مکان سے گھر بننے تک
09 جون 2018 2018-06-09

اسے بدقسمتی گردانا جائے یاحماقت کہا جائے کہ وہ مکان جو بانی پاکستان کی شبانہ روز محنت سے ہمیں میسر آیا ہم اسے گھر نہ بنا سکے۔ہمیں نہیں معلوم کہ وہ گروہ مقتدر طبقات سے کیوں نالاں ہیں جو صرف شورش اور ہنگامہ آرائی پہ ایمان رکھتے ہیں اور کسی نہ کسی خلش میں مبتلا رہنے کا عارضہ انہوں نے دل میں پال رکھا ہے اور اب تلک آزادی جیسی عظیم نعمت کو صدق دل سے قبول کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔ بلا امتیاز انصاف، وسائل کی منصفانہ فراہمی اور یکساں سلوک اور مساوی حقوق پر تو ہم بھی اتنا ہی یقین رکھتے ہیں، جس کی یہ آرزو رکھتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ وہ برطانوی میڈیا کی اس رپورٹ کا جائزہ ضرور لیں جو ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار پر نشر ہوئی ہے۔ممکن ہے اس سے انہیں آسودگی حاصل ہو اور وہ اس مکان کو گھر بنانے کے ہمارے فلسفہ پر رضا مندی کا اظہار کردیں۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ جب سے مودی سرکار سیکولر بھارت پر براجمان ہوئی ہے۔ تب سے اس کا چہرہ داغدار ہے۔ اب شاید ہی کوئی یوم ایسا گزرتا ہو جب روز ہندو مسلم فساد کا تذکرہ میڈیا میں موجود نہ ہو۔کشمیر میں جاری مظالم کی تو کوئی حد نہیں ہے لیکن اب بھارت کے مسلم بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
برطانوی ادارہ کی ڈاکو مینٹری نے بھارت کے جمہوری چہرے سے نقاب اٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ دہلی کے گردونواح میں مسلمان اس قدر عدم تحفظ کی زد میں ہیں کہ ہجرت پے مجبور ہوگئے وہ ایسی بستیوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں جہاں مسلمان اکثریت میں مگر پر امن طور پر مقیم ہیں اس میں ایک علاقہ جعفر آباد کا بھی ہے، دور دراز سے لوگ اس شہر میں بسیرا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مشکل مگر یہ ہے کہ یہاں بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ تعلیم، روزگار کے مواقع ناپید ہیں۔ صاف ستھرائی بھی واجبی سی ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں ان سوسائٹیوں کا تذکرہ بھی ہے جو بڑے فلیٹ پر مشتمل ہیں جہاں صاحب حیثیت مسلمان مقیم تو ہیں مگر تنہائی کا شکار۔ انہیں نماز کی ادائیگی کیلئے مسجد بھی میسر نہیں ۔ اس تذکرہ میں بہت سے مقامی افراد کے انٹرویوز بھی شامل ہیں جو بر ملا اعتراف کرتے ہیں کہ انہیںآنے جانے میں خوف محسوس ہوتا ہے کسی نہ کسی بلوہ کے وقوع پذیر ہونے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ ایک خاتون کے بقول اک بلوہ میں ان کے خاندان کے افراد موت کی نیند سلا دیئے گئے مسلمان ہونا ہی انکا جرم قرار پایا۔ بالخصوص خواتین تو خوف کی فضاء میں ہمیشہ ہمیشہ مبتلا دکھائی دیتی ہیں سماجی، معاشی اور مذہبی ناانصافی کی تلوار ہمیشہ اس کے سر پہ لٹکتی رہتی ہے۔
ایک ایسا سماج جہاں ہر پندرہ منٹ کے بعد کوئی نہ کوئی حوا کی بیٹی جنس تشدد کا نشانہ بن جائے اسے کیسے متوازن اور جمہوری کہا جاسکتا ہے ؟ اس لئے اب سوال اٹھ رہا ہے کہ بھارت میں گائے مقدس ہے یا عورت۔
ہمیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ وطن عزیز میں صورت حال بالکل مختلف ہے۔ خواتین کے تحفظ کے علاوہ اقلیتوں کے جان و مال کی ذمہ داری ریاست تہ دل سے قبول کرتی ہے حال ہی میں پشاور میں ایک سکھ کی ہلاکت پر پورا سماج متحرک ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر قاتلوں کو پھانسی دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ ناانصافی خواہ غیر مسلم کے ساتھ کیوں نہ ہو قابل قبول نہیں جبکہ ہندوستان کے سورماؤں نے انسانوں کو بھی خانوں میں تقسیم کررکھا ہے۔
اقلیتوں کا تحفظ ہر شہری کا احترام بانی پاکستان کا ہی وژن تھا۔ اپنی حیاتی تک وہ اس کے لئے کوشاں رہے۔ ان کی تعلیمات کو عملاً آگے بڑھایا جاتا تو کسی کو شکوہ ہی نہ ہوتا کہ انہیں دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے ۔قیادتیں ہی ہجوم کو قوم کے مقام تک لاتی ہیں۔ بانی پاکستان میں یہ وصف بدرجہ اتم موجود تھا۔ اس خطہ اک اور مثال موز ے تنگ کی ہے حکیم سعید مرحوم اپنی آپ بیتی میں رقم کرتے ہیں کہ 1963ء میں جب وہ چین گئے تو مردو زن نیلے موٹے کپڑے زیب تن کیے ہوتے تھے۔ اس ماحول کو دیکھ کر محترم حکیم سعید نے سوال داغ دیا کہ انہیں رنگ برنگے کپڑے اچھے نہیں لگتے یا تمہارا دل نہیں چاہتاتو چینیوں نے جواب دیا کہ ہمارا ملک آزادی کے تعمیری مرحلہ سے گزر رہا ہے، ہمارا فرض بنتا ہے کہ اپنی زندگی میں سادی اختیار کریں جب اس کی تعمیر مکمل ہوگی تو پھر شان سے زندگی گذاریں گے روایت ہے کہ اک دفعہ چین میں گندم کی کمی ہو گئی اہل چین نے فراہمی کا مطالبہ کر دیا موصوف نے کہا اگاؤ اور کھاؤ میں بھوک سے مرجانے کو ترجیح دوں گا مگر بھیک مانگ کر زندہ نہیں رہوں گا۔ساٹھ کی دہائی کی سادگی کا ہی یہ فیض کہ چین عالمی سطح پر معاشی امامت کے منصب پر فائز ہے۔ ہمارے ہاں درد مند طبقہ بھی حسرت رکھتا ہے کہ بشمول حکمران، قوم سادگی کو اختیار کرے۔ اپنی زمین سے پیدا کردہ اشیاء ہی کو زیر استعمال رکھے، مقامی اشیاء کی خریدو فروخت کو رواج دے پر تعیش جھوٹی زندگی سے راہ فرار اختیار کرے، تو پلک جھپکتے ڈالرز زمین پے آگرے گا ،مہنگائی کا سیل رواں ضرور تھم جائے گا۔
راقم کے کزن لاہور کے معروف یورالوجسٹ ڈاکٹر محمد ممتاز جنہیں جاپان کے علاوہ دیگر ممالک کی یاترا کا موقع ملا۔ گزشہ دنوں ملتان آمد پر جاپانی سوسائٹی کے حوالہ سے تبادلہ خیال ہوا تو گویا ہوئے ساری دنیا سے زیادہ مودب قوم جاپانی ہے نیز انکی تہذیب میں وہ ’’واحیاتی‘‘ نہیں جو یورپ کا خاصہ ہے ،دوسرا اہل جاپان دوسرے افراد کی مدد کرنے کو دوڑتے ہیں خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا ملک سے ہو۔ اصولی طور پر بحیثیت مسلم ان خصوصیات کا حامل ہو تو ہمارا سماج ہونا چاہیے تھا۔ اعلیٰ اخلاق اقدار ہی ہجوم کو قوم میں بدل سکتی ہیں۔ ایسا ہوتا تو یہ مکان گھر اور گلشن کا منظر پیش کررہا ہوتا ہے۔جن اخلاقی زوال کاتذکرہ ہر دانشور کی زبان پے ہے اس سے قریباً کوئی بھی مبرا نہیں اور پھر بھی خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ رند کے رندرہے بھی تو جنت ہاتھ سے نہیں جائے گی اک حج عمرہ سے خلق خدا کی ناراضگی کے سارے داغ دھل جائیں گے۔ معروف اسلامی سکالر محترم غامدی اس فلسفہ سے متفق دکھائی نہیں دیتے بقول انکے رب اپنے حقوق تو معاف کرہی دے گا لیکن بندوں کیساتھ ناانصافی ، دھوکہ دہی، فریب ، ملاوٹ، وعدہ خلافی کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔اللہ تعالیٰ اس قوم کو ایک بار پھر نئی قیادت کے انتخاب کا نادر موقع فراہم کر ر ہا ہے لہٰذا قوم کو ایسی قیادت ہی کاانتخاب کرنا چاہیے جو اس امانت کی اہل بھی ہو، جس کے ذمہ ووٹ کی امانت سپر د کی جائے تاکہ وہ اس مکان کو خوبصورت، دیدہ زیب گھر میں بدلنے کی قدرت اور صلاحیت رکھتی ہو۔ جہاں ہر شہری ان تمام حقوق کو بلا امتیاز ’’ انجوائے ‘‘ کرسکے جو بانی پاکستان کا خواب تھا اور جس سے بھارتی مسلمان اور کشمیری محروم ہیں۔
بانئ پاکستان کا اخلاص دیکھیے کہ انہوں نے اپنی اولاد تک کو نئی مملکت کی آزادی پہ قربان کر دیا تھا۔ اس مکان کے گھر بننے میں بڑی رکاوٹ ہماری اولادوں کی خوا ہش اور انکا مستقبل ہے جسکی تکمیل کرنے میں ہم تمام قانونی ، آئینی، اخلاقی سرحدیں پار کرتے ہیں اور پھر خود سے اخلاقی زوال کاشکوہ بھی کرتے ہیں۔


ای پیپر