ہماری محبت اور ہمارے دُکھ !
09 جولائی 2019 2019-07-09

میرے عمرے کے سفر نامے کی دس قسطیں شائع ہوچکی ہیں، اگلی دو چار قسطوں میں یہ مبارک سفرنامہ اپنے اختتام یا انجام کو پہنچ جائے گا، ارادہ یہ تھا چارپانچ قسطوں میں اِسے ختم کردوں گا، کیونکہ طوالت کسی بھی چیز کی ہو ہمیشہ بوریت کا باعث ہی بنتی ہے، دوسری جانب تحریر یا تقریر میں بات چلتی ہے تو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی، شاعر نے اِسے یوں بیان کیا ہے ” بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے“ .... کچھ اِرادتاً بھی اِس سفر نامے کو طول اِس لیے دے رہا ہوں ہماری سیاست یا دیگر اداروں میں جو گند پڑا ہے، بلکہ بڑھتا جارہا ہے ، اُس پر کچھ لکھنے سے اِس لیے گریز کررہا ہوں موجودہ حکومت کے قیام کو ابھی دس ماہ گزرے ہیں، میرے خیال میں اِسے مکمل طورپر ناکام یا کامیاب قرار دینے میں کچھ عرصہ مزید درکار ہے، گو کہ وزیراعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے تبدیلی بلکہ ہرقسم کی تبدیلی کے لیے سودن ہی کافی سمجھتے تھے، حالانکہ وہ غلط سمجھتے تھے، گزشتہ ستر برسوں خصوصاً تیس برسوں کا سیاسی، جرنیلی، عدالتی، صحافتی اور عوامی گند صاف کرنے کے لیے جس طاقت اور اہلیت کی ضرورت ہوتی ہے وہ خالی ایمانداری سے پوری نہیںہوتی ، مختلف اقسام کی گندگی ختم کرنے کا آغاز گھر سے ہونا چاہیے ورنہ اس عمل میں کبھی برکت نہیں ہوتی، بلکہ مختلف اقسام کی گندگیاں ختم کرنے کا آغاز اپنی ذات سے ہونا چاہیے، خالی باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوتا، سوائے اِس کے بنی بنائی عزت اور وقار بھی ختم ہوجاتا ہے، ایک اور بات.... گندگی ختم کرنا صرف کرپشن ختم کرنے کانام نہیں۔ سب سے بڑی گندگی اخلاق کی ہوتی ہے، جیسا کہ حسن نثار اکثر فرماتے ہیں ” ہمارا اصل مسئلہ اقتصادیات کا نہیں اخلاقیات کا ہے“ ....افسوس اِس جانب ہمارے محترم وزیراعظم یا اُن کی جماعت پی ٹی آئی کی کوئی توجہ ہی نہیں ہے، بلکہ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے بعض دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح پی ٹی آئی بھی یہی سمجھتی ہے مختلف معاملات میں اخلاقیات کا مظاہرہ کرنے سے اُن کی سیاست اور حکومت شاید ختم ہوجائے گی ، وزیراعظم عمران خان نے اِس حوالے سے دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ ” مقابلے “ کی ٹھانی ہوئی ہے، دوسری سیاسی جماعتیں بداخلاقی میں آگے نکلنا چاہتی ہیں تو خان صاحب اور اُن کی ٹیم اِس مقابلے میں اُن سے آگے نکلنا چاہتی ہے، جبکہ ہماری یا کم ازکم میری یہ خواہش تھی خان صاحب اور پی ٹی آئی کا کردار حکومت میں آنے کے بعد اِس سے بالکل مختلف ہوتا۔ جو حکمران اخلاقی بڑے پن کا مظاہرہ نہیں کرتے وہ بالآخر ذلیل ہی ہوتے ہیں، اِس وقت ملک میں بداخلاقی کا ایسا ماحول قائم کردیا گیا ہے کوئی کسی سے بات کرنے، کوئی کسی کی بات سننے یا کوئی کسی کی بات ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہے، ہرطرف جھوٹ، گالیوں، بڑھکوں، نعروں حتیٰ کہ ہاتھا پائی کا ایسا ماحول بن گیا ہے، یا کچھ قوتوں نے اپنے مذموم اور مخصوص مقاصد حاصل کرنے کے لیے جان بوجھ کر بنادیا ہے کم ازکم مجھے خود سے گھن آنے لگی ہے ، .... میرے لیے شکر کا مقام ہے کل میں اس ماحول سے دور برطانیہ، امریکہ اور یورپ کے ڈیڑھ دوماہ کے دورے پر روانہ ہورہا ہوں، منافقت سے پاک ” گوری دنیا“ میں کچھ روز گزار کر یوں محسوس ہوتا ہے” میں پاکستان میں فوت ہوگیا تھا، اللہ نے مجھے بخش دیا ہے، اب میں جنت میں ہوں“۔وزیراعظم عمران خان کی ساری توجہ اور کوشش ملک کی معاشی بدحالی کم یا ختم کرنے پر ہے، اس مقصد کے لیے خوف یا طاقت کے اندھا دھند استعمال کا جو ماحول بنادیا گیا ہے اُس سے معاشی بدحالی ختم ہوتی ہے یا بڑھتی ہے؟ پورے وثوق سے فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا، پورے وثوق سے تو ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ سب کچھ ملک اور عوام کی معاشی

بدحالی ختم کرنے کے لیے کیا جارہا ہے یا کچھ ” مخصوص قوتیں“ اپنی بدحالی کے خطرے کے پیش نظر ایسے اندھا دھند اقدامات کررہی ہیں، یا کروارہی ہیں جن سے اُن کی ساکھ مزید متاثر ہونے کا خدشہ بڑھتا جارہا ہے۔ ذاتی طورپر میں اِسی ”خوش فہمی“ میں مبتلا ہوں اِن اقدامات کا فائدہ بالآخر ملک اور عوام کو ہی ہوگا، حکمران بھی یہی کہتے ہیں، وزیراعظم عمران خان تو بہت ہی زور دے کر کہتے ہیں ”لوگوں کو بتاﺅ اُن کے دن پھرنے والے ہیں“ ....ہم جب لوگوں کو یہ بتاتے ہیں یا سمجھاتے ہیں وہ آگے سے کہتے ہیں سابقہ حکمرانوں خصوصاً موجودہ ”ایماندار“ اور ”نیک نیت“ حکمران کی کون سی بات یا بڑھک اب تک درست ثابت ہوئی ہے جو ہم اُن کی اِس بات پر یقین کرلیں چند برسوں بعد ہمارے دن پھر جائیں گے اور یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی؟....سو مختلف حوالوں سے لوگوں کی کنفیوژن اور بے چینی بڑھتی جارہی ہے، جبکہ ”چوروں“ اور ڈاکوﺅں“سے جان چُھوٹنے کے بعد ہم یہ توقع کررہے تھے عوام کی ساری بے چینیاں اور بے قراریاں مستقل طورپر ختم ہونے والی ہیں، .... ہماری اُمید اب بھی قائم ہے مگر اب یہ اُمید وزیراعظم عمران خان سے نہیں اللہ سے ہے ہم سے تو کچھ ہونے نہیں والا وہی کوئی ایسا ”معجزہ “ کردے پاکستان کے مظلوم، بے بس اور بے کس عوام کی معاشی اور اخلاقی حالت کچھ درست ہوجائے، .... ایک ”معجزہ“ ہم نے دیکھ لیا عمران خان اقتدار میں ، اب اس سے مختلف کوئی معجزہ ہو جوواقعی معجزہ ہو،.... المیہ یہ ہے وزیراعظم عمران خان کے اِردگرد اتنے ”گندے لوٹے“ اکٹھے ہوگئے ہیں وہ ”وضو“ بھی شاید اِن ہی گندے لوٹوں سے کرنے پر مجبور ہیں، خود کو مکمل طورپر ”مخصوص قوتوں“ کے سپرد کرنے کے بجائے وہ اپنے قسم کے ذاتی مفادات سے بالاتر، بے نیاز، صرف اور صرف ملک سے محبت کرنے والے کچھ مخلص سیاسی ساتھیوں کی مشاورت سے استفادہ جاری رکھتے آج یہ حالات نہ ہوتے کہ دس ماہ بعد ہی اُن کی حکومت غیرمقبولیت کے جھنڈے گھاڑتی ہوئی نظر آتی ہے، میں اُن کی کامیابی کے لیے اب بھی دل سے دعاگو ہوں، آج کل سیاسی موضوعات پر لکھنے سے گریز کرنا اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے !!


ای پیپر