پانچ سال
09 جون 2018 2018-06-09



بہت پرانی بات ہے لوگوں کو سیاست کا اتنا شعور نہیں تھا بس بھٹو کی باتیں لوگوں کو اچھی لگتی تھیں۔ ایک امید تھی۔ لوگ پابندیوں سے تنگ تھے۔ پاکستان کا خواب دیکھتے ہوئے اس مملکت خدا داد کا ذہن میں ایک عجیب تصور تھا کہ پاکستان ایک جنت ہوگا، وہاں اسلامی قانون کی حکمرانی ہوگی، لوگوں کو امن اور سکون سے رہنے کے مواقع میسر ہوں گے، مہاجروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جائے گا جو انصار مدینہ نے مہاجرین کے ساتھ کیا تھا۔پھر کئی برس کی سیاسی بدحالی کے بعدجنرل ایوب خان کا مارشل لاء وجود میں آیا۔ بھولے پاکستانی اس وقت بھی خوش تھے کہ سڑکیں صاف ہورہی ہیں، مہنگائی کم ہو گئی، حالات اچھے ہو جائیں گے مگر ان دس سالوں میں سوائے
ایک مفاد پرست ٹولے کے غریب کی حالت نہیں بدلی۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے اس دور میں بڑے بڑے منصوبے بنائے گئے جن سے بعد میں ملک کو فائدہ ہوا جیسے تربیلا ڈیم وغیرہ۔ مگر عام انسان کی حالت میں انگریز دور سے آزاد پاکستان تک کوئی خاص فرق نہیں آیا۔ نیا نیا ملک آزاد تھا۔ عوام کی حالت بہتر بنانے کی کوئی بڑی کوششیں نہیں کی گئی۔ اس کے بعد سقوط ڈھاکہ نے عوام کا رہا سہا مورال بھی ختم کر دیا۔ اس وقت بھٹو صاحب کا دور آیا بھٹو صاحب خواب دکھانے کے جادو گر تھے۔ انہوں نے عوام کو وہ خواب دکھائے کہ بھٹو کا پاکستان عوام کو ایک جنت لگا کرتا تھا۔مجھے یاد ہے میری والدہ مکان بنا رہی تھیں، ایک مزدورجو چوکیدار بھی تھا، والدہ سے پوچھتا تھا کہ بھٹو کے دور میں سب امیروں کی جائیداد سے آدھا غریبوں کو ملے گا۔ میرا حصہ کون سا ہوگا،بہر حال پیپلز پارٹی کے مختلف ادوار میں بہت سے لوگوں کو بہت کچھ ملا نہیں۔
اس کے بعد ہمارے ہر دل عزیرمیاں صاحب کے آنے جانے والی حکومتوں پر بات کرتے ہیں۔ ان کی حکومت کو لے کر ہی وہی لوگ آئے جو راتوں رات امیر بننا چاہتے تھے۔ ان کا تجارتی وژن پاکستان کے ان لوگوں کوبہت متاثر کرتا تھا جو اپنی جادو گری سے امیر بننے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں تاجر، دکاندار، سیاست دان اور سرکاری افسران سب شامل تھے۔ ملک ایک بہتی گنگا کی ماند تھا جس میں جس کا بس چلا ڈبکی لگائی ۔آج تک ملک میں جو بھی حکومت آئی عوام کی مدد سے آئی مگر عوام کی مدد گار نہیں آئی۔ پہلی حکومتوں میں عوام کے وسائل کو چپ چاپ لوٹ لیا جاتا تھا۔ اس حکومت نے دکھایا ہم نے بے فائدہ منصوبے بنائے جن میں لاکھوں کے کمیشن کھائے اور اپنی بازی گری دکھائی۔ پیپلز پارٹی نے بھی عوام کی بات کی اور اپنی ٹرم تین وزراے اعظم کے ساتھ پوری کی مگر شور نہیں مچایا۔ اسی طرح کی بے فائدہ حکومت آج (ن) لیگ بھی پوری کرگئی۔ نہ ملک میں غریب کی صحت کے لئے کوئی کام ہوا ،نہ صاف پانی، نہ روز گار،نہ تعلیم، نہ آبادی کی کوئی منصوبہ بندی۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی رمضان میں لوگوں نے نفل پڑھے کہ ظالم حکومت چلی گئی۔ اب ایک تیسری شخصیت کو عوام دیکھ رہے ہیں کیا وجہ ہے کہ لوگوں کو کوئی بھی برسراقتدار حکومت پسند نہیں آتی۔ یہ بات نہیں کہ ہمارے سیاست نااہل ہیں یا برے ہیں، بس ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ سیاست دان سوچتے ہیں مگر صرف اپنے لئے وہ عوام سے ووٹ لے کر آتے ہیں اور اپنی حسرتیں دور کرتے ہیں۔ اربوں کی کرپشن خدا جانے اتنے ارب استعمال کہاں کئے گئے روٹی تو سب ہی گندم کی کھاتے ہیں اور اگر وہ مزدور کوروٹی بھی پوری نہ کریں گے تو عوام ان کے گلے پکڑ لیں گے۔ آج ہی کی بات ہے کہ فاروق بندیال (شبنم کیس ) نے پی ٹی آئی جوائن کی تو لوگوں نے اتنا شور مچایا کہ عمران خان کو اسے پارٹی سے نکالنا پڑا۔ یہ ہے وہ شعور جو کل کے ووٹر آج کے ووٹر کا فرق واضح کرتا ہے۔ بھلے عوام کی پسندیدہ پارٹی بنے نہ بنے مگر عوام میں برے اور
اچھے کا شعور آگیا ہے۔ کم ازکم لوگ برے کو برا چور کو چور کہنا شرو ع ہو گئے ہیں اور اگرکوئی دھاندلی سے اگر طاقت میں آبھی جائے مگر آج کی عوام اس کو چلنے نہیں دے گئی۔ اس کے لئے ہمیں عمران خان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ ایمان کے آخری درجے پر تو ہم سب ہیں کہ برائی کو دل سے برا کہنا مگر یہ ہمت صرف عمران خان نے دکھائی کہ ایمان کے اول درجے پر کھڑا ہوگیا اور برے کو برا کہا ہم سب کو اس کا شکر گزار ہونا چاہیے ملک تب تک نہیں بن سکتا جب تک اس کی قیادت ایمان دار نہ ہو۔ میری سب سے درخواست ہے اگر آپ خود پر رحم نہیں کروگے تو آئندہ کوئی بھی آپ پر اور آپ کے بچوں پر رحم نہیں کرے گا۔ اپنے ملک کو آزاد اور خود مختا ر ملک بنائیے نہ کہ اس شخص کے حوالے کیجیے جو ملک کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح کا مال گوروں کے ملک میں جمع کرتا رہے۔


ای پیپر