اعتماد کا فقدان اور ٹرک کی بتی

09 جولائی 2018

آصف عنایت

وطن عزیز میں انتخابی سرگرمیاں زور شور پر ہیں ۔ دعوے، نعرے، وعدے مسائل سے زیادہ ہیں۔ پیپلزپارٹی کی دس سال سندھ میں حکومت رہی۔ پہلے 5 سال وفاق میں حکومت قائم رکھنے کے لیے صوبے میں بلیک میل ہوتی رہی۔ اگلے 5 سال اس کے آئی جی پولیس کو عدلیہ تعینات کرتی رہی۔ انتظامی اختیارات رینجرز کے پاس رہے۔ ان برستی ہوئی ڈانگوں میں بھی کرپشن پر ہاتھ صاف کرنے والے لمحہ بھر نہ اونگھے، 24 گھنٹے جاگتے اور چوکنے رہے۔ البتہ جو ہسپتال ، سکول ، یونیورسٹیاں اور دیگر عوامی فلاح کے کام کیے اُن کے اشتہارات نہ دے سکے۔ اب بلاول کو بتانا پڑ رہا ہے کہ اس کی حکومت نے کیا کیا ۔ کے پی کے میں شاید نئی اینٹ تک نہیں لگائی گئی۔ پولیس کی کارکردگی یہ ہے کہ ایبٹ آباد میں داخل ہوتے ہی تین گھنٹے ٹریفک جام کی سلامی روزانہ کا معمول ہے۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی قیادت یوں بات کرتے ہیں گویا وہ حکومت نہیں 5 سال اپوزیشن میں رہے ہوں۔ تقریروں میں پولیس بہتر ہوئی، تقریروں میں درخت لگے ویسے دیکھا جائے تو خیبر پختونخوا میں پہلے سے ہی رشوت اور کرپشن پنجاب اور سندھ کی نسبت کم رہی ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ بہت سے جرائم وہاں کا روزگار ہے جسے قانونی زبان میں سمگلنگ، چرس فروشی اور غیر قانونی اسلحہ فروشی کہا جاتا ہے۔ وہاں کی معاشرت اس کو خلاف قانون نہیں بلکہ جائز کام سمجھتی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ پنجاب کی ترقی اور لاہور کی ترقی اشتہارات میں بھی تھی اور ویسے بھی نظر آتی تھی۔ بلوچستان کی تو گنگا ہی الگ بہتی ہے۔ زرداری طریقۂ حکومت مدت تو پوری کرا دیتا ہے کہ سب کو حکومت میں رکھیں اور سب اپوزیشن میں بھی رہیں تاکہ آئندہ انتخابات میں اپوزیشن میں رہنے کا رونا رویا جائے تاکہ حکومت میں رہنے کا حساب نہ دینا پڑے۔ مجموعی طور پر فرد سے لے کر سیاسی و مذہبی جماعت تک اعتماد کے فقدان کی اخیر ہو گئی۔ پٹرول پمپ پر پٹرول ڈلوانے کھڑے ہوں تو پٹرول ڈالنے والا گاڑی کے شیشے توڑنے کے در پے ہوتا ہے کہ میٹر چیک کر لیں کیونکہ اس پر اعتماد نہیں اور اس کو بھی پتا ہے کہ اس پر کسی کو اعتماد نہیں حالانکہ گڑ بڑ تو ملاوٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔ پٹرول پمپ کے ملازم سے لے کر بلڈنگ کے بڑے کنٹریکٹر تک پر کسی کو کوئی اعتماد نہیں۔ سوسے زائد ٹی وی چینلز ہیں مگر لوگوں کو کسی پر اعتماد نہیں، سیاسی جماعتیں مسلک کی طرح ہیں ۔ زنا ، شراب، ذاتی مسائل، کسی پر کرپشن ثابت ہو تو عدالت پر اعتماد نہیں، کوئی 12 سال جیل کاٹ بھی چکا اُس کی بریت اس کی بے گناہی کی سند نہیں، مذہبی جماعتوں کے سربراہ اور دیگر مذہبی لوگ اگر شناختی کارڈ کے خانہ یا جہاں ضرورت پڑے اپنے پیشے کے سامنے کاروبار کی جگہ پر مذہب بطور پیشہ لکھ دیں تو سمجھنے والے کو آسانی ہو گی، پہلے تو تھا کہ گھر کا کھانا ٹھیک ہے اور بازار کا خراب اب گھر میں گوشت لے کر آئیں تو اعتبار نہیں، مرغی مردہ تھی یا ذبح کی گئی ہوئی ہے۔ گوشت بکرے کا ہی ہے یا گدھے کا ۔ گوشت ذبح شدہ جانور کا ہے یا مردار کا ۔ ہلدی ، مرچ، چائے میں دودھ ادویات حتیٰ کہ پانی تک کے خالص ہونے کا کسی کو اعتماد نہیں۔ اس بے اعتماد کے ماحول اور معاشرت میں کون کسی پر اعتماد کرے لہٰذا اعتماد کے فقدان میں سیاستدان اب وعدوں کے ساتھ دوسروں پر الزامات کی بھر مار رکھتے ہیں۔ سیاستدان تو اگر چھوٹے قد والے سے ووٹ مانگے تو اس کا قد اونچا کرنے کے وعدے سے بھی گریز نہیں کرتے، پارٹی کے امیج کی وجہ سے بلاول اوردیگر وعدے تو کرتے ہیں کرپشن کے متعلق بات کرنے سے شاید اس لیے گریز کرتے ہیں کہ ان کے لوگوں نے اس حوالے سے بہت ظلم کیا۔ نواز شریف کی اہلیہ بیمار تھیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت دے مگر افسوس کہ یہ وقت آگیا کہ لوگ بیماری پر بھی اعتماد نہیں کرتے۔ اس کی وجہ ہے کہ 1977ء سے لے کر اب تک حکمران طبقوں اور حکمرانی کے فیصلے کرنے والوں نے قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا رکھا ہے۔ قومی اعتماد نظام مصطفی کی بجائے ضیاء کے 11 سال دے گیا اس کے بعد آئین میں صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیارات نے قوم کے 10 سال ضائع کر دیے پھر لیڈر شپ کے لیے عدلیہ کا انتخاب کر لیا گیا کسی محکمہ کا کلرک اتنی آسانی سے نوکری سے نہیں نکلتا جس آسانی کے ساتھ وزیراعظم وزیراعظم ہاؤس سے نکالے گئے۔ جج نہیں فیصلے بولا کرتے تھے۔ اب جج خاموش نہیں رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز اعتماد کی دولت سے محروم ہو گیا۔ اب تبدیلی کا نعرہ دینے والوں نے اپنی 90 فیصد پارٹی ہی تبدیل کر دی۔ پیپلزپارٹی کے سرخیل اپنے آپ کو بچانے کے لیے پی پی پی کے ٹکٹ حتیٰ کہ اعتزاز احسن جیسے تو آزاد بھی الیکشن نہیں لڑ رہے جب تک پارٹی میں زور تھا یہ اس کے زور کو اپنا زور اور شخصیت کی طاقت ظاہر کرتے رہے۔ آج بی بی کی شہادت کی وجہ سے بی بی تو امر ہو گئیں مگر وٹو، اعتزاز احسن دیگر ایسے قد آور لوگ لحد میں اتر گئے ۔ اب بلاول کو نئے لوگوں اور نئی نسل سے رابطہ کرنا ہے ۔ز رداری صاحب کے خلاف بھٹو مخالف اور پیپلزپارٹی مخالف قوتوں کے پروپیگنڈہ اور کچھ حقیقتیں ہونے کی وجہ سے شاید بی بی شہید بھی اُن کا سیاسی بوجھ اٹھانے سے معذرت خواہ اور بے بس تھیں جبھی تو 2008ء کے انتخابات میں ایک بھی ٹکٹ جناب زرداری کے کہنے پر نہ دیا گیا کیونکہ مخالفین اور اسٹیبلشمنٹ نے زرداری کے خلاف اتنا پروپیگنڈہ کیا کہ 12 سال جیل بھی اس کا ازالہ نہ کر سکی، عدالتوں سے بریت بھی بے معنی ہو گئی موصوف نے بھی کبھی امیج درست کرنے کے لیے مخالفین کے خلاف چار حرف تک نہ بولے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج قوم کلی طور پر قیادت سے محروم ہو چکی ہے یا کم از کم اعتماد نہیں کرتی۔ عزیز ہم وطنوں ٹرک کی جس بتی کے پیچھے اب آپ بھاگ رہے ہو، شاید اس ٹرک کی فرنٹ سیٹ پر عمران ، چوہدری نثار، آزاد اور ہمنوا بیٹھے ہیں۔ نواز کے ساتھ کچھ بھی ہو مگر انتخاب منصفانہ ہونا چاہیے ورنہ صورت حال اور بھی ابتر ہو گی۔

مزیدخبریں