ایران سے ممکنہ جنگ اور امریکی مفادات
09 جولائی 2019 (16:44) 2019-07-09

1950ءمیں ایران کا نیوکلیئر پروگرام شروع کرنے والا امریکہ آج خود ہی اس کے خلاف کیوں ہے؟ حقائق پر مبنی چشم کُشا تحریر

امتیاز کاظم

imtiazkazim110@gmail.com

سلطنت برطانیہ نے بیسویں صدی کے آغاز میں ایران میں تیل کی ایک بڑی کمپنی ”اینگلو ایرانین آئل کمپنی“ (AIOC) قائم کی۔ بلاشبہ یہ ایک بہت بڑی کمپنی اور ایک بڑی پیش رفت تھی جس میں 85 فیصد حصص برطانیہ کے اور 15فیصد حصص ایران کے تھے۔ ایران میں اُس وقت محمد مصدق کی حکومت تھی، پھر جب ”آبادان بحران“ پیدا ہوا یعنی 1951ءتا 1953ءتو 1952ءمیں مصدق گورنمنٹ نے AIOC کو قومی ملکیت میں لینے کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا اور 1952-53ءمیں AIOC کو قومی ملکیت میں لے لیا جس کے بدلے میں برطانیہ نے ایرانی تیل کی تجارت پر پابندی عائد کر دی اور اس پابندی کو تیل کی عالمی کمپنیوں نے بھی سپورٹ کیا۔ اس وقت امریکہ میں ری پبلکن پارٹی کے آئزن ہاور صدر تھے، پھر آئزن ہاور کے بعد ڈیموکریٹ پارٹی کے ہیری ٹرومین صدر بنے۔ 1953ءمیں ہیری ٹرومین گورنمنٹ نے برطانیہ سے مل کر مصدق گورنمنٹ کے خلاف CIA اور MZ-16 نے ایک مشترکہ آپریشن کیا جسے ”آپریشن ایجیکس“ کا نام دیا گیا تاہم ان کی پہلی کوشش ناکام ہوئی اور شاہ مصدق اٹلی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا لیکن CIA کی دوسری کوشش کامیاب رہی اور مصدق کو قید کر لیا گیا تاہم مصدق کی گرفتاری سے بہت سے سوالات اٹھے۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایران پر پابندیاں یا معاشی جکڑبندی پچھلی صدی سے چلی آرہی ہے اور اتحاد بنا کر جنگیں لڑنے کا شوقین امریکہ اس وقت بھی برطانیہ سے اتحاد بنا کر ایران کے مدمقابل تھا جیسے آج وہ ایران کے مدمقابل ہے تاہم ابھی تک وہ اتحاد بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا لیکن ایک بات انتہائی حیرت انگیز ہے کہ حالات جس وجہ سے بگڑے ہیں اس کا سبب بھی امریکہ خود ہے۔ قارئین کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ 1950ءمیں ایران کا نیوکلیئر پروگرام شروع کرنے والا خود امریکہ ہے اور امریکہ نے یہ کام ”ایٹم برائے امن پروگرام“ کے تحت شروع کیا تھا۔ 1957ءمیں نیوکلیئر پروگرام باقاعدہ شروع ہو گیا اور امریکہ نے ایٹمی ری ایکٹر بلکہ ایٹمی ایندھن بھی فراہم کیا۔ یہی نہیں بلکہ 1967ءمیں ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال ہونے والی افزودہ یورینیم بھی خود امریکہ نے مہیا کی۔ اس کام میں صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ مغربی یورپی حکومتیں بھی شامل رہیں اور ایٹمی پروگرام کا یہ کام انقلاب ایران 1979ءتک چلتا رہا، حتیٰ کہ 2015ءمیں امریکی صدر اوبامہ کے دور میں فیڈریکا موگرینی اور ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے درمیان ایٹمی پروگرام محدود کرنے کا معاہدہ ہوا۔ دراصل اس وقت شاہ ایران کا دور تھا اور امریکہ آمد پر شاہ ایران کا ریڈکارپٹ استعمال ہوتا تھا کیونکہ شاہ ایران سے امریکہ کے خصوصی دوستانہ تعلقات تھے اور ایران امریکہ کی جھولی میں گرا ہوا تھا، تب ایران کی تین یونیورسٹیاں وجود میں آئیں یعنی پہلوی یونیورسٹی (شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے نام پر)، دوسری شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور تیسری اصفہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی۔ یہ تینوں یونیورسٹیاں اب بھی ایران کی اعلیٰ تعلیمی اقدار کی حامل یونیورسٹیاں ہیں جن کا مقابلہ امریکہ کی یونیورسٹی آف شکاگو، یونیورسٹی آف پینسلوانیا اور یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سے کیا جا سکتا ہے جبکہ کبھی وہ دور بھی تھا کہ پاکستان ایران کی طرف سے اور سوئٹزرلینڈ امریکہ کی طرف سے تعلقات کی زبان ہوتے تھے۔ دیکھا جائے تو امریکہ اور ایران کا کوئی مقابلہ نہیں۔ ایران کا کُل رقبہ 16,48,195km2 ہے جبکہ امریکہ کا کل رقبہ 98,57,306km2 ہے لیکن حیران اور پریشان بھی ہے کہ وہ اپنے تمام تر جنگی حربوں اور کوششوں کے باوجود ایرانی جارحانہ رویئے میں کوئی تبدیلی لانے میں ناکام کیوں ہے؟ اپنے دفاعی اقدامات کے باوجود وہ ایران سے براہ راست ٹکرانے سے گریزاں کیوں ہے حالانکہ امریکہ نے ایک طیارہ بردار جہاز خطے کی طرف روانہ کر دیا ہے۔ خلیج فارس میں پیٹریاٹ میزائل نصب کر دیئے ہیں اور کچھ جدید ترین بیٹریز بھی نصب کر دی گئی ہیں۔ حملے کے لیے دھمکی آمیز رویہ بھی بے لچک ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ ایران کو جھکانے یا اسے اپنا اتحادی بنانے میں ناکام نظر آتا ہے جیسے کہ شاہ ایران کے دور میں ایران امریکہ کا صف اوّل کا اتحادی تھا لیکن 1979ءکے انقلاب ایران کے بعد کے حالات ایک الگ ڈگر پر چل رہے ہیں جس میں امریکہ کا کوئی کردار نظر نہیں آرہا بلکہ امریکہ مخالف سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔

دراصل ایران کو شام، یمن، عراق، لبنان اور دیگر مقامات پر ”پراکسی فورسز“ اور ”ہائبرڈ جنگی کارروائیوں“ میں بہت مہارت حاصل ہو چکی ہے، مثلاً 2003ءمیں عراق، امریکہ جنگ کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ ایران ، عراق میں پراکسی وار لڑتا ہوا نظر آتا ہے یعنی وہ امریکہ کو مشتعل کیے بغیر امریکی فوجیوں پر حملے کرتا نظر آتا ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ اور تربیت یافتہ پراکسی فوج عراق میں امریکی اڈوں پر راکٹ حمے کرتی نظر آتی ہے۔ امریکہ نے عراق میں اپنا بہترین توپ خانہ استعمال کرنے کا ارادہ کیا تو ایرانی حمایت یافتہ فوجیوں نے توپ خانے کے اردگرد کا میدان جنگ سڑک کنارے نصب بموں سے اس طرح بھر دیا کہ امریکہ کا بہترین توپ خانہ ناکارہ نظر آیا۔ دراصل ماضی میں امریکہ نے بھی یہی کچھ بہت سے ممالک میں کیا اور ایران کو بھی یہ راستہ دکھایا کہ وہ خفیہ جنگی حربوں، پراکسی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو استعمال کرنے میں مہارت حاصل کرے جو کہ اس نے کر لی ہے مثلاً امریکی فورسز نے 1984ءمیں ”نکاراگوا“ کی بندرگاہوں میں بارودی سُرنگیں بچھا دی تھیں جس سے انٹرنیشنل انشورنس کے ریٹس بہت بڑھ گئے تھے اور جہازرانی کم ہو گئی تھی، یہی امریکہ کا مقصد تھا جو اس نے حاصل کیا اور اب یہی حربہ ایران ، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے لیے استعمال کر رہا ہے یعنی آئل ٹینکرز پر حملے لیکن اس میں تجزیہ کاروں کی دو رائے ہیں، ایک کے مطابق یہ حملے امریکہ نے کرائے ہیں جس کا مقصد ایران کو بدنام کرنا اور اس کے خلاف اتحاد بنانے میں عالمی مدد حاصل کرنا تھا۔ اس وقت امریکہ نے یقینا یہ نہیں سوچا ہو گا کہ اس سے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں شپنگ کم ہو جائے گی اور عالمی انشورنس کمپنیوں کے ریٹس میں بہت اضافہ ہو گا۔ دوسرے تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ کارروائی ایران کی ہے تو اس نے امریکہ کا نکارا گوا کا قرض واپس کر دیا ہے کیونکہ انٹرنیشنل انشورنس کمپنی Lioyd's of London نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ خلیج فارس سے گزرنے والے جہازوں کے لیے انشورنس ریٹس میں اضافہ کر دے گا۔ امریکہ کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا لیکن امریکہ کے اتحادی اور بہت سے دوسرے ممالک اس کی زد میں آئیں گے جس سے ان ممالک کی تیل سے جڑی ہوئی معاشی صورتحال گھمبیر ہو جائے گی جبکہ ایسی ہائبرڈ جنگ میں روس بھی ایران کے ہم قدم ہے جو کہ پہلے ہی ایسی خفیہ جنگی کارروائیوں میں ماہر ہے۔

ایران 2012-13ءمیں امریکی بینکوں پر بھی حملے کر چکا ہے۔ ان سائبر حملوں اور ایران کی بہتر ہائبرڈ جنگی مہارت اور صلاحیتوں کا اعتراف امریکہ کی ہوم لینڈ سکیورٹی کا ادارہ کر چکا ہے جس کا کہنا ہے کہ اب ایران کی سائبر کور نقصان دہ حملے کرنے کی بہترین صلاحیت اور تیاری رکھتا ہے۔ امریکہ اگر ایران پر کوئی خفیہ جنگ مسلط کرتا ہے تو اس کا زیادہ فائدہ امریکہ حاصل نہیں کر سکے گا کیونکہ اس سے ایران اور عالمی برادری کو کوئی واضح پیغام نہیں جائے گا جبکہ کھلی جنگ بھی کسی کے مفاد میں نہیں بلکہ نقصان میں جائے گی اور ٹرمپ تو شاید اس لیے بھی جنگ سے اجتناب چاہتا ہے کہ اس نے انتخابی وعدہ کیا تھا کہ ”وہ امریکہ کو مشرق وسطیٰ کے تنازع سے باہر رکھیں گے“ لیکن یکطرفہ طور پر ایٹمی معاہدے سے باہر نکل کر ٹرمپ نے اپنے انتخابی وعدے کی خود ہی خلاف ورزی کر دی ہے تاہم برسلز میں نیٹو اتحاد کے وزراءدفاع کے اجلاس میں ایران کی بحرانی کیفیت پر بات چیت ہوئی ہے۔ برسلز اجلاس کے موقع پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے امریکی وزیر دفاع مارک الیسپر نے کہا کہ وہ اپنے ملک کے حلیفوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایران کے بُرے رویے کی مذمت میں بیانات جاری کریں اور اس بات کو نمایاں کریں کہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ جہازرانی کی ضرورت ہے۔ یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے اس موقع پر کہا کہ یورپی یونین ایران کے ایٹمی معاہدہ کی تعمیل کی نگرانی جاری رکھے گا تاہم ایران اگر اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کر رہا تو اس پر انہیں بڑی تشویش ہے تاہم آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ برسلز میں پاکستان نے بھی یورپی یونین کے سٹرٹیجک پلان پر دستخط کر دیئے ہیں جبکہ یورپی یونین کی طرف سے فیڈریکا موگرینی نے دستخط کیے۔ فیڈریکا موگرینی پہلے بھی امریکہ کی طرف سے ایٹمی معاہدے پر ایران کے جواد ظریف کے ہمراہ دستخط کر چکی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ اس معاہدے کی امریکہ کتنی پاسداری کرتا ہے۔ امریکہ کے لیے شاہ ایران کے دور میں ایران جنت تھی جہاں مغربی ماحول کی مکمل عملداری تھی۔

دراصل امریکہ کو انقلاب ایران 1979ءکا ادراک ہی نہ ہو سکا۔ اس وقت کے صدر جمی کارٹر انقلاب کے اثرات کو محسوس کرنے میں ناکام رہے۔ امریکی تاریخ دان نکی کیڈی لکھتی ہیں کہ ”کارٹر انتظامیہ کی ایران کے بارے میں کوئی کلیئر پالیسی نہ تھی“ یعنی امریکہ اور امریکی انتظامیہ ابہام کا شکار تھی اور وہ رضا شاہ پہلوی کو بار بار یہ یقین دلا رہی تھی کہ امریکہ شاہ ایران کے ساتھ ہے اور انقلاب نام کی کوشش بارآور ثابت نہ ہو گی۔ اس وقت کے قومی سلامتی کے مشیر ”برزنسکی نے متعدد بار رضا شاہ پہلوی کو یقین دہانی کرائی کہ امریکہ شاہ کے ساتھ ہے حتیٰ کہ 4 نومبر 1978ءکو بھی برزنسکی شاہ ایران کو یہ یقین دلا رہے تھے کہ امریکہ شاہ ایران کو دوبارہ جلد اقتدار میں لے آئے گی حتیٰ کہ انقلاب سے 6 ماہ پہلے سی آئی اے نے رپورٹ دی تھی کہ ” ایران میں کوئی انقلاب نہیں آرہا اور نہ ہی اس کے خدشات ہیں“ پھر ایک وقت یہ بھی آیا کہ کینسر میں مبتلا شاہ کو جمی کارٹر نے چٹاکورا جواب دے دیا کہ وہ اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ کیا ایسا تو نہیں کہ 1979ءکی طرح آج بھی امریکہ، ایران کو Under estimateکر رہا ہے اور امریکی انتظامیہ ایران کی فوجی تیاری اور اس کی سٹرٹیجی سے آگاہ نہیں ہے کہ ایران کس بنیاد پر امریکہ سے اکڑ رہا ہے،

خلیج فارس میں امریکہ کی پھُرتیاں اور تیاریاں 1962ءکی یاد تازہ کر رہی ہیں۔ جب امریکہ ”کیوبا“ پر حملہ کرنے کے لیے سمندر کے کنارے اپنی بھرپور تیاریوں میں مصروف تھا، امریکہ کی اس وقت کی تیاریوں میں بھی کوئی شک نہ تھا اور اب خلیج فارس کے سمندر کے کنارے بھی اس کی فوجی تیاریوں میں کوئی شک نظر آتا ہے لیکن اب وہ جنگ کی دلدل میں دھنسنا نہیں چاہتا۔

امریکہ خود کو سپرپاور سمجھتا ہے۔ یہ درست بھی ہے لیکن جب وہ یہ پالیسی اپناتا ہے کہ ظلم رہے اور امن بھی ہو تو پھر حالات ایک مشکل صورتحال اختیار کر جاتے ہیں۔ امریکہ ایران سے کیے گئے معاہدے سے باہر نکل گیا ہے اُس کو آج یہ ڈر ہے کہ ایران کہیں ایٹم بم نہ بنالے، کیا یہ خوف اس کو اس وقت نہیں تھا جب اس نے خود ایران کو نیوکلیئر ری ایکٹر مہیا کیا تھا اور 1967ءمیں خود اس نے افزودہ یورینیم مہیا کی تھی۔ کیا آج کے ایٹم بم اور 1957ءتا 1967ءکے ایٹم بم میں فرق ہے، ہاں یہ فرق ہے کہ اس وقت کا ایٹم بم شاہ ایران کا مغربی ایٹم بم ہوتا جبکہ آج کا ایٹم بم اسلامی ایرانی ایٹم بن ہو گا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ اپنی ابتدائی تاریخ سے ہی بدتہذیب، پُرتشدد اور ظلم وستم کا دلدادہ ملک ہے۔ اینگلز، سیکشنز اور جونٹس قبیلوں کی پیداوار جو جھگڑالو اور لڑاکا فطرت کے حامل قبائل تھے، یہ آج کی خودساختہ تہذیب یافتہ قوم دراصل بدتہذیبی کی بلندیوں کو چھُو رہی ہے جو اپنا اثرورسوخ قائم رکھنے اور تکبر وغرور کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے۔ ایک ایسا ملک جس کا رویہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ رویہ ناقابل اعتبار ہو، وہ تہذیب یافتہ کیسے کہلا سکتا ہے۔ یہ جنگ وجدل کی دلدادہ قوم ہے جو وحشی قبیلوں کی پیداوار ہے اور اب ایران سے جنگ کے قریب پہنچی ہوئی ہے۔ امریکہ نے اپنے لڑاکا طیارے ایف 22 سٹیلتھ طیارے قطرائیربیس پر پہنچا دیئے ہیں۔ قطر کی العدید ائیربیس پر کھڑے ان طیاروں کی تصاویر جاری کی گئی ہیں جن میں پانچ طیارے کھڑے نظر آرہے ہیں۔ یہ طیارے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم کو تباہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ طیارے ایران کے دفاعی نظام ایس 300 کو تباہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کی ہرزہ سرائی کے مطابق امریکہ کے پاس ایران میں درجنوں ممکنہ اہد اف کی کئی فہرست موجود ہیں۔ اس وقت روس، چین اور یورپی ممالک کو ایک مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امریکی جنگی جنون سے مشرقی ممالک اور مشرق وسطیٰ کو محفوظ رکھا جا سکے۔ امریکہ یہ جانتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، آخرکار مذاکرات کی میز پر ہی آنا ہو گا، اس کے باوجود اس کا اپنے جدید جنگی ہتھیاروں پر ناز کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ افغانستان جیسے پتھر کے دور کے ملک میں یہ امریکہ اپنے جدید جنگی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سمیت جیت نہیں سکا۔ زمین اور پتھریلے پہاڑوں کا تو کچھ نہیں بگڑا البتہ انسانی خون سے یہ زمین رنگین ضرور ہو گئی ہے تو کیا یہ انسانی خون کا پیاسا امریکہ اب ایران میں انسانی خون پینے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ اگر ایٹم بم اور ایٹمی ہتھیار بنانا ہی مسئلہ ہے تو امریکہ نے ایران کو ایٹمی ری ایکٹر اور افزودہ یورینیم فراہم ہی کیوں کی تھی؟

٭٭٭


ای پیپر