ن لیگ میں فارورڈ بلاک کی گونج ۔۔۔قومی سیاست کی اندرونی کہانی
09 جولائی 2019 (16:54) 2019-07-09

چوہدری فرخ شہزاد :

پاکستان کی قومی سیاست کے بارے میں کسی طرح کی کوئی پیش گوئی کرنا قریب قریب ناممکن بات ہے۔ اس معاملے میں بڑے بڑے تجزیہ نگار دھوکہ کھا جاتے ہیں، یہاں سارے فیصلے بند دروازوں کے پیچھے ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ حکمران پارٹی یا کابینہ، یہ سب ایک نمائشی مشق ہوتی ہے۔ یہ ہر دور میں ہوتا ہے۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس میں انکشاف کیا کہ شریف خاندان کے ایک چشم وچراغ نے کسی عرب ملک کے فرماں روا سے رابطہ کیا کہ نواز شریف کی جیل سے رہائی کا بندوبست کیا جا سکے مگر مذکورہ سربراہ مملکت نے معذرت کر لی ہے۔ عمران خان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب ایک دن پہلے امیر قطر شیخ تمیم بن حماد الثانی 2 روزہ دورے سے واپسی پر قطر روانہ ہوئے۔ اب اس کہانی کے نقاط آپ خود ملا سکتے ہیں۔

خورد بینی تجزیہ نگار اور سیاسی پنڈت بڑی جستجو کرتے ہیں مگر انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ قطر کے امیر کے دورے اور نوازشریف کی ممکنہ رہائی پر بات کرنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان دو درجن اراکین پنجاب اسمبلی، جن کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے، انہوں نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی سربراہی میں بنی گالہ میں وزیراعظم سے ملاقات کی اور ن لیگ میں فاورڈ بلاک بنانے کے منصوبے سے آگاہ کیا۔ پاکستانی سیاسی ماحول کے مطابق تو یہ کام بڑی دیر سے شروع ہوا ہے۔ اس کو پہلے ہونا چاہیے تھا کیونکہ ہماری سیاست کا مزاج ہی یہ ہے کہ کمزور کو چھوڑ کر طاقتور کا ساتھ دیا جاتا ہے شاید تاخیر کی وجہ یہ رہی کہ ان پارٹی ممبران کو اس بات کا انتظار تھا کہ کب نوازشریف باہر آجائیں اور ان کی پارٹی پھر سے سرسبز وشاداب ہو جائے مگر اب وہ مایوس ہو گئے ہیں۔ وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے حکومتی ارکان بھی ایسی ہی ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس موقع پر ہمیں ق لیگ کی پیدائش کا زمانہ یاد آرہا ہے جب ایک صبح لوگ نیند سے بیدار ہوئے تو انہیں پتہ چلا کہ ق لیگ کے نام سے ایک نئی پارٹی کا ظہور ہو چکا ہے اور اسی ہفتے اس پارٹی نے ملک کی باگ ڈور سنبھال لی۔

میاں نوازشریف کے سیاسی منظر نامے سے ہٹنے کی تصدیق کے لیے یہ واقعہ بطورِ ثبوت کافی ہے کہ پارٹی کو یکجا رکھنا شہبازشریف کے بس کی بات نہیں۔ اس کا آغاز پنجاب سے اس لیے کیا گیا ہے کہ پنجاب میں ہی حکومت کو ن لیگ کی بھاری مزاحمت کا سامنا تھا جس کے زہر کے تریاق کے طور پر چودھری پرویزالٰہی کو ساتھ ملانا پڑا تھا جس کی تحریک انصاف نے بھاری قیمت ادا کی اور ابھی تک کر رہے ہیں۔ اس فارورڈ بلاک کے ساتھ ہی ق لیگ کی Bargain in Power یا حکمرانوں پر ان کا پریشر کم ہو جائے گا بلکہ ق لیگ کے غبارے سے ہوا نکل گئی تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ پاور شیئرنگ سے الگ ہو جائیں۔ تحریک انصاف کے پنجاب میں سر پر ہر وقت منڈلانے والے خطرے کا سدباب ہو چکا ہے۔

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ حکمران جماعت کی مشکلات ختم ہو گئی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے زیادہ تر چیلنجز کا تعلق ان کے مخالفین سے نہیں بلکہ عوام سے ہے جو دن بدن ٹیکسوں کی بھرمار اور مہنگائی کی چکی میں پستے پستے پاﺅڈر بن چکے ہیں۔ ٹیکسوں نے پورے ملک میں تہلکہ مچا رکھا ہے مگر نئی حکومت کی جانب سے ابھی تک ٹیکس جمع کرنے کا کوئی منصفانہ فارمولا نہیں لایا جا سکا جس میں غریبوں سے ٹیکس کا بوجھ کم کر کے امیروں پر ڈالا جا سکے۔

نیب کے زیر نگرانی احتساب کا عمل جاری ہے مگر ابھی تک قومی خزانے میں لوٹے ہوئے مال کی بازیابی کے امکانات تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کرپشن کا خاتمہ اور بدعنوانی شدہ مال کی برآمدگی کے نعرے پر عوام نے اس حکومت کو منتخب کیا تھا۔ دوسری طرف حکومت کے متعدد وزراءاور پارٹی لیڈروں پر کرپشن کے الزامات ہیں مگر ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا جس سے احتساب کی شفافیت مشکوک ہو رہی ہے۔ بابراعوان کی مقدمے سے بریت اس کی مثال ہے۔

اس سارے پس منظر میں امیر قطر کا دورہ¿ پاکستان اور قومی سیاست کے رنگ برنگے واقعات خاصے دلچسپ ہیں۔ قطر خلیج عرب کا نہایت اہم ملک ہے جس کی سالانہ فی کس آمدنی دُنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یاد رہے کہ قطر کی فی کس آمدنی 124,870 ڈالر سالانہ ہے جبکہ امریکہ کی تقریباً 77,000 ڈالر ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں قطر کا نام ہمیشہ منفی خبروں کی وجہ سے مشہور ہے جو کہ افسوسناک ہے۔ گزشتہ سال سعودی عرب کی سربراہی میں خلیج تعاون کونسل کے 6 ممالک نے قطر کو اپنے اتحاد سے نکال دیا اور اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ علاقائی پابندیوں کے باوجود قطر کی معیشت کی نشوونما جو 2017ءمیں 2.2 فیصد تھی، وہ پابندیوں کے باوجود 2.6 فیصد ہو گئی اور قطر نے سعودی عرب کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا۔ اس وقت قطر عرب ہمسایہ ممالک کی بجائے ایران اور ترکی سے زیادہ قریب ہو چکا ہے۔ قطر اور پاکستان کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات کئی دہائیوں سے قائم ہیں۔ یہ پاکستان کی ترقی میں ایک پارٹنر بھی ہے کیونکہ LNG گیس پاکستان قطر سے درآمد کرتا ہے۔

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمادالثانی گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے 2 روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد تشریف لائے۔ یہ دورہ کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل رہا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی خصوصاً عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں رسمی یا سرکاری یا سفارتی تعلقات کی بجائے ذاتی بنیادوں پر استوار ہوتی ہے جس میں بیک چینل ڈپلومیسی کا کردار زیادہ اہم ہے۔ اس لیے عرب سربراہانِ مملکت پاکستان کے بارے میں براہ راست بیان کم ہی دیتے ہیں مگر ان کے ایکشن، ان کے الفاظ کی جگہ خود بول رہے ہوتے ہیں۔ قطری امیر پاکستان آئے تو نہ تو ان کی طرف سے کوئی خطاب کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے میڈیا سے بات کی اور نہ ہی دو روزہ دورے کا کوئی سرکاری مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

اگر امیرقطر کے اس دورے کا موازنہ سعودی ولی عہد محمدبن سلمان یا امارات کے شیخ محمد بن زید النہیان سے کیا جائے تو یہ ایک Low Profile دورہ تھا۔ قطر چونکہ مڈل ایسٹ میں پاکستان کے دوست ممالک سعودی عرب اور امارات کا حریف بن کر اُبھر رہا ہے شاید اس لیے پاکستان میں اس دورے کو وہ کوریج نہیں ملی کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائیں لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔ اس دورے کے مقاصد ابھی تک مبہم سے ہیں، ایسے لگتا ہے جیسے دانستہ طور پر شکوک وشبہات کی فضا پیدا کی جا رہی ہے۔ اگر امیرقطر نے پاکستان میں 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹ یا سرمایہ کاری کا اعلان کرنا تھا تو یہ خوشخبری ان کے دورے کے دوران ان کی زبان سے یا وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کیوں نہیں سنائی گئی، جب امیر قطر واپس چلے گئے تو وہاں جا کر قطری وزیر خارجہ نے عالمی ذرائع ابلاغ Reuters اور Bloomberg کو یہ خبر دی کہ قطر 3 ارب ڈالر خرچ کرے گا بلکہ جب امیر قطر واپس چلے گئے تو تجزیہ نگاروں میں چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ اس دورے کا اصل مقصد کیا تھا۔

اسی دوران سوشل میڈیا پر پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں نے یہ قیاس آرائی شروع کر دی کہ امیرقطر میاں نوازشریف کی رہائی کی سفارش لے کر آئے تھے۔ اس کو مزید توڑمروڑ کر پیش کیا گیا جس میں تحریک انصاف کی قیادت بھی شرمندہ شرمندہ نظر آ رہی تھی۔ چکلالہ ائیرپورٹ پر امیرقطر کے استقبال کے لیے وزیراعظم عمران خان خود آئے تھے اور ان کی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے معزز مہمان کو وزیراعظم ہاﺅس لے جایا گیا مگر جب وہ واپس جا رہے تھے تو وزیراعظم انہیں چھوڑنے نہیں گئے بلکہ وزارت خارجہ کے پروٹوکول افسروں نے انہیں خیرباد کہا۔

اسی اثناءمیں جب 3 ارب ڈالر کی خبر عالمی سطح پر نشر ہوئی تو پی ٹی آئی سوشل میڈیا بریگیڈ نے کہا کہ یہ رقم میاں نوازشریف سے Recovery کی مد میں دی جا رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت خاموش ہے۔ اگر بات سوشل میڈیا تک رہتی تو اسے محض پراپیگنڈہ ہی سمجھا جاتا مگر ایک سینئر ترین صحافی شخصیت (عارف نظامی) نے اپنے ٹی وی پروگرام میں یہ نیوز بریک کر دی کہ نوازشریف سے وصولی کیلئے 80 فیصد معاملات طے پا چکے ہیں اور انہوں نے بھی اس کو امیرقطر کے دورہ سے لنک کر دیا۔

پاکستان میں چونکہ حکومتی اور سفارتی فیصلے خفیہ ہوتے ہیں اس لیے لگ رہا ہے کہ شاید اندر ہی اندر کچھ ہونے جا رہا ہے۔ میاں نوازشریف کی سزا کو بریت میں بدلنا قریب قریب ناممکن ہے البتہ یہ ممکن ہے کہ وہ عمر اور صحت کی خرابی کی بنا پر حکومت سے یہ رعایت حاصل کر لیں کہ انہیں علاج کیلئے باہر بھیج دیا جائے اور وہ اندر خانے ان اثاثوں کا کچھ حصہ واپس کر دیں اور سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لیں، ویسے بھی جو شخص 3 بار وزیراعظم بن چکا ہو اس کیلئے عہدوں کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔ نوازشریف کے پُرانے ساتھی سابق سینیٹر سیف الرحمن کو قطر کے شاہی خاندان کے اندر کافی اثرونفوذ حاصل ہے اور ان حالات میں اس طرح کا سمجھوتہ ناممکنات میں سے نہیں ہے کیونکہ اس میں نوازشریف کیلئے جیل سے باہر جانے کا ایک باعزت Exit ہے۔

اس وقت نوازشریف فیملی کو اتنا غصہ حکومت یا عدالتوں پر نہیں جتنا انہیں شہباز شریف پر ہے۔ دونوں بھائیوں کے درمیان سیاسی اختلافات پہلے افواہوں کی حد تک تھے مگر اب کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ شہبازشریف نے قومی اسمبلی میں حکومت کو میثاق معیشت کی پیشکش کردی جسے اگلے دن مریم نوازشریف نے رد کرتے ہوئے مذاق معیشت قرار دیدیا اور اس کے بارے میں واضح کیا کہ نوازشریف حکومت کے ساتھ میثاق معیشت کے حق میں نہیں ہیں۔ اب ن لیگ والے چاہے جتنی مرضی وضاحتیں کرتے پھریں دو بھائیوں کے درمیان اختلافات کی دراڑیں چھپانا ممکن نہیں رہا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ مریم اور نوازشریف بیرون ملک چلے جائیں گے اور ن لیگ شہباز شریف کی قیادت میں آگے بڑھے گی اور حمزہ اور شہباز شریف سیاست جاری رکھیں گے۔ یہ تاثر وقتی طور پر کام کرے گا مگر پارٹی چل پائے یا نہ چل پائے، شہبازشریف یا حمزہ کے اندر وہ Charisma یا عوامی مقبولیت نہیں ہے جو نوازشریف اور مریم کے حصے میں آئی ہے۔ جس نے بھی یہ منصوبہ بندی کی ہے بڑی سوچ سمجھ کر کی ہے کہ ن لیگ کو اس طرح کی خاندانی جھگڑے کی شکل دے کر تاریخ کا حصہ بنا دیا جائے۔

دوسری طرف شہباز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ پارٹی پر آنے والی تمام مشکلات کا سبب میاں نوازشریف کی وہ خواہش ہے جس میں وہ مریم نواز کو اپنا سیاسی وارث نامزد کرنا چاہتے ہیں۔ پارٹی کا سارا زوال شروع ہی یہاں سے ہوا کیونکہ ڈان لیکس سے لے کر اب تک مریم نے ٹکراﺅ کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جس کی وجہ سے فوج اور عدلیہ ان کے خلاف ہیں۔ مریم کی سخت گیر سیاست کو Dilute کرنے کے لیے شہبازشریف نے نرم مو¿قف اختیار کیا اور بالآخر نرم اور گرم سیاست ایک دوسرے سے الگ ہوتی نظر آرہی ہے۔ یہ ایک No Win Situation ہے جس میں دونوں فریق نقصان اٹھائیں گے اور کسی بھی سائیڈ پر جیت نہیں ہو گی۔

ن لیگ کی دیگر سینئر قیادت بشمول خواجہ آصف، احسن اقبال، پرویز رشید وغیرہ اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی فیصلوں میں مشاورت کا عمل ناپید ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ آدھی قیادت نوازشریف کے ساتھ ہے اور باقی آدھی شہباز شریف کے ہم رکاب ہے، ایسا کوئی لیڈر نظر نہیں آتا جو نوازشریف اور شہباز شریف دونوں کے درمیان پُل کا کام دے سکے یا مصالحت کروا سکے۔ اس موقع پر چوہدری نثار علی خان اگر پارٹی کا حصہ ہوتے تو شاید معاملات اس نہج تک نہ پہنچتے۔ ہر عروج کو زوال ہے۔

٭٭٭


ای پیپر