اب خالصتان کے قیام میں زیادہ دیر نہیں
09 جولائی 2020 (20:43) 2020-07-09

ہندوستان کے باسی سکھ اور بالخصوص 1947 میں تقسیم ہند کے بعد باقی ماندہ مشرقی پنجاب کے 2 کروڑ سے زائد سکھ آج تک آزادی کی تلاش میں ہیں۔ ہندوستان کے مغربی علاقے پر مشتمل مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکمرانی سے بھی بہت پہلے سکھ آزادی کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ انگریزوں نے مغربی ہندوستان میں اپنی مکاری اور فریبی سے سکھوں کو شکست دے کر اس خطہ پر قبضہ کر لیا تو سکھوں کی آزادی کی تحریک دم توڑ گئی۔ تاہم جب مشرقی پنجاب میں خالصتان کے قیام کی تحریک زور پکڑ گئی اور بھارتی حکومت اور سکھوں کے درمیان تصادم شروع ہوا تو سکھوں نے خالصتان کے قیام کا مطالبہ کیا تاہم ہندوستان نے مشرقی پنجاب کو تین صوبوں ہریانہ، ہماچل پردیش اور پنجاب میں بانٹ دیا۔

50 کی دہائی میں جب خالصتان قیام کی تحریک عروج پر تھی تو بھارتی فوج نے طاقت کے بل بوتے پر کچھ عرصے کیلئے اس تحریک کو دبا دیا۔ سکھوں نے جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی قیادت میں ایک بار پھر خالصتان کے قیام کی تحریک شروع کی ۔ بھنڈرانوالہ ، آل انڈیا سکھ فیڈریشن اور اکالی دل کے سرکردہ اور بہت سے ناموررہنما امرتسر کے گولڈن ٹمپل میں جمع ہوگئے ۔ خالصتان کے قیام کی تحریک زور پکڑ رہی تھی تو انجہانی اندرا گاندھی نے فوج اور پولیس کے ذریعے سکھوں کو گوردوارے کے اندرنہ صرف محصور کر دیا بلکہ بھارتی فوج نے بلوسٹار آپریشن کر کے گوردوارے کے اندر مقیم سکھوں اور ان کے رہنماؤں کو قتل بھی کردیا۔

اس افسوسناک سانحہ کے بعد نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں مقیم سکھ قوم اور بالخصوص مشرقی پنجاب کے سکھوں نے ہندوؤں سے انتقام لینے کیلئے انہیں مارنا شروع کر دیا۔ اس واقعہ پر سارے بھارت میں سکھوں کو چن چن کر موت کے گھاٹ اتاردیا گیا ۔ ہزاروں سکھوں کے قتل عام کے بعد سکھ قوم نے انتقام لینے کا تہیہ کر لیا اور آخر کار اس کے نتیجے میں وزیر اعظم ہاؤس میں سکھ اہلکاروں نے وزیر اعظم اندرا گاندھی

پر فائر کر کے اسے جہنم واصل کر دیا۔ اندرا گاندھی تو نشان عبرت بن گئی لیکن ہندوؤں نے ایک بار پھر دہلی اور دوسرے صوبوں میں ہزاروں سکھوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ تب بھی سکھوںکی تحریک آزادی دبی نہیں تھی اور سکھ آزادی کے حصول کیلئے کئی منصوبے بناتے رہے۔

آخر کار سکھوں نے اپنی آزاد ریاست خالصتان کے قیام کیلئے پوری دنیا میں ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا اور اسے خالصتان ریفرنڈم 2020 کا نام دیا۔ یہ ریفرنڈم بھارتی صوبہ پنجاب اور ہریانہ میں اس سال کے آخر میں کرایا جائے گا۔ ان دو صوبوں میں سکھ قوم کی اکثریت آباد ہے اور اس بات کا امکان ہے ستر سے اسی فیصد سکھ خالصتان کے حامی ہیں اس کے نتیجے میں وہ بھارت سے آزادی حاصل کرکے اپنا ایک الگ ملک قائم کرکے اپنی ایک الگ شناخت بحال کر سکتے ہیں اور ہندوؤں کے ظلم وستم سے نجات پا سکتے ہیں۔اسی لئے دنیا بھرکی سکھ تنظیموں کی طرف سے 4جولائی سے خالصتان کے لیے ریفرنڈم 2020کی رجسٹریشن شروع کرنے کے اعلان پر بھارتی حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔سکھوں کے لئے علیحدہ ملک خالصتان کی تحریک سے جڑی دنیابھرکی سکھ تنظیموں خاص طور پر سکھ فار جسٹس کا کہنا ہے کہ خالصتان گولی کے ذریعے نہیں بلکہ پرامن جمہوری طریقے سے لینا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کی رائے جاننا چاہتے ہیں کہ وہ خالصتان چاہتے ہیں یا نہیں۔ لہذا یہ ریفرنڈم 2020 کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

حال ہی میں بھارت کے 13ہزار سکھ فوجیوں نے بھارتی فوج سے استعفیٰ دے کر آزادی کے لیے شروع کی جانے والی خالصتان تحریک میں شمولیت اختیارکرلی۔ خالصتان تحریک کے ترجمان گوپال سنگھ چاولہ نے کہاہے کہ سکھ بھارت سے علیحدہ ریاست کامطالبہ کرنے والے ہیں۔ بھارت کے زوال اورٹکڑے ہونے کاوقت شروع ہوچکاہے۔ خالصتان تحریک مضبوط ہوگئی ہے اورسکھ بھارت سے علیحدہ وطن خالصتان کامطالبہ کرنے والے ہیں۔

تحریک آزادی کشمیر اور تحریک خالصتان ایسی دو تحریکیں ہیں جن کا دشمن ایک ہی ہے یعنی بھارتی ہندو۔ دونوں تحریکوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب مل کر بھارت سے آزادی حاصل کریں گی۔ بھارتی سکھوں کا کہنا ہے کہ شہریت کے متنازعہ قانون کے خلاف وہ مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایسے کالے قانون کو کبھی تسلیم نہیں کریں جس سے کسی خاص مذہب کو نشانہ بنایا جارہا ہو۔ آج مسلمانوں کے ساتھ یہ سب کچھ ہورہا ہے کل ان کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ہریانہ سے تعلق رکھنے والے سردار امرجیت سنگھ کے مطابق بھارت میں ہزاروں ایسے ہندو، سکھ، بودھ اور مسیحی تارکین وطن عشروں سے مقیم ہیں جو پڑوسی ممالک کے سیاسی حالات اور مجبوریوں کی بنا پر اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے اوراب کئی برس سے بھارت میں مقیم ہیں۔ ایسے لوگ اب کہاں جائیں گے؟ شہریت قانون کی مخالفت اس لیے ہو رہی ہے کہ تارکین کو شہریت دینے کا فیصلہ مذہب کی بنیاد پر کیا گیا اور مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کو اس سے باہر رکھا گیا، انسانی ہمدردی کی آڑ میں اس قانون کا مقصد سیاسی ہے۔

شہریت کے نئے قانون کے تحت بھارتی ریاست آسام میں ہندوؤں کو تو شہریت دی گئی لیکن لاکھوں مسلمانوں کو ’گھس بیٹھیے‘ قرار دے کر شہریت اور قومیت سے محروم کردیا گیا۔ آج مسلمانوں کے ساتھ یہ ہورہا ہے کل سکھ قوم کے ساتھ بھی یہ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ماضی میں بھی خالصتان کے نام پر ہزاروں سکھ خاندانوں پر مظالم ڈھائے جاچکے ہیں۔ یہی بات سکھوں کو پریشان کر رہی ہے اور وہ اپنے حق کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ سکھوں کا کہنا ہے کہ ہم دیر سے بیدار ہوئے ہیں لیکن اب ہم جاگ اٹھے ہیں ہم نے پورے ملک کو بیدا کردیا ہے۔ سکھ قوم شہریت کے ترمیمی ایکٹ کو امتیازی قانون سمجھتی ہے۔ اب ہم بھارت کو خالصتان بنا کر دکھائیں گے۔


ای پیپر