09 جولائی 2020 2020-07-09

آج کل چونکہ دنیا ایک ”عالمی گاﺅں“ میں تبدیل ہوچکی ہے، لہٰذا امریکہ والے پاکستان کا اور پاکستان والے امریکہ کا نام لیتے، اور ایک دوسرے سے معلومات حاصل کرنے میں اظہار مسرت کرتے ہیں، بلکہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے، حالانکہ اس حوالے سے گلوبل ویلج کی بجائے ”گلوبل سٹی“ کا لفظ بھی استعمال کرسکتے تھے، مگر چونکہ ان کا عمل بھی گاﺅں میں رہنے والے ”پینڈو“ شخص کا ہوتا ہے، لہٰذا وہ عمداً یہ لفظ استعمال کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ اب اگر آپ موجودہ آفت ناگہانی کرونا کا ذکر کریں ، تو بے شک آپ خود خبروں اور معلومات کا تبادلہ کرکے دیکھ لیں کہ اس آفت میں بھی ٹرمپ کے اقدامات کی نقالی اور ہم خیالی کی کوشش کی جاتی ہے۔ بقول نیر

تیرگی ہے چارسو، خوف پھیلا کُو بہ کُو

بڑھ چلیں محرومیاں، بھاگ جااے جستجو

کون ہے تیرا یہاں، پوچھتے ہیں رنگ وبو

قارئین، ابھی میں ان سطورپر پہنچا تھا، تو میرے جگری یار جنگ کے کالم نگار خاور نیازی صاحب کا میرے ”آرٹیکل پہ Comment ملا، کہ حسرت ہی رہے گی، آپ خان کے سحر سے کبھی باہر آکر سابقہ کرم فرماﺅں کے کرتوتوں پر بھی ”کلمہ حق“ ادا کرنے کی جسارت کریں گے، جنہوں نے ملک کو اس نہج پہ لاکھڑا کیا ہے، قارئین اللہ کا کرنا یہ ہوا، کہ دوسرے دن، ایک ”ویڈیو“ میرے چھوٹے بھائی مصطفیٰ خان میرانی نے بھیجی، جو خاور صاحب کے گلے شکوے کا جواب تھی حالانکہ میں نے میاں نواز شریف کے خلاف جو کالم لکھے تھے، اکٹھے کرلیے ہیں قارئین میرے پروفیشنل کیریئر کا عجب واقعہ ہوا ہے، آج یہ میرے الفاظ میرے نہیں بلکہ کامران خان ملک کے مشہور اینکر (میزبان) کے ہیں، جنہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا انٹرویو لینا تھا، آگے ان کی زبانی اختتام ہفتہ مجھے بتایا گیا، کہ عثمان بزدار ہمارے پروگرام میں آکر انٹرویو دینا چاہتے ہیں، ہم نے کہا ویلکم ، فیصلہ یہ ہوا، کہ آج صبح معاملات کو طے کیا جائے گا، اور جیسا کہ پلان تھا، ان کے اعلیٰ ترین افسران نے ہم سے رابطہ کیا، اور معاملات طے ہوئے، اور ان کی درخواست تھی کہ موضوعات بتائے جائیں تاکہ وزیراعلیٰ کو بریف کیا جائے، ہم نے کہا جی ضرور، اور ہم نے موضوعات کی فہرست بھی بھیج دی، فہرست ملنے کے بعد ان کے سٹاف افسر نے کہا، اگر سوالات بھی مل جائیں، ہم نے انہیں سمجھایا ، کہ سوالات نہیں بتائے جاتے، انہوں نے کہا کہ چونکہ وزیراعلیٰ میڈیا پر نہیں آتے، اگر بتادیا، تو ان کے لیے سہولت ہو جائے گی، بہرحال ازراہ تکلف ہم نے انہیں سوالات بھی بتادیئے ، ہم نے کہا ،آئیں تو صحیح انٹرویو تو دیں، لوگوں کے سامنے تو آئیں۔ وہ سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، ان کے بارے میں شکایتیں ملتی ہیں، کہ عمران خان اور پی ٹی آئی پہ بے تحاشہ دباﺅ ہے، اس لیے وہ شکایتوں کا جواب دینے کے لیے خود تشریف لائیں۔ یہ پہلی دفعہ تھی کہ میں نے وزیراعلیٰ کو سوالات بھی پہنچادیئے، اس کے بعد طے ہوا کہ ساڑھے سات سے ساڑھے آٹھ بجے تک ان کا انٹرویو ریکارڈ ہوگا، ہم نے اپنی پوری تیاری مکمل کرلی چونکہ میرا پروگرام نوے منٹ کا ہوتا ہے، چونکہ تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کرنا تھا، لہٰذا ہم نے دس سے گیارہ بجے وقت مختص کرلیا۔ اچانک ایسے لگا کہ پانج بجے کے بعد وزیراعلیٰ کی ٹیم غائب ہونا شروع ہوگئی، ہمارے کسی فون کا جواب نہیں دیا گیا، بلکہ فون بھی بند کردیئے گئے، ہم لوگ ریکارڈنگ موڈ میں چلے گئے تھے، کیونکہ ہمارے پاس کوئی اور تیاری نہیں تھی، لہٰذا ہم سب گھبرا گئے۔ آپ یقین کریں، وہ بالکل لاتعلق ہوگئے، ہم بہت مشکل کیفیت میں آگئے تھے، جس کا آپ اندازہ نہیں لگا سکتے۔ ایک گھنٹے کے اندر اندر دوسرا پروگرام ریکارڈ کرنا ناممکن تھا، کیونکہ ہمیں چیز کی پہلے تیاریاں کرنی ہوتی ہیں، اور یہ بہت تفصیلی کام ہوتا ہے۔

ان کی لاتعلقی بدستور قائم رہی، ہم نے ان سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی، بالآخر ہم نے دوسرے ذرائع سے پتہ کرنے کی کوشش کی، تو معلوم ہوا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو ہمارے سوالات ہی پسند نہیں آئے، یہ چیز انتہائی غیرمعمولی نوعیت کی ہے، کیونکہ وہ نائب ہیں عمران خان کے ،اور پی ٹی آئی کے، بلکہ عمران خان کے بعد سب سے اہم وہی شخصیت ہیں۔ وزیراعلیٰ کا پنجاب کا اتنی اہم عہدے پہ رہ کر ایسا رویہ اختیار کرنا ناقابل یقین ہے، ان کا یہ طریقہ اور انہوں نے ہمارا جو حال کیا وہ ناقابل یقین ہے، حالانکہ خلاف معمول اور خلاف اصول ہم ان کو سوال پہلے ہی پہنچا دیئے تھے مگر اس کے باوجود وہ جواب تیار نہ کرسکے ہم آپ کو سوالات بتاتے ہیں، جن کا جواب وہ نہ دے سکے ، اور پھرگئے ،پہلا سوال کرنے سے پہلے ہم نے نتیجہ نکالا، کہ پنجاب کے ساتھ بہت بڑا (Disaster) ہوگیا ہے، یعنی تباہی ہوگئی ہے۔ پہلاسوال یہ تھا کہ سندھ میں پچاس ہزار اور پنجاب میں 38ہزار کرونا کے ٹیسٹ کیوں ہوئے، گزشتہ ایک ماہ سے سندھ دس سے گیارہ ہزار اور پنجاب صرف آٹھ ہزار کیوں کررہا ہے؟آخر کیوں پنجاب اتنا بڑا صوبہ ہے، اس میں ٹیسٹ کیوں کم ہورہے ہیں ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ پنجاب کے 48ڈاکٹروں نے اکٹھے استعفے کیوں دیئے اور یہ کیوں منظور کرلیے گئے ، تیسرا سوال عثمان بزدار، اور شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ اور طرز حکمرانی میں بنیادی فرق کیا ہے؟

قارئین باقی سوال اگلی دفعہ ان شاءاللہ

خاور نیازی صاحب آپ نواز میرانی پہ نہیں ، حضرت ابوبکر صدیقؓ کے قول پہ اعتبار کریں کہ دوست کو اس کے عیب سے آگاہ نہ کرنا، اسے تباہی میں ڈالنے کے مترادف ہے۔


ای پیپر