جنو بی پنجا ب کی اند رو نی کہا نی
09 جولائی 2020 (20:44) 2020-07-09

یہ امر شک سے بالا تر ہے کہ پنجا ب کے جنو بی علا قے ، جنہیں جنو بی پنجا ب کہا جا تا ہے،روزِاول سے احساسِ محر ومی کا شکا ر ہیں۔عا م مشا ہد ے کی با ت ہے کہ غر بت اور بیرو ز گاری کی بناء پر وہا ں فقرا ء اور بیرو ز گا ر افرا د کی تعدا د میں خطر نا ک حد تک اضا فہ ہو چکا ہے۔ عوا م الناس کی معا شی حا لت بھی اس حد دگر گوں دکھا ئی دیتی ہے کہ بسا اوقا ت تو یو ں لگتا ہے کہ فقیر فقیر وں سے ما نگ رہے ہیں۔ دو چا ر رو پے پہ ہو نے وا لی بحث کا دست و گریبا ن تک پہنچ جا نا معمو ل کی بات ہے۔ حفظا نِ صحت کی سہو لتو ں کی کمی ، یا آ سما ن سے با ت کر تی لو ڈ شیڈ نگ وہا ں کے عوام الناس کا مسلئہ نہیں۔ ان کا تو وا حد مسلئہ ہے رو ٹی اور صرف دو وقت کی رو ٹی۔لیکن عجیب با ت یہ ہے وہا ں کے عوا م اس کے با وجو د حر فِ شکا ئت ز با ن پر نہیں لا تے۔ ان کی حا لت بقو ل شا عر کچھ یو ں ہے کہ

وا ئے نا کا می متاعِ کا رواں جا تا رہا

کا رواں کے دل سے احسا سِ ز یا ں جا تا رہا

تا ہم اسی احسا س کو وہا ں کے جا گیر دار، صنعت کا راور گدی نشین اپنے حق میں کیش کر انے سے نہیں چو کتے۔ تعجب کی با ت یہ ہے کہ ہر بر سرِ اقتدا ر آ نے والی سیا سی پا رٹی الیکشن مہم میں جنو بی پنجا ب کے لئے علیحدہ صوبے کے قیا م کا نعرہ بڑ ی شد ت سے بلند کر تی ہے۔مگر برسرِ اقتدا ر آ جا نے کے بعد کو ئی اس کا ذکر کرنا تک گو ارہ نہیں کر تا۔ یا د ش بخیرتحر یکِ انصا ف کے بر سرِ اقتدا ر آ نے سے قبل پنجاب کے جنوبی علاقوں سے علیحدہ صوبے کا مطالبہ بڑے زور سے اُٹھا اور ایک ڈرامائی انداز میں پاکستان تحریک انصاف کے حق میں چلنے والی ہوا میں تحلیل ہوگیا ۔جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے چند بزرگ سیاستدانوں نے اپنی نئی نسل کے ساتھ جناب عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ وہ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا مداوا بنیں گے اور بالآخر ایک الگ صوبے کا قیام خواب سے تعبیر کے مراحل طے کرے گا ۔ مسلم لیگ (نون )اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے 15سابق ارکان قومی اسمبلی نے جناب عمران خان کے ساتھ ایک یاداشت پر بھی دستخط کئے تھے۔ اس یاداشت کا کیا بنا ؟اس میں کیا کیا کرنا طے ہوا تھا اور جوطے ہوا تھا اس پر عملی پیش رفت کہاں تک ہے ؟یہ عجیب بات ہے کہ دونوں اطراف سے کسی کو کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے ،نہ تو یادداشت میں درج کسی شق کے بارے یہ بتایا گیا ہے کہ اس پر عمل درآمد ہو گیا ہے اور نہ ہی کسی کو گلہ ہے کہ جن معاملات پر اتفاق ہوا تھا ان پر عمل نہیں ہو رہا ۔ ہاں، وقتاً فوقتاً فنڈز کے اجرا کے لیے ِاپنی پسند کے تبادلوں وغیرہ کے لیے حکومت پر دبائو ڈالنے کے لیے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین اکٹھے ہوتے رہتے ہیں

اور مطلوبہ کام کر والینے کے بعد پھر اپنے معمولات میں مصروف ہو جاتے ہیں اوریہ ظاہر ہونے لگتا ہے کہ جنوبی پنجاب میں انتظامی بنیاد پر ایک الگ صوبے کے قیام کے لیے کوئی بھی سنجیدہ نہیں اور جنوبی پنجاب کی پسماندگی، احساس ِمحرومی اور انتظامی دقتیں وہاں کی بڑی سیاسی شخصیات کے لیے ایک مفید سیاسی نعرے سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ لیکن اگر واقعی کچھ لوگ ہیں جو انتظامی بنیاد پر پنجاب کے جنوبی اضلاع میں الگ صوبے بنائے جانے ک خواب دیکھا کرتے ہیں توانہیں چاہیے کہ وہ ان شخصیات پر غور کریں جن کے ہاتھوں میں اس تحریک کی قیادت ہے ۔ کیا وہ واقعی اس کی قیادت کر رہے ہیں یا اس مدعا کو اپنے اور اپنے خاندانوں کے چھوٹے چھوٹے انفرادی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں ؟ اب اس تحریک کے ساتھ ایک نیامذاق کیا گیا ہے۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ اس نے ایک اوروعدہ پورا کر دیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے لیے سیکریٹریٹ کا قیام عمل میں آگیا ہے ،لیکن عملی طور پر یہ فیصلہ درست معلوم نہیں ہوتا۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ صوبہ پنجاب کی ایک حکومت ہے،اس کا سیکرٹریٹ لاہور میں قائم ہے جو تقریباً 37یا38محکموں پر مشتمل ہے اور پھر ان محکوں کے کئی کئی ذیلی محکمے ہیں۔ صرف ان دفاتر کی فہرست ہی درجن سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہوگی۔ان تمام دفاتر میں ہزاروں سرکاری ملازمین متعلقہ قوانین کے تحت قواعد اور پالیسی کی روشنی میں کام کرتے ہیں، کم از کم گمان اور توقع تو یہی ہے۔ حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ دو ایڈیشنل سیکرٹری جانب ِجنوب بھیج کر آئندہ کون سا کام اور کون سے فیصلے جنوبی پنجاب میں ہوا کریں گے اور ان کے لیے لاہور کی جانب دیکھنا نہیں پڑے گا ؟قوی امکان ہے کہ جو کچھ کیا گیا ہے اس پر بیسیوں کروڑروپے تو خرچ ہو جائیں گے، لیکن یہ نئے دفاتر ڈاکخانے سے زیادہ کچھ ثابت نہ ہوں گے۔ ممکن ہے یہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے عوام کے لیے اضافی دقت ثابت ہو ں، کیونکہ جنوب میں قائم ہونے والے دفاتر کے پاس قانونی اختیار ات نہیں ہوں گے جبکہ لاہور میں بیٹھے ہوئے افسران جنوب سے متعلق کاموں کو براہِ راست ہاتھ نہیں لگائیں گے، جب تک کہ یہ جنوبی دفاتر کے ذریعے نہ آئے ہوں تاکہ حکومت کے نئے اقدام کوبامعنی اور کامیاب بنایا جاسکے۔ ویسے بھی عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں صوبائی دارالحکومت کا مطلب صوبائی کابینہ ہوتا ہے اور کابینہ تو عملاً لاہور میں موجود ہوتی ہے، دارالحکومت جو ٹھہرا۔ تو پھر سوال یہی اٹھتا ہے کہ جنوبی پنجاب میں کیا قائم کیا گیا ہے؟ بادی النظر میں جنوبی پنجاب میں جو چند دفاتر قائم کیے گئے ہیں وہ لاہور میں واقع دفاتر کے ماتحت ہوں گے۔ آگے چل کر ہوسکتا ہے کہ قواعد و ضوابط میں ترمیم کے ذریعے چند معمولی اور کمتر نوعیت کے اختیارات ان ماتحت دفاتر کو سونپ بھی دیئے جائیں، لیکن جنوبی پنجاب کے رہنے والوں کو یہ ماتحت دفاتر قدم قدم پر یاد دلاتے رہیں گے کہ اصل اختیارات کا سرچشمہ لاہور ہی ہے۔ چنانچہ دیکھنے والے ان افسروں کے ساتھ گہری ہمدردی محسوس کر رہے ہیں جنہیں جنوب میں تعینات کیا گیا ہے یا تعینات کیا جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ اگر ذمہ داریاں مبہم ہوں اور اختیارات نہ ہوں یا اگر ہوں تو غیر واضح ہوں یا ابہام سے بھرے ہوں تو کام کرنا مشکل ہی نہیں ہوتا ناممکن ہوجاتا ہے۔ اس کا ثبوت آئے روز لاہور میں نظر آتا رہتا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے صوبے کی انتظامیہ کو عدم استحکام کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ ذرا گننے کی کوشش کریں کتنے چیف سیکرٹریز، کتنے آئی جی، کتنے سیکرٹری اگست 2018ء سے آتے اور جاتے رہے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ اس اکھاڑ پچھاڑ سے انتظامی امور کا کیا ستیاناس ہوتا ہے۔ یہ صورتحال جو لاہور میں ہر روز دیکھتے ہیں، اندیشہ ہے کہ آئندہ بہاولپور، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں بھی نظر آیا کرے گی اور وہاں بھی وجوہ یہی ہوں گی۔ ذمہ داریوں اور اختیارات کے بارے ابہام یا دونوں کے بارے میں غیریقینی صورتحال ، یہ کہ ذمہ داری بھی واضح ہے اور اختیار بھی، لیکن اوامر دونوں کے رستے میں حائل ہیں۔ خدشہ ہے کہ جنوب میں بھی یہی نظر آیا کرے گا۔


ای پیپر