trump,accused,unrest,twitter,account,permanent,suspended
09 جنوری 2021 (12:23) 2021-01-09

واشنگٹن : امریکی صدر ٹرمپ پر میڈیا کی طرف سے بہت گھنائونے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور انہیں امریکہ میں بدامنی پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ ٹویٹر نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ ٹرمپ کیپٹل ہل اور امریکی سرکاری عمارتوں پر ایک اور حملے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جس کے بعد شواہد ملنے پر ان کے ٹویٹر اکائونٹ کو ہمیشہ کیلئے بلا کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق متنازعہ بیانات کے ٹویٹر کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹویٹر اکائونٹ مستقل طور پر بلاک کر دیا گیا ہے۔ٹویٹر انتظامیہ نے کچھ دیر کیلئے ٹویٹر کا اکائونٹ ایکٹو کیا لیکن پھر اسے مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ٹویٹر حکام سے اس حوالے سے موقف اختیار کیا ہے کہ ایسا ٹویٹر کی طرف سے فسادات کو بڑھاوا دینے کی کوششوں کے بعد کیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے دوسرے سرکاری اکائونٹ سے بھی ٹویٹ کرنے کی کوشش کی جسے ٹویٹر نے ناکام بنا دیا۔اپنی اس ڈیلیٹ ہونے والی ٹویٹ میں ٹرمپ نے ٹیک کمپنی اور ڈیمو کریٹس پر تنقید کی تھی۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کے ثبوت ملے تھے کہ ٹرمپ کے حامیوں کی  جانب سے کیپٹل ہل پر 17 جنوری کو ایک اورحملہ ہونے والا تھا۔ٹرمپ کا ٹویٹر اکائونٹ بعض شواہد کی بنیاد پر معطل کیا گیا تھا۔مستقبل پر احتجاج کے منصوبے ٹویٹر پر وقتا فوقتا ڈالے جا رہے تھے۔17 جنوری کو کیپٹل ہل اور سرکاری عمارتوں پر ایک اور حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔


ای پیپر