بزم اقبال ؒ نگراں وزیر اعلیٰ کی خصوصی شفقت کی منتظر
09 جون 2018 2018-06-09

پنجاب کی صوبائی اسمبلی 31 مئی کو اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد تحلیل ہو گئی تھی۔ اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی اس وقت وزیر ِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود الرشید کے درمیان ملاقات میں نگران وزیراعلیٰ کے لیے ناصر کھوسہ کے نام پر اتفاق ہوا تھالیکن بعد میں تحریک نے انصاف نے یہ نام واپس لے لیا تھا جس کے بعد اختلافات کے باعث نگران وزیر اعلیٰ کی تقرری کا معاملہ پھر سیاست دان خود حل نہ کر سکے۔
آئین کے مطابق اگر وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان اتفاق نہ ہو سکے تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا جاتا ہے اور اگر وہاں بھی فیصلہ نہ ہو سکے تو پھر الیکشن کمیشن دونوں جانب سے تجویز کردہ ناموں میں سے کسی ایک کو اس منصب کے لیے نامزد کر دیتا ہے۔یوں الیکشن کمیشن نے پروفیسر حسن عسکری رضوی کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نامزد کیا ہے۔
پروفیسر حسن عسکری ایک نامور پروفیسر اور مستند کالم نگار ہیں۔انہوں نے 1980ء میں یونیورسٹی آف پنسلوانیا سے پی ایچ ڈی کیا، جہاں انہیں فل برائٹ اسکالر شپ دی گئی۔پروفیسر حسن عسکری پنجاب یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر رہ چکے ہیں اور تعلیم اور ریسرچ کے
شعبے میں اہم تجربہ رکھتے ہیں۔وہ جنوبی ایشیا، خارجہ پالیسی اور سکیورٹی امور پر دسترس رکھتے ہیں۔ پروفیسر حسن عسکری کا شمار پاکستان کی نامور علمی شخصیات میں ہوتا ہے اور وہ ملکی اور غیر ملکی درسگاہوں میں شعبہ علم و تدریس سے منسلک ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف اخبارات، جرائد اور ٹی وی چینلز پر اہم موضوعات پر ایک مایہ ناز مبصر تصور کیے جاتے ہیں۔پروفیسر حسن عسکری کئی اہم کتابوں کے مصنف ہیں۔انہوں نے پاکستان میں جمہوریت اور سیاست پر کئی کتب لکھی ہیں، ان کی اکثر تصانیف کا موضوع سول ملٹری تعلقات رہا ہے۔ پروفیسر حسن عسکری اخبارات اور جرائد میں آرٹیکل بھی لکھتے رہے ہیں۔23 مارچ 2010ء کو صدر پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا تھا۔
نامزد نگران وزیراعلیٰ پنجاب پروفیسر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ صاف شفاف انتخابات ترجیح ہوگی۔ کوئی سیاسی ایجنڈا تھا نہ ہوگا۔ غیر جانبداری سے انتخاب کراؤں گا۔ مخالفین دوسروں کے بارے میں رائے دیتے رہتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) بھی رائے دے رہی ہے اگر انہوں نے میری تقرری کو چیلنج کرنا ہے تو کردیں۔ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
پروفیسر حسن عسکری نے مزید کہا کہ میں اپنے منصب کا غلط استعمال نہیں کروں گا ۔ مجھے الیکشن کمیشن نے نگران وزیر اعلی مقرر کیا ہے اور آئینی طور پر اس عہدے پر مقرر کیا گیا ہے۔ مختصر اور پروفیشنل افراد پر مشتمل کابینہ ہوگی۔ میرا کبھی کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رہا۔ پنجاب بڑا صوبہ ہے یقیناًبھاری ذمہ داری عائد ہوئی ہے۔ انتخابات صاف اور شفاف کرواں کا۔ کوئی جماعت پریشان نہیں ہو۔ میں اپنی آئینی ذمہ داری پوری کروں گا۔ ان پر جن لوگوں نے اعتماد
کیا ہے وہ ان کے شکر گزار ہیں اور پوری کوشش کریں گے کہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔
جہاں تک مختلف سیاسی جماعتوں کا ان کی تقریری پر تحفظات کا سوال ہے تو ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق یا تنازع نہیں ہے۔ وہ بے لاگ تبصرے کرتے ہیں۔ ان کے تبصرے حکومت وقت کی ناقص کارکردگی پر ہوتے ہیں نہ کہ سیاسی جماعت پر۔ پنجاب میں ن لیگی حکومت کی کرپشن اور بے ضابطگیوں پر وہ ہمیشہ بولے ہیں۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کی سندھ میں ناکام حکومت کے بارے میں بھی تبصرے کیے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ کے پی کے میں پی ٹی آئی حکومت کے نامکمل اور مہنگے منصوبوں اور دیگر امور پر بھی انہوں نے آئینہ دکھایا ہے۔ لہٰذا اس بنا پر ان کی تقرری پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ پی ٹی آئی نے ان کا نام تجویز کیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ حسن عسکری محب وطن اور پڑھے لکھے شخص ہیں۔سیاسی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ وہ بہت احسن طریقے سے معاملات کو چلا ئیں گے۔ قوم کو ان سے بہت توقعات ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کام تو صاف شفاف انتخابات کرانا ہے۔ اس کے علاوہ روز مرہ کے امور بھی سر انجام دینے ہیں۔ پاکستان اور اکابرین پاکستان سے بڑی محبت رکھتے ہیں۔ اقبال ؒ اور قائدؒ کے پرستار ہیں۔ ان سے توقع ہے کہ وہ اقبال ؒ کے افکار کے فروغ کیلئے سرکاری امور کے ساتھ ساتھ ذاتی دلچسپی بھی لیں گے۔
علامہ اقبال ؒ نے سب سے پہلے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا۔ اس عظیم تصور کی تجسیم پاکستان کی صورت ہوئی علامہ اقبال ؒ نے اصرار کرکے قائداعظم کو واپس بلایا اگر یہ سب نہ ہوتا تو شاید پاکستان دنیا کے نقشہ پر نمودار نہ ہوتا۔ علامہ اقبال ؒ نے مسلمانوں کے لیے محض ملک کا تصور ہی پیش نہیں کیا بلکہ ایک ایسی مملکت کا نقشہ پیش کیا جو حقیقی معنوں میں ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست ہو۔ اسی کا نام فکر اقبال ہے اسی فکر اقبال کو فروغ دینے کے لیے حکومت پنجاب کے محکمہ اطلاعات کے تحت ادارہ بزم ِ اقبال کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ ادارہ نے علامہ کی زندگی‘ شاعری اور فلسفیانہ سوچ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے والی کتابیں شائع کیں، اس کے علاوہ ادارہ کے تحت ایک ماہنامہ میگزین بھی شائع کیا جاتا ہے جس میں علامہ اقبال ؒ پر تحقیقی مضامین شائع ہوتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے توجہ نہ ملنے کی وجہ سے بزم اقبال اتنا فعال نہیں ہو سکا۔
راقم الحروف جو پہلے ادارہ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل تھا حال ہی میں ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ صورت حال یہ ہے کہ اس وقت ادارہ بزم اقبال گرانٹ سے محروم مفلوک الحالی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ عمار ت اور دیگر امور کیلئے ادارہ کو فنڈز کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ادارہ بزم اقبال کے زیر اہتمام ایک لائبریری قائم کرنے کا منصوبہ ہے جس میں اقبال ؒ کی تصانیف اوردنیا بھر میں اقبال ؒ پر لکھے جانے والے مقالات کا ذخیرہ محفوظ کیا جائے گا۔ عبداﷲسنبل کمشنر لاہور ڈویژن نے کمال مہربانی سے دس لاکھ کی گرانٹ فراہم کی مگر ادارہ کے منصوبہ جات اور دیگر امور کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بہت کم ہے۔
نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب پروفیسر حسن عسکری سے امید ہے کہ وہ اقبال ؒ سے اپنی محبت کا ثبوت دیتے ہوئے بزم اقبال کیلئے ضروری فنڈز فراہم کریں گے جس سے ایک شاندار لائبریری کا قیام عمل میں لایا جا سکے گا۔ فکرِ اقبال کا فروغ اس لیے بھی ضروری ہے کہ آج مغربی تہذیب کے منفی اثرات ہماری نئی نسل کو اپنے اقدار و روایات سے غیر محسوس انداز سے دور کررہے ہیں اس سے محفوظ رکھنے کا یہی ایک موثر طریقہ ہے۔


ای پیپر