جنگ اُحد....میں نے تو یہ پڑھا ہے
09 جولائی 2019 2019-07-09

جنگ اُحدکے بارے میں بعد میں بات کرلیتے ہیں، پہلے اس بات پہ تو اتفاق کرلیں، کہ دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک کے سربراہ کو صحیح درود پاک پڑھنا آتا ہو، اور یہ بھی پتہ ہو، کہ ”نیت نماز“ کے لیے ہاتھ کہاں لے جاتے، اور کہاں رکھتے ہیں۔

اور یہ بھی کہ نماز عیدین ادا کرنے کے بارے میں بھی علم ہو کہ کرسی پہ بیٹھ کر امامت نہیں کرائی جاسکتی، اس لیے کرسی کے ”پیچھے“ تو پڑا جاسکتا ہے ، اس کے لیے جدوجہد کرتے بھی ہم نے سیاستدانوں کو اکثر دیکھا ہے ۔ مگر یہ تو طے ہے کہ کرسی پہ بیٹھ کر امامت نہیں کرائی جاسکتی، اور اسی طرح پیچھے نماز پڑھنے والوں کی بھی نماز نہیں ہوتی .... مگر اس بات کا اگر پورے عالم اسلام کے اکلوتے ”شیخ “ کو نہیں پتہ تو پھر عمران خان سے کیسا گلہ ؟ کیا شکوہ؟

اب آئیے نواز خان اور عمران خان کے غزہ احد کے بارے میں خیالات کا جائزہ لیتے ہیں۔ غزہ احد سے پہلے رسول پاک نے ایک خواب دیکھاتھا، جو انہوں نے اپنے صحابہ کرامؓ کو سنوایا، حضور کا معمول تھا کہ وہ اپنے جان نثاران سے پوچھتے تھے کہ کیا تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے ، اور پھر ان سے اس کی تعبیر پوچھتے اور تصحیح بھی فرماتے۔

قارئین کرام، خواب اور الہام ایک حقیقت ہے ، اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کے لیے ایک نبی کیوں بھیجتے، انہوں نے حضرت یوسف ؑکو اسی لیے تو بھیجا، اور بعد میں انہیں بادشاہ مصر بنانے سے پہلے پوری تفصیل خواب میں دکھا کر امت مسلمہ کو ایک پیغام دیا، حضرت یوسفؑ نے اس خواب کی تعبیر بیان فرمائی، اور بعد میں تعبیر کی ایک ایک بات صحیح ثابت ہوئی۔

حضور نے خواب میں دیکھا، کہ ایک تلوار ہے ، جس پر ”دندانے“ پڑگئے ہیں ایک گائے ہے ، جس کو ذبح کیا جارہا ہے ، اور ایک زرہ بکتر ہے ، جو حضور نے پہنی ہوئی ہے ، اور آپ نے اپنے دست مبارک بھی اس میں ڈالے ہوئے ہیں قارئین ،غالباً یہ واحد خواب ہے ، کہ جس کی تعبیر آپ نے صحابہ کرامؓ سے نہیں پوچھی بلکہ خود ہی اس کی تعبیر بیان فرمائی ۔

انہوں نے فرمایا، کہ تلوار پہ دندنانے پڑنے کا تعلق ہے ، میرے خاندان یعنی اہل بیت سے کوئی ہستی وفات پا جائے گی ، گائے ذبح ہونے کا مطلب ہے ، مسلمانوں کو تکلیفات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور زرہ بکتر کا جسم اطہر مبارک پہ ہونا، مسلمانوں کا محفوظ ہوجانا مراد ہے ۔ آپ کو یہ تو پتہ ہے کہ وہ زمانہ خاص طورپر منافقین کا تھا، جو خود کو مسلمان ثابت کرتے ہوئے مسلمانوں کی صفوں میں گھس گئے تھے، اور درپردہ مسلمانوں کو زک پہنچانے سے کبھی بھی باز نہیں آتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے خاص طورپر حضور کو ان منافقین کی سرگرمیوں اور ناموں سے بھی آگاہ فرما دیا تھا، آپ کے خاص رازدان حضرت حذیفہ ؓتھے، اور انہیں منافقین کے نام ازبر تھے مگر مومنوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا، کہ حضرت عمرؓ جیسے شخص ، جن کے بارے میں کہا جاتا تھا ہے ، کہ حضور نے فرمایا تھا، کہ اگرمیرے بعد کوئی اور نبی ہوتا، تو وہ حضرت عمرؓ ہوتے، ایک دن حضرت عمرؓ ، حضرت حذیفہ ؓ کے گھر تشریف لے گئے، اور انہیں قسم دے کر پوچھا، کہ اے حذیفہ ؓ ،مجھے بتاﺅ، کہ کہیں میرا نام منافقین میں شامل تو نہیں ؟

سورة آل عمران آیت 175تک، اسی غزوہ کے بارے میں ، اور خصوصاً جان نثاران رسول کے بارے میں بھری ہوئی ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، کہ اس سے پہلے کتنے نبی ایسے گزر چکے ہیں، کہ جن کے ساتھ مل کر اللہ والوں نے جنگ کی، اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں وہ دل شکستہ نہیں ہوئے، انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی اور وہ باطل کے آگے سرنگوں نہیں ہوئے، ایسے میں صابروں کو اللہ پسند فرماتا ہے ، ان کی دعابس یہ تھی کہ اے ہمارے رب! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیری حدودسے کچھ تجاوز ہوگیا، اسے معاف فرما دے ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما، آخر کار اللہ نے ان کو دنیا کا ثواب بھی دیا، اور اس سے بہتر ثواب آخرت میں بھی عطا کیا اللہ کو ایسے ہی نیک عمل لوگ پسند ہیں۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم ان لوگوں کے اشارے پہ چلو گے، جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ، تو وہ تم کو الٹا پھیرے جائیں گے، اور تم نامراد ہوگے۔

قارئین کرام منافقین اور یہودی اُحد کی عارضی اور وقتی شکست کے بعد مسلمانوں میں یہ خیال پھیلانے کی کوشش کررہے تھے کہ اگر محمد واقعی اللہ کے نبی ہوتے، تو پھر شکست کیوں کھاتے، یہ خدانخواستہ نعوذ باللہ معمولی انسان ہیں، ان کا معاملہ بھی دوسرے آدمیوں کی طرح ہے ، ”ان کی باتیں غلط ہیں حقیقت یہ ہے ، کہ اللہ تمہارا حامی ومددگار ہے ، اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے ، عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رعب بٹھادیں گے اللہ تعالیٰ نے تائید ونصرت کا جو وعدہ تم سے کیا تھا، وہ تو اس نے پورا کردیا، ابتداءمیں اس کے حکم سے تم ہی ان کو قتل کررہے تھے، مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور جوں ہی اللہ تعالیٰ نے تم کو مال غنیمت دکھایا، تو تم میں سے کچھ لوگ اس کی محبت میں گرفتار ہوگئے، تو پھر تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے، اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے، تب اللہ تعالیٰ نے تمہیں کافروں کے مقابلے میں پسپا کرکے تمہاری آزمائش کی اور حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پھر بھی معاف کردیا، کیونکہ مومنین پہ اللہ تعالیٰ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے ۔

یادرکھو کہ جب تم بھاگے چلے جارہے تھے، تمہیں کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے کا ہوش نہیں تھا، اور رسول تمہارے پیچھے تمہیں پکاررہے تھے۔

قارئین کرام، جب مسلمانوں پر اچانک دوطرف سے بیک وقت حملہ ہوا ، اور ان کی صفوں میں ابتری پھیل گئی، تو کچھ لوگ مدینے کی طرف بھاگے، اور کچھ احد پہاڑ پر چڑھ گئے مگر آپ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ ہٹے، دشمنوں کا چاروں طرف سے ہجوم تھا، دس بارہ جان نثاروں کی مٹھی بھر جماعت پاس رہ گئی تھی، مگر اس نازک موقعے پر بھی اللہ کے رسول پہاڑ کی طرح جمے ہوئے تھے، اور مسلمانوں کو آواز دے کر بلایا کہ اے اللہ کے بندو میرے پاس آﺅ۔ لہٰذا اللہ نے تمہاری اس روش (برتاﺅ) کا بدلہ اس طرح سے دیا کہ تمہیں رنج پہ رنج دیئے تاکہ آئندہ کے لیے تمہیں یہ سبق ملے، کہ جوکچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو، اس پر ملول نہ ہو، اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے ۔ اس غم کے بعد اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کردی کہ وہ اونگھنے لگے، اور حضرت ابو طلحہؓ جو اس جنگ میں شریک تھے اس بات کی صداقت کے شاہد تھے، کہ واقعی ایسا ہی تھا۔

واپس پلٹنے والے مومن، بقول حفیظ تائب

تھام کر دامن کو ان کے بے محابارودیا

میں کہ گھبراتا تھا، ان کا سامنا کرتے ہوئے


ای پیپر