سگریٹ پینے کے شوقین افراد کیلئے خطرناک خبر۔۔۔!
09 جولائی 2019 (19:00) 2019-07-09

سگریٹ پینے کے شوقین افراد کیلئے خطرناک خبر۔۔۔!

بدلتے حالت کے مطابق جہاں انسان کا طرز زندگی تبدیل ہو رہا وہیں انسانی معاشرے میں پائی جانے والی علتیں بھی ماڈرن انداز اپناتی جا رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی جدیدیت کا ایک رُخ ای سگریٹ کی صورت میں سامنے آیا ہے جس کا مقصد سموکنگ سے نجات یا اسے کم کرنا تھا۔ اگرچہ ای سگریٹ اسی مقصد کے لئے گیا تھا گیا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ اس کے استعمال سے تمباکو نوشوں کی تعداد میں کافی فرق پڑے گا اور یہ تمباکو کی نسبت نقصان دہ بھی کم ہو گا مگر یہ کیا ہوا کہ سان فرانسسکو ای سگریٹ کی فروخت پر پابندی عائد کرنے والے پہلا امریکی شہر بن گیا ہے مگر دوسری جانب برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس سگریٹ نوشی ترک کرنے کے عمل میں تمباکو نوشوں کی مدد کے لیے انھیں استعمال کر رہی ہے چنانچہ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ای سگریٹ کے محفوظ ہونے کے خیال کی سچائی کیا ہے؟

ای سگریٹ کیسے کام کرتے ہیں؟

ای سگریٹ عام طور پر نکوٹین اور پروپائلین گلائیکول کے علاوہ سبزیوں کی گلیسرین پر مشتمل محلول کو گرم کرتے ہیں۔ استعمال کرنے والا اس کے بخارات کھینچتا ہے جس میں نکوٹین بھی ہوتی ہے جو کہ سگریٹوں میں نشے کا بنیادی عنصر ہوتا ہے۔ لیکن نکوٹین تمباکو کے دھوئیں میں شامل متعدد زہریلے کیمیکلز جیسے کہ ٹار اور کاربن مونو آکسائیڈ کے مقابلے میں نسبتاً کم نقصان دہ ہے۔ عام سگریٹوں میں موجود تمباکو سے ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے ہزاروں افراد ہلاک ہو جاتے ہیں مگر تمباکو کے برعکس نکوٹین کینسر کا باعث نہیں بنتی۔ یہی وجہ ہے کہ این ایچ ایس اب کئی سالوں سے خصوصی چیونگ گم، سکن پیچ اور سپرے کی شکل میں نکوٹین کی متبادل تھیراپی کو لوگوں کو تمباکو نوشی روکنے میں مدد دینے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

کیا ای سگریٹس کے استعمال سے کوئی خطرہ ہے؟

برطانیہ کے ڈاکٹرز، ماہرین صحت، کینسر کے خلاف کام کر رہی تنظیمیں اور حکومتیں اس بات پر متفق ہیں کہ موجود شواہد کے مطابق عام سگریٹس سے لاحق خطرے کے مقابلے میں ای سگریٹس بہت کم خطرے کے حامل ہوتے ہیں۔ آزادانہ طور پر کیے گئے ایک جائزے کے مطابق ای سگریٹ تمباکو نوشی کے مقابلے میں 95 فیصد کم نقصان دہ ہے۔ جائزہ رپورٹ تحریر کرنے والی پروفیسر این میک نیل کہتی ہیں کہ ” ای سگریٹس عوامی صحت کے لیے ”گیم چینجر“ ثابت ہوسکتے ہیں۔“

تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ مکمل طور پر خطرے سے خالی ہیں۔

ای سگریٹ میں مائع اور بھاپ کے دھوئیں میں بھلے ہی بہت کم سطح پر مگر ممکنہ طور پر نقصان دہ کیمیکل شامل ہو سکتے ہیں۔ لیبارٹری میں کیے جانے والے ایک ابتدائی مطالعے میں برطانوی سائنس دانوں کو پتہ چلا کہ بخارات پھیپڑوں کی مدافعتی خلیوں کو تبدیل کر سکتی ہے۔ اگرچہ ان بخارات کی وجہ سے صحت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں کی جانے والی تحقیق ابتدائی ہے لیکن ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہیں۔

کیا بخارات نقصان دہ ہیں؟

فی الحال اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ ان سے دوسرے لوگوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں سے دیگر لوگوں کو جو ثابت شدہ نقصان پہنچتا ہے اس کے مقابلے میں ای سگریٹ کے دھوئیں سے صحت کو خطرات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔

کیا ان کے مواد کے حوالے سے قواعد موجود ہیں؟

برطانیہ میں ای سگریٹس کے مواد کے حوالے سے امریکہ سے زیادہ سخت قوانین موجود ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں تحفظ کی خاطر ای سگریٹس میں نکوٹین کی مقدار کی حد مقرر ہے جبکہ امریکہ میں ایسا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں اس حوالے سے بھی سخت قوانین موجود ہیں کہ ان کے اشتہار کیسے دیے جا سکتے ہیں، اور ان کی فروخت کہاں اور کسے کی جا سکتی ہے۔ 18 سال سے کم عمر افراد کو یہ سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی عائد ہے۔

کیا برطانیہ دنیا سے الگ راہ اختیار کیے ہوئے ہے؟

برطانیہ نے ای سگریٹس کے متعلق امریکہ سے نہایت مختلف مو¿قف اختیار کیا ہے لیکن اس کا مو¿قف نیوزی لینڈ اور کینیڈا سے کافی ملتا جلتا ہے۔ برطانوی حکومت ای سگریٹس کو سگریٹ کی عادت چھڑوانے کے لیے اہم تصور کرتی ہے اور نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) شاید سگریٹ نوشی چھوڑنے کے خواہشمند افراد کو یہ مفت تجویز کرنے پر بھی غور کرے۔ چنانچہ سان فرانسسکو کے مقابلے میں یہاں ای سگریٹس پر پابندی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ وہاں سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد گھٹانے کے بجائے توجہ اس بات پر ہے کہ نوجوانوں کو ای سگریٹس شروع کرنے سے روکا جائے۔ پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی ایک حالیہ رپورٹ میں پایا گیا کہ سگریٹ نوشی چھوڑنا ای سگریٹس کے استعمال کی بنیادی وجہ تھی۔

اس رپورٹ کے مطابق اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ای سگریٹس نوجوانوں کو سگریٹ نوشی کی جانب راغب کرتے ہیں۔ اس حوالے سے بھی کچھ اشارے موجود ہیں کہ ای سگریٹس کے حوالے سے برطانیہ میں قوانین میں مزید نرمی کی جا سکتی ہے۔ چوں کہ برطانیہ میں سگریٹ نوشی کی شرح گر کر 15 فیصد تک پہنچ چکی ہے اس لیے ارکانِ پارلیمان کی ایک کمیٹی نے کچھ عمارتوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ای سگریٹس پر عائد پابندی میں نرمی کی تجویز ہے۔

برطانیہ میں ای سگریٹ پینے والوں کی تیس لاکھ سے زائد

برطانیہ میں الیکٹرانک یا ای سگریٹ پینے والوں کی تعداد 2013ءمیں دس لاکھ تک پہنچ گئی تھی جب کہ اب 2019ءمیں کہا جا رہا ہے یہ تعداد تیس لاکھ سے زائد ہے۔ بعض افراد کا خیال ہے کہ سگریٹ کے اس متبادل سے ہزاروں لوگوں کی جان بچ سکتی ہے جبکہ بعض کا خیال ہے کہ جہاں اس سے سگریٹ نوشی معمول کی بات محسوس ہو گی وہیں یہ غیر محفوظ بھی ہو سکتی ہے۔

مانچسٹر کے پب میں جو کوئی جاتا ہے اسے عجیب منظر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک میز پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دوستوں کا ایک گروہ سگریٹ نوشی میں مصروف ہے لیکن نہ تو وہاں کوئی بو ہے اور نہ ہی میز پر ایش ٹرے مطلب یہ کہ وہ ای سگریٹ پی رہے ہیں۔ ایک خاتون کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ سے انہیں سگریٹ نوشی ترک کرنے میں مدد ملی۔ انھوں نے کہا ’میں نے پیچ اور ان ہیلرز کا استعمال کیا۔ یہ اس سے کافی بہتر ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کہ آپ سگریٹ کا کش لگا رہے ہیں۔‘ ایک دوسری خاتون لیزا نے کہا ’یہ شاندار خیال ہے۔ اس سے آپ کی صحت کو فوائد حاصل ہوتے ہیں اور اس کا ذائقہ سگریٹ کی طرح نہیں ہے‘۔ ای سگریٹ کے دو اجزاءہوتے ہیں ایک سرے پر رقیق نکوٹین ہوتا ہے اور دوسری جانب دوبارہ چارج کی جانے والی بیٹری ہوتی ہے۔

اس کا استعمال کرنے والا جب کش لگاتا ہے تو نکوٹین بخارات کے ذریعہ منہ میں تحلیل ہو جاتی ہے اور جو چیز دھواں نظر آتی ہے وہ بہت حد تک صرف بھاپ ہے۔ ای سگریٹ میں چونکہ کسی قسم کے تمباکو کا استعمال نہیں ہوتا اس لیے اس میں نقصان دہ مادہ نہیں ہے جیسا کہ عام سگریٹ میں ہوتا ہے اور اسی کے سبب اموات ہوتی ہے۔

ای سگریٹ کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سگریٹ نوشی اور صحت پر کام کرنے والی تنظیم ’ایکشن‘ کے ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں گزشتہ سال تک سات لاکھ افراد اس کا استعمال کر رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا استعمال کرنے والوں کی تعداد دس لاکھ سے زائد تک پہنچ جائے گی اور طبی ماہرین اس سے بہتری کی امید کر رہے ہیں۔ رائل کالج آف فزیشیئنز کے پروفیسر جان بریٹن کا کہنا ہے ’کوٹین اپنے آپ میں کوئی خاص خطرناک دوا نہیں ہے یہ کیفین کی طرح کی چیز ہے‘۔ انہوں نے کہا ’اگر برطانیہ کے تمام سگریٹ نوشی کرنے والے سگریٹ پینا چھوڑ دیں اور ای سگریٹ پینے لگیں تو آج جتنے لوگ زندہ ہیں ان میں سے پچاس لاکھ لوگوں کو بچایا جا سکتا ہے‘۔

ان سب کے باوجود تحفظ اور قوانین کو لے کر ای سگریٹ کے متعلق خدشات ہیں۔ اسے قانونی طور پر بچوں کے ہاتھوں فروخت کیا جا سکتا ہے۔ اس کے اشتہارات پر کوئی پابندی نہیں رہے گی۔ اس کے ناقدین کا کہنا کہ یہ ایک ایسی چیز کی پذیرائی ہوگی جو سگریٹ سے مماثل ہے۔ پیچز اور گم کے برخلاف ای سگریٹ پر دواو¿ں کے قوانین نافذ نہیں ہوتے جس کا مطلب یہ ہے کہ نکوٹین کی خالصیت کے لیے کوئی ضابطہ نہیں ہے۔

تو کیا ای سگریٹ کا استعمال محفوظ ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے برطانوی میڈیکل ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر نتھانسن نے کہا ’اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ ہمیں اس کے بارے میں عملم نہیں ہے۔ اس کے لیے وقت اور مطالعہ درکار ہے کہ ای سگریٹ کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟‘۔ انہوں نے اس بابت سخت قوانین وضع کرنے کی بات کہی۔ برطانیہ کے وی آئی پی نامی ایک ڈسٹری بیوٹر نے کہا ’زیادہ سخت قوانین کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اس تجارت سے نکل جائیں‘۔ اس کمپنی کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ وہ اس بارے میں اس ضابطے کا خیر مقدم کریں گے کہ اسے اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کے ہاتھوں فروخت نہ کیا جائے۔ برطانوی میڈیکل ایسوسی ایشن ای سگریٹ کے بڑھتے چلن سے پریشان ہے اور انہوں نے عموامی مقامات پر اس کے استعمال پر پابندی کی بات کہی ہے۔

واضح رہے کہ اس ضمن میں آنے والے چند ہفتوں میں فیصلہ لیا جائے گا کہ اس کے قانون سخت ہوں یا نہیں۔

عالمی ادارہ صحت

ڈبلیو ایچ او کا ای سگریٹ پر پابندی کا مطالبہ

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے مطالبہ کیا ہے کہ عمارات کے اندر ای سگریٹ کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔جبکہ ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ ای سگریٹ کی بچوں کو خرید و فروخت پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ میں ای سگریٹ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جب تک کسی بھی قسم کی ٹھوس تحقیق سامنے نہیں آتی تب تک یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ ای سگریٹ تمباکونوشی ترک کرنے میں لوگوں کو مدد دیتی ہے۔

ادارے میں کام کرنے والے صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ای سگریٹ کا استعمال کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب ای سگریٹ کے حق میں مہم چلانے والے افراد کا کہنا ہے کہ اس کے استعمال کے حوالے سے قانون متناسب ہونے چاہیے۔

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ای سگریٹ کے حوالے سے ہونے والی تشہیری مہم پر پابندی عائد کردینی چاہیے جو بچوں اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کو ایسی ڈیوائیسز استعمال کرنے کا حوصلہ بڑھا سکتی ہیں۔

ماہرین نے مزید کہا کہ ای سگریٹ کے لیے پھل، کینڈی اور شراب کی طرز پر بنائے گئے ذائقے بھی استعمال نہیں ہونے چاہیں۔کچھ محققین کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ پر پابندی کی وجہ سے لوگ ایک ایسی چیز سے محروم ہوجائیں جو انھیں سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان پہنچاتی ہے۔ای سگریٹ کے دو اجزاءہوتے ہیں ایک سرے پر رقیق نکوٹین ہوتا ہے اور دوسری جانب دوبارہ چارج کی جانے والی بیٹری ہوتی ہے۔اس کا استعمال کرنے والا جب کش لگاتا ہے تو نکوٹین بخارات کے ذریعہ منہ میں تحلیل ہو جاتی ہے اور جو چیز دھواں نظر آتی ہے وہ بہت حد تک صرف بھاپ ہے۔

لیکٹرانک سگریٹ سے زندگی کو لاحق خطرات

امریکی ماہرین نے الیکٹرانک سگریٹ پینے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے استعمال سے زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ویسے تو عام طور پر یہ بات مشہور تھی کہ الیکٹرانک (ای سگریٹ ) صحت کے لیے ا±س قدر نقصان دہ نہیں ہے جتنی عام سگریٹ ہے تاہم اب ماہرین نے اس حوالے سے ایک تحقیق کی جس میں بہت سی اہم باتیں اور نقصانات سامنے آئے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ای سگریٹ میں استعمال کیے جانے والے فلیور (ذائقے) میں ایسے کیمیکلز شامل کیے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے بہت مضر ہیں اور اس کے استعمال سے موذی مرض لاحق ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’الیکٹرانک سگریٹ نوشی سے خون میں موجود سفید سیلز (خلیات) بننا بند ہوجاتے ہیں جس کے باعث پٹھوں اور درد کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘۔ مطالعے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ فلیور میں شامل کیے جانے والے کیمیکل کی وجہ سے کینسر جیسا موذی مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اور اسی باعث نوجوانوں کی اموات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

نیشنل اکیڈمی آف سائنس کے جریدے میں تحقیق کے مکمل نتائج شائع کیے گئے ہیں جس میں خصوصاً نوجوانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ای سگریٹ سے دور رہیں کیونکہ اس کے نقصانات بھی عام سگریٹ کی طرح ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ای سگریٹ کے استعمال سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے کینسر جیسی بیماری کے اثرات عام افراد کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں‘۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کسی بھی کمپنی کا سگریٹ صحت بخش نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ای سگریٹ میں عام سگریٹ کی طرح تمباکو نہیں ملا ہوتا اور نہ اسے پینے کے لیے جلایا جاتا ہے بلکہ اسے چارج کرنے کے بعد فلیور لگا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ سگریٹ نوشی صحت کے لئے نہایت مضر ہے، جس میں شامل زہریلا مادہ انسانی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرتا ہے چاہے وہ عام سگریٹ ہو یا الیکٹرا نک سگریٹ ہو۔

جاپان کے طبی ماہرین کے مطابق الیکٹرانک سگریٹ عام سگریٹ کے مقابلے میں دس گناہ زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ اس میں شامل کارسینوجن نامی مادہ عام سگریٹ کے مقابلے میں دس گناہ زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے جو کہ سرطان جیسے موذی مرض کو انسانی جسم میں پیدا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے الیکٹرانک سگریٹ کو نوجوانوں کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

سگریٹ پھٹنے سے نوجوان کا چہرہ جھلس گیا

برقی (الیکٹریکل) سگریٹ پینے کا شوق نوجوان کو مہنگا پڑ گیا، سگریٹ پھٹنے کی وجہ سے نوجوان کے 6 دانت ٹوڑ گئے اور چہرہ بری طرح سے جھلس گیا۔ جدید دور میں تمباکونوشی کے نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے سائنسی ماہرین نے چند سال قبل برقی (الیکٹریکل) سگریٹ تیار کی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات سامنے آئے۔

الیکٹریکل سگریٹ پینے والے افراد کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ چارجنگ کے معاملے میں محتاط رہے کیونکہ سگریٹ کی بیٹری پھٹنے کا خدشہ ہوتا ہے، سن 2014ءمیں پہلی الیکٹریکل سگریٹ دورانِ چارجنگ پھٹنے کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد متعدد شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ ہواوے سے تعلق رکھنے والا 25 سالا نوجوان میٹ پرل سٹی کے ایک پارک میں شام کے وقت بیٹھا الیکٹریکل سگریٹ پی رہا تھا کہ اس دوران دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد وہ اوندھے منہ زمین پر گر گیا۔ دھماکے کی آواز سننے کے بعد پارک میں آئے ہوئے لوگ مذکورہ نوجوان کی جانب بھاگے اور انہوں نے صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایمبولینس طلب کی۔

میٹ کو زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کا منہ بری طرح سے جھلس چکا اور دھماکے کی شدت سے اس کے 6 دانت بھی ٹوٹ گئے۔ نوجوان کا کہنا ہے کہ میں باسکٹ بال کھیلنے کے لیے پارک آیا تو اس دوران سگریٹ نکال کر پینا شروع کردی جس کے بعد دھماکے کی آواز آئی اور پھر میرے منہ سے خون نکلنے لگا۔ میٹ نے الیکٹریکل سگریٹ پینے والے نوجوانوں کو خبردار کرنے کے لیے اپنے زخمی چہرے کی تصویر شیئر کی جس میں ان کے زخم پر 40 ٹانکے لگے ہوئے ہیں۔ مذکورہ نوجوان نے دیگر لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ آپ اپنی زندگیوں سے نہ کھیلیں اور فوری طور پر الیکٹریکل سگریٹ کا استعمال ترک کردیں۔

ایک سگریٹ میں کیا کچھ ہوتا ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ سرطان سمیت کئی جان لیوا بیماریوں کی وجہ بننے والی تمباکو نوشی حقیقتاً کتنی مہلک عادت ہے اور ایک سگریٹ میں کیا کیا کچھ ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب ہے، سات ہزار کے قریب انتہائی مضر صحت کیمیائی مادے ہیں۔ تمباکو نوشی کے مضر صحت اثرات پر یوں تو دنیا کے تقریباً سبھی ممالک میں بہت زیادہ تحقیق کی گئی ہے اور ابھی تک کی جا رہی ہے، لیکن اس سلسلے میں آئرلینڈ کی کینسر سوسائٹی اور امریکا میں پھیپھڑوں کے امراض پر تحقیق کرنے والی امریکن لَنگ ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار اس امر کی مزید ایک بار تصدیق کرنے کے لیے بہت کافی ہیں کہ کسی تمباکو نوش انسان کی وجہ سے خود اسے اور اس کے ارد گرد موجود دیگر انسانوں اور ماحول کو کتنا نقصان پہنچتا ہے۔ ان دونوں تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق کوئی بھی سگریٹ نوش انسان جب تمباکو نوشی کرتا ہے، تو اس کے جسم میں اس عمل کی وجہ سے داخل ہونے والے کیمیائی مادوں کی تعداد قریب سات ہزار تک ہوتی ہے۔ آپ بھی جانیے کہ ان مہلک کیمیائی مادوں میں سے زیادہ اہم اور خطرناک ترین کیمیکلز کون کون سے ہیں:

ایسیٹون

یہ کیمیائی مادہ کتنا مضر صحت اور زود اثر ہوتا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہی کیمیکل خواتین اپنے ناخنوں سے نیل پالش اتارنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

ایسیٹک ایسڈ

یہ کیمیکل ایک بہت تیز ڈائی ہے، جو بالوں کو رنگنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

امونیا

یہ بہت تیز بو والا ایک ایسا کیمیکل ہے، جو عام گھروں میں صفائی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔سنکھیا: یہ زہر چوہے مار ادویات کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔

بینزین

یہ ایک ایسا کیمیکل ہے، جو ربڑ سے بنی سیمنٹ مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔

بیوٹین

یہ ایک کیمیائی ایندھن ہے، جس سے چھوٹے دستی لائٹروں کو بھرا جاتا ہے۔

کیڈمیم

یہ ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے، جو مختلف بیٹریوں کی تیاری میں تیزاب بنانے کے لیے مرکزی عنصر کا کام کرتا ہے۔

کاربن مونو آکسائید

کاربن مونو آکسائیڈ وہ مہلک گیس ہے، جس میں زیادہ دیر تک سانس لینے سے انسان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ یہ گیس پٹرول یا ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کے انجن سے خارج ہونے والے دھوئیں کا ایک اہم جزو ہوتی ہے۔ اب بہت سے لوگ ای سگریٹ کی مدد لیتے ہیں، جن کی فروخت دنیا بھر میں بڑھ رہی ہے۔ ای سگریٹ بغیر کسی احساسِ جرم کے، بغیر ب±و دار دھواں چھوڑے اور بغیر اپنی صحت کو خطرے میں ڈالے پی جا سکتی ہے، کم از کم ای سگریٹ بنانے والے یہی دعویٰ کرتے ہیں۔

فارمیلڈی ہائیڈ

فارمیلڈی ہائیڈز ایسے کیمیکلز ہوتے ہیں، جو مردہ جانداروں کی لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بطور محلول استعمال ہوتے ہیں۔

ہیکسامین

یہ بہت تیز کیمیائی مادہ اس محلول کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے عام گھروں میں گوشت وغیرہ کو باربی کیو کرنے کے لیے گرِل میں آگ لگائی جاتی ہے۔

سیسہ

یہ مضر صحت مادہ کئی طرح کی بیٹریوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے، اور اسے سے بنائی گئی ’لَیڈ بیٹریوں‘ سے تو ہر کوئی واقف ہوتا ہے۔

نیفتھالین

یہ کیمیائی مادہ گولوں کی شکل کی ان زہریلی مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے، جو کیڑے مکوڑے مارنے کے کام آتی ہیں اور ’موتھ بالز‘ کہلاتی ہیں۔

میتھینول

میتھینول ایک بہت زہریلا کیمیائی مائع ہوتا ہے، جو راکٹوں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

نکوٹین

نکوٹین ایسا بہت زود اثر زہر ہے، جو حشرات کو مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

تارکول

سگریٹ کے دھوئیں میں پایا جانے والا تارکول وہی کیمیائی مادہ ہے، جو سڑکوں کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔

ٹولوئین

ٹولوئین ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے، جو صنعتی پیمانے پر مختلف طرح کے پینٹ بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ فہرست سگریٹ کے دھوئیں میں پانے جانے والے صرف سولہ بہت زہریلے کیمیائی مادوں کی ہے، تمباکو نوشی کے باعث کسی بھی تمباکو نوش کے جسم میں پہنچنے والے چھ ہزار نو سو اسی سے زائد دیگر زہریلے کیمیائی مادے ان کے علاوہ ہیں۔

پاکستان میں ای سگریٹ پر پابندی کا مطالبہ

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے حکومت سے ای سگریٹ پر پابندی کا مطالبہ کردیا، ان کا موقف ہے کہ الیکٹرونک سگریٹ یا ویپ بھی شیشے کی طرح ہی خطرناک ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ کسی بری چیز کو دوسری بری چیز کا متبادل نہیں بنایا جاسکتا، جہاں حکومت تمباکو نوشی کو ترک کرنے کے اقدامات کررہی ہے، وہیں الیکٹرونک سگریٹ پر بھی پابندی لگائی جائے۔ ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ کئی یورپی ممالک میں ای سگریٹ پر پہلے ہی پابندی عائد ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کتنے لوگ ای سگریٹ پیتے ہیں اب تک اس کا درست تعین نہیں کیا گیا۔

دوسری طرف وزیر برائے قومی صحت عامر کیانی کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ پر پابندی کے حوالے سے اب تک پی ایم اے کی جانب سے کوئی درخواست نہیں دی گئی اگر ان کی طرف سے باقاعدہ کوئی درخواست آتی ہے تو ای سگریٹ پر پابندی لگائے جانے پر غور کیا جا سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 60 بلین سگریٹ بنتی اور استعمال ہوتی ہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ای سگریٹ پر بغیر کسی تحقیق کے پابندی لگا دیں تو اس کی وجہ سے لوگ سگریٹ نوشی کی طرف راغب ہو جائیں۔

٭٭٭


ای پیپر