پنجاب کے گھبرو جوان کہاں کھو گئے؟
09 جولائی 2018 2018-07-09

وسطی پنجاب کے ایک گاؤں میں دودھ کے کاروبار سے منسلک ایک مشہور ملٹی نیشنل کمپنی کے تعاون سے ایک چھوٹی سی تقریب منعقد کی گئی۔ کمپنی کے منیجر نے دودھ کے نئے کولیکشن سنٹر جس میں مِلک چلر(Chiller) کی سہولت بھی دستیاب تھی کا افتتاح کرتے ہوئے حاضرین محفل کو مبارکباد دی کہ کمپنی نے اس سنٹر کا آغاز کر کے اس گاؤں کے کسانوں کو اپنے مویشیوں کا دودھ مناسب قیمت پر بیچنے کی نئی اور بہتر سہولت مہیا کردی ہے۔ جس سے ان کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا اور علاقے سے غربت کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

اس سنٹر کے کھلنے سے کسان خوشحال ہوگا یا نہیں؟ اس کی معاشی حالت بہتر ہوگی یا نہیں؟ اور یہ خوشحالی کس قیمت پر اُس کو میسر آئے گی ؟ اور کیا گنوا کر یہ کیا پائے گا؟یہ سب ا مور بحث طلب ہیں۔

منیجر کے ساتھ اس کا ایک پرانا دوست بھی تھا ۔ جس نے عرصہ دراز سے امریکہ کی شہریت لے رکھی تھی اور کبھی کبھار کچھ سالوں کے بعد اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے پوش علاقوں میں رہائش پذیر اپنے عزیزوں کو ملنے آتا تھا۔ پنجاب کے دیہی علاقوں کو 35 سال بعد دوبارہ دیکھنے کا شوق اسے اس گاؤں میں کھینچ لایا۔ لیکن گاؤں کے جوان مردوں کو دیکھ کر وہ مسلسل رنجیدگی اور صدمے کی کیفیت میں تھا۔ اکثریت کے کمزور اور پچکے ہوئے چہرے، مریل جسم، اوسط سے کم قداورپژ مردہ شکلیں۔ وہ حیران و پریشان تھا کہ پنجاب کے گبھرو جوان کہا ں گم ہوگئے جن کا تذکرہ ہر سو ہوتا تھا ؟ وہ فلموں میں پیش کردہ ہیر کے رانجھے کہاں کھوگئے جن کو تخیّل میں لاتے ہی ایک چھ فٹ کے کڑیل جوان کا تصور ذہن میں ابھرتا تھا؟۔ جس کی صحت ، قد و قامت اورجثّہ کو دیکھ کر رشک آتا تھا۔ جب یہ لاہور اور کراچی کا سفر کرتے تھے تو دور سے پہچانے جاتے تھے۔یہ وہ جوان تھے جن کی وجہ سے پنجاب کو سخت جانی ، صحت اور تندرستی کا استعارہ سمجھا جاتا تھا۔ اس کے ذہن میں یہ سوال مسلسل گردش کر رہا تھا کہ یہ تبدیلی کیوں کر آئی ؟ اور کیسے اتنے محدود سالوں میں سب کچھ تبدیل ہو گیا؟ یہ سوال صرف امریکہ میں رہنے والے اُس شخص کو ہی نہیں بلکہ لاکھوں دوسرے پنجاب کے باسیوں کو بھی پریشان کرتا ہے کہ ایسا کیوں کرہوا؟ اور کیسے ہوا؟

اصل حقیقت کو جاننے کے لیے کسی سائینٹفیک سٹڈی (Scientific Study) کی ضرورت نہیں۔ کچھ چیزیں روز مرّہ کے مشاہدہ سے روز روشن کی طرح عیاّں ہیں اور اس کے لئے ماضی کے دریچیوں میں بہت دور تک جھانکے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ 1980ء کی دہائی سے شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ پنجاب کے دیہات میں بھی معاشرتی و سماجی تبدیلیوں کا ایک لامتناہی اور تیز تر سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ یہ تبدیلیا ں در حقیقت سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی ایجادات اور نئی مصنوعات کی آمد کا شاخسانہ تھیں۔ ان کی وجہ سے دیہات کے غریب اور نچلے متوسط طبقہ کے ماہانہ بجٹ میں کچھ ایسی نئی چیزیں شامل ہوگئیں جن کا پہلے کبھی تذکرہ بھی نہ تھا۔دیہات میں بیوٹی سوپ اور پھر شیمپو ، پنکھے اور کولر کا استعمال، بچوں کے لئے پرائیویٹ سکول اور ٹیوشن کا رجحان، ٹی وی اور ڈش انٹینا، بجلی کے بل اور اب ماضی قریب میں موٹر سائیکل، انٹر نیٹ ، کیبل اور موبائل فون عام آدمی کی زندگی کا حصہ بنتے گئے اور اس فہرست میں ہر نئے سال کے ساتھ مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ ایک طرف ان سب کی وجہ سے دیہات میں گھریلو اخرجات بڑھے۔ دوسری طرف آبادی میں مسلسل اضافہ سے 90% سے زائد زرعی فارم چند ایکڑ (12ایکڑ سے کم) تک محدود ہوکر رہ گئے۔مجبوراََ لوگوں کو اپنی آمدن بڑھانے کے لئے نئے ذرائع کی تلاش ہوئی۔

دیہات میں دودھ کے لئے مویشی پالنا ایک پرانی روایت تھی ۔امیرو غریب، مزدور یا مزارعہ، ہر کوئی کم از کم ایک یا دو مویشی پالنا اپنے لئے ضروری تصور کرتا تھا۔ دیہاتی معاشرت کے لازمی جزوہونے کے ناطے دیہات میں دودھ پہلے سے موجود تھا، اس پر دودھ کی بڑی بڑی کمپنیوں نے گاؤں کی سطح پر اپنے خریداری مراکز کھولنا شروع کر دئے۔ جہاں یہ نہ پہنچ سکے وہاں گوالے ا ور دودھ کے ٹھیکیداروں نے اپنے پنجے گاڑ دئے ۔ نتیجتاً دودھ کی خریدو فروخت کی مارکیٹ آہستہ آہستہ پھلتی پھولتی اور ترویج پاتی گئی۔بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے پہلے اپنی ضرورت سے زائد اور پھر اپنی ضرورت کو بالائے طاق رکھ کر د یہاتیوں نے زیادہ سے زیادہ دودھ فروخت کرنا شروع کر دیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کے7سے8افراد کا گھرانہ اپنی چائے کے لئے صرف آدھ کلو دودھ بچا کر باقی سارا گوالہ کو بیچ دیتا۔ کیوں کہ ان کے بچوں کی فیس ہو یا دوائی ، فصل کو کھاد د ینی ہو یا سپرے کرنا ہو، کھل کی بوری خر یدنی ہو یا ونڈا کا بیگ(مویشوں کی خوراک) ،گوالہ ہی ان سب مالی پریشانیوں کا مداوا بنا۔

زیادہ سے زیادہ دودھ پیدا کرنے اور بیچنے کی کوشش میں ایک خطرناک کھیل کا آغاز ہوا جب کسانوں نے دودھ دینے والے مویشیوں کو ہارمونز کے بے دریغ انجکشن لگانا شروع کر دئے۔ کسان کم شرح خواندگی کی وجہ سے یقیناًاس بات سے لاعلم تھا کہ ان ہارمونز کے استعمال سے مویشی، انسان اور خصوصاً بڑھتے ہوئے بچوں پر کیا منفی اثرات مرتب ہوں گئے؟ شاید اسی لئے آج بھی وہ اور اس کی فیملی اسی دودھ سے بنی ہوئی چائے ہی استعمال کرتے ہیں۔

ماضی میں دیہات کے لوگوں کو دودھ، دہی، مکھن، دیسی گھی، دیسی انڈے اور شہد وافر مقدار میں دسیتاب تھا۔ انتہائی غریب کو پڑوس سے لسّی (چھاچھ) مفت اور وافر مقدار میں مل جاتی تھی جس میں اچھی خاصی مقدار میں کیلشیم ، پروٹین اور چکنائی موجود ہوتی تھی۔ دودھ کی فروخت سے یہ سب کچھ دیہاتیوں کی روز مرّہ خوراک سے آہستہ آہستہ نکلتا گیا اور اُس کی جگہ بے دریغ چائے کے استعمال نے لے لی اور نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ دیہات میں چھاچھ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ دیہات کے قریب وجوار میں لگنے والی فیکٹریوں، تھرمل پاور پلانٹس اور اینٹوں کے بھٹوں سے نکلتا ہوا زہریلا دھواں اور کیڑے مار زہر (Pesticide) کے بے دریغ استعمال نے اکثر علاقوں میں دیہاتیوں کا صاف ہوا میں سانس لینا بھی دوبھر کر دیا اور خالص اور صاف خوراک کی دسیتابی محال ہوگئی۔ مزید برآں زیر زمین پانی کی سطح کے نیچے جانے سے اور صاف پانی کی عدم دستیابی اور دوسرے عوامل نے دیہی آبادی کے ہر دسواں شخص کو ھیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا کر دیا۔

دوسری طرف ٹرانسپورٹ کے بہتر نظام اور سٹرکوں کے جال بچھ جانے سے شہروں کے اندر ملکی و غیر ملکی دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء، گوشت، شہد، آرگینک فوڈ (Organic Food) اور فروٹ و خشک میوہ جات کی نہ صرف سپلائی میں اضافہ ہوا بلکہ ان کا استعمال بھی بڑھ گیا۔ جس کے نتیجہ میں ماضی کی نسبت آج شہر کے اکثریتی افراد کی صحت، قدوقامت اور تندرستی دیہاتیوں کی نسبت بہتر ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ دیہات میں تیزی سے بڑھتی ہوئی غربت اور قوت خرید میں کمی بھی ہے۔ اس کی تصدیق اقوام متحدہ کے ادارے UNDP کے کثیر جہتی غربت کے سروے سے بھی ہوتی ہے۔


ای پیپر