Pakistan, disasters, tragedies, last year, 2021
09 جنوری 2021 (12:34) 2021-01-09

پچھلا پورا سال جن آفات و سانحات میں گزرا ان کا سلسلہ دو ہزار اکیس میں بھی جاری و ساری ہے۔ 

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نئے سال کی آمد پر ہم سب توبہ استغفار کرتے اللہ سے پناہ مانگتے لیکن بارہ بجنے کی دیر تھی کہ لاہوریوں نے کئی ارب روپے آتش بازی میں اڑا دیئے اور یہ بھی نہ سوچا کہ ان روپوں سے کتنے گھروں کا چولہا جل سکتا تھا کتنے جسموں کو ڈھانپا جا سکتا تھا بحرحال جیسا منہ ویسی چپیڑ!  حکومت نے بھی سوچا کیوں نہ ہم بھی کچھ آتش بازی کرلیں اوران عیاش پرستوں کو  نئے سال کے موقع پر کوئی خوش خبری دی جائے تو جب یہ قوم پٹاخے پھوڑ رہی تھی اس وقت ہماری بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے بم بھی پھٹ رہے تھے۔ نئے سال کا سورج کیا طلوع ہوا بس ہر طرف ایک نئی پھلجڑی تھی۔ کیبل والے صاحب آئے اورعندیہ دیا کہ بل سو روپے بڑھا دیا گیا ہے۔پھر چوکیدارنے بھی یہی اعلان کیا کہ اس ماہ سے پچاس روپے اضافہ ہوگیا ہے۔ میں یہ سوچنے لگی کہ سب نے فیس بڑھا دی قیمتیں بڑھا دیں۔ مگر جس نے اپنی جیب سے ہر چیز خریدنی  ہے اس کی تو تنخواہ پچھلے تین سالوں سے نہ بڑھی ۔ سب اپنا غصہ عوام پر نکال لیتے ہیں مگر ہم کہاں جائیں ؟ ہم کس فورم پر جا کر اپنا غم بیان کریں؟ اصل میں ہم نے پٹاخے نہیں پھوڑے اپنی قسمت پھوڑی ہے۔ دل تو یہ چاہ رہا تھا کہ سال نو کی آمد پر پٹاخوں کی جگہ سر ہی پھوڑ لیتے۔ اوپر میں لاہور میں کچرے کے ڈھیر دیکھ کر لگتا ہے کہ اس کو گویا کسی نے کراچی کے نقش قدم پر چلا دیا۔ 

 لگتا ہے جیسے ہماری روح جسم دماغ ہر شے میں کچرا بھر گیا ہے سوچ میں تو تھا ہی!  

مہنگائی کی یہ شرلیاں اور ہماری پھرتیاں ایک طرف لیکن سال کے پہلے ہفتے میں کچھ سانحات نے دل بہت افسردہ کردیا ہے۔ جن میں سر فہرست نامور کالم نگار، دانشور صحافی روف طاہر کی وفات ہے جس سے  اردو کالم نگاری کا ایک معتدل باب ختم ہوا۔ صحافتی حلقوں میں اداسی کی لہر دوڑ گئی ہے اور زندگی کی بے ثباتی کی اس سے بڑی کیا مثال ہوگی کہ وفات سے ایک دن قبل ہی انہوں نے ایک کالم لکھا جس کا عنوان تھا 

وفا کا نام بھی زندہ ہے میں بھی زندہ ہوں مگر ان کو یہ خبر نہ تھی کہ اگلے دن کا سورج کسی اور جہاں میں طلوع ہوگا؟

 اس سے پہلے بلوچستان میں مچھ کے علاقے گیشتری کان کنوں پر حملہ ہوا جہاں مچھ میں 10 ہزارہ کان کنوں کا قتل عام کیا گیا جس میں مسلح 

افراد نے کان کنوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھنے کے علاوہ ان کے ہاتھ بھی باندھے اور بعد میں ان پر فائر کھول دیا۔ 

 جاں بحق ہونے والے کان کنوں کے گلے بھی کاٹے گئے تھے، اس لرزہ خیز واقع نے روح کو ہلا کر رکھ دیا کہ اگلے ہی روز ایک اور اندوہناک سانحہ پیش آگیا جس میں اسلام آباد میں رات گئے انسداد دہشتگردی سکواڈ نے ایک معصوم نہتے نوجوان طالبعلم کو گولیوں سے بھون ڈالا، نوجوان اپنی گاڑی پر جا رہا تھا، اسکواڈ نے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا اور پھر گولیوں کی بارش کردی اور نوجوان اسامہ ستی کا جسم 22 گولیوں سے چھلنی کردیا،وہ پارٹ ٹائم گاڑی کو بطور کریم کیب چلاتا تھا اور اپنا خرچہ خود اٹھا رہا تھا پانچ اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن سانحہ ساہیوال ک طرح یہ بھی رہا ہو جائیں گے لیکن یہ نوجوان واپس اب کبھی نہیں آئے گا اگر سانحہ ساہیوال،سانحہ ماڈل ٹائون یا لال مسجد کے مجرموں کو قرار واقعہ سزا دی جاتی تو اسامہ ستی جیسا سانحہ اسلام آباد میں پیش نہ آتا،والدین کس کے ہاتھ پر لہو تلاش کریں۔حاکم وقت،پولیس یا پھر معاشرہ؟

عجیب دوغلا معاشرہ ہے اور کیسے خونی درندے ہیں جہاں اثر و رسوخ رکھنے والے نوجوانوں اور یہاں تک کے خواتین کے ہاتھوں یہ اہلکار گالیاں بھی کھا لیتے ہیں اور کہاں ایک نہتے نوجوان کے جسم پر بائیس گولیاں اتار کر بھی ان کی پیاس نہیں بجھتی؟ 

بائیس سالہ نوجوان کے سینے پر بائیس گولیاں کسی کی 

بائیس سالہ جدوجہد کا تحفہ ہے یا پھر سترسالہ نام نہاد آزادی کا نوحا! 

 لیکن ہمارے پاکستانیوں کو مہنگائی، نوجوان کی شہادت یا بلوچستان واقعے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس وقت ان کا موضوع بحث اور ان کی تمام تر توجہ ساہو بنت عبد اللہ المحبوب پر لگی ہے۔  سعودی کاروباری خاتون جن کی دولت کا تخمینہ 8 بلین ڈالر ہے۔ وہ مکہ اور مدینہ میں متعدد رہائشی جائیدادیں اور ہوٹلوں کے ساتھ ساتھ فرانس اور دیگر ممالک میں ٹاورز کی مالک ہیں۔ اس نے اپنے پاکستانی ڈرائیور سے شادی کرلی ہے۔ ہمارے نوجوان بس یہی کہتے پائے جا رہے ہیں کہ نیا سال تو اسکا چڑھا، ہم تو یونہی پٹاخے پھوڑ رہے ہیں۔  

بس جن قوموں کی قسمت میں زوال لکھ دیا جاتا ہے پھر وہ مادیت پرستی میں الجھ کر اپنے حقیقی مقصد سے بہت دور چلی جاتی ہیں  سوشل میڈیا کا طاغوت کبھی ارشد چائے والا تو کبھی نمرہ علی کو ان کا آئیڈیل بنادیتا ہے اور پھر صرف ایک سطحی سوچ کی حامل نسل ہی پروان چڑھتی ہے۔     

سنا ہے سال بدلے گا

 پرندے پھر وہی ہونگے

 شکاری جال بدلے گا

 بدلناہے تو دن بدلو

بدلتے کیوں ہو ہندسے کو

 مہینے پھر وہی ہونگے

 سنا ہے سال بدلے گا

 وہی حاکم وہی غربت

 وہی قاتل وہی ظالم 

بتاؤ کتنے سالوں میں ہماراحال بدلے گا؟

یاد رکھیں بے حسی،بے بسی سے بھی بڑا عذاب ہے جس قوم میں ایسا جمود طاری ہوجائے جس کا ابھی ہم سب شکار ہیں ان کی حالت پر صرف ماتم ہی کیا جاسکتا ہے اگر اس وقت بھی ہمارے علمائے دین، اہل علم و دانش اور محب وطن لوگوں نے مل کر قوم اور ملت کی حالت بدلنے کی کوشش نہ کی تو پھر ہمیں ڈوبنے سے کوئی نہیں روک سکتا شائد اب کی بار کوئی دعا بھی نہیں!


ای پیپر