ترقی کا مجرب نسخہ ۔۔۔!
09 جولائی 2019 (17:31) 2019-07-09

عجب ہے جو لازم بنیاد ہے اسی سے روگردانی کی جائے اور پھر ترقی کی خواہش بھی رکھی جائے۔ مسلم نشاةِ ثانیہ کا خواب بھی ہو پر تقاضے پورے کرنے کی تڑپ نہ ہو۔ کتاب اس یادگار سفر کی ساتھی ہے، بے غرض، بے ریا، انفرادی و اجتماعی ترقی کی ضمانت.... یار لوگ کہتے ہیں وقت نہیں ملتا، ہم سمجھتے ہیں مرض کچھ اور ہے۔ ذیل میں دنیا بھر کے مصروف لوگوں کی پڑھنے کی عادت کے اوقات درج کیے جاتے ہیں شاید غلط فہمی کے ازالے کے لیے کافی ہو جائیں، کوئی احساسِ زیاں ہو جائے، زادِ راہ اکھٹا ہوجائے۔

حیرت نہیں ہونی چاہیے اگر انڈیا کی شرحِ ترقی سالانہ 8.2 فیصد تک جا پہنچی ہو۔ یہ لوگ دنیا بھر میں سب سے زیادہ وقت مطالعے کے لیے وقف کرتے ہیں یعنی ہر ہفتے 10گھنٹے اور 42 منٹ۔ ایک سروے کے مطابق تیس ممالک کی فہرست میں کوریائی لوگ سب سے کم یعنی 3گھنٹے 6 منٹ اس اہم ترین کام میں صرف کرتے ہیں۔

پیو ریسرچ سنٹر اور گیلپ کی چند تحقیقات کے مطابق ہر سات میں سے ایک امریکی (72%) نے گزرے سال میں کوئی ایک کتاب ضرور پڑھی ہے۔ پاکستانی عقل حیران ہے کہ 1950ءمیں یہ شرح صرف 17%تھی ۔ یہاں ای۔ بکس پڑھنے کی شرح 2011ءکے مقابلے میں 17%سے بڑھ کے 27% ہو چکی ہے۔ حیران کن ہے کہ 18-29سال کی عمر کے نوجوان کتب بینی میں زیادہ شغف رکھتے ہیں اور 80% نوجوانوں نے گزشتہ سال کم ازکم ایک کتاب کا مطالعہ ضرور کیا ہے۔ اوسط کے مطابق امریکی خواتین نے مردوں کی 9 کے مقابلے میں 14کتب سالانہ پڑھیں۔ اکثر لوگوں نے کہا کہ انٹرنیٹ نے ان کی کتب بینی متاثر نہیں کی (کہ اس کا نعم البدل کیا ہو سکتا ہے؟)۔ 50% امریکی ہر سال کم ازکم 5، 31% سالانہ 10سے زائد ،6% ہر برس 50 سے زائد کتابیں مطالعہ کرتے ہیں۔ دلچسپ یہ ہے کہ 49 سے - 62% لوگوں نے پچھلے سال میں کم زیادہ فلمیں دیکھیں ہیں جو کتب پڑھنے کی شرح سے کم ہے۔27% لوگوں نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ برس کوئی کتاب نہیں پڑھی (اور اس پہ اہلِ حلّ و عقد پریشان ہیں)۔ لیکن اس کے برعکس 33% نے یہ بھی کہا کہ ہم نے پچھلے برس کوئی فلم نہیں دیکھی۔

جاپان میں صرف 9% لوگ ہیں جو کتاب سے شغف نہیں رکھتے۔ 5% نے سال میں1.... 8% نے2 .... 13%نے 4....15%نے 12....20% نے 36....8% نے 60....4%نے 108....7% نے 120کتابیں کم از کم پڑھیں۔ لیکن کہاں جاپانی فارغ اور کہاں ہم جہاں بھر کے ’مصروف‘۔

ذرا دیکھیے انگلینڈ میں کیا صورت ہے۔ وہ جو ٹی وی کو ترجیح دیتے ہیں ان کی تعداد 45% ہے اور 50% وہ ہیں جو ہر ہفتے ایک کتاب پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ سروے کے مطابق ایک تہائی (1/3)خواتین ایسی ہیں جو آدھی رات کو جاگ کے اپنی پسندیدہ تحریر مکمل کرنے میں ج±تی رہتی ہیں۔ ہم تو بس حیران ہوئے جاتے ہیں۔

آئیے فرانس چلیں۔ 59% نے چھپی ہوئی کتابیں پڑھنے میں ترجیح ظاہر کی۔ شیطان کے نظریاتی ملک اسرائیل میں 53% لوگ ٹوائلٹس میں بھی پڑھنے کی لت میں مبتلا ہیں۔ جب کہ ہماری کیفیت کیا ہے؟کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

ابھرتی اور چھاتی سپر پاور کی سنیئے۔ 80% چائنیز پڑھنے کی ’بری ‘ عادت میں مبتلا ہیں۔ ان ’فارغ البالوں‘ نے سال میں اوسطاََ 8 کتابیں پڑھیں ہیں۔ اور یہ تعدادمطالعے کے معاملے میں پچھلے سالوں سے اضافے کی نشان دہی کرتی ہے۔ 69%’بے وقوف ‘ سمجھتے ہیں کہ مطالعہ ان کی انفرادی ترقی کے لیے اہم ہے اور یہ رجحان 19 - 29سال کی عمروالوں کو زیادہ ہے۔ مرد یہاں زیادہ پڑھتے ہیں یعنی 52% اور خواتین 42%....شہری دیہاتیوں کی 46% شرح کے مقابلے میں 57%کے ساتھ آگے ہیں۔ گورنمنٹ نے 10ملین یو آن ای۔ بکس کی مفت فراہمی کے لیے خرچ کیے۔ 18بلین یوآن دور دراز علاقوں میں لائبریریاں بنانے میں خرچ کیے جا چکے ہیں۔

کینیڈا کا حال بھی قابل رشک ہے۔ 88% نے گزشتہ سال کوئی نہ کوئی کتاب ضرور پڑھی ہے۔ 93% لوگوں نے پرنڈڈ کتاب کو ترجیح دی ہے۔

اور....گیلپ پاکستان کے مطابق پاکستانیوں کی زیادہ سے زیادہ شرح اس مقابلے میں32% ہے۔اور یہ بھی ڈائجسٹ میگزین کی ہے۔ 12% شاعری پڑھتے ہیں۔ جب ادب سے لگاﺅ نہ ہو تو درشتی اور سختی تو مزاجوں کا حصہ بننی ہی ہے۔ صرف 21%جنہوں نے کبھی ناول پڑھے ہیں۔ باقی سب” مصروف “ہیں اور مطالعے کو فارغوں، نالائقوں، خوشحالوں اور فکر سے نجات پانے والوں کی سرگرمی قرار دے کر سمجھ دار بننے میں جتے ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ کہ دیہی علاقوں میں ٹھیٹھ شہری علاقوں کی نسبت پڑھائی سے نسبت کچھ زیادہ ہی ہے۔

کتب بینی کے فروغ کے لیے تجاویز

اس لیے ہم اپیل کرتے ہیں یہ اضافہ ناگزیر ضرورت ہے۔ یہ مستقل شعوری مہم کا تقاضا ہر سوچنے سمجھنے اور درد رکھنے والے سے کرتا ہے۔ یہ کہتا ہے اگر حکومتیں بے حس ہیں، نالائق ہیں تو تم کیوں ہاتھ دھرے بیٹھے ہو؟ تم کیوں جو کر سکتے ہو نہیں کرتے؟ کیوں خود کو، نسلوں کو، وطن کو، امت کو ذلالت میں دھکیلتے چلے جا رہے ہو؟ .... ہم کچھ قابلِ عمل باتیں کتب بینی کے ضروری اور اہم فروغ کے لیے درج کر رہے ہیں۔ امید کرتے ہیں یہ نقارخانے میں طوطی کی آواز نہیں ہو گی۔ آپ اس کو پڑھیں اور جہاں تک ہو سکے، آن لائن اور پرنٹڈ صورت میں پھیلائیں، توجہ دلائیں، دیا جلائیں.... یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔ جن پر فوری عمل ممکن ہے ان پہ کوئی نشان لگائیں جیسے ٭، جن کو کچھ دیر بعد کیا جا سکتا ہے اس پہ کسی اور طرح کا جیسے ٹِک، جن پہ توجہ دلائی جا سکتی ہے ان پہ بھی اپنی آسانی کے مطابق اور.... فوری عمل شروع کردیں ، یہ منظر بدل جائے گا....مزید تجاویز بھی لکھیں کیوں کہ ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں مثلاً:

٭ ریاست کے استحکام کے لیے بغیر تھکے بار بار حکومت کو متوجہ کرنے اور اقدامات اٹھانے کے لیے آمادہ کرنے کا سلسلہ مستقلاََ جاری رہے

٭ الیکٹرونک میڈیا کی صرف ایک مضبوط مہم پہلی فیصلہ کن ضرب ثابت ہو سکتی ہے۔ ہمارا جہاں ہاتھ پڑتا ہے وہاں کچھ کر گزریں۔

٭ کتب کے لیے پرنٹ میڈیا کارنر ز محفوظ ہو سکتے ہیں، میگزین میں مستقل تعارفی و تجزیاتی سلسلے شروع کیے جا سکتے ہیں۔ ایک مخصوص کتاب کا تجزیہ کرنے پر انعامات مقرر ہو سکتے ہیں۔ افراد اپنی پڑھی ہوئی کتابوں کو Recommend کرسکتے ہیں ان کے تعارف اور تبصرے کے ساتھ

٭ سوشل میڈیا پہ پرکشش مہمات ترتیب دی جائیں اور ہفتہ مہینہ وار بنیادوں پہ پوسٹس کا سلسلہ آسانی سے ممکن ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کارنرز پرنٹ میڈیا کی طرح مختص ہونا فائدہ مند ہے

٭ میں نے ایک عرصے سے اپنے بجٹ کا ایک حصہ خوشبو اور کتاب کے تحفے کے لیے مقرر کیا ہوا ہے۔ اور ترجیحاََ کتاب ہی تحفہ کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔

٭ ملک کے مختلف حصوں میں کتاب میلوں کی رضاکارانہ سپورٹ، جگہ کے لیے تعاون، تشہیر اور انعقادایک یقینی عوامی فضا بنانے میں معاون ہے۔

٭ لائبریریوں کے جگہ جگہ قیام کے لیے جگہیں مختص کرنا۔

٭ موبائل لائبریریوں کا اہلِ درد کی جانب سے انتظام۔ ایک ایسی بس جو الماریوں اور پھر کتابوں سے سجی ہوئی ہو۔ مختلف علاقوں کا طے شدہ دنوں میں دورہ کرے ۔

٭ شہروں کے مختلف حصوں میں کتب کے مستقل سٹالز۔

٭ کتب خانوں اور سٹالز میں افراد کی باہم گفتگو، ملاقاتوں، تبصروں، فنکشنز کے انعقاد کی جگہ ممکن حد تک مہیا کرنا (افراد کا اکٹھ آہستہ سے ادبی، علمی، سنجیدہ ذوق کی طرف مڑتا ہوا)۔

٭ کتابوں پر سبسڈی دلوانے کی پر زور مہم(عام سطح تک آسان حصول)۔

٭ کالم نگاروں، فیچر رائٹرز، دانشوروں کی ہر ماہ باقاعدگی سے ترغیبی تحریریں(اوّلین محرک)۔

٭ ترغیبی تشہیری پمفلٹ کی چوراہوں اشاروں پر تقسیم (ماحول بنتا چلا جائے )۔

٭ انڈسٹری میں موجود اہلِ خیر کوکتاب کی اشاعت، سرپرستی، اہمیت اور تعاون کی تحریک دلانا۔ محافل منعقد کرنے کی سمجھ دار سرمایہ داروں سے شروعات۔ اس سے فیشن عام کرنے میں مدد ملے گی۔

٭ پرکشش کتاب کا ایک نسخہ ہمیشہ ہمراہ رکھنا ۔ جانے کب کس کی نگاہ پڑ جائے۔ جانے کب کوئی کچھ دیر کو مانگ لے۔ جانے کب تبصرہ شروع ہو جائے ( بہت مو¿ثرپایا گیا)۔

٭ پرکشش ٹائٹل والی کتاب کبھی کسی کے گھر جان بوجھ کے بھول آنا (ہائے کیا حسین بھول ہو)۔

٭ دورانِ سفر کتاب کا مطالعہ (ترغیب کا باعث )۔

٭ نئی نسل کے لیے مختصر، جامع، آسان فہم اور پرکشش لٹریچر کی تیاری۔

٭ تقریبات میں بطور تحائف(ہمیں شادی کے موقع پہ جیسے ملے)۔

٭ خوبصورت سوشل میڈیا اشتہارات۔

٭ مستقل بلاگز آنا (تسلسل جیت ہے)۔

٭ ای لائبریریوں کی فہرست ( پیاسوں کے لیے نیا پانی)۔

٭ پی ڈی ایف لائبریریوں کے گروپ اپنے واٹس ایپ پہ بنانا اور پھیلانا۔

٭ نصاب میں غیر نصابی مطالعے کی اہمیت پر توجہ(زیادہ اچھا ٹاپ۔ زندگی بھر ٹاپ)۔

٭ اہم ویب سائٹس کا مستقل بنیادوں پہ کتاب کے تعارف کے لیے کونہ۔

٭ کتاب پر فلمیں، ڈاکیومنٹریز وغیرہ(کرے گا لیکن مشنری)۔

٭ تحریروں کے مقابلے اور قیمتی انعامات (مقابلوں کا انداز کتاب سے بدلنا)۔

٭ ملک گیر سطح پہ کتاب دوست تنظیم کا قیام(مضبوط جڑیں۔ مضبوط درخت)۔

٭ سستے کاغذ کی فراہمی۔ جیسے کی ایک سرمایہ دار کو لے کر کاغذ کی بڑی مقدار کی طلب کی جائے اور رعایت کا تقاضا ہو۔

٭ کتاب کے ٹائٹل کو باہر کی طرف رکھ کے بیٹھناتاکہ ہر کسی کے نظر پڑ سکے (پھر کوئی مانگ لے، دیکھ لے یا خرید لے)۔

٭ گاڑی میں چند کتب کا موجود رہنا۔

٭ سکول لائبریرز کا استحکام(لائبریریز فراہم کرنے والے اداروں کا قیام اور موجود کی حوصلہ افزائی)۔

٭ اساتذہ کی تربیت گاہوں میں ٹرینرز، موٹیوٹرز کی محسوس غیر محسوس انداز میں ترغیب۔

٭ اداروں کی تشہیری مہم کتاب کے ذریعے بھی تو کامیاب ہو سکتی ہے جیسے ایک فارما سیوٹکل کمپنی کی شاعری کے عمدہ انتحاب پہ مبنی کتاب ’بیاض‘ (تحفہ برائے ڈاکٹرز)۔

٭ انفاق اور زکوٰة کی ایک شرح کتاب کی اشاعت اور تقسیم کے لیے خاص کی جا سکتی ہے۔

٭ کچھ فر یضہ ادا کرنے والے سکولز اسا تذہ اور طلبا کے لیے ایک کورس کلاس وائز یا مختلف لیولز کے ساتھ ترتیب دے سکتے ہیں۔ لیکن کریں گے وہی جن کے ادارے کا نصاب اعصاب شکن نہ ہو ۔

٭ تمام مشنری ادارے بالخصوص اور بقیہ بالعموم کچھ نصاب تیار کریں جو اپنے عملے کی اخلاقی تربیت، اصلاح اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ہو۔

٭ ادبی مجالس کا قیام ہر پڑھنے والے کے گھر(یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی)۔

٭ ادبی مجالس عوامی مقامات پہ(علمی جلسے)۔

٭ رکشوں ٹیکسیوں بسوں میں بک شیلف۔ بیٹھنے والے کے لیے صحت مند مصروفیت( بھارتی ریاست کیرالہ میں کامیاب تجربہ)۔

٭ پارکس میں دلچسپ بک شیلف ۔

٭ کتب کی عوامی تقریبِ تعارف۔

٭ گھروں میں بچوں کے لیے ضروری لائبریری، ترغیب اور انعامات(بیج سے درخت)۔

٭ سستی کتاب کو بچوں کی پاکٹ منی سے جوڑ کر ادارے کی تشہیر سے جوڑ کر اس کے مشن سے جوڑ کر ڈور سٹِپ تک مارکیٹنگ کاروبار کے بھی وسیع مواقع رکھتی ہے ۔

٭ کمپنیز، ہوٹلز، اداروں کا اپنے فراہم کردہ پیکج میں مفت کتاب بھی شامل کرنا۔

٭ کتب کے تجزیے اور تقابل کے مقابلے اور انعامات۔

٭ کتب میلوں میں نشستیں، تجزیے، دانشوروں کی تجاویز،تجربے، آپ بیتیاں، مقابلے وغیرہ شامل ہونا۔

٭ مساجد میں علم کی رغبت کے مواعظ(واعظ ہیں تو فریضہ ادا کریں۔ جاننے والوں کو متوجہ کریں)۔

٭ مساجد میں علمی ، ادبی مشاغل اور لائبریریز (ہماری تاریخ کی حیاتِ نو)۔

٭ فرقہ وارانہ لٹریچر پر پابندی کی مہم(زندگی کی افزائش۔ نوجوان کا واپس آنا)۔

٭ یونین کونسل کی سطح پہ لائبریری کی کاوشیں، جس میں ایک مقامی میوزیم ، ہال بھی شامل ہو(بھیرہ کی تاریخی مسجد جس کی مثال)۔

٭ موبائل کتب فروشی مائیک کے ساتھ، بہت مو¿ثر عقلی پیغام لیے(گلی محلے میں کاروبار کے ساتھ عروج کی صدائیں)۔

٭ تعلیمی اداروں میں کتاب میلے، مقابلے اور سیمینارزوغیرہ۔

٭ پرکشش اشاعت۔

خلا نے تو پر ہونا ہی ہے۔ کچھ اچھا کرنے کو نہ ہو تو سر پھٹول ہوتی ہے، غیبتیں ہوتی ہیں، ٹانگیں کھینچنا اور سازشی تانے بانے بننا ہوتے ہیں۔ کتاب نہ ہو تو بنیادیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ جڑیں خونی ہو جاتی ہیں، معاشرے کے درخت پہ کرخت پتے اگتے ہیں، سڑا ہوا خون اجتماعی تنے میں گردش کرتا ہے، نفرت اور کور ذوقی کا پھول کھلتا ہے اور انتشار کا خاردار پھل اگ کر زمین پر زندگی کڑوی کر دیتا ہے۔ بس جس کا جو جو کام کرنے کا ہے وہ کرے۔ چراغِ طُور جلائے، مشعلِ امید تھامے، ہوشیار خبردار کے آوازے لگائے بڑھتا چلا جائے۔ اندھیرے کا مقدر شکست ہے، یقین کی روشنی فتح یابی ہے۔

منزلِ خواب ڈھونڈنے والو

اپنی آنکھیں نڈھال مت کرنا

٭٭٭


ای پیپر