جمہوریت نہیں،ملوکیت اور موروثیت
09 جولائی 2018 2018-07-09

دو ہفتے بعد الیکشن ہو جانے ہیں ۔ اسمبلیوں میں وہی خاندان ہونگے۔ اکثریت پرانے لوگوں کی ہو گی۔ نئے چہرے ایک چوتھائی بھی نہیں ہونگے، اگر ہونگے بھی تو انہی پرانے سیاسی خاندانوں کے بیٹے ،بھائی ، بھتیجے اور داماد ہوں گے۔ ان الیکشنز کا بھلا قوم کو کیا فائدہ ہوگا ، البتہ اربوں روپے ان الیکشنز کے انعقاد پر خرچ ہو جائیں گے۔ دراصل اس ملک میں سیاست ایک بہت ہی نفع آور کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے کروڑوں روپے درکار ہوتے ہیں لیکن آپ کے مشاہدہ میں ہوگا کہ متوقع جیتنے والی پارٹیوں کے ٹکٹ لینے کے ہزاروں خو اہشمند لاکھوں روپے رشوت (پارٹی فنڈ) دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں ۔ اور دیتے بھی ہیں۔اس قوم کی بدقسمتی ہے کہ قائد اعظم کے بعد اسے کوئی قابل اور بے لوث لیڈر ہی نہ ملا ۔ان کے بعد ایک پڑھے لکھے اور ذہین لیڈر ذوالفقار علی بھٹو ملے تھے جنہوں نے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا آغاز کیا اور اس ملک کو ناقابل تسخیر بنانے کی راہ دکھائی۔
بدقسمتی سے انٹر نیشنل اسٹیبلشمنٹ نے انہیں تختہ دار پر پہنچا دیا۔ان کے بعد آنے والے تمام حکمرانوں پر نظر ڈال لیں سب کے سب خود غرض ، کوتاہ اندیش اور اوسط درجے سے بھی کم صلاحیتوں کے مالک نظر آئیں گے۔ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کے عوام کو اپنے حقوق کی آگاہی دی تھی۔ اس ملک کے مزدوروں اور کاشتکاروں کو سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ و جرات دی تھی۔اس ملک کے غریب مزدور اور کاشتکار انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگے تھے۔ کسی زمانہ میں غریب بستیوں ، کچی آبادیوں اور مزدوروں کی کالونیوں کو پیپلز پارٹی کے ووٹرز کے علاقے کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اس ملک کے واحد لیڈر تھے جن کے لیے غریبوں نے برسرعام کوڑوں کی سزائیں ہنس کر قبول کی تھیں اور خود سوزیاں کی تھیں۔انہی کی محبت تھی کہ جب بے نظیر بھٹو والد کی شہادت کے بعدپہلی دفعہ لاہور آئی تھیں تو لاہور ائیر پورٹ سے لے کر مینارپاکستان تک جہاں انھوں نے جلسہ سے خطاب کرنا تھا انسانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ وہ ایک تاریخی استقبال تھاجسے لوگ آج تک نہیں بھولے۔باپ کی پھانسی کے بعد بے نظیر بھٹونے انتہائی مشکل حالات میں بڑی دلیری سے مارشل لاء کے خلاف تحریک چلائی۔اس ملک کے عوام نے ذوالفقارعلی بھٹو کی محبت اور بے نظیر کی دلیری و استقامت کے پیش نظر اسے اس ملک کی اور دنیائے اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم بنا دیا۔لیکن بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اس کے سرتاج آصف علی زرداری نے ایک وصیت نکال لی۔ جس کی بنا پر انھوں نے اپنے نابالغ بیٹے بلاول کو پیپلز پارٹی کا چئیرمین اور اپنے آپ کو شریک چئیرمین مقرر کا اعلان کر دیا۔ اتنی بڑی پارٹی کے چئیرمین نابالغ اور شریک چئیرمین وہ شخص جسے بی بی نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنی سیاست سے عمداً دور رکھا ہوا تھا۔ آپ پوری دنیا کی سیاسی پارٹیوں کی تاریخ کھنگال لیں آپ کو ایسی ایک بھی نظیر نہیں ملے گی کہ کہیں کسی سیاسی پارٹی کی چئیرمین شپ اور شریک چئیرمین شپ کے عہدے لوگوں کو وصیت کی بنیاد پر عطا ہوئے ہوں۔ یوں یہ کریڈٹ بھی محترم زرداری صاحب کو جاتا ہے کہ انھوں نے کسی سیاسی پارٹی کی چئیرمین شپ کو بھی وراثت کے کھاتے میں ڈلوا دیا۔غریبوں کے ریوڑ اور خودغرض پارٹی لیڈرز نے سب کچھ جانتے بوجھتے سر تسلیم خم کیا۔بے نظیر کی شہادت کے پیش نظر جذباتی قوم نے پیپلز پارٹی کو حکومت دلا دی۔ اگرچہ اس میں انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ اور پرویز مشرف کی احمکانہ حرکتوں کا بھی بڑا رول تھا۔زرداری صاحب نے وصیت کے نتیجہ میں پورے پانچ سا ل اس ملک کی صدارت کو انجوائے کیا اور اب اسی خاندانی وراثت کے تحت اپنے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو اس ملک کا وزیراعظم بنانے کے عزائم لیے ہوئے میدان میں ہیں۔ بیٹے کی پروفائل پر نظر ڈالیں تو سوائے ناتجربہ کاری کے کچھ بھی نظر نہیں آئے گا ہاں ایک بات جلی حروف میں نظر آئیگی ’’ بی بی کا بیٹا ‘‘۔اس ملک کا دوسرا حکمران خاندان( بقول مریم نواز)شریف خاندان تھا جس کی سربراہی نواز شریف کے پاس ہے۔ موصوف نے ابا جی کی خواہش کی تعمیل میں سب سے پہلے اپنے بھائی شہباز شریف ،جن کی سیاست سے شناسائی اپنے بڑے بھائی نواز شریف کی وجہ سے ہوئی ،کو ملک کے سب سے بڑے صوبہ یعنی پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا دیا ۔ محترمی نے مسلسل دس سال اس صوبہ کی وزارت اعلیٰ بلا شرکت غیرے سنبھالے رکھی۔ میاں نواز شریف کو جب سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت پارٹی کی صدارت چھوڑنی پڑی تو انہیں پوری پارٹی میں پارٹی صدارت کے لیے اپنے بھائی شہباز شریف کے سوا کوئی نظر نہ آیا۔ جواباً انہیں یعنی میاں نواز شریف کو تا حیات قائد پارٹی کے عہدے سے نوازا گیا۔ پوری پارٹی نے بحیثیت رعایا سر تسلیم خم کیا ۔میاں نوا شریف جب اپنی وزارت عظمیٰ کا تیسرا دور انجوائے کر رہے تھے تو انہیں اپنی حکمرانی کے وارث کا خیال آیا۔ میاں صاحب کے دو بیٹے ہیں ، دونوں برطانوی شہریت کے حامل ہیں اور لندن میں رہتے ہیں۔پورے خاندان میں سے صرف ان کی بیٹی مریم نواز ہی ہیں جو پاکستان میں بلکہ ان کے پاس ہی جاتی عمرہ میں رہتی ہیں۔ لہذا انھوں نے اسے ہی اپنا جانشین بنانے کی ٹھان لی اور بطور وزیراعظم ان کی groomingشروع ہو گئی۔ پوری جماعت نے سر تسلیم خم کیا لیکن صرف ایک انگلی اس کے خلاف اٹھی جو چوہدری نثار علی خان کی تھی۔ملوکیت میں حکم عدولی کی بڑی سخت سزائیں ہوتی ہیں۔سو انہیں عملی طور پر پارٹی سے فارغ کر دیا گیا۔ ایک طریقے سے ان کی مثال بنا دی گئی۔تو قارئین یہ تو ہے اس ملک کی دو بڑی پارٹیوں کی جمہوریت ۔کیا یہاں آپ کو ملوکیت اور موریثیت نظر نہیں آتی۔آپ ان حکمران خاندانوں کو چھوڑیں پورے ملک میں ہر طرف نظر دوڑا لیںآپ کو ہر طرف ملوکیت اور موریثیت کا دور دورہ نظر آئیگا۔
آپ جس بھی صوبہ ، جس بھی ضلع ، جس بھی شہر میں رہتے ہیں آپ کو ہر طرف حکمران خاندانوں کی ملوکیت اور موروثیت نظر آئیگی۔ جہاں پہلے باپ الیکشن لڑا کرتے تھے اب انہی حلقوں میں ان کی اولادیں الیکشن لڑتی ہیں ۔ آپ کو ان خاندانوں کے اندر ملوکیت والے مسائل بھی نظر آئیں گے۔ وہی خاندانوں کی اندرون خانہ رنجشیں اور سازشیں۔ میں نے پنجاب کے دو اضلاع میں بطور ڈی سی او خدمات سر انجام دی ہیں۔ ایک ضلع حافظ آباد اور دوسرا ضلع رحیم یار خان۔ حافظ آباد ضلع میں بھٹی خاندان کے مہدی حسن بھٹی ایم این اے کا الیکشن لڑا کرتے تھے اور ان کا مقابلہ تارڑ خاندان کے افضل حسین تارڑ سے ہوتا تھا،آج یعنی 2018 ء کے الیکشن میں جبکہ نئی حلقہ بندیوں کے نتیجہ میں حافظ آباد میں ایم این اے کی صرف ایک سیٹ رہ گئی ہے توبھی مقابلہ مہدی حسن بھٹی کے بیٹے شوکت علی بھٹی اور افضل حسین تارڑ کی بیٹی سائرہ افضل تارڑ کے درمیان ہو رہا ہے۔سنا ہے مہدی حسن بھٹی کے بھائی لیاقت عباس بھٹی جو پہلے ایم این اے رہ چکے ہیں اس فیصلہ سے نا خوش ہیں کہ انھوں نے بیٹے کو ترجیح دی اور بھائی کو ignore کیا۔ وہی ملوکیت اور موروثیت والے مسائل۔اسی طرح رحیم یار خان میں بھی باپوں کی جگہ اولادیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں ۔ کئی حلقوں میں تو پورا پورا خاندان الیکشن میں حصہ لے رہا ہے۔مثلاً مخدوم احمد محمود سابق گورنر پنجاب کے بیٹے مخدوم مرتضیٰ محمود ایم این اے کی دو سیٹوں سے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں ۔ اسی طرح ان کا کزن یعنی مخدوم اکبر محمود کا بیٹا عثمان محمود ایم پی اے کی دو سیٹوں سے الیکشن لڑ رہا ہے ۔ رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور جہاں سے احمد عالم انور ایم این اے کا الیکشن لڑا کرتے تھے اسی سیٹ سے اب ان کا بیٹا مبین عالم پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر مقابلہ کریں گے اور ساتھ ہی ان کے بھتیجے مسعود عالم صوبائی سیٹ کے لیے مقابلہ کریں گے۔یہ ہے اس ملک کی جمہوریت ۔ کیا دنیا کے کسی جمہوری ملک میں ایسا ہو رہا ہے ۔ سعودیہ اور متحدہ عرب امارات ہی میں نہیں پاکستان میں بھی ملوکیت اور موروثیت ہے ۔ اس فراڈ نظام میں بھی آپ کو حالات کے بہتر ہونے کی امیدیں تو اللہ آپ پہ اپنا رحم فرمائے۔


ای پیپر