PML-N, President, Shahbaz Sharif, important revelations, NAB court
09 جنوری 2021 (11:48) 2021-01-09

محمد شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف نیب کے مقدمات کو سپریم کورٹ نے روزانہ کی بنیاد پر سننے کے احکامات جاری کئے ہیں جس کے بعد نیب کی مشکلات بڑھ گئی ہیں ۔محمد شہباز شریف نے کورٹ میں چینوٹ کے حوالے سے جج کے سامنے بیان دے کر نیب کو مشکل میں ڈال دیا ہے اور چینوٹ مائنز کے حوالے سے اربوں روپے کی بچت سے بھی قوم کو آگاہ کیا ۔محمد شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو نیب کی جانب سے گرفتاری کے بعد سپریم کورٹ میں حمزہ شہباز کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان نے کہا ہے کہ ملزمان کے خلاف پہلے کیسز کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا جبکہ نئی کیسز چلائے جارہے ہیں لہذا ان کے خلاف عدالتی کارروائی کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے ۔جج صاحبان کے مطابق نیب پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور اگر یہ ریکارڈ سامنے لایاگیا تو امید ہے کہ سپریم کورٹ نیب کے حوالے سے بڑا فیصلہ دے گا لیکن اصل میں محمد شہباز شریف نے نیب عدالت میں چینوٹ مائنز کے حوالے سے جو انکشافات کئے ہیں وہ منظر عام پر پہلے لانا چاہیے تھے لیکن محمد شہباز شریف نے اس کو اپنے دور حکومت میں منظر عام پر نہ لا کر پردہ پوشی کی لیکن اب عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر محمد شہباز شریف نے جن حقائق سے پردہ اٹھایا ہے وہ بات ریکارڈ پر آ گئی ہے ۔محمد شہباز شریف نے احتساب عدالت میں چینوٹ مائنز کے حوالے سے کہا کہ کرپشن کے سارے ثبوت 

لے کر آیا ہو ۔سال 2007ء میں چینوٹ مائنز کا ٹھیکہ ایک ایسے شخص کو خلاف قانون اور بولی کے بغیر دیاگیا جو کہ امریکن نیشنیلٹی ہولڈر اور پرویز مشرف کے سیکرٹری کا بھائی تھا ۔اس ٹھیکے میں ارشد وحید کے 80فیصد جبکہ 20فیصد پنجاب کا حصہ تھا ۔اس فراڈ کو نیب نہیں بلکہ خود میں نے بے نقاب کیا کیونکہ بغیر بولی معاہدہ کیاگیا ۔ہماری حکومت نے 2008ء میں کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا مگر نیب نے 13سال بعد ریفرنس دائر کیا ۔حلفاً کہہ رہا ہوں کہ مجھ پر سیاسی اور غیر سیاسی دبائو تھا لیکن میں نے بولڈ سٹپ لیا اور ٹھیکہ منسوخ کیا ۔میں نے قومی خزانے پر ڈکیتی کو روکا ۔اگر آج ریٹ نکالیں تو یہ 640ارب ڈالر بنتا ہے ۔نیب نے متعلقہ وزیرکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔میں گناہگار اور خطا کار انسان ہوں لیکن میں نے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنا خون پسینہ ایک کیا اگر دل میں چور ہوتا ۔حرام کمائی کرنا ہوتی تو کمیشن لیتا اور چھپ کر جاتا ۔یہ خزانہ اور اربوں روپے بچا کر عوام کو تحفہ دیا۔ امریکن کمپنی نے ہائیکورٹ میں کیس دائر کیا ۔ہائیکورٹ نے میرے حق میں فیصلہ دیا اور سپریم کورٹ نے بھی لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ۔

قارئین محترم ۔۔محمد شہباز شریف نے وزارت اعلیٰ کے تین ادوار میں عوام کی فلاح و بہبود کے لئے انقلابی منصوبے شروع کئے تھے ۔عوام آج بھی اچھے الفاظ میں انہیں یاد کرتے ہیں۔طلبہ کے لئے لیپ ٹاپ اسکیم ،دانش ماڈل سکولز،امتحانات میں ٹاپ پوزیشن ہولڈرز طلبہ اور ان کے اساتذہ کرام کے لئے ہر سال نقد انعامات ،پنجاب میں یونیورسٹیوں ،کالجوں،ہسپتالوں اور عوامی جگہوں پر مفت وائی فائی سروس ،دیہات میں غریب بچوں کے لئے سرکاری سکولوں میں ماہانہ ایک ہزار روپے وظیفہ ،ہسپتالوں میں مفت ادویات ،ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے لئے ان کے گھروں پر فری میڈیسن کی فراہمی،کینسر کے مریضوں کے لئے مفت علاج ،دیہی علاقوں میں حاملہ خواتین کیلئے مفت ایمبولینس سروس جیسے اقدامات شامل ہیں ۔موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد تمام عوامی منصوبوں کو ختم کر دیاگیا ۔ترکی کمپنی کے ساتھ لاہور میں صفائی کا منصوبہ ختم کر کے جگہ جگہ پر گندگی کے ڈھیر لگادیئے گئے ہیں اور صفائی کے بہترین نظام کو ختم کر دیاگیا ہے ۔ہمارے ملک میں یہ روایت رہی ہے کہ محب وطن کو غدار کہا جاتا ہے ۔حتیٰ کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کو بھی غدار کہا گیا تھا ۔محسنوں کو جیلوں میں ڈالا جاتا ہے ۔قوم کے ہیرو ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے امریکا کے حوالے کرنے کا پروگرام بنایا تھا ۔اس وقت کے وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی کے دو ٹوک انکار کے بعد انہیں امریکا کے حوالے نہیں کیاگیا لیکن گھر پر نظر بند کر دیاگیا ۔قوم کے دوسرے محسن محمد شہباز شریف کوسیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر جیل میں ڈالاگیا ۔جیل میں بند ہونے کے باوجود ملک کو سنگین بحرانوں سے نکالنے کے لئے آج بھی محمد شہباز شریف مفاہمت اور میثاق معیشت کی با ت کرتے ہیں ۔


ای پیپر