افغان رَنجش اَب کرکٹ کے میدانوں میں!
09 جولائی 2019 (16:38) 2019-07-09

پاکستان اور افغانستان کو ان قوتوں سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہوگا جو انہیں قریب نہیں آنے دیتیں

ہمایوں سلیم

29 جون کو لیڈز میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ورلڈ کپ کے میچ میں اس وقت عجیب اور پریشان کن صورت حال دیکھنے میں آئی جب میچ کے دوران افغانیوں کے باعث بدنظمی پیدا ہوئی اور میچ کے اختتام پر افغانی شائقین نے پاکستانی شائقین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ تاہم سیکورٹی اہلکاروں نے بروقت ایکشن لیتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں کو بحفاظت پویلین میں پہنچا دیا۔ ظاہری طور پر تو یہ ہوا کہ افغانیوں سے اپنی ٹیم کی شکست برداشت نہ ہوئی اور وہ اس گھٹیا حرکت پر اتر آئے لیکن اس کے پس پردہ حقائق کچھ اور ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ایک تو افغانیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں پر حملے کی کوشش کی جب کہ اس اہم میچ کے دوران گراو¿نڈ کے اوپر جہازوں کے ذریعے بینرز بھی لہرائے گئے جن پر پروپیگنڈا پر مبنی جملے درج تھے۔ اس صورت حال پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس حرکت کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما ہیں، ان کے مقاصد کیا ہیں اور یہ سب پاک افغان میچ کے دوران ہی کیوں ہوا؟ تماشائیوں والے حادثے کے بعد میڈیا خاص کر سوشل میڈیا پر ایک جارحانہ بحث کا آغاز ہوا کہ افغانیوں نے ایسا کیوں کیا، اب ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جانا چاہئے اور یہ بھی کہ انہیں پاکستان کے احسانات کو یوں نظرانداز نہیں کرنا چاہئے تھا۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ جذباتی مطالبہ بھی سامنے آیا کہ اس حرکت پر پاکستان میں موجود افغانیوں کو فوراً ملک بدر کر دیا جانا چاہیے۔

بہت سے پاکستانی اس بات پر حیران ہیں کہ آخر افغانی پاکستان سے اس قدر نالاں کیوں ہیں، وہ کیوں پاکستان سے اتنی نفرت کرتے ہیں، حالانکہ پاکستان نے ان کے ساتھ کبھی بُرا نہیں کیا، ہمیشہ ان کی بہتری کا سوچا ہے، ان کے لئے بہت کچھ کیا ہے، برسوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی ہے۔ اس واقع کے بعد جذبات اور غصے کی گرفت میں آئے پاکستانیوں نے بھی افغانوں پر یلغار کی اور ٹوئٹر، فیس بک پر نمک حرام، غداراور افغانستان کے خلاف دوسرے کئی ٹرینڈ چلتے رہے۔

افغانیوں کے دلوں میں پاکستانیوں کی خلاف نفرت کی اہم وجہ تو بھارت کا کردار ہو سکتا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ افغانستان کی جدید تاریخ میں وہ بھارتی اثرورسوخ سے کبھی آزاد نہیں ہوا۔ قیام پاکستان سے پہلے ہی بھارتی سکھوں کی خاصی تعداد کابل اور دوسرے شہروں میں آباد تھی۔ افغانستان نے ابتدا ہی سے پاکستان کی مخالفت کی۔ واحد ملک جس نے پاکستان کو اقوام متحدہ کا رکن بنانے کی بھی مخالفت کی۔ یہ ناپسندیدگی کا رویہ ناقابل فہم تھا۔ فطری طور پر تو افغانستان کو اپنے پڑوس میں بننے والے نئے ملک سے تعلقات خوشگوار رکھنے چاہیے تھے، مگر عاقبت نااندیش افغان قیادت نے شروع کے دنوںہی سے تلخیوں کے بیج بو دئیے تھے جس کی فصل اب کاٹی جا رہی ہے۔ روایت ہے کہ ابتدائی دنوں میں ایک افغان ڈپلومیٹ نے قائداعظم کو خط لکھ کر فاٹا افغانستان کو دینے اور سمندر سے رسائی کے لئے ایک زمینی پٹی دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بصورت دیگر ہم حملہ کر دیں گے۔ قائداعظم نے اس احمقانہ خط کا جواب دینے کی زحمت ہی نہیں کی۔ افغانستان کا پاکستان کے ساتھ مخاصمانہ رویہ ہمیشہ جاری رہا۔

ساٹھ اور ستر کے عشروں میں یہ صورت حال رہی کہ جب بھی بلوچستان میں آپریشن ہوا، باغیوں نے افغانستان کا رخ کیا، جہاں انہیں پناہ اور سرپرستی ملی۔ ستر کے عشرے میں پختونستان کا سٹنٹ بنایا گیا، پشتون قوم پرست رہنما اجمل خٹک کابل میں بیٹھے پختونستان کے نعرے لگاتے رہے، صوبہ سرحد کے کئی شہروں میں بم دھماکے بھی ہوئے۔ ظاہر شاہ کا تختہ الٹ کر حکمران بننے والا سردار داﺅد مبینہ طور پر اس پالیسی کا سپورٹر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بھٹو صاحب جیسے سیکولر شخص نے بھی جوابی طور پر گلبدین حکمت یار، پروفیسر برہان الدین ربانی اور دیگر افغان لیڈروں کی حوصلہ افزائی کی۔ بعد میں حالات زیادہ سنگین ہوئے، جب روس نے افغانستان پر باقاعدہ حملہ کر دیا۔ اس کی مزاحمت شروع ہوئی اور پاکستان نے افغان مجاہدین کو نہ صرف سپورٹ کیا، بلکہ امریکہ اور مغرب کے ساتھ عرب بلاک کو بھی حمایت پر تیار کیا۔

اس کے برعکس پاکستان نے ہر دور میں افغانستان کی بہتری کو ہی ملحوظ خاطر رکھا۔ اور اب بھی جدید افغانستان میں قیام امن کے لئے محو عمل ہے۔ اب بھی لاکھوں افغان پاکستان میں پناہ گزین ہیں۔ ان حالات میں امن اور ترقی کا کوئی عمل اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک افغانستان اس میں پاکستان کے رول کی اہمیت کو سمجھتا اور مانتا نہیں۔ اور تو اور اب تو امریکہ تک کو بھی یہ احساس ہو چکا ہے کہ وہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں کر سکتا۔ اگر تو امریکہ امن عمل میں مخلص ہے اور افغانستان بھی تباہی اور افراتفری کے دور سے باہر آنا چاہتا ہے تواس پیش رفت کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کی سخت ضرورت ہے۔ اور یہ اعتماد سازی پاکستان کے ممکن نہیں۔ لیکن یہ بات نہ تو افغانستان کی سمجھ میں آتی ہے اور نہ ہی بھارت ایسا چاہتا ہے کیونکہ افغانستان میں امن خطے میں امن کا ضامن ہے اور سارے خطے میں امن پاکستان کی ترقی کی راہیں کھول دیتا ہے .... یہی بات ہے جو بھارت کی شیروانی میں کانٹے کی طرح چبھتی ہے اور اسے ایک پل چین سے نہیں رہنے دتیی۔ بھارت جس کا افغانستان کیساتھ کوئی رشتہ نہیں، وہ خواہ مخواہ فریق بن گیا ہے اور امریکیوں کو بدکاتا رہتا ہے۔ بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور مزید کی توقع رکھتاہے، ا±س کی یہ ہوس صرف امریکیوں کی موجودگی کے طفیل ہی پوری ہو سکتی ہے۔ بہرحال طالبان اور افغان انتظامیہ کو سوچ لینا چاہئے کہ اگر موجودہ حالات جوں کے توں رہتے ہیں تو اس کے نتیجے میں افغان ترقی نہیں کر سکیں گے، غربت اور جہالت چھائی رہے گی۔ لہٰذا طالبان اورافغان انتظامیہ کو جنگ بندی کے لیے کچھ لو کچھ دو کے اصول پر کسی ایسے معاہدے پر پہنچ جانا چاہئے جو قوم کے اندر کی تقسیم کو ختم کر کے حقیقی امن کا ضامن ثابت ہو۔

جہاں تک پاک افغان تعلقات اور حالیہ کرکٹ حادثے کا تعلق ہے تو زمینی حقیقت یہ ہے کہ دو طرفہ ریاستی تعلقات میں جذبات، احساسات، مروت اور وضع داری جیسی چیزوں کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ ان تعلقات کا میرٹ صرف مفاد ہوتا ہے۔ بایں ہمہ پی سی بی اور پاکستانی شائقین کو وسیع النظری کا مظاہرہ کرنا ہو گا کہ بھلے ہی انہوں نے افغان کرکٹ کو اپنی گود میں پالا لیکن اس وقت افغان کرکٹ کے مفادات صرف بی سی سی آئی سے جڑے ہیں۔

کیونکہ جس طرح کا رویہ لیڈز میں پاک افغان میچ کے دوران سٹیڈیم اور اس کے اطراف میں دیکھنے کو ملا، وہ کرکٹ کی تاریخ میں ایک نایاب چیز ہے۔ پاکستان انڈیا اور آسٹریلیا انگلینڈ جیسے ”ہائی وولٹیج“ مقابلوں میں بھی وہ طوفانِ بدتمیزی دیکھنے کو نہیں ملتا جو لِیڈز میں دیکھنے کو ملا۔

افغانستان اور پاکستان ایک دوسرے کے لئے ناگزیر ہیں کیونکہ دونوں کے درمیان کئی سو کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ کئی پختون اور بلوچ قبائل دونوں طرف آباد ہیں۔ دینی، مذہبی، سماجی و تہذیبی رشتے ہیں۔ کراچی کی بندرگاہ افغانستان کے لیے بھی اسی طرح اہم ہے جس طرح پاکستان کے لیے۔ نئی گوادر بند ر گاہ افغانستان کو مزید قریب لا سکتی ہے۔ طور خم اور چمن بارڈر دنیا کی مصروف ترین بین الاقوامی گزر گاہیں ہیں جو دونوں ممالک کے شہریوں کو آپس میں ملاتی ہیں۔ ہزاروں افراد دونوں طرف سے بغیر ویزے کے روزانہ آتے جاتے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کی تعمیر و ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کیا ہے اور 330 ملین ڈالر سے زائد رقم ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی باہم تجارت کا حجم سالانہ 3 ہزار ملین امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ غیررسمی تجارتی تبادلہ اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ پاکستان اس وقت بھی لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دیے ہوئے ہے اور تما م تر مشکلات اور مسائل کے باوجود ان کے قیام میں مسلسل توسیع کر رہا ہے۔ پاکستان کے طبی ادارے افغانوں کو علاج معالجہ فراہم کرنے میں سرفہرست ہیں۔ گذشتہ چند سال میں 30 ہزار سے زائد افغان طالب علموں نے پاکستان سے گریجویشن کی ہے۔ پاکستان 2 ہزار سے زائد تعلیمی وظائف افغان طلبہ کو دیتا ہے۔

پاکستان کا افغانستان میں بہت اہم کردار ہے۔ بالعموم افغان دانشور اور عوامی رائے عامہ پاکستان سے شاکی ہیں اور افغانستان میں ہر ب±رے واقعے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہیں۔ اس رویے پر حیرت ہوتی ہے اور افسوس بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان افغانستان میں ایک آزاد اور مستحکم جمہوری حکومت کے قیام میں مدد دے۔ وہ افغانستان کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے گریز کرے۔ کسی مخصوص گروپ یا قومیت کی حمایت نہ کرے بلکہ بحیثیت مجموعی افغان ملت کی پشتیبانی کرے۔ افغان قوم کے مفاد میں جو چیز بہتر ہے وہی ہمارے لیے بھی بہتر ہے۔ ہماری منفعت اور نقصان ایک ہے۔ ہمیں اس کی اقتصادی اور معاشی ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہے۔ بین الاقوامی تجارت، صنعت و حرفت، برآمدات و درآمدات ، بنکاری غرضیکہ ہر میدان میں ہم ان کی حمایت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا میں بھی ہم ضامن کا کردار ادا کریں جیسا کہ کرنے کی کوشش کر بھی رہے ہیں۔ افغانستان میں ایک مضبوط جمہوری اسلامی حکومت کا قیام ہر پاکستانی کی آرزو و تمنا ہے لیکن اصل کام انھوں نے خود کرنا ہے۔ اپنے مسائل خود حل کرنے ہیں، اپنی قیادت خود منتخب کرنی ہے اور اپنا مستقبل اپنے ہاتھوں سے تعمیر کرنا ہے۔ قومیں مشکلات و مصائب سے گزر کر کندن بنتی ہیں اور افغان ملت میں وہ تمام صفات موجود ہیں جو ایک عظیم قوم کا خاصہ ہوتی ہیں۔

دونوں ممالک کے عوام کو چاہئے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھ کر جیئں کہ کھیل کے میدان سفارتکاری کا نعم البدل نہیں ہوا کرتے، یہ وقتی جذبات اور احساسات ہوتے ہیں جن کو ہوا دینا اپنے مفاد میں نہیں بلکہ کسی ایسے تیسرے فریق کے حق میں ثابت ہوتا ہے جو نہیں چاہتا کہ دونوں اطراف امن، بھائی چارے اور خوشحالی پر مبنی زندگی گزار سکیں۔

٭٭٭


ای پیپر