ڈیم نہیں توبہتر آبی ذخائر کو فروغ دیں
09 جون 2018 2018-06-09

ایک مکمل بھرپور انسانی زندگی کا دارومدار پانی پرہے ۔ یعنی پانی زمین پر انسانی حیات کی بقاء کا ضامن ہے اور پانی کی بقاء درختوں میں پوشیدہ ہے ۔درخت جو آج کے انسان کی لالچ کی نذر ہو چکا ہے۔ پہلے کچے مکانوں میں بھر پور سایہ دار شجر بھی گھر کا حصہ ہوتے تھے۔ ہری بھری بیلوں سے آنگن سجا ہوتا ہے ،جس کی چھاؤں میں گرمیوں کی تپتی دوپہریں خوب گزرا کرتی تھیں۔ مگر اب ایسا نہیں ہے ، گرمی کی شدت بڑھتی جا رہی ہے اورجدید شہروں میں درختو ں کا حسن جدیدیت میں گم ہو چکاہے۔ ہم خودہی قاتل ہوئے اپنے بچوں کے مترادف زیادہ سے زیادہ پیسے کے حصول نے انسان کو شجردار سایوں سے محروم کر دیا ہے۔درختوں کا کم ہونا ،پانی کی کمی میں اضافہ اورماحولیاتی آلودگی کا اہم ترین سبب ہے۔اس کے ساتھ ساتھ درخت بارش لانے میں ممدو معاون ہوتے ہیں اور زمین کی زرخیزی کو ضائع نہیں ہونے دیتے۔درخت مٹی کو جما کر رکھتے ہیں اور واٹر ٹیبل کو متوازن رکھتے ہوئے زمین کو سیم وتھور سے بچاتے ہیں۔ دریاؤں کے گرد لگے درخت ڈیموں میں مٹی نہیں بھرنے دیتے۔تاہم آج کی جدید زندگی زمین کو پیاسا کرتی جا رہی ہے ۔اسی لیے کہا جاتا ہے دنیا کی آخری جنگ پانی کے حصول کے لیے ہو گی ۔
آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کی عد م دستیابی ہے۔ پاکستان اس وقت شدید ترین آبی بحران سے گزررہا ہے ۔ قدرت کی جانب سے مون سون کی صورت میں پانی کی فراہمی کا سنہری موقع ہم اپنے ہاتھوں سے گنوا دیتے ہیں۔ ہر سال بیس ملین کیوسک سے زائدپانی پنجاب اور سندھ میں تباہی مچاتا ہوا سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے ۔ ملک میں اس وقت چھوٹے بڑے آبی ذخائر کی تعداد ڈیڑھ سو سے بھی کم ہے۔ ہم ایک عرصہ سے کالا باغ ڈیم کی حمایت اور مخالفت میں مصروف ہیں اور دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کی جدید دینا جو نت نئے تجربات کرنے میں مصروف ہے اس میں ڈیم بنانے کا رجحان اب بھی باقی ہے یا نہیں ۔دنیا میں چین وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ ڈیم بنائے جاتے ہیں اور تقریباً دو ہزار ڈیم چین بنا چکا ہے ۔تاہم چین نے اب ڈیم پالیسی ترک کر تے ہوئے پانی ذخیرہ کرنے کے نئے اور نسبتاً محفوظ ذرائع پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔
تاہم غریب ممالک میں ڈیم بنانے کی سوچ کو ہوا دینا اور اس کی تکمیل کے لیے سرمایہ فراہم کر نا ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور اس طرح کے دوسرے قرضہ فراہم کر نے والے عالمی اداروں کا ایک کامیاب بزنس ہے۔ جس کو وہ کئی دہائیوں سے بڑی کامیابی سے چلا رہے ہیں کیونکہ جب تک مطلوبہ قرض مع سود کے واپس کیا جاتا ہے اس وقت تک ڈیم کی مدت بھی پوری ہو چکی ہوتی ہے۔ ڈیم بنانے کے بنیادی مقاصد میں پہلا مقصد سیلاب کو روکنا اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا شامل ہے۔ دوسرا اہم مقصد بجلی پیدا کرنا ، تیسرا زراعت کو فروغ دینا اور چوتھا اہم مقصد ماہی گیری ہے ۔
تاہم ماہرین ڈیم کو ماحول دوست نہیں قرار نہیں دیتے کیونکہ تیز دھوپ میں ڈیم کا پانی بھاپ بن کر اُڑ جاتا ہے اور ماحولیاتی خرابیوں کا سبب بنتا ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے، ڈیم بنانے کے لیے زمین کے اندر بہت گہرائی تک جا کر کھدائی کی جاتی ہے جس وجہ سے پانی کی سطح نیچے چلی جاتی ہے اور پینے کا صاف پانی مہنگا ہو جاتا ہے ۔ بارانی زمین کو مطلوبہ مقدار میں بھی پانی نہیں ملتا اور بنجر زمین بھی قابل کاشت نہیں بنائی جاسکتی، کیونکہ زمین کو نیچے سے پانی نہیں مل رہا۔اب بات کرتے ہیں پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ہونے والی جدید تحقیق جس پر سب سے زیادہ عمل درآمد کینیڈا اور دیگرممالک میں بڑی کامیابی سے اختیار کیا جا رہا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق اب پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے زمین کے اوپر ڈیم بنانے کی بجائے زمین کے اندر ہی پانی ذخیرہ کرنے کے لیے واٹر ٹینک بنائے جا رہے ہیں جس کے نقصانات نہ ہونے کے برابر اور فوائد بے شمار ہیں۔ زمین دوذ پانی کے ذخائر بنانے سے بارش کا پانی سیلاب کی صورت میں ضائع نہیں ہو گا بلکہ ان واٹر ٹینک میں جمع ہوتا رہے گا۔ بارانی فصلوں کو زمین کے نیچے سے پانی ملے گا اور اس کے ساتھ ساتھ پانی کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے مٹی میں نمی زیادہ ہو گی ، زمین بھی زرخیز ہو گی اور اس وجہ سے کاشت کئی گنا بڑھ جائے گی۔ ڈیم کا پانی تیز دھوپ میں بھاپ بن کر اُڑ جاتا تھا جبکہ زیر زمین ٹینک بنانے سے یہ پانی محفوظ رہے گا، ماہی گیری میں بھی زیادہ آسانی رہے گی ۔ توانائی کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے اور شمسی توانائی سے بجلی کا حصول زیادہ آسان رہے گا۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر گندی سیاست کا شکار ہو رہا ہے۔ پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ اب وہ بھی ڈیم پر سیاست کرنے کی بجائے ان محفوظ زرائع پر توجہ دے تاکہ موجودہ بحرانوں کا خاتمہ کر کے ملک کو صحیح معنوں میں ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا جا سکے۔ پاکستان میں زیر زمین واٹر ٹینک بنانے سے کافی فوائد حاصل ہو نگے جس میں اہم ترین صحرائے تھر میں شمسی توانائی کے حصول کے لئے سولر سیل کے پینل لگائے جائیں توپورے سندھ کو آسانی سے بجلی فراہم کی جا سکے گی۔ واٹر ٹینک کے موجودہ نئے نظریے پر عمل کرنے سے پیداواری صلاحیت کئی گنا بڑھ جائے گی کیونکہ فصلوں کو پانی زمین کے اندر سے ملے گا اور بارش کا پانی بھی جو سیلاب بن کر سندھ اور پنجاب کو تباہ کرتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے وہ ضائع نہیں ہو گا بلکہ کاشت کاری اور ماہی گیری میں مدد گار ثابت ہو گا۔
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری حکومتیں اور اسٹیبلشمنٹ ایسا چاہتی ہے ،پاکستان اور پاکستانی خوشحال ہوں تو اب تک کے حالات یہی سمجھا رہے ہیں کہ نہیں ۔ ہمارے حکمران بیرونی امداد تو لینے کے لیے تیار ہیں مگر قدرت کی جانب سے دی گئی دولت سے فیص یاب ہونے کے لیے تیار نہیں ۔انہوں نے عوام کو مذہبی اور دیگر معاملات میں اس طرح الجھا دیا ہے کہ وہ ان سے نکل ہی نہیں پا رہے ۔ یہ تمام ملاء اور ٹی وی چینلز پر بیٹھے دانشور قوم کو ایک الگ ہی راہ پر لگائے بیٹھے ہیں ،وہ دنیا کی ترقی کی طرف توجہ دینے کی بجائے ، انتخابات کے صحیح ہونے یا دھاندلی شدہ ہونے، عید سعودی عرب ے ساتھ منائی جائے یا اس چاند کے مطابق جو اپنی زمین پر طلوع ہو گا۔شادی کے لیے لڑکی کی عمر کیا ہو گی ،ختنے کون کرے گا اور طریقہ کیا ہو گا نائی کرے گا یا ڈاکٹر۔دنیا تو کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم ابھی تک ان ہی مسائل کا شکار ہیں اگر مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی کتابIf I am Assassinatedکا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ پتا ان سب کو سار ا ہوتا ہے مگر کرنا کچھ نہیں ، کیو ں؟ اس کیوں کا جواب ہم سب نے مل کر تلاش کرنا ہے تا کہ اپنی آئندہ نسلوں کو پانی کی کمی سے ملنے والی موت سے بچایا جا سکے۔


ای پیپر