے نام،مگر حد تو تب ہوئی جب ایک روز میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر رومانٹک انداز میں بولے ۔شیخ رشید آج غصب لگ رہے ہو۔۔۔پہلے باب کے صفحہ ننانوے میں درج ہے۔ ایک دن میں نے ضد کی کہ مجھے گھومنا ہے، وہ گلاس لے آئے،ایک گھونٹ خود لیا اور باقی مجھے پلادیا۔پھر ہم میاں بیوی سارا دن ’’گھومتے‘‘ رہے۔
صدرمملکت فرماتے ہیں۔ محترمہ نے اپنی کتاب میں چار صفحات خالی چھوڑ کر مجھے بھی بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔کسی نے یہ افواہ بھی پھیلائی ہے کہ کتاب کے ساتھ سی ڈی بالکل فری ملے گی۔کتاب کے صفحہ ایک سو اکیس پر ایک واقعہ کچھ اس طرح لکھا گیا ہے کہ۔ ہم میاں بیوی نے اپنی صحت بحال رکھنے کے لیے روزانہ دو میل پیدل چلنے کا پروگرام بنایا۔ چنانچہ اگلی صبح پیدل چلے۔ ایک میل ہی چلے تھے کہ دونوں بہت تھک گئے۔ انہوں نے پوچھا، تم تھک تو نہیں گئیں؟۔تھک تو واقعی بہت گئی تھی لیکن ان کی ہمدردی دیکھ کر بولی، نہیں ابھی تو میں دومیل اور چل سکتی ہوں۔ اس پر وہ بولے۔ واپس گھر جاؤ اور کار لے کر آؤ ، میں بہت تھک گیا ہوں۔۔۔ایک جگہ موصوفہ نے بہت ہی دلچسپ لکھا، کہتی ہیں۔ایک روز میں نے خان صاحب سے ضدکی کہ مجھے کسی مہنگی سی جگہ لے کر چلیں۔وہ بہت معصومیت سے بولے، چلو جلدی سے تیار ہوجاؤ، پیٹرول پمپ چلتے ہیں۔آگے چل کر مزید لکھتی ہیں۔ ایک روز میں نے ان سے پوچھا۔آپ کو میری خوب صورتی اچھی لگتی ہے یا عقل مندی۔وہ مسکراکرکہنے لگے۔تمہاری یہ مذاق کرنے کی عادت اچھی لگتی ہے۔اسی باب میں آگے چل کر وہ مزید لکھتی ہیں کہ۔ ایک روز وہ بولے، سوٹ اچھا پہنا ہے، میں نے مسکراکرشکریہ اداکیا، وہ پھر بولے، سرخی بھی اچھی لگائی ہے، میں نے ایک بار پھر شکریہ اداکیا، وہ پھر بولے ، میک اپ بھی شاندار کیا ہے، میں شرماکررہ گئی۔وہ ہنس کر کہنے لگے۔ چنگی فیر وی نئیں لگدی پئی۔اسی باب میں ایک جگہ انہوں نے تحریر کیا ہے کہ ۔ایک روز میں نے اپنے شوہر سے پوچھا،خدا نخواستہ گھر میں چور آجائیں ، توآپ کیا کرو گے؟؟۔انہوں نے ترنت جواب دیا۔وہی کروں گا ،جو وہ کہیں گے، پہلے کون سا یہاں میری مرضی چلتی ہے۔
اب جلدی جلدی مزید اقتباسات بھی سن لیجئے۔ایک روز وہ غصے میں صوفے سے اٹھے اور کہنے لگے، میں آج سارا کا سارا پاکستان ٹھیک کرکے ہی گھر لوٹوں گا، مجھ سے اب اور برداشت نہیں ہوتا۔ میں نے بس اتنا کہا، پاکستان بعد میں ٹھیک کریئے گا،پہلے کوٹ تو اپنا پہن لیں، کل سے میرا پہن کر گھوم رہے ہیں۔ایک روز جب وہ گھر میں داخل ہوئے تو خوشی ان کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی،چہرہ دمک رہا تھا، بیڈروم میں داخل ہوتے ہی دروازہ بند کردیا، لائٹیں بھی ساری بند کردیں، کھڑکی بندکرکے کہنے لگے، میرے پاس آؤ، مجھے بہت شرم آئی، کمرے میں مکمل اندھیرا تھا، دل تیزی سے دھڑک رہاتھا،انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا، اور بولے ،یہ دیکھو میری نئی گھڑی اندھیرے میں بھی ٹائم بتاتی ہے۔ صفحہ نمبر 263 پر لکھتی ہیں۔سی پیک معاہدے پر جس روز دستخط ہوئے، خان صاحب رات بہت غصے میں تھے، انہوں نے سائیڈ ٹیبل پر لگی چھوٹی بوتل سے ٹیبل پر پاؤڈر کی تین لکیریں نکالیں اور اسے سونگھنے لگے، پھر اچانک زور سے چلائے، یہ کس خبیث نے نمک دانی یہاں رکھی ہے۔ میں نے انہیں یاددلایا کہ دوپہر کو آپ نے ہی انڈے پر نمک چھڑک کر کھایا تھا۔ایک جگہ مزید لکھا ہے کہ ۔ وہ نہاتے ہوئے اکثر گرم پانی میں ایلفی ڈال دیتے تھے ایک دن میرے پوچھنے پر کہنے لگے کہ اس سے کبھی میں ٹوٹ کر بکھروں گا نہیں۔
ہمارے پیارے دوست کل ہی ہم سے پوچھ رہے تھے کہ۔سچ سچ بتانا، ریحام خان کی کتاب پڑھنے سے روزہ تو نہیں ٹوٹے گا؟؟؟۔ ٹیلی فون پر بڑے تفکرانہ انداز میں کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ہمارے پیارے دوست کا یہ بھی کہنا تھا کہ ۔ لگتا ہے خان صاحب سے کتاب کا کوئی بیر ہے، خیبرپختونخوا میں مجلس عمل کی کتاب اور باقی پاکستان میں ریحام کی کتاب حلق میں اٹکنے والی ہے۔


ای پیپر