اقتدار؛ کانٹوں کا بستر !
09 جولائی 2018 2018-07-09

تحریک انصاف کے حامیوں کو لگتا ہے شریف خاندان کا سیاسی سفینہ ڈوب چکا ہے اور جو رہا سہا حصہ ہے وہ بھی ڈوب جائے گا اور عمران خان کا دور حکومت شروع ہونے کو ہے۔ گویا تبدیلی بس آئی کہ آئی اور اب کوئی مقابل نہیں دور دور تک۔ عمران خان کی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد کا اگرچہ بہترین وقت چل رہا ہے لیکن اقتدار حاصل کرنے کے لیے اہم ترین مرحلہ انتخابات میں واضح اکثریت ابھی باقی ہے۔ اگر اقتدار ملا مگر دو چار کاندھوں اور ایک آدھ بیساکھی کے ساتھ ملا تو مشکلات گھمبیر تر ہوں گی یا پھر سنجرانی جیسا یا کوئی جیپ سوار خان صاحب کو فرنٹ سیٹ پر بٹھانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ البتہ اس حقیقت سے عمران خان کا کوئی بدترین دشمن بھی انکار نہیں کر سکتا کہ آئندہ انتخابات کے بعد قومی اسمبلی میں عمران خان کی جماعت پہلے سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوگی۔
اگر عمران خان کسی نہ کسی طرح اقتدار سنبھالتے ہیں تو خان صاحب کے بلند بانگ دعوے ان کی مقبولیت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوں گے۔ سب سے پہلے تو انھیں قابل اور تجربہ کار ٹیم کی ضرورت پڑے گی۔ جن حضرات کو ٹکٹ نہیں ملا خان صاحب ان سے ملنے سے کترانے لگے ہیں تو پھر جن کو وزارتیں نہ ملیں ان سے کترانے کی پالیسی رکھی تو شریف برادران اور عمران خان میں کیا فرق رہ جائے گا۔ شریف خاندان کا بھی مسئلہ یہی ہے کہ وہ عام ورکر تو دور کی بات ، خاص لیڈرز کے سوا کسی سے نہیں ملتے۔ رہ گئی بات اقتدار ملنے پر حکومت کے لیے سامنے کھڑے اژدھوں جیسے بڑے مسائل کا تو لنگڑا پہاڑ کی چوٹی سر کر سکتا ہے عام حکومت ان مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔
آئندہ حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے انسانوں کے اس بے ہنگم ہجوم کو ایک قومی سوچ دے کر اپنے حالات کی درستگی کے لیے راضی کرنا۔ یاد رہے لیڈر کچھ نہیں کر سکتا اگر اقتدار میں آکر وہ محض انتظامی و انتقامی امور پر توجہ دے۔ لیڈر کو عوام میں تبدیلی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے عوام کی اجتماعی سوچ سے زیادہ ایک فرد کی زاتی سوچ بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے تبھی معاشرے معاشی بدحالی سے نکل کر فلاحی ریاست کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس وقت ن لیگ اور تحریک انصاف عوام میں گہرا اثر رکھتے ہیں۔ ن لیگ کی لیڈرشپ تو کرپشن کے الزامات اور جیل کی سزاوں کی زد میں ہے۔ سزا غلط کے درست فیصلہ تاریخ کرے گی مگر حال تکلیف دہ ہے اورمستقبل قریب میں نواز شریف اور مریم نواز کے لیے اچھی خبریں آتی دکھائی نہیں دے رہیں۔ رہ گئی بات تحریک انصاف کی تو اسے عوام میں اس مقبولیت کو قائم رکھنے کے لیے ن لیگ کی حکومت سے زیادہ کام کرنا ہوگا۔ ن لیگ کے دور حکومت میں امن و امان کا مسئلہ بہت حد تک درست ہوا ہے فوج کو اس کا کریڈٹ دینا درست ہے لیکن ن لیگ کی حکومت کو امن و امان قائم کرنے کے اس عمل سے الگ کرکے دیکھنا زیادتی ہوگی۔ اگرچہ لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوا مگر یہ حقیقت ہے کہ لوڈشیڈنگ پانچ سالوں میں کافی حد تک کم ہوئی ہے اور اگر ہماری رائے زنی کو طرفداری کے شبے میں نہ ڈالا جائے تو آپ شہباز شریف کی ترجیحات سے اختلاف کر سکتے ہیں ماڈل ٹاون سانحے کا قضیہ بھی کھلنا باقی ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ شہباز شریف کی حکومت نے جن بھی ترجیحات کے تحت کام کیا صوبے میں ترقیاتی کام باقی صوبوں کی نسبت زیادہ ہوئے۔ مختصراً یہ کہ عمران خان کی حکومت قائم ہوتی ہے تو پنجاب حکومت کی گزشتہ کارکردگی ایک بڑا چیلنج ہوگا جو تحریک انصاف کی دروں خانہ بڑھتی ہوئی چپقلش میں اور بھی زیادہ نمایاں ہوتا دکھائی دیتا ہے
ہجوم کو قوم بنانے کا سفر شروع کرنے کے لیے مسلکی سیاست اور لسانی مخاصمت کو ختم کرنے کے لیے ملک میں وہ سیاسی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کسی پیر یا مولانا کے مسلکی نعرے کے نیچے آکر ووٹ دینے کی بجائے اپنے شعور و آگہی کے مطابق ووٹ دیں۔ جانوروں کے ان ریوڑوں کو اللہ نے قرآن دیا ہے اور انھوں نے مسالک اور لسانیت میں بٹ کر پاکستان کو بانٹ دیا ہے تبھی جس کا جی چاہتا ہے مارشل لاء لگادیتا ہے اور جس کا جی چاہتا ہے کرپشن سے ملکی معیشت کو کنگال کردیتا ہے لیکن اگر بے بس ہیں تو عوام۔ اور بے بس عوام میں جب مایوسی پھیل جائے تو افیمی چینیوں سے بھی زیادہ دیر میں بیدار ہوتی ہے۔
اگر آئندہ حکومت نے عوام میں سیاسی شعور کی بیداری تعلیم اور انقلابی بنیادوں پر لاء اینڈ آرڈر درست رکھنے والی پولیس کا نظام قائم نہ کیا تو تحریک انصاف کا پیپلز پارٹی سے بھی برا حشر ہوگا۔
عوام میں شعور کی بیداری ایک صبر آزما کام ہے لیکن حکومت قائم ہوتے ہی پاکستانی معیشت کی ناگفتہ بہ حالت سب سے بڑے چیلنج کے طور پر تیار ہے۔ روٹی کو بابا فرید اسلام کا چھٹا رکن بتا گئے ہیں۔ ان کے در پر حاضری دی ہے تو ان کے ارشادات کے مطابق عوام کے لیے گنجائش نکالنا ہوگی۔ ہماری انڈسٹری تباہی کی کئی منازل طے کر چکی درآمدات کا طوفان ہے اور برآمدات ندارد ، جو بچہ آسودہ حالی یا غیرمعمولی محنت سے پڑھ لکھ جائے وہ ملک چھوڑ کر جانے پر مجبور ہوجاتا ہے کیونکہ ملک میں اس کی ٹانگ کھینچنے والے مگر مچھ زیادہ ہیں اور اس کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر عزت نفس کے ساتھ اس کی قدر کرنے والے ناپید۔ واضح رہے ملکی معیشت درست کرنا ورلڈ کپ جیتنے اور سیاست میں اپنا اعلیٰ مقام بنانے سے مشکل کام ہے ۔
عمومی طور پر پوری دنیا میں مگر خصوصی طور پر جس خطے پر ہم رہتے ہیں یہاں پانی کے شدید مسائل ہیں۔ اس سے پہلے کہ حالات مزید بگڑیں ہمارے ہمسایہ ممالک نے اس پر جنگی بنیادوں پر کام کیا ہے ہندوستان نے تو ننگ وطن جماعت علی شاہ جیسے قبیح کرداروں کو ساتھ ملا کر پاکستان کے پانیوں پر ڈیم بنا ڈالے ہیں۔ آئندہ حکومت کے لیے محدود وسائل میں اس مسئلے کو حل کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہوگا۔ لیکن پانی کے مسئلے کو حل کئے بغیر نہ زراعت ٹھیک ہوگی نہ گاؤں کا کسان اور نہ شہر کا بھکاری نما غریب انسان جس کے لیے صاف پانی کی دستیابی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
اگرچہ میاں صاحبان کی کرپشن پر سزاؤں سے ن لیگی کارکنان کو کئی شبہات ہیں لیکن یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ آئندہ حکومت کے پاس ایک موقع ہے کہ احتساب کے اس عمل کو نچلی سطح تک لے جائے احتساب کے اداروں کا راستہ نہ روکے اور کرپشن میں کمی سے جو سرمایہ قومی خزانے میں شامل ہو اس سے انقلابی کام سرانجام دے۔
اگرچہ محدود تحریر کا دامن آئندہ حکومت کے لیے چند ایک بڑے چیلنجز بیان کرنے کی ہی اجازت دیتا ہے لیکن آخر میں انتہائی اہم نقطہ بیان کرنا یہ ضروری ہے کہ عمران خان کو یہ تاثر زائل کرنا ہوگا کہ وہ محض مقتدر حلقوں یعنی فوج کے آلہ کار نہیں ہیں بلکہ وہ ایک عوامی لیڈر ہیں جس کی حکومت میں عوام کی بالادستی ہر خاص و عام پر برابر ہے۔


ای پیپر