قُرآن میں عورت کا ذِکر
09 جولائی 2019 (16:21) 2019-07-09

اللہ پڑھنے اور سننے والوں کو نُورِہدایت عطا فرمائے۔ قُرآن کریم کتاب اللہ ہے۔ جس کا ایک ایک حرف اللہ کا بھیجا ہوا اور تمام موضوعات سرچشمہ ہدایت ہیں۔ اس کتاب میں ©” عورتکا تذکرہ، اس کے حقوق کا بیان اور اس کی عظمت و حیثیت کے دلائل اس قدر مفصل ہیں کہ غوروفکر کرنے والوں کے لیے ” عورت کے مقام“ کے بارے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ اسی موضوع پر جناب مولانا مکی الحجازی کے درُوس جو آپ نے مسجد الحرام میں دیے، کا ماخذ اور خلاصہ قارئینِ ”نئی بات“ کے لیے مختلف اقساط میں پیش کیا جا رہا ہے۔ دین کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے جس میں بقدر توفیق حصہ ڈالنے کی کوشش ہم بھی کر رہے ہیں ۔ مولانا مکی الحجازی فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرما دے میری بیٹیوں، بہنوں کو کہ اللہ نے عورت کو کتنی بڑی عظمت بخشی کہ قرآن میں ذکر کر دیا، ورنہ یہ یونہی کوئی عام شے ہوتی تو کیا ضرورت تھی اللہ کو ذکر کرنے کی؟ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن میں انبیاؑ کا ذکر کرتے ہیں، رسولوں کا ذکر کرتے ہیں، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہیں، عیسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ کا ذکر کرتے ہیں، انبیاؑ اور رُسل کا ذکر کرتے ہیں۔ سابقہ قوموں کا ذکر کیا گیا، عبرت کے طور پر کہ سابقہ قوموں نے نافرمانی کی ان پر یہ حالات آئے۔ یہ اس لیے بیان کیا گیا کہ قیامت تک لوگ پڑھیں اور جانتے رہیں کہ کس عمل کا کیا انجام ہوا۔

اب اگر عورت صرف اسی نظر سے دیکھے کہ قرآن حکیم میں اس کا نام لے کر، اس کے متعلق احکامات دیے اور اس کے حالات و واقعات بیان کیے گئے ہیں جو قیامت تک پڑھے جاتے رہیں گے تو اسی سے عورت جان لے گی کہ اسلام نے اسے کتنی عزت بخشی ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں کون سا قطعہ ارض ہے جہاں قرآن کریم موجود نہیں، رمضان مبارک میں کونسی بستی ہے جہاں تراویح اور ختم قرآن نہ ہوتا ہو، جہاں تلاوتِ قرآن نہ ہوتی ہو۔ اور جب جب جہاں جہاں تلاوتِ قرآن ہو گی، عورت کا ذکر اس میں آئے گا۔ یہ کوئی معمولی اعزاز نہیں کہ آدمی ایسے ہی قرآن کا قصہ پڑھ کر چلا جائے۔ ”و ذِکر فی الکتاب مریم“ کہ جی وہ بی بی مریم کا نام تھا۔ بی بی مریم کا نام لینے والا کون ہے؟ رب العالمین، جو عرشِ بریں سے خود یہ واقعہ بیان فرما رہے ہیں۔

تو آج بی بی مریم ہی کا قصہ یہاں دہراتے ہیں، دیگر خواتین کا ذکر انشاءاللہ آئندہ اقساط میں بیان کریں گے۔

قرآن نے بیان کیا ہے، ”اذ قالت امراَتُ عمران ربِ اِنیِ نذرتُ َلکَ ما فی بطنی محررََا فتقبل مِنی انک انتَ السمیع العلیم“ اور اس واقعے کی پوری شان بیان کی گئی ہے کہ حضرت عمران کی بیوی ہیں، بی بی مریم کی والدہ ہیں اور منت مان رہی ہیں کہ” اے اللہ، میرے بطن میں جو بچہ ہے اسے میں تیرے نام پر تیرے کام کے لیے، تیری عبادت کے لیے آزاد کروں گی، تیرا غلام بنا دوں گی، اسے مجھ سے قبول فرما لینا“۔ (آلِ عمران: آیت 35)

یہ مسئلہ اسی آیت نے بتایا کہ علمِ غیب ان کو بھی نہیں،گرچہ پیغمبر کی بیوی ہیں اور دوسری بات یہ کہ اچھے کام کے لئے منت مانی جا سکتی ہے، مگر صرف اور صرف اللہ کی ذات کے لیے، اللہ کے نام کی نذر۔ اور اس کے ساتھ بھی گڑگڑا کر عرض یہی گزارو کہ اللہ اسے مجھ سے قبول فرما لینا۔

اب قرآن نے پورا واقعہ بیان کیا ہے کہ عمران کی بیوی کے ہاں جب وضع حمل ہوا تو لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہو گئی۔ اب دیکھیں کہ وہ تو اللہ کے لیے منت مان کر بیٹھی ہے کہ اللہ تیرے نام پر آزاد کروں گی اور اب کہتی ہے کہ مولا آپ تو جانتے ہیں کہ جو بات مرد میں ہے وہ عورت میں نہیں ہو سکتی لیکن میں اپنی منت سے باز نہیں آسکتی تو انھوں نے یہ بھی دعا کی” اے اللہ تیری پناہ میں ہے یہ بھی اور اس کی آگے کی ذریت بھی، اسے شیطان رجیم کے حملے سے بچا لینا“۔(آل عمران: 36)

اب بچی تھوڑی بڑی ہوئی تو بی بی صاحبہ انھیں لے کر آئیں پیغمبر خدا، جناب زکریاؑ کے پاس جو اللہ کے نبی ہیں اور ان کے رشتہ دار بھی ہیں۔ جناب زکریا ؑ مسجد میں موجود ہیں اور ان کے صحابہ کرام بھی ہیں۔ اس منت کا جان کر، اس شان والی بچی کی کفالت کا متمنی ہر شخص ہے، کہ اسے موقع دیا جائے اس بچی کی پرورش اور خدمت کا ۔

اس صورتحال سے آپ صرف یہ اندازہ لگائیں کہ اگر عورت ایسی ہی کوئی کم حیثیت شے ہوتی تو کہا جاتا کہ لے جائیے اپنی بچی کو، خود ہی منت مانی اور آکر کہتی ہیں کہ اللہ کے لیے وقف کرتی ہوں اسے مسجد میں رکھ لیں۔ کیوں ہم آ پکی بچی کو رکھیں اللہ کے گھر میں ؟

مگر نہیں۔ بلکہ یہاں تو سارے کے سارے کہتے ہیں کہ ہمیں یہ سعادت ملے۔ تو اب جناب زکریا ؑ کے لئے بڑی مشکل ہو گئی۔ انھوں نے کہا اچھا بھئی ایک فیصلہ کرتے ہیں کہ قرعہ اندازی کرتے ہیں، جس کے نام قرعہ نکل آئے سب کے سب اس پر راضی ہو جائیں گے۔

تو جناب قلم لائے گئے، ہر کسی نے قلم پر اپنا نام لکھا اور انھیں ڈال دیا گیا دریا میں ۔ اب جس کے نام والا قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف آئے، اسی کے نام قرعہ نکلے گا۔

بڑے لوگوں کے بڑے کام۔ ہم بھلا سوچ سکتے ہیں ایسی قرعہ اندازی کا ؟ ہمارے ہاں دیکھیے قرعہ اندازی کے طریقے۔ ایک ہی نام کی پرچیاں ڈال کر کہتے ہیں فلاں کا نام نکل آیا۔ یہاں بھی اپنی مرضی کو غیب سے منسوب کرتے ہیں۔ اللہ ہدایت دے۔

تو علماءنے فرمایا ہے: بی بی تو جنتی عورت ہیں۔ صدیقہ ہیں۔ حضرت عمران کی بیٹی ہیں اور پھر آنے والے جلیل القدر پیغمبر کی ماں ہیں۔ اللہ پاک نے ان کی کفالت کے جو انتظام کیے ہیں وہ جنت والے انتطام ہیں۔ جو قلم اوپر چلے گا وہ بی بی مریم کی کفالت کرے گا ورنہ نیچے والا قلم کفالت نہیں کر سکتا۔ اب سب کے نام والے قلم ڈالے گئے اور خدا کی شان ہے کہ جناب زکریاؑ کا قلم نکل آیا۔

اب انبیاءکو تو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ اللہ کا نبی ؑ موجود ہے اور اللہ تبارک تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ بی بی مریم جو شان والی بی بی ہیں، ان کی کفالت بھی کوئی شان والا گھرانہ کرے۔ یہ کوئی عام لڑکی تو ہے نہیں جو اس کی تربیت عام گھر میں ہو گی۔ نبوت کے گھرانے سے ہے۔ اس لیے بی بی مریم کو جناب زکریاؑ نے اپنی پرورش میں لے لیا۔

قرآن کریم میں بڑی تفصیل ہے۔ اب اس عورت کا اسلام میں اور دین میں اور شرائع انبیاءمیں مقام دیکھیں کہ حضرت زکریا ؑ نے اس کا انتظام کیا۔ اپنے عبادت کے ساتھ جو کمرہ تھا اس کمرے کو مخصوص کردیا بی بی مریم صاحبہ کے لیے کہ بی بی کو مسجد میں نہ رکھیں کیونکہ بڑی ہو جائیں گی تو مسئلہ بنے گا اورنظر سے دور بھی نہ رکھیں کہ حفاظت کے حوالے سے اطمینان رہے۔ اب بی بی صاحبہ کو وہاں بٹھا دیا تو حضرت اتنی احتیاط فرماتے تھے کہ جب کہیں باہر جانا ہوتا تو تالا لگا دیتے۔

آدمی گھر کو تال الگا دے۔ اندر عورت ہے۔کیوں، ہماری قیدی ہے وہ؟

تم جہاںاپنی قیمتی چیزیں رکھتے ہو وہاں تالا کیوں لگاتے ہو، یہ بے وقوفی نہیں؟ کیوں نہیں چابی باہر لٹکا کے جاتے؟ تم نے اچھی گاڑی خریدی ہو، ایک تو اس گاڑی کا تالا ہو، ایک سپیشل لاک ہو، ایک گیراج کے گیٹ پر تالا ہو۔ ایک گاڑی کی اتنی حفاظت ہے۔ عورت تمہارے لیے اس سے بھی کم وقعت ہے۔ منفی سوچ سے کیوں سوچا جائے؟ مثبت سوچ کیوں نہیں پیدا کرتے؟

اسلام نے بی بی مریم کو اتنی عزت دی کہ جس کمرے میں بی بی بیٹھی ہیں۔ جب بھی جناب زکریاؑ یہاں آتے، قرآن فرماتا ہے کہ جب کبھی حضرت زکریاؑ ان کے عبادت خانے میں جاتے تو ان کے پاس کھانا دیکھتے۔

بعض مفسرین نے کُتب تفاسیر میں لکھا ہے کہ حضرت زکریاؑ ایک دفعہ آئے تو کیا دیکھتے ہیںکہ بی بی صاحبہ کے کمرے میں ایسے ایسے پھل موجود ہیں جن کا موسم بھی نہیں۔ حضرت زکریاؑ حیران ہوئے کہ دروازہ بند ہے میں نے کسی کو کہا بھی نہیں پھل پہچانے کو۔ اور پھل بھی ایسے ہیں جو ہمارے شہر میں ملتے ہی نہیں اور جن کا موسم تک نہیں۔ تو انھوں نے بی بی سے فوراََ کہا: ”قالَ مریمَ انی لَکِ ھٰذا۔۔ بی بی مریم یہ نعمتیں تمہارے لیے کہاں سے آگئیں“۔ آگے بھی تو بی بی مریم ہیں، عمران کی بیٹی ہیںجن کی کفالت پیغمبر زکریاؑ کر رہے ہیں اور اللہ نے انھیں اتنا مقام دیا ہے کہ ملائکہ پھل لا کر دے رہے ہیں۔کہتی ہیں: ” یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ بیشک اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب رزق عطاءکرتا ہے“۔ (آل عمران: آیت 37)

یعنی پیغمبر کو مسئلہ سمجھا رہی ہیں کہ زکریاؑ آپ بھی تو پیغمبر ہیں، بغیر حساب کے لینا جانتے ہیں، اور اسی اللہ نے یہ مجھے دیا ہے۔ سوچیے اگر انبیاءکی شریعت میں اور اسلام میں عورت کا کوئی مقام نہ ہوتا تو اللہ فرشتے

بھیجتے کہ جاﺅ اس کے کھانے کا انتظام کرو؟

اور اللہ کا قرآن میں انداز دیکھیے ” ترجمہ: اس وقت زکریاؑ نے اپنے پروردگار سے دعا کی، کہا کہ پروردگار مجھے اپنی جناب سے اولادِ صالح عطاءفرما۔ بیشک تودُعا سننے والا ہے“۔(آل عمران: آیت38)

یعنی ایک عورت کا مقام دیکھ کر حضرت زکریاؑ کے دل میں داعیہ پیدا ہو گیا کہ میرے اللہ اگر بی بی مریم کے لیے پھل آسکتے ہیں اور بغیر موسم کے پھل آسکتے ہیں تو موسم تو میرا بھی گزر گیا، میری بیوی کا بھی گزر گیا۔ ہم دونوں بوڑھے ہو گئے ہیں لیکن تیرے آگے کیا مشکل ہے۔ میرے مولا تو اس بی بی کے لیے پھل پیدا کر سکتا ہے تو مہربانی فرما کر ہمیں بھی پھل عطاءفرما دے، ہمیں اولاد دے دے۔ اور آپ قرآن میں پڑھیں گے کہ اللہ نے جبرائیل ؑ فرشتے کواسی وقت بھیجا کہ ”وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریاؑ) خدا تمہیںیحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور خدا کے پیغمبر یعنی نیکو کاروں میں سے ہوں گے“۔(آل عمران: آیت39)

تو آپ درجہ دیکھیں ایک پیغمبر عورت کی نعمتیں دیکھ کر دُعا کی تحریک حاصل کرتے ہیں اور اللہ تبارک تعالیٰ فوراََ ان کی دعا مُستجاب فرماتے ہیں۔ اسی آیت پر غور کریں کہ اللہ نے فرمایا میں تمہیں کیسا بچہ دوں گا یعنی اللہ نے فرمایا، میرے پیغمبر زکریا،ؑ آپ نے بی بی مریم کے رزق کو دیکھ کر دُعا مانگی ہے ۔ بی بی مریم بھی غیر مردوں سے پاک ہے، تمہیں بھی ایسا بیٹا دوں گا جو عورتوں سے پاک ہو گا۔ ِاس کی بھی شادی نہیں، اُس کی بھی شادی نہیں ہو گی۔ وہ بھی حصور ہے اور بی بی بھی پاک ہے۔

یہیں پر تھوڑا سا غور فرما لیں۔ اس مناسبت کے تذکرے پر تفکر کریں کہ قرآن نے عورت کو کتنی بڑی عزت بخشی ہے، کتنا بڑا مقام دیا ہے۔ میں چیلنج کرتا ہوںکہ ہے دنیا میں کوئی اور ایسا مذہب؟

آپ کسی بھی اعلیٰ سے اعلیٰ تہذیب کی کتاب لے آئیں اور دکھا دیں مجھے عورت کے اس درجہ مقام کی دلیل۔ جہاں اس طرح عورت کو عزت دی گئی ہو۔ اللہ ہم سب کو اعدائے اسلام کے گھٹیا حملوں اور اسلام پر گُمراہ کُن الزامات سے محفوظ و مامون فرمائے۔

٭٭٭


ای پیپر