عدلیہ کا دم خم!
09 جون 2018 2018-06-09

عدلیہ نے بڑی مشکل سے اپنی ساکھ قائم کی ہے، اب اصل بات اس ساکھ کو برقرار رکھنا ہے۔ جس کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کو بہت کوشش اور محنت کرنا پڑرہی ہے۔ عمر کے اس حصے میں جتنا کام وہ کرتے ہیں وہ یقیناً اسی مقصد کے لیے ہے کہ عدلیہ کی ساکھ کو ہرحال میں بحال رکھا جائے۔ بلکہ اس میں مزید بہتری لائی جائے۔ میرے ایک بہت ہی محترم دوست سینئر سیشن جج جناب صہیب رومی بتارہے تھے عدلیہ کے اکثر اجلاسوں میں محترم چیف جسٹس آف پاکستان بڑے جذباتی انداز میں فرماتے ہیں ”میں دوسروں کو اپنی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے احکامات جاری کرتا رہتا ہوں، اگر میں عدلیہ کی کارکردگی میں کوئی بہتری نہ لاسکا تو لوگوں کو کیا منہ دکھاﺅں گا ؟“دوسرے لفظوں میں وہ اپنے ادارے میں خوداحتسابی کے عمل کو زندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق عدلیہ نے نچلی سطح پر بھی اپنا قبلہ درست کرنا شروع کردیا ہے، سالہاسال سے زیرالتواءکیسز کو نمٹانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ لاہور میں تعینات کئی سول ججز میرے سٹوڈنٹس ہیں، شکیب عمران لاہور کے سینئر سول جج ایڈمنسٹریشن ہیں، وہ ایف سی کالج میںمیرے شاگرد تھے، بہت ہی مو¿دب اور اعلیٰ ترین اخلاقی روایات کے حامل اس نوجوان کو جتنی محنت اور جذبے سے ان دنوں میں کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، مجھے خوشی ہوتی ہے کہ محنت اور کام کرنے کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے جذبے اب آہستہ آہستہ نچلی سطح پر بھی منتقل ہوناشروع ہوگئے ہیں، سیشن جج لاہور جناب عابد قریشی لوگوں کو فوری انصاف مہیا کرنے میں جس طرح کوشاں ہیں، شکیب عمران اکثر اس بارے میں بھی مجھے آگاہ فرماتے رہتے ہیں ۔....میں سمجھتا ہوں اس ملک کی عدلیہ ٹھیک ہوجائے اس ملک کے بے شمار ادارے خودبخود ٹھیک ہو جائیں گے۔ جس ملک کا نظام عدل ٹھیک ہو اس ملک کے باقی سارے نظام خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہو جاتے ہیں، ہماری بدقسمتی یہ ہے ہمارا نظام عدل ہمیشہ بڑا کمزور رہا ہے۔ یوں بھی کہا جاسکتا ہے اس ملک کا نظام عدل اس ملک کے سیاسی وفوجی حکمرانوں کا ہمیشہ غلام رہا ہے۔ اور نظام عدل نے غلام بن کر رہنے میں ہمیشہ فخر بھی محسوس کیا ہے۔ اب پس منظر میں ہم دنیا کو کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ ملکی قانون صرف کمزوروں کے لیے تھا، طاقتوروں کے اپنے اپنے قانون تھے ۔ مجھے اس موقع پر ایک واقعہ یاد آرہاہے۔ ایک بار افغانستان کے وزیرریلوے پاکستان کے دورے پر آئے۔ وزیراعظم پاکستان کے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم بڑی حیرانی سے ان سے پوچھنے لگے ”افغانستان میں توریلوے ہوتا ہی نہیں، پھر آپ ریلوے کے وزیر کیسے ہوگئے“؟....افغانستان کے وزیر ریلوے مسکرائے اور بولے ”سر آپ کے ہاں بھی تو وزیر قانون ہوتا ہے“....یہ بڑی شرمناک بات ہے مگر افسوس ہمارے کچھ بے شرم حکمرانوں پر اس طرح کی باتیں اثر ہی نہیں کرتیں۔ اُن کے ضمیر مستقل طورپرمُردہ ہوچکے ہیں۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں ہمیں اپنی عدلیہ سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ اُوپر بھی میں نے یہی عرض کیا ہے، دوسری طرف حقیقت یہ ہے اِس ملک کا سارے کا سارا کرپٹ اور کریمینل سسٹم ایک دوسرے سے بڑی مضبوطی کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔ سو یہ بہت مشکل ہے کوئی ایک ادارہ اِس سے الگ ہوکر اپنی ساکھ یا کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ عدلیہ نے یہ کوشش شروع کی تو پہلی بار اس ملک کے کرپٹ اور کریمینل مافیا میں یہ احساس پیدا ہوا وہ کمزور ہوگیا ہے، دوسری طرف کرپٹ حکمرانوں کی طرح کے عوام میں بھی یہ احساس بیدار ہونا شروع ہوگیاکہ لُوٹ مار کا حساب اس ملک کے وزیراعظم کو دینا پڑ گیا ہے تو کوئی بھی اِس سے ماورا نہیں۔ اس خوف نے بہت سے لوگوں کی نیندیں حرام کردی ہیں، چیف جسٹس آف پاکستان بظاہر جسمانی لحاظ سے جتنے کمزور نظر آتے ہیں، اپنے فیصلوں اور کام کے لحاظ سے اُتنے ہی طاقتور دکھائی دیتے ہیں،اتنی طاقت کا مظاہرہ وہی شخص کرسکتا ہے جس کے دل میں صرف اور صرف خوف خدا ہو، مختلف دنیاوی خوفوں اور لالچوں میں مبتلا کوئی شخص ایسی کارکردگی کا تصور بھی نہیں کرسکتا ،....یہ نہیں کہ عدلیہ نے اپنا قبلہ مکمل طورپر درست کرلیا ہے، لیکن عدلیہ اپنا قبلہ درست کرنے کے لیے تبدیلی یا سوچ کی تبدیلی کی پہلی سیڑھی پر چڑھ گئی ہے تو یہ اللہ کا اِس ملک پر ایسا کرم ہے جس کا کچھ عرصے پہلے تک تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، اسی بات کی ہمارے کچھ سیاستدانوں کو بڑی تکلیف ہے، وہ چاہتے تھے عدلیہ ہمیشہ اُنہی کی
طرح کرپٹ رہے، تاکہ اس کی آڑ میں وہ اپنے اُلو بھی سیدھے کرتے رہیں ۔ ان کی یہ بدقسمتی ہے اس بار پوری کوشش کے باوجود وہ کسی ملک قیوم یا خواجہ شریف کو تلاش نہیں کرسکے۔ لہٰذا اُن کے پاس سوائے اس قسم کے بیہودہ الزامات کے کچھ نہیں رہا کہ عدلیہ کسی کے اشاروں پر ناچ رہی ہے۔ اُن کا یہ خواب اُدھوراہی رہ گیا کہ عدلیہ ساری زندگی ان کے اشاروں پر ناچتی رہے ۔ .... چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی طبیعت کے کچھ پہلوﺅں پر سوال اُٹھائے جاسکتے ہیں مگران کی نیت اور جذبوں پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ لاہور کے ایک پولیس افسر بتارہے تھے گزشتہ ہفتے وہ اپنے لاہور آفس میں رات گئے تک مختلف اہم کیسز کا جائزہ لیتے رہے، پولیس افسر کا خیال تھا اتنی دیر سے وہ گھر گئے ہیں اور اگلے روز اتوار بھی ہے تو شاید وہ آفس تشریف نہ لائیں۔ مگر اگلے روز وہ صبح سویرے آفس موجود تھے ۔ ایسی لگن والا چیف جسٹس کم ازکم میں نے پہلی بار دیکھا ہے، ....البتہ گزشتہ ہفتے انتخابی اُمیدواروں کے فارم میں تبدیلی کے حوالے سے جب لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ ایک جھٹکے میں انہوں نے معطل کردیا تو دل بڑا بوجھل ہوا، ہم سوچ رہے تھے ایک طرف اُن کی ساری جدوجہد کرپشن کے خاتمے کی جانب رواں دواں دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف ایک ایسے عمل کی وہ کیسے حمایت کرسکتے ہیں جو سیاست میں کرپشن کی جانب جاتے ہوئے سارے راستے مزید کشادہ کردے؟ شکر ہے اس حوالے سے ہمارے دل ودماغ میںجنم لینے والے سارے خدشے اور شکوک وشبہات محض دوچار دنوں میں ہی ختم ہوگئے ورنہ ہم سوچ رہے تھے یہ معاملہ بھی کہیں ”تاریخ پہ تاریخ“ کے روایتی عدالتی کلچر کا شکار نہ ہوجائے۔ اگلے روز ان کی سربراہی میں قائم ہونے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے فیصلہ سنا دیا کہ ہرانتخابی اُمیدوار اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ ایک بیان حلفی بھی جمع کروائے گا جس میں وہ تقریباً ساری معلومات ہوں گی جو پہلے والے فارم میں تھیں، جسے کچھ سیاستدانوں نے ملی بھگت سے تبدیل کردیا تھا۔ سابقہ حکمران سیاستدانوں کو روزنت نئے صدمات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے ، اپنی کرپشن کو فروغ دینے یا چھپانے کے لیے جو راستہ بھی وہ اختیار کرتے ہیں عدلیہ اُسے بند کردیتی ہے عدلیہ کا یہ دم ہمارے لیے غنیمت ہے۔ میں سوچ رہا تھا جو کردار عدلیہ نے اب ادا کرنا شروع کیا ہے بہت پہلے شروع کیا ہوتا آج ہمارے ملک کی یہ حالت نہ ہوتی، ہماری دعا ہے عدلیہ اپنے اِس کردار سے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پیچھے نہ ہٹے!


ای پیپر