برہان وانی شہیدؒ کے خون شہادت کی پاکستانیوں سے اپیل
09 جولائی 2018 2018-07-09

اتوار کو مقبوضہ کشمیر میں شہید حریت برہان وانی کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پرمقبوضہ وادی میں کرفیو کا نفاذ رہا۔حریت قیادت کو نظر بند کیا گیا، موبائل، انٹرنیٹ اور ٹرین سروس معطل رہی۔ وادی کے طول وعرض میں مکمل ہڑتال کے دوران کاروباری مراکز بھی بند رہے۔ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کو چھاؤنی بنا دیا۔ قابض فوج نے احتجاج روکنے کیلئے برہان وانی کی آبائی علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا اور داخلی وخارجی راستے بند کر دیے اور گردونواح کے علاقوں میں بھاری تعداد میں فوج اور پولیس کی نفری تعینات کردی گئی۔سرینگر اور دیگر تمام بڑے قصبوں میں سخت پابندیاں لگا دیں۔ یاد رہے کہ بھارتی فوجیوں نے برہا ن مظفر وانی کو 8جولائی 2016کوضلع اسلام آباد کے علاقے ککر ناگ میں دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ جعلی مقابلے میں شہید کر دیاتھا۔ سچ تو یہ ہے کہ برہان وانی کشمیر میں تحریک آزادی کی ایک علامت بن کر ابھرا ہے۔ برہان وانی نے مسئلہ کشمیر کو دوبارہ بین الاقوامی ایجنڈے میں سب سے اوپر لاکھڑا کیا ہے۔ برہان وانی توچلا گیا لیکن اس نے اپنے خون سے جوشمع روشن کی ، وہ آج بھی کشمیری نوجوانوں کو آزادی کی راہ دکھارہی ہے۔
برہان وانی کی عظیم شہادت کے بعدمقبوضہ کشمیر میں میں مزاحمتی تحریک رفتہ رفتہ تقویت اور توانائی پکڑتی چلی جا رہی ہے۔ مشاہدہ گواہ ہے کہ اس تحریک کے فدائی مقبوضہ کشمیر کے مقامی باشندے ہیں۔اب تو مغربی ذرائع ابلاغ نے بھی کہنا شروع کر دیا ہے کہ بھارتی غاصب افواج کیلئے مقبوضہ کشمیر ایک نئے ویتنام کا روپ دھارچکاہے اور ’ہندتوا‘ اور’ رامراج‘ کی پرچارک مودی سرکار کا ہر حربہ،پیکیج اورپالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ حریت پسندوں کا جہادِ مزاحمت خوفناک شدت اختیار کرتا جا ر ہاہے۔ آثار و قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مزاحمتی جہاد محض جز وقتی عوامی شورش نہیں۔ بھارتی غاصب افواج ، حکام اور کٹھ پتلی ریاستی مشینری کے اہلکاروں کے لیے مقبوضہ کشمیر میں ڈینجر زونز کی تعداد روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ گورنر راج بھی اس تحریک کی قوت نمو کو کم کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے ۔ گورنر راج کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج اور حکام کے لیے کئی چھوٹے چھوٹے شہر ’’فلیش پوائنٹ‘‘ بن چکے ہیں۔ تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں کشمیری حریت پسند عوام اس عزم کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ وہ بھارتی قبضہ ختم کرا کے دم لیں گے۔1948ء سے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کے بعد بھارتی افواج نے پرلے درجے کی بہیمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عام شہریوں کو ہراساں اور خوفزدہ کرنا شروع کر رکھا ہے، یہاں تک کہ خواتین کی جامہ تلاشی کیلئے کتوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ معصوم بچوں کے روبرو والدین کے ساتھ اہانت آمیز سلوک روا رکھا جا رہا ہے ، ضعیف العمر شہریوں کو بھی برسربازار تختہ مشق ستم بنایا جا رہا ہے ۔ بھارتی فوجیوں نے بعض مقامات پر جنسی درندگی سے بھی اجتناب نہیں برتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق سیکڑوں خواتین سے غاصب بھارتی افواج اجتماعی زیادتی کرچکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ کشمیری طالبات نے تعلیمی اداروں اور خواتین نے دفاتر جانا چھوڑ دیا ہے۔عورتوں کے ساتھ زیادتی کے ان واقعات نے کشمیری حریت پسندوں کے حافظے میں عراق، ویتنام، جاپان اور کوریا میں امریکی افواج کی جانب سے ان ممالک کی خواتین کی عزت کی پامالی کے واقعات کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ 1948ء سے تادم تحریر بھارتی غاصب افواج کے وادی سے انخلاء کے حق میں مظاہرے کرتے ہوئے 5 لاکھ سے زائد کشمیری جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ کشمیر کی وادی ’’کشمیر کی آزادی تک، بھارت کی بر بادی تک، جنگ رہے گی، جنگ رہے گی‘‘ کے نعروں سے گونج رہی ہے۔ وادی کشمیر کو آزادمیڈیا اور غیر جانبدار ہیومن رائٹس این جی اوز کے کارکنوں کیلئے بھارت سرکار نے تین عشروں سے علاقہ ممنوعہ بنا رکھا ہے۔
اس باب میں اب یقیناً دو رائیں نہیں کہ اس مزاحمتی تحریک کی قوت محرکہ داخلی ہے، لائن آف کنٹرول پر لاکھوں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی اور وادی میں 6لاکھ بھارتی درندہ خصلت فوجیوں کی بہیمیت اور سفاکانہ چیرہ دستیوں کے باوجود کشمیری حریت پسند عوام کا اشتعال ناقابل تسخیر ہوچکا ہے۔ اشتعال کو اس سطح تک پہنچانے میں خود بھارتی افواج کا کلیدی ہاتھ ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ بھارتی فوجی افسروں اور جوانوں کا مورال ہر گزرتے دن کے ساتھ پست ہو رہا ہے۔ اس منظرنامے نے بھارتی فوج کا تشخص کلی طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ مزید برآں یہ کہ بھارت سرکار اور اس کی غاصب افواج 7عشروں کے غیر مختتم جبر وتشدد کے باوجود تحریک حریت کو کچلنے میں بری
طرح ناکام رہی ہیں۔اب انہوں نے دہلی سرکار کو پیغامات بھیجنا شروع کر دیئے ہیں کہ ’’دشمن‘‘ کے ہر دم بدلتے چہروں، عدم تحفظ کی فضا اور بے یقینی کے ماحول نے ان کی زندگیوں کو معرض خطر میں ڈال رکھا ہے، انہیں کوئی خبر نہیں ہوتی کہ جانے کب کہاں سے کوئی برہان وانی ایسا فریڈم فائٹر آئے اور ان کا کام تمام کر دے‘‘۔ صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ بھارتی فوجی جب بھی سرچ آپریشن پر نکلتے ہیں تو سخت سراسیمگی اور خوف کی حالت میں بے گناہ شہریوں کو بھی ماورائے قانون ہلاکتوں کا نشانہ بنانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔کشمیری عوام کی تیزی سے مقبولیت پکڑتی زبردست مزاحمتی تحریک نے بھارتی افواج کو ذہنی، نفسیاتی اور اعصابی عدم توازن کا شکار بنا دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں متعینہ 8لاکھ 50 ہزار بھارتی فوجی فوجی وادی سے نکلنے کے لئے بے تاب ہیں لیکن دہلی سرکار اور انتظامیہ انہیں بار بار یہ پیغام دے رہی ہے کہ تاحال مقبوضہ کشمیرسے واپسی کے حتمی ٹائم ٹیبل کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔زمینی حقیقت یہ ہے کہ برہان وانی کے فدائی پیروکاروں کی مزاحمتی تحریک صرف منظم ہی نہیں بلکہ جدید ہتھیاروں سے مسلح بھی ہے۔ حالانکہ اس تحریک کو کسی قسم کی غیر ملکی سرپرستی اور معانت بھی حاصل نہیں۔ یہ خالصتاً ایک خودرو مزاحمتی تحریک ہے۔ ریکارڈ گواہ ہے کہ غیر ملکی قابض، غاصب اور جارح افواج جب بھی کسی ملک کو زیرنگیں کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو ان کیلئے بڑا خطرہ اس ملک کی باقاعدہ، پیشہ ور اور مسلح افواج نہیں ہوا کرتیں بلکہ وہ نہتے عوام ہوتے ہیں جن کا اسلحہ ناقابل تسخیر جذبہ حب الوطنی اور ناآشنائے شکست قومی غیرت ہوا کرتی ہے۔ اسلحہ کا مقابلہ مزید بہتر اور برتر اسلحہ سے کیا جا سکتا ہے لیکن جذبوں کو کیمیائی، حیاتیاتی ، جراثیمی، نیم جوہری اورجوہری بموں اور میزائلوں کی بارش سے بھی فنا نہیں کیا جا سکتا۔ غیر جانبدار عالمی مبصرین بھارتی حکام م کو یہ مشورہ دینے میں حق بجانب ہیں کہ جس قدر جلد ممکن ہو وہ مقبوضہ کشمیر سے پس قدمی اختیار کر لیں وگرنہ برہان وانی کے خون شہادت سے سے حرارت اور تابانی حاصل کرنے والی مزاحمتی تحریک آنے والے دنوں میں ان کیلئے مزید مشکلات پیدا کر ے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنو! یہ کسی ایک پارٹی کے کے سربراہ کی نہیں۔۔۔ یہ ہر باشعور اور باضمیر پاکستانی کی آواز ہے۔۔۔ اگر ملک و قوم کے مفادکو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے اور مقدم رکھتے ہو نیز یہ کہ تمہاری کھوپڑی میں عقل سلیم اور سینے میں قلب منیب ہے اور تم چاہتے ہو کہ پاکستان ایک کرپشن فری ملک بنے ۔۔۔ اور۔۔۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ تم مومن بھی ہو ۔۔۔تو۔۔۔ یاد رکھو مومن ایک ہی سوراخ سے دوسری بار ڈسے جانے کے لیے اپنے وجود کو رضاکارانہ پیش کرنے کی حماقت کا ارتکاب نہیں کرتا ۔ ووٹ دینے سے قبل آزمودہ پارٹیوں کے ان اینا کولڈا ، سنگ چور اور کوبرا سانپوں کو چوتھی بار ڈسنے کا موقع نہ دیناجو تین تین بار اقتدار کی پینگ کے ہلکورے لے چکے اور اس ملک کے قومی خزانے پر اربوں نہیں کھربوں کی نقب زنی کر کے سرے محلوں، ایون فیلڈ، مے فیئر فلیٹس اور آفشور کمپنیوں کے مالک بن چکے ہیں اور اس پر ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ ڈنکے کی چوٹ کہہ رہے ہیں کہ ’’ہم نے ایک روپے کی بھی کرپشن نہیں کی ‘‘۔ شرم ان کو مگر نہیں آتی۔۔۔ اس آواز کو فغان درویش سمجھ کر جس نے بھی صرف نظر کیا ،اس نے خسارے اور گھاٹے کا سودا کیا ۔ خسرالدنیا والآخرۃ کی وعید ان ہی کے لیے ہے ۔۔۔یاد رکھو!۔۔۔ چارٹرآف ڈیموکریسی کے نام پرنوازاورزرداری نے مک مکاکیا، ان دونوں نے طے کیا کہ ہم ایک دوسرے کیلئے فرینڈلی اپوزیشن بنیں گے، اس باری مافیا نے ملک کو تباہ کردیا، چارٹرآف ڈیموکریسی ایک دوسرے کو باریاں دینے اور مل کر لوٹنے کا معاہدہ تھا، زرداری اور نواز کو برطانیہ بھیج دیں برطانیہ کا بھی یہی حال کردیں جو پاکستان کا کردیا ہے ،گزشتہ 10 برسوں کے دوران نواز شریف اور زرداری کی کرپشن اور خراب کارکردگی نے غیر ملکی قرضہ 27 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا ہے۔ دونوں نے کرپٹ لوگوں کو ملک کے اہم عہدوں پر بٹھایا کیوں کہ انہوں نے پیسا بنانا تھا تاکہ کوئی انہیں پکڑ نہ سکے، نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے پاکستان میں بجلی اور گیس کی قیمتیں برصغیر میں سب سے زیادہ ہیں، ٹیکس لگے ہوئے ہیں اور ٹیکس اس لیے لگتے ہیں کہ ملک کا قرضہ واپس کرنا ہوتا ہے۔ ان کے بچے کھربوں پتی بن چکے ہیں اور ہماراا ہر پیدا ہونے والا بچہ اس دنیائے رنگ و بو میں جب پہلی سانس لیتا ہے تو ایک لاکھ 70ہزار روپے کا مقروض ہوتا ہے، ظلم تو یہ ہے کہ جب نواز اور زرداری کی کرپشن کے بارے میں بات کی جاتی تو عطائی دانشور کہتے ہیں ’جمہوریت خطرے میں ہے‘۔ جمہوریت کی ڈفلی بجانے والے یہ قومی ڈکیت اور قومی لٹیرے حالانکہ جانتے ہیں کہ ناروے کا وزیراعظم سائیکل پر آفس جاتا ہے، اس کے ساتھ 40 گاڑیوں کا پروٹوکول نہیں ہوتا لیکن یہ نا اہل اور سزایافتہ مجرم بھی ہوجائیں تو ان کے ساتھ بیسیوں سرکاری گاڑیوں کا موٹر کیڈ چلتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستانی عوام کے پیسے لندن میں 16 کمپنیوں میں رکھے اور جب اس بارے ان سے پوچھا گیا تو سوال گندم جواب چنا کے مصداق ان کا کہنا تھا’’ میرے خرچے زیادہ ہیں تو آپ کو اس سے کیا ہے‘۔ جب عام آدمی ان کے اس جواب سے مطمئن نہیں، تو عدالت عظمیٰ اور نیب عدالت کے عزت مآب جج صاحبان انہیں کلین چٹ کیونکر دیتے ۔
ایک کرپٹ لیڈر اپنی چوری بچانے کیلئے پاکستان کو نقصان پہنچا نے کے درپے ہے۔ وہ افواج پاکستان اور عدلیہ کے خلاف بلاتوقف ہذیانی کیفیت میں گجرات کے ہزاروں مسلمانوں کے خون سے کھیلنے والے راکشش مودی کو اپنی نواسی کی شادی پر بغیر ویزے کے جاتی امرہ بلانے اور را کے فنانسر سجن جندال کو اسلام آباد سے بغیر ویزے کے مری بلا کر پر اسرار اور خفیہ ملاقات کرنے اور پاکستان کے حساس ترین ادارے کے ممبئی حملوں میں بین السطور ملوث ہونے کے بھارتی الزام پر مہر تصدیق ثبت کرنے کے الزامات لگاکر پاکستان کا نام گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شامل کرانے کی سازش میں شامل مودی کے یار کی حب الوطنی محب وطن عوام کے نزدیک مشکوک ہوچکی ہے۔ وہ بھارتی ایجنڈے کے تحت پاکستان میں انارکی پھیلانے کے عزمِ مذموم کے ساتھ پاکستان واپس آرہا ہے۔ وہ پرامن شہریوں کو سڑکوں پر لاکر بد امنی پھیلانا چاہتا ہے۔ وہ عوام کو تو کال دے رہا ہے کہ سڑکوں پر نکلو لیکن اپنے بیٹوں کو دعوت نہیں دے رہا کہ وہ بھی پاکستان آکر جلوسوں کی قیادت کریں۔ ایسے میں برہان وانی شہید کا خون شہادت پاکستانی عوام سے اپیل کر رہا ہے کہ محافظِ شہ رگِ پاکستان حافظ سعید کو محض مودی کی خوشنودی کے حصول کے لیے جرمِ بے گناہی میں 10 ماہ قید میں رکھنے والے قومی مجرم کو کیفرِ کردار تک پہنچنے دو ۔ دیکھو اس نے حافظ سعید کو دس ماہ قید میں رکھا اور قانونِ مکافاتِ عمل نے ایون فیلڈ کیس میں اسے 10 برس قید بامشقت سنادی۔


ای پیپر