لاہور کے دوقومی حلقے تحریک انصاف کا قلعہ بن چکے ہیں
09 جولائی 2018 2018-07-09

میرے لیے یہ حیرت کی بات نہیں کہ مسلم لیگ نون زوال پزیر ہے کہ اس سے پہلے میں پنجاب میں پیپلز پارٹی کے زوال کابھی چشم دید گواہ ہوں ۔ دونوں کے زوال کی وجہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ ایک ہی ہے ۔نواز شریف بزنس مین تھا سیاستدان نہیں اُس نے بزنس کو سیاست کی طرح کیا جبکہ محترمہ بے نظیر بے سیاستدان تھیں انہوں نے سیاست کو بزنس کی طرح کرنے کی کوشش کی اور دونوں کو ایک ہی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا یعنی بدترین کرپشن نے ملکی معیشت تباہ وبرباد کردی اور سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ قوم کو اللہ نے عمران خان عطا کردیا جو اینٹی کرپشن موومنٹ لے کر میدان میں آ گیا اور اُس نے پاکستان کے بچے بچے کو سمجھا دیا کہ کرپشن کیا ہوتی ہے اور اِس کے نتیجہ میں سماج میں کون کون سے محرومی اورجرم جنم لیتے ہیں ۔ذوالفقار علی بھٹو کبھی کامیاب نہ ہوتا اگر قائد اعظم کے وارث اور اقبال کے شاہین عوام کو ڈلیور کرنے کی کوئی کوشش سنجیدگی سے کرتے ۔بھٹو زیادہ کامیاب ہوتا اگر وہ اپنے طبقے کے بجائے اُنہیں طبقات پر اعتماد کرتا جو اُسے اقتدار میں لائے تھے ۔جنرل ضیاع الحق سے کوئی گلہ نہیں کہ وہ 73 ء کے آئین کا پہلا باغی اور آئین کے مطابق غدار تھا اُس کا ایجنڈا روس کو ٹکرے کرنا تھا جس کیلئے اُس نے پاکستان کا کلچر تک تبدیل کر کے رکھ دیا ۔ضیاع الحق کے جنازے میں سنا ہے 10 لاکھ انسان تھے اب کوئی نہیں جاتا بھٹو کے جنازے میں دس انسان تھے اب اللہ نے اُس کی

قبر کو روشن کردیا ہے ۔اُس نے احمدیوں کو کافر قرار دیا تو متفقہ علیہ عاشق رسولؐ قرار پایا اور بعد ازاں اذیت ناک موت سے دوچار کردیا گیا نواز شریف نے مرزائیوں کو مسلمان کرنے کی کوشش کی لیکن خیر و عافیت اپنے خاندان سمیت لاہور کی سڑکوں پر گھومتا رہا ۔المیہ یہ ہے کہ میں آج تک اُن قوتوں کو تلاش نہیں کر پایا جو عاشق اور کافر کے رتبہ پر فائز کرتے ہیں ۔

اب جو لوگ عمران خان پر اسٹبلشمنٹ کا مہرہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں اُن دانشوروں سے کوئی یہ پوچھے کہ جناب کرپشن کا مشورہ نواز شریف کوفوج نے دیا تھا ؟منی لانڈرنگ جس کا سلسلہ میاں شریف سے جا ملتا ہے کیا بیوروکریسی کے مشورے اور پاکستان کے قانون میں ترمیم کرکے کے کی گئی تھی ؟ کیا بیرون ملک جائیدادیں بنانے کا مشورہ نواز شریف کو کسی چیف جسٹس نے دیا تھا ؟ کیاخلف نامہ کو تبدیل کرنے کا مشورہ کسی آل پارٹی کانفرنس میں ہوا تھا ؟ کیا پاکستانی عوام کی بنیادی ضرورتوں کو نظر انداز کرکے میگا پروجیکٹ کی پلاننگ میں عوامی مرضی و منشا شامل تھی یا اس کا مقصد صرف اور صرف کرپشن تھا ؟ اورنج ٹرین جیسے 10 سالہ منصوبوں کو 5 سالوں میں مکمل کرنے کی بیوقوفی نے جہاں لاہویوں کی زندگی عذاب کی وہاں پنجاب بھر میں اہلِ لاہور کو بدنام کروایا اور دوسرے کاموں کیلئے پڑا عوامی روپیہ بھی اس منصوبے پرغارت کردیا اور دوسرے اضلاع میں لاہور کے خلاف نفرت کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ٗ میاں صاحب کیا یہ سب کچھ آپ نے اپنی آزاد مرضی سے کیا یا اسی کے پیچھے بھی کسی ادارے کی ’’سازش‘‘ تھی ؟ 56 کمپنیاں بنا کر ریاستی اداروں کے مد مقابل کھڑا کرنا کیا آپ کے ذہن کے اختراع تھی یا اس کے پیچھے بھی کوئی خلائی مخلوق کھڑی تھی ؟پاکستان کو قرضوں کی دلدل میں اتارنے کا پروگرام کس کا تھا یہ آج تک آپ نے عوام کو نہیں بتایا لیکن آپ کے افواج پاکستان کے خلاف بیانات نے پاکستان کو معیشت کی گرے لسٹ میں ڈال دیا ہے جہاں سے بلیک ہونے کا فاصلہ زیادہ نہیں لیکن آپ 18 کروڑ عوام کو اُن کے حال پر چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں ۔آپ اپنے آبائی حلقے سے بھی مفررو ہوچکے ہیں اوروہاں ایک لاوارث امیدوار لا کھڑا

کیا ہے گو کہ اُس کی کمپین پر نون لیگ کی ہی انوسٹمنٹ ہو گی لیکن سوال تو یہ ہے کہ آپ کی دختر نیک اختر اُس آبائی حلقہ کو خیر باد کہہ چکی ہے اور بدحواسی یاآ پ کے احترام کا یہ عالم ہے کہ کسی نے مریم نواز صاحب کہ کاغذات بھی واپس لینے کی یا تو جرات نہیں کی یا پھر احتراماً اُنہیں تبرکن این۔اے 125 میں رہنے دیا گیا ہے اورانہیں انتخابی نشان پنسل الاٹ کروادیا گیا ہے ۔

الیکشن ایک بار پھر شروع ہو چکا وعدوں اور نت نئے ڈراموں کا ایک سلسلہ پھر شروع ہو چکا ؟ تحریک انصاف پہلی بار آغاز میں ہی این ۔ اے 131 اور این ۔ اے 129 کا معرکہ سر کر چکی ہے ۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ اس بار اِن دونوں نشیستوں پر نون لیگی امیدواروں کا مقابلہ عبد العلیم خان سے ہے کیونکہ این ۔اے 131 چیئرمین تحریک انصاف کا انتخابی حلقہ ہے اور اس کی تمام نگہبانی عبد العلیم خان کے سپرد ہے اور وہ الیکشن لڑنا اور لڑوانا خوب جانتا ہے ۔این ۔ اے 131 میں چیئرمین تحریک انصاف کے مدمقابل خواجہ سعدرفیق ہے جس کی باڈی لینگوئج اُس کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہی ۔ اُس کے الفاظ سے کرپشن پھوٹ پھو ٹ کر اُس کا بھانڈا پھوڑ رہی ہے ۔بھلا وہ چیئرمین تحریک انصاف جیسے دیانت دار انسان کا مقابلہ کرنے کی تاب کہاں رکھتا ہے رہی سہی کسر عبد العلیم خان نے پوری کردینی ہے کہ وہ پہلے ہی اُس سے خوفزدہ ہے اور جانتا ہے کہ اس بار اُس کے مقابل کوئی تر نوالہ نہیں ۔این ۔ اے 129 سے عبد العلیم خان خود امیدوار ہیں اورضمنی الیکشن میں سردار ایاز تمام تر وسائل ٗ ریاستی مشینری ٗ وزیروں اور مشیروں کی فوج اور چیئرمینوں اورکونسلروں کی ٹکٹوں کے طلبگاروں کے باوجود صرف 2443 ووٹوں سے جیت سکا جب کہ سب کچھ انہیں کا تھا اوراُس وقت خلائی مخلوق اگر کوئی ہے تو وہ بھی سردار ایاز کی معاون و مدد گار ہوگی ۔ اِن تمام سہولتوں کے باوجود سردار ایاز شرمندگی کے ساتھ جیت گیا لیکن اب حقائق اُس کے سامنے ہیں ۔ سردار ایاز کو میں اُس زمانے سے جانتا ہوں جب وہ تحریک انصاف کا حصہ تھے اور عمران خان کے ابتدائی ساتھیوں میں شامل بھی بلکہ اُن کے ایک بھائی نے تو 1997 ء کا انتخاب تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے لڑا ۔ سردار ایاز اپنے حلقے کی ٹوٹ پھوٹ کا رونا روتے نظر آ رہے ہیں ۔ مجھے حیرت ہے کہ وہ مایوسی کو گناہ سمجھتے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ قرآن کے مطابق مایوسی کفر ہے اوراللہ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس ہوا کرتا ہے ۔ بطور سپیکر سردار ایاز کی کارکردگی خود لا تعداد گناہوں کا مجموعہ رہا ہے لیکن وہ حلقوں کی تبدیلی کو گناہ تصور کرتے ہیں لیکن قومی خزانہ لوٹنے والوں کا ساتھ دینے کو گناہ تصورنہیں کرتے ۔ عبد العلیم خان تحریک انصاف لاہور کا واحد امیدوار ہے جس کی کمپین بھرپور طریقے سے چل رہی ہے جو ہمیں پرنٹ میڈیا سے لے کر الیکٹرونک میڈیا دکھائی دے رہی ہے ۔ وہ عام آدمیوں میں گھل مل جانے کی خداداد صلاحیت رکھتا ہے ۔عبدالعلیم کے مسکراتے چہرے پرہمیشہ ایک فاتحانہ مسکراہٹ ہوتی ہے لیکن الیکشن کے قریب آ کر اس مسکراہٹ میں ایک معنویت بھی دکھائی دے رہی ہے ۔پہلی بار تحریک انصاف کی تاریخ میں لاہور کی دو نشیستوں کا فیصلہ الیکشن سے پہلے آ چکا ہے کہ یہاں آنے والے دنوں میں مقابلہ یکطرفہ ہو جائے گا ۔این ۔ اے 131 اور این -اے 129 کے در و دیوار الیکشن میٹریل سے سج چکے ۔ کارنر میٹنگ جلسوں کا روپ دھار رہی ہیں ٗ لوگ جوق در جوق تحریک انصاف کا حصہ بن رہے ہیں ۔ان حلقوں سے فتح کی خبر لاہور کے دوسرے حلقو ں پر تحریک انصاف کی کمپین پر مثبت اثر ات مرتب کرئے گی ۔ دوسری طرف نون لیگ کی طرف سے الیکشن بائیکاٹ کی افواہیں اسے مزید ڈی مورالائیز کر رہی ہے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب ’’دخترِ مشرق ‘‘ میں لکھا ہے کہ 1985 ء کے انتخابات کا بائیکاٹ میری بڑی سیاسی غلطی تھی یہی غلطی 2008 ء میں تحریک انصاف بھی کرچکی ہے لیکن ہر شخص عمران خان کی طرح خوش قسمت اورسب کے پیچھے عظیم بھٹو کا بے گناہ قتل کھڑا نہیں ہوتا کہ اُسے اقتدار میں واپس لے آئے ۔ اگر نون لیگ نے بائیکاٹ کی کوئی حماقت کی توپاکستان سے نون لیگ نامی جماعت ذہنوں سے بھی محو ہو جائے گی کہ سیاست کے میدان سے باہر جانے کا مطلب انتہائی خوفناک سیاسی مستقبل ہوتا ہے جس کی متحمل موجودہ حالات میں نون لیگ کسی صورت بھی نہیں ہوسکتی۔


ای پیپر