رائے کی نظر اور مودی
09 جون 2018 2018-06-09

ایک طرف ترقی یافتہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کو پابندیوں کا سامنا ہے۔کہیں اذان دینے پر پابندی، کہیں حجاب پہننے پر پابندی تو کہیں مذہبی تقریبات کو عوامی مقامات پر منانے کی پابندی۔ عورتوں کے حقوق اور باہمی احترام کا درس دینے والے ان مغرب کے لوگوں میں خود اقلیتوں کے لیے نہ تورواداری ہے اور نہ ہی اِن سے ہم آہنگی پیدا کرنے کا جذبہ -- بس اپنی معیشت کی مشین میں ان اقلیتوں کو پرزے کے طور پر استعمال کرنے کا فن یہ بخوبی جانتے ہیں۔
دوسری طرف، بھارت میں بھی مسلمان اپنی بقاءکی جنگ ہی تو لڑ رہے ہیں اوراپنی شناخت کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ ان کی جان، مال اور عزت کو انتہاپسندہندو تنظیموں اور مودی کابینہ میں موجود فرقہ وارانہ فسادات، قتل و غارت گری اور نسلی تعصب کی کاروائیوں میں ملوث وزیروں اور مشیروں سے خطرہ ہے۔یہ کون نہیں جانتا کہ گجرات میں وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر بیٹھ کر خودنریندر مودی بھی مسلمانوں کے خون سے اپنے اور ہندوتوا کے ماتھے کو رنگین کرنے کا ماضی رکھتے ہیں۔ یہ وہی نریندر مودی ہے جو کھل کر مسلمانوں سے اپنی نفرت کا اظہار کرتا رہا ہے چاہے ملک کے اندر ہوں یا سرحد کے پار۔اپنے الفاظ کی تاثیر سمجھاتے ہوئے یہی مودی راج مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج کو معصوم مسلمان کشمیریوں پر ظلم و بربریت ڈھانے کے لیے جدید اورانتہائی مہلک ہتھیار فراہم کرکے فرعونیت کے جذبے کی رونمائی کررہا ہے۔پاکستان کا پانی بند کرنے کا بس محض تقریری جھانسہ نہیں تھا۔ پاکستان کے پانی پر جگہ جگہ لگائے گئے بند دشمن ملک کے لیے نہیں مسلمانوں کے لیے رکھے گئے کینے کی بنا پر ہیں۔
حال ہی میں معروف مصنفہ، کالم نگار ارون دھتی رائے جس کو ناصرف بھارت میں بلکہ دنیا بھر میں نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کی نظرمیں انسان مذاہب میں نہیں انسانیت میں تلاش کرنا وجہ خلق ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ارون دھتی رائے مودی کا مکروہ چہرہ دکھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ مودی کی حکومت میں مسلمانوں پرظلم ڈھائے جارہے ہیں اور اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ مسلمانوں کوگلیوں اورسڑکوں پرانتہا پسند ہجوم بھیڑ بکریوں کی طرح نشانہ بناتے ہیں، یہی نہیں مسلمانوںکو اقتصادی سرگرمیوں سے دور رکھنا اور ان کے کاروبار پر حملے کرنا بھارت میں اب عام واقعات کہلاتے ہیں۔
ارون دھتی رائے نریندر مودی کو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والے امریکی صدر ٹرمپ سے بھی بدترین شخص قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ مودی دور میںبھارت میں انتہاپسندی اور نفرت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی مثال نہیں ملتی۔ارون دھتی رائے کا ماننا ہے زیادتی کے بعد قتل کیے جانے والی کشمیری لڑکی آصفہ بانو کے مجرموں کو بچانے کی دراصل کوشش کوئی اور نہیں مودی سرکار ہی کررہی ہے۔ اور تو اور مودی کی ٹرمپ کو جپھیاں ڈالنے کے باوجود امریکا نے بھارت کااقلیتوں پر مظالم کے حوالے سے چہرہ بے نقاب کردیا۔ شاید مسلمانوں کا خون اپنا رنگ دکھانا شروع کررہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ کے مطابق، مودی سرکار کے دور میں مذہبی رواداری میں نہ صرف کمی ہوئی بلکہ فرقہ واریت میں اضافہ ہوا۔ اس رپورٹ کے مطابق، بھارت میں گزشتہ سال 822 فرقہ وارانہ فسادات میں 111 افراد ہلاک ہوئے، 2384 افراد زخمی ہوئے۔شدت پسند ہندو تنظیموں نے گزشتہ برس 10 مسلمانوں کو محض گائے ذبح کرنے کے الزام میں قتل کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق، ریاست ان گاو¿ رکشکوں کے خلاف کارروائی نہیں کررہی بلکہ مجرمانہ غفلت برت رہی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی سیکولر ریاست کے دعوے دار بھارت میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کے باوجود قانون سازی میں ان کا تناسب آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے مذہبی آزادی کے حوالے سے اس رپورٹ میں مسلمان، دلت، سکھ اور دیگر اقلیتوں کو بھارت میں غیر محفوظ قرار دیا ہے۔ شاید اس سے زیادہ بھارت کے خلاف انسانی حقوق کو لے کے ایف آئی آر ماضی میں دیکھنے کو نہیںملی۔ سلامتی کونسل میں اپنی رکنیت کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانے والے بھارت میں کسی غیر ہندو کی سلامتی کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔
بھارت کے خلاف اس امریکی وزارتِ خارجہ کی ایف آئی آر سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا اس سے عمدہ وقت کیا ہوگا۔ پاکستان کے خارجہ امور پر جنگ لڑنے کا صحیح وقت آگیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم حق کے لیے چیخ کتنی بلند کرسکتے ہیں۔یہ وہ وقت ہے جب مذمتوں سے ہٹ کر دنیا کو یہ باور کرائیں کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف اقدامات نے بھارتی وزیراعظم کی سفاک شخصیت کودنیا کے سامنے پہلے ہی واضح کردیا تھا لیکن آپ نے دیکھا نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ دنیا صرف مذمتوں کی قراردادوں کے علاوہ کچھ کرنے کو تیار نہیں تھی۔
آنکھوں سے نور چھینتی پیلیٹ گنز، مرچوں بھرے پاوا شیلز، بارود برساتی گولیاں، انتہائی مہلک ہتھیاروں سے لیس اسپیشل سکیورٹی فورسز اور لاکھوںکی بے لگام فوج --- یہ سب معصوم کشمیریوں پر ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثالیں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلے عام پامالیاں کرنے والے مودی کا شمار مسلمان مخالف اقدامات کرنے والے بدترین عالمی رہنما کے طور پر باور کرانا ہماری خارجہ ذمہ داری ہے۔ دورِ مودی میں مقبوضہ وادی میں جہاں تحریک آزادی کے پروانوں سے جانوں کے نذرانے لیے گئے وہیں مسلمانوں کی مذہبی آزادی بھی بار بار سلب کی گئی۔ مساجد پر تالے لگائے گئے اور مذہبی اجتماعات پر پابندیاں لگائی گئیں۔ آواز بلند کرنے والا ہر شخص اس مقبوضہ کشمیر میں پابندِ سلاسل ہے۔ہمیں دنیا کو یہ بتانا ہوگا کہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں انتہا پسندہندو تنظیموں کو مودی کی کھلے عام آشیر باد حاصل ہے جو کسی مسلمان کو کسی بھی وقت اور کسی بھی وجہ سے قتل کردیتے ہیں۔ اس سے بڑی مذہبی جکڑن کیاہوگی کہ ہندوتوا کا کارڈ استعمال کرنے والے مودی کی سیاست میں گاو¿ رکشکوںنے بھی جنم لیا،،جو گائے کا گوشت لے جانے، کھانے یا گائے ذبح کرنے کی شک کی بنیاد پر مسلمانوں کا قتل کردیتے ہیں۔اب امریکا بھی مان رہا ہے کہ شائننگ انڈیا اور لبرلزم کا نعرہ لگانے والے بھارت میں صرف مسلمان ہی نہیں تمام اقلیتیں بھارتی انتہاپسندوں کا نشانہ بن رہی ہیں جن کا سربراہ کوئی اور نہیں نریندرا مودی ہے۔


ای پیپر