طارق عزیز!
09 جولائی 2020 2020-07-09

کورونا ہمارے بھی بہت سے قیمتی لوگوں کی جان لے گیا، طارق عزیز بھی اُن میں شامل ہیں، اُن کی کوئی اور بات ہمیں یاد رہے نہ رہے پر پاکستان سے دل وجان سے محبت کرنے والوں کو اُن کا نعرہ ”پاکستان زندہ باد“ ہمیشہ یادرہے گا، یہ نعرہ وہ باقاعدہ ”کلمہ “ سمجھ کر لگاتے تھے ، پی ٹی وی کے پروگرام نیلام گھر، اور اس کے علاوہ بھی جس پروگرام کی وہ کمپی¿رنگ کرتے، حتیٰ کہ کسی پروگرام میں بطور مہمان بھی شریک ہوتے آخر میں یہ نعرہ وہ اتنے جوش جذبے سے لگاتے پاکستان کے اندرونی وبیرونی دشمن جل کر راکھ ہو جاتے تھے، مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے، لاہور کے ایک بڑے ہوٹل میں ”ادارہ ہم سخن ساتھی“ کی ایک تقریب تھی، یہ شاید ہمارے شاعر انجم یوسفی کے اعزاز میں تھی، جو طارق عزیز کا استقبال کرنے طارق عزیز سے بہت پہلے دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں، میں نے جب طارق عزیز صاحب کو اس تقریب میں شرکت کی، اور خطاب کی دعوت دی، وہ فرمانے لگے میں صرف چند لمحوں کے لیے آﺅں گا، کیونکہ میں نے کراچی جاناہے، سات بجے میری فلائیٹ ہے، وہ بروقت تقریب میں پہنچ گئے، تقریب ذرا دیر سے شروع ہوئی، بلکہ بہت دیر سے اس لیے شروع ہوئی تقریب کے مہمان خصوصی اس وقت کے کسی محکمے کے وزیر مملکت شاہ محمود قریشی تھے، پتہ نہیں وہ اس وقت کس پارٹی میں تھے، تقریب میں اُن کا انتظار ہورہا تھا ،بہرحال اُن کے آنے پر تقریب شروع ہوئی، طارق عزیز نے مجھ سے کہا ”میری چونکہ کراچی کے لیے فلائیٹ ہے سب سے پہلے مجھے اظہار خیال کے لیے بلالیا جائے، دلدار پرویز بھٹی اُس تقریب کے کمپیئرتھے، اُنہوں نے ایسے ہی کیا، طارق عزیز مائیک پر آئے اور ”پاکستان زندہ باد“ کہہ کر رخصت ہوگئے، ....میرا بس چلے، میری خواہش ہے ان کی قبر پر جو کتبہ لگایا جائے اُس پر بھی ”پاکستان زندہ باد“ لکھا جائے، بلکہ صرف ”پاکستان زندہ باد“ ہی لکھ دیا جائے، لوگ خود ہی سمجھ جائیں گے یہ طارق عزیز کی قبر ہے، پاکستان کے ساتھ اُن کی محبت کا اِس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہوسکتا ہے وہ آخرتک پی ٹی وی سے ہی وابستہ رہے، ایک چینل سے کچھ دنوں کے لیے وابستہ ہوئے وہاں دل نہیں لگا، اس کے علاوہ جب انہوں نے کالم لکھنے کا ارادہ کیا ایسے اخبار (نوائے وقت) کا انتخاب کیا جس کے بارے میں عمومی تاثر یہ تھا اِس اخبار کو صرف اور صرف پاکستان کا مفاد عزیز ہے اور اس مقصد کے لیے یہ اپنا بڑے سے بڑا مالی وہرطرح کا نقصان برداشت کرسکتا ہے، طارق عزیز چونکہ بنیادی طورپر جبر کے خلاف جدوجہد کرنے والے انسان تھے سو نوائے وقت کی پیشانی پر لکھا ہوا یہ ”قول“ بھی اُنہیں یقیناً متاثر کرگیا ہوگا، ”جابر سلطان کے سامنے کلمہ کہنا جہاد ہے“ ۔یہ الگ بات ہے نوائے وقت میں جوکام کرتے تھے اُنہیں نوائے وقت کے جابر سلطان کی سامنے کلمہ حق کہنے کی بالکل اجازت نہیں تھی، البتہ میرے دوستوں، عزیزوں اور قارئین کو یاد ہوگا یہ کام میں نے بغیر اجازت لیے ہی کرلیا تھا، پھر نظامی صاحب کی شدید ترین خواہش کے باوجود پلٹ کر اِس اخبار کی طرف نہیں دیکھا، نظامی صاحب کو پوجنے والوں نے ان کے بارے میں یہ تاثر پھیلا رکھا تھا وہ قائد اعظم جیسی خصوصیات کے مالک ہیں، دور کے ڈھول سہانے والا محاورہ درست ثابت ہوا چنانچہ طارق عزیز زیادہ عرصہ نوائے وقت میں نکال سکے، نہ میں نکال سکا، میں نے اپنی صحافتی زندگی میں سب سے زیادہ اذیت اور ذلت جس اخبار میں اُٹھائی وہ نوائے وقت تھا، جناب مجید نظامی جن کی کسی بات سے بڑے بڑے حکمران اختلاف کی جرا¿ت نہیں کرسکتے تھے، جناب ارشاد احمد عارف، جناب عطا الرحمن، اور میرے کئی صحافی دوست گواہ ہیں اس زمانے میں چوبیس صفحات پر مشتمل ایک خط نظامی صاحب کو لکھ کر اپنے دل کی ساری بھڑاس میں نے نکال لی تھی، اس خط کی کاپیاں میں نے اے پی این ایس، سی پی این ای، اور تمام سینئر کالم نویسوں کو بھی بھجوائی تھیں، دعا ہے اللہ اُنہیں اپنے جوار رحمت میں مقام عطا فرمائے۔ نوائے وقت کے حوالے سے طارق عزیز کے اعتماد پر جو زد پڑی اس کا نقصان یہ ہوا کالم لکھنے سے اُن کا دل اُچاٹ ہوگیا، ہم ایک اچھے کالم نویس سے محروم ہوگئے، ....ایک زمانے میں نوائے وقت دوسرے بڑے نمبرکا اخبار تھا،بلکہ پاکستان اور نظریہ پاکستان سے دلی محبت رکھنے والے اسے پہلے بڑے نمبر کا اخبار قرار دیتے تھے، نوائے وقت کو جس انداز میں ذاتی مقاصد وذاتی تشہیر کے لیے استعمال کیا گیا سچ پوچھیں یہ اخبار آہستہ آہستہ اتنا ”بیمار “ ہوتا گیا، پتہ نہیں اب زندہ بھی ہے یا نہیں؟ ، وقت نیوز (ٹی وی چینل) بند ہونے کے بعد اس اخبار کے لیے ہم زیادہ فکر مند ہیں، کیونکہ یہ اخبار محب وطن پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن رہا ہے.... ہمارے ایک محترم کالم نویس ڈاکٹر اجمل نیازی آج کل شدید علیل ہیں، وہ فرماتے ہیں ” میں اپنی زندگی کا آخری کالم نوائے وقت کے لیے لکھ کر مرنا چاہتا ہوں“ ....یہ بڑی ہمت حوصلے کی بات ہے اتنے برسوں تک وہ نوائے وقت سے وابستہ ہیں، نوائے وقت کے ساتھ ان کی محبت کو سلام، پر دوسری طرف ان کی اس محبت کا صلہ یوں دیا جارہا ہے اُن کی کئی تنخواہیں ادا نہیں کی جارہیں، اُن کی بار بار گزارش پر بھی ادا نہیں کی جارہی، نوائے وقت کی انتظامیہ سے ہماری گزارش ہے اس سے قبل کہ نوائے وقت کو ٹوٹ کر چاہنے والا یہ شخص رخصت ہو جائے (اللہ اُنہیں اچھی صحت والی زندگی عطا فرمائے) اُس کا حق اُسے ادا کردیاجائے کہ شدید بیماری کے عالم میں مالی معاونت کی انہیں اشد ضرورت ہے، .... جہاں تک طارق عزیز کا تعلق ہے بظاہر وہ ایک انتہائی سنجیدہ انسان دکھائی دیتے تھے، اُن کی اس سنجیدگی کے پیش نظر کبھی کبھی احساس ہوتا تھا وہ بڑے متکبر انسان ہیں، ایسے نہیں تھا، عملی طورپر وہ بڑے عاجز انسان تھے، ورنہ کم ازکم میری ان سے کبھی نہ بنتی وہ بہت کم بولتے تھے، پر جو بولتے بہت سوچ سمجھ کر بولتے تھے، ان کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ بے مقصد نہیں ہوتا تھا، اُنہوں نے کچھ فلموں میں بھی کام کیا، بعد میں فلمی دنیا کا جو ماحول بن گیا وہ شاید اُنہیں راس نہیں آیا، ورنہ جو فلمیں میں نے ان کی دیکھیں وہ ایک اچھے اداکار تھے۔ میں نے ایک بار فلمی دنیا کو مکمل طورپر خیر باد کہنے کی وجہ ان سے پوچھی، پہلے تو سرجھکا کر کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے، پھر بولے ” یارا ہمارے ہاں لوگ فنکار کو صرف پہچانتے ہیں عزت نہیں دیتے“۔ اس سے آپ اندازہ لگالیں وہ عزت آبرو کو کس حدتک مقدم رکھتے تھے ۔ عزت آبرو کو وہ اہمیت نہ دیتے ہوتے، سیاست کو بھی خیر باد نہ کہتے، اس شعبے کے لیے بھی وہ مناسب آدمی نہیں تھے۔ میں سیاست کو خیر باد کہنے کے اسباب ان سے پوچھتا وہ آغا شورش کاشمیری کا یہ شعر مجھے سنا دیتے ۔میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو....گھری ہے طوائف تماشبینوں میں “ ....(جاری ہے)


ای پیپر