ضرورت برائے اجتماعیت
09 جولائی 2020 (20:42) 2020-07-09

انسانی فطرت میں ایک بات شامل ہے، کوئی بھی عمل روزانہ کی بنیاد پر انجام دیا جاتا ہو، تو وہ عادت کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ورزش کو ہی سمجھ لیں، ابتداء میں مختصر دورانیے میں ہی جان نکل جاتی ہے، لیکن یہ عمل جب روزانہ کی بنیاد پر کیا جانے لگے تو عادت بن جاتی ہے۔تعلیمی اعتبار سے مطالعہ کی عادت اپنانا، جوئے شیر لانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے، بعد میں ایسی عادت بن جاتی ہے کہ نیند سے قبل لوری(وہ گیت جو بچوں کو سُلانے کیلئے مائیں گنگناتی ہیں) کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔خیر یہ مثالیں تو دانا معاشروں کی ہیں۔ اب ذرا کروٹ اپنی جانب بدلتے ہیں۔

ایک وقت تھا دنیا اپنی ڈگر پر رواں دواں تھی، لوگ اپنی فکری صلاحیت، معاشی استطاعت کے مطابق تدابیر بنا رہے تھے، مستقبل کے معمار اپنی علمی جستجو میں محو تھے کہ کورونا نامی نحوست نے دنیا پر غلبہ پا لیا۔ عالمی ادارہ ِ صحت

نے اسے مہلک وبا کا درجہ دے دیا۔ چوں کہ اس کی ابتداء چین سے ہوئی تھی تو چین نے اپنی تقریباََ تمام ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔بعد ازاں دنیا میں بھاری وجود رکھنے والا لالچی ممالک کا ابلیسی مرشد امریکہ بھی بیماری کا مقابلہ کرنے کے لئے ڈٹ گیا۔ سفید فام افراد کے پیر ِ ِکامل ڈونلڈ ٹرمپ نے بیماری سے متعلق لمبی لمبی چھوڑنا شروع کر دیں۔ ان کی قوتِ گویائی میں اتنا اثر تھا کہ امریکیوں کو لگا کہ یہ وبانا خواندہ علاقے کے اُس ٹھنڈے بدمعاش کی طرح ہے جو شور مچانے میں شیر ہے مگر پولیس کے آنے پر صرف عینی شاہد کا کردار ادا کرتا ہے۔پھر ہونا کیاتھا، امریکہ میں کیسز بڑھتے گئے اورایک وقت آیا کہ امریکہ چین پر سبقت حاصل کر چکا ۔

کورونا وائرس دنیا میں ثواب سمجھ کر گھومتے گھومتے پاکستان میں داخل ہوا۔یہاں اس کی آمد پر کوئی زائرین کو مورد ِ الزام ٹھہرائے تو کوئی اجتماع کے شرکا کو وائرس کے پھلائو کی وجہ قرار دے۔آغاز میں سرکار نے لاک ڈائون کیا تو عوام نے راشن کی دکانوں پر ہلا بول دیا۔ وہ تاجر جو نوٹوں کی گنتی کو ترستے تھے ، اپنے حلقے میں بِل گیٹس کا درجہ حاصل کر چکے ۔مذکورہ حالات میں اصل نقصان ہماری طرح کے درمیانے طبقے کو ہوا۔ جس کا ازالہ کرنے کی کوشش میں اب سرگرداں ہیں۔

گزرتے وقت کے ساتھ کورونا زندگی کا حصہ محسوس ہونے لگا ہے۔ یومیہ بنیادوں پر منعقد ہونے والی پریس کانفرنسز معمول کا حصہ لگتی ہیں۔گلیوں، محلوں، بازاروں نیز ہر مقام پر عوام کا شور و غوغا سنائی دیتا ہے۔ ایسا محسوس ہونے لگا ہے جیسے کورونا پاکستان میں آ کر تھک چکا ہے۔ اب اپنے لئے پناہ مانگ رہا ہے۔ لیکن وبا کو پھیلانے والوں کے صدقے جائیں، کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔حکومتِ وقت نے ہر موڑ پر احتیاط کا دامن تھامنے کی تلقین کی، لیکن ناجانے کیوں پاکستان کے باشعور عوام نے ایسے دامن چھوڑا جیسے حکومت ادھار مانگ رہی ہو۔ یہ بھی بات ٹھیک ہے کہ سرکار نے مانگی تو ہمیشہ امداد ہی ہے لیکن ابھی بات کچھ اور ہے۔

چند روز قبل موجود حکومت نے وائرس کے کیسز میں چالیس فیصد تک کمی کا دعویٰ کیا ہے، دوسری جانب معاون ِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا خود وائرس کا شکار ہو گئے۔جس طرح جزوی لاک ڈائون کیا گیا، عوام نے جیسے عمل کیا، وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ سماجی فاصلہ رکھنے کی استدعاروزانہ کی بنیاد پر کی جاتی مگر شہری" میں نہ مانوں" کی رٹ پر قائم رہے۔ بسوں، ویگنوں میں سفر پر گامزن افراد نے کورونا کو پانے کا موقع کبھی ضائع نہ ہونے دیا۔ بنک کے باہر لگی قطار میں کھڑا ہر فرد کورونا کی دعوت ِ عام پر لبیک کہتا رہا۔پھر اس موقف کی دلیل کا دفاع کیسے کیا جا سکتا ہے، جب کہ ہمارے ہاں اموات ہی پانچ ہزار کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ پارسہ اپوزیشن نے بھی دعویٰ کیا کہ حالات حکومت کے ارشادات کے برعکس ہیں۔

وقت کبھی تھمتا نہیں ہے۔ اب عید الضحیٰ چند ایام کی دوری پر ہمارا انتظار کر رہی ہے۔ لاہور ، کراچی سمیت مختلف شہروں میں مویشی منڈیوں کے لئے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔پنجاب حکومت نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے منڈیوں سے متعلق ایس او پیز جاری کر دیے ہیں، جن میں ماسک اور دستانوں کا استعمال، صرف دو افراد کو داخلے کی اجازت، داخل اور اخراج کے لئے الگ راستوں کا استعمال شامل ہیں۔ یہاں پر ایک سوال دل و دماغ میں جنم لیتا ہے کہ آیا ہم جانوروں کی خریداری کے دوران کس طرح احتیاط کریں گے، کیا ہم ویسی ہی احتیاط کریں گے جو سمارٹ لاک ڈائون کے دنوں میں کی تھی؟ یہ اُس احتیاط کا ہی نتیجہ ہے جس کی بدولت ہم اِس نہج پر پہنچ گئے ہیں۔

دور ِ جدید میں نت نئی ایجادات ہو چکی ہیں۔ جانوروں کی خریداری سے متعلق حکومت کو عملی تدبیر بنانا ہوگی۔ جانوروں کی آن لائن خریداری بھی تو کی جا سکتی ہے۔یا مویشی منڈیوں کو ایک جگہ بنانے کی بجائے مختلف ٹکڑوں میں بھی دور دراز بانٹا جا سکتا ہے، اس کے لئے رہنمائی پورٹل کی صورت میں دی جا سکتی ہے۔ خیر جس کا کام اُسی کو ساجھے۔ ہم تو ادنیٰ سی رائے دے سکتے ہیں۔ کورونا پاکستان میں کیسے پھیلا، اس کے ذمے دار نہ تو زائرین ہیں ، نہ ہی اجتماع کے شرکا۔ اس کا ذمہ دار وہ کیڑا ہے جو دماغ میں چین سے جینے نہیں دیتا۔نہ ہی دانش مندی کا مظاہرہ کرنے دیتا ہے، نہ ہی حالات کی تاثیر کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ بس من مرضی کی سرگرمیاں کرنے کو فوقیت دیتا ہے۔ زبان چلانے کو فن سمجھتاہے، اپنی ضد پر قائم رہنے کو شیوہ اپناتا ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ موجودہ حالات میں انفرادی مفاد کو اپنانے کی بجائے اجتماعی نفع کو فروغ دیں۔ اس سے ہم سب کو ثمر ملے گا اور ملک جلد مشکلات سے آزاد ہوگا۔


ای پیپر