رﺅف طاہر بھی چلا گیا 
09 جنوری 2021 2021-01-09

لاہورسے ایک دوست کا فون آیا۔ اس کی آواز میں ارتعاش تھا۔

”رﺅف طاہر کا انتقال ہوگیا۔“ اندر ایک دیوارسی گری۔ دل ملبے تلے دبتا ہوا محسوس ہوا۔ یقین نہ آیا تو ڈرتے ڈرتے شامی صاحب کو فون کیا۔ غم سے بوجھل آواز نے سب کچھ کہہ دیا۔ ہمدم دیرینہ کی اچانک موت کا صدمہ ایسا تھا کہ اُن سے بات بھی نہیں ہوپارہی تھی۔ لرزتی انگلیوں سے میں نے سیل فون پر رﺅف طاہر کا نمبرملایا۔ آج اس کی گونج دار آواز کے بجائے، اس کے بیٹے آصف کی سسکیاں سنائی دیں۔ میں کیا پوچھتا اور وہ کیا بتاتا؟

جانے رو¿ف طاہر کو ایسی کیا جلدی تھی؟مانا اُسے اپنی رفیقہ حیات کے بچھڑجانے کا بہت غم تھا لیکن اس کا گھر کوئی ایسا سُونا بھی نہ تھا۔ ابھی تو معرکہ گرم تھا اور اس جیسے جانبازوں کی بڑی ضرورت تھی۔ جذباتی ہیجان کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو ایک ریاضت کیش صحافی کی قدرتِ زبان وقلم اس وقت جوبن پر آتی ہے جب وہ خود بڑھاپے کے منطقے میں داخل ہورہا ہوتا ہے۔ رو¿ف طاہر کی موت ایک ایسی ”صحافت“ کی موت بھی ہے جو پختہ کاری کے سارے مراحل طے کرکے بلوغت پاچکی تھی۔ یہ جنس بڑی تیزی سے نایاب ہوتی جارہی ہے۔ تیز پا برقی صحافت کی چکا چوند نے نوآموزوں کی توند تو بھردی ہے لیکن وہ جوہر نہ دے پائی جس سے رو¿ف طاہر بنتے ہیں۔ 

رو¿ف طاہر دھڑے اور دھڑلے کا آدمی تھا۔ عصبیت کی ننگی تلوار سے لیس، اپنے قبیلے کا جری سپاہی۔اس کی صحافت ایک تکون سے ترتیب پائی تھی۔ دل، دماغ اور قلم، مثلث کے تینوں کونے سختی کے ساتھ آپس میں جڑے تھے۔ جوجذبہ اس کے دل میں کسک پیدا کرتا، وہی اس کی شاخ فکر پر غنچہ بن کر پھوٹتا اور وہی اس کے الفاظ کو مہکار اور للکار دیتا۔ اس تکون کو اسلام، پاکستان اور جمہوریت بھی کہا جاسکتا ہے۔ رو¿ف طاہر منافقت اور دوغلے پن سے پاک تھا۔ بڑے بڑے نامور صحافی اور دانش ور لکھتے اور بولتے وقت، موسمی مصلحت کے تحت کبھی سفید اور کبھی سیاہ کی طرف لڑھکتے ہوئے بالعموم بیچ کی سُرمئی راہ پر چلتے رہتے ہیں۔ رو¿ف ان میں سے نہ تھا۔ اس کے ہاں بس دوہی رنگ تھے۔ سفید یا سیاہ۔ وہ سیاہ وسفید کے ملغوبے کو منافقت خیال کرتا تھا۔ جسے حق سمجھا اس کے لیے سینہ سپر ہوگیا۔ جسے غلط جانا اسے نیزے کی اُنی پر رکھا۔ مشکلات اور ترغیبات سے بے نیاز ہوکر اپنی متعین راہ پر استقامت سے چلتے رہنا اسے کبھی کٹھن نہ لگا۔ اس معاملے میں وہ ہمیشہ اٹل اور بے لچک رہا۔ ایسے لوگ کھردرے پن کی حدتک کھرے ہوتے ہیں۔ 

رو¿ف طاہر بھی کھرا ہونے کے سبب کئی لوگوں کو کھردرا لگتا تھا۔ یہی اس کی پہچان تھی۔ عشروں پر محیط سفر کے دوران وہ نامور اخبارات وجرائد سے منسلک رہا۔ قومی تاریخ کے نشیب وفراز، سیاست کے پیچ وخم اور سیاستدانوں کی کرتب کاریوں کو وہ اپنے زرخیز حافظے میں اس طرح سموئے ہوئے تھا کہ اُسے” سیاسی انسائیکلوپیڈیا“ کہا جاسکتا تھا۔ اس کی یادداشت اس کا بہت بڑا ہتھیار تھی۔ عہد درعہد بکھری تاریخ اس نے پڑھی یا سنی نہیں تھی، ایک زیرک اور مشاق رپورٹر کے طورپر خود اس کا مشاہدہ کیا تھا۔ لکھتے یا بولتے وقت وہ صحافی سے کہیں زیادہ ایک وکیل بن جاتا۔ اچھا وکیل مقدمہ لڑتے ہوئے ماضی کے مقدموں اور عدالتی فیصلوں کے نظائر پیش کرتا ہے۔ رو¿ف طاہر بھی اپنے مو¿قف کو اپنا مقدمہ بناتے ہوئے ماضی کی سیاسی تاریخ کے احوال وکوائف کے حوالوں کا انبار لگادیتا۔ ہوش سنبھالتے ہی وہ جس نظریاتی کشتی پر سوار ہوا، آخری سانس تک اسے نہ چھوڑا۔ بپھرتے طوفانوں اور موجوں کے تلاطم میں بھی وہ جوانمردی سے چُپو چلاتا رہا۔ پاس پڑوس کے ہموار پانیوں پر تیرتے بجروں کی طرف کبھی نظراٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ 

رو¿ف طاہر بہت ہی متحرک شخص تھا۔ سہل انگاری اسے چھوکر نہ گئی تھی۔ صبح ایک تقریب میں، دوپہر کسی سیمینار میں، سہ پہر کسی مجلس احباب میں، رات کسی عشائیے میں۔ دوستوں کے لیے اس کے پاس وافر وقت تھا۔ محفلوں میں خاموش سامع بن کر بیٹھنا اس کی سرشت میں نہ تھا۔ تقریب کا مقررنہ بھی ہوتا تو کوئی سوال داغ کر ہلچل سی مچا دیتا۔ اس کے حلق کی صوتی کلیں (Vocal cords)فطری طورپر بہت بلند آہنگ تھیں۔ سرگوشی بھی کرتا تو ہمسایوں کو خبرہوجاتی۔ اپنے مو¿قف کی صداقت پر پختہ یقین کے باعث وہ اس طرح اپنے حریف پر جھپٹتا کہ وسیع وعریض ہال گونج اٹھتا۔ دوستوں کی محفل میں بھی وہ جلسہ عام کے سے انداز میں بولتا۔ اس کے قہقہے بھی فلک شگاف ہوتے۔ وہ اکثر مجھے چلتا پھرتا لاہور لگتا۔ آج روایتی دائیں اور بائیں بازوکی تمیز مٹ چکی ہے۔ لیکن رو¿ف طاہر ڈنکے کی چوٹ دائیں بازو کا سرخیل رہا۔ اس نے اپنی فکری تکون کی چولیں کبھی ڈھیلی نہ ہونے دیں۔ 

لگ بھگ دودہائیوں سے رو¿ف طاہر میرے آس پاس رہا۔ مجھے ہمیشہ ’عرفان بھائی، کہہ کر بلاتا۔ اپنی خوشیوں میں شریک کرتا۔ اپنے احوال کی خبردیتا۔ نظریے کے رشتے نے اسے نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے بہت قریب کردیا تھا۔ وہ جدہ سے لوٹا تو میری خواہش تھی کہ اس کے حصول رزق کا کچھ سامان ہوجائے۔ کچھ نہ کچھ ہوا بھی لیکن پنجاب میں اور پھر وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے باوجود اسے چھوٹے چھوٹے زخم لگتے رہے۔ اپنائیت کی حساسیت ان زخموں کا درد بہت بڑھادیتی ہے۔ رو¿ف دل برداشتہ ہوتارہا۔ کبھی کبھار رنجیدگی کا اظہار بھی کرتا رہا لیکن کیا طرح دار شخص تھا۔ نظریے اور مو¿قف کی جنگ لڑتے ہوئے۔ وہ ان خرخشوں کو کبھی خاطر میں نہ لایا۔ 

رو¿ف طاہر کے ساتھ ہی ہماری سیاسی تاریخ کی لاتعداد داستانیں گہری قبر میں اتر گئیں ۔ کاش وہ تھوڑا سا وقت اپنی یادداشتیں مرتب کرنے کے لیے نکال لیتا۔ میں سعود ساحر سے بھی یہی کہتا رہا۔ پتہ نہیں اتنے محنتی اور جفاکش لوگ اس معاملے میں تساہل کیوں برتتے ہیں۔ کاش شامی صاحب ہی سماجی سرگرمیوں کو سمیٹ کر کوئی صحیفہ چھوڑ جائیں۔ 

مرزا غالب نے کہا تھا ” میں فلاں سال مرجاﺅں گا“۔ اس سال وبا پھوٹی۔ لاکھوں لوگ لقمہ¿ اجل ہوگئے۔ غالب زندہ رہا۔ دوستوں نے پوچھا تو کہا :”میں غالب ہوں، اتنی بھیڑ کے ساتھ کیوں کر مرتا“۔ کورونا نے کیسے کیسے لوگ چھین لیے۔ پیاروں کی موت کی خبریں ساون بھادوں کی طرح برس رہی ہیں۔ جنازے تھمنے میں نہیں آرہے۔ رو¿ف طاہر نے سوچا، مرنا ہی ہے تو آٹھ دس دن کورونا اور عزیزوں دوستوں کو کیا اذیت دینی۔ علی الصبح اٹھا۔ نہا دھوکر یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہوا اور بہت دورنکل گیا۔ کئی سال پہلے ایک نئے اخبار کی پُرکشش مراعات نے ”دنیا“ اخبار کے کچھ لوگ اٹھا لیے تو میں نے رو¿ف سے پوچھا: رو¿ف! تم نے تو دنیا نہیں چھوڑا؟ ہنس کر بولا :”عرفان بھائی! دنیا بس ایک ہی بار چھوڑوں گا اب۔“

دنیا ہم سب نے چھوڑ جانی ہے۔ میں جب دنیا چھوڑ جانے والوں سے ملنے راولپنڈی کے قدیمی قبرستان جاتا ہوں توپہلا قدم رکھتے ہی اجتماعی دعا کرتا ہوں۔ والد، والدہ، بھائی اور ننھی بھتیجی کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے بعد مجھے ایک پانچویں قبر کی تلاش ہوتی ہے۔ اس قبر میں لیٹے شخص سے میرا کوئی رشتہ ناتا ہے نہ جان پہچان، میں جھاڑ جھنکاڑ سے الجھتا بڑی مشکلوں سے یہ قبرتلاش کرپاتا ہوں۔ اس کے سرہانے کھڑاہوکر دعا کرتے ہوئے میری نگاہیں قبر کے تعویذ پر جمی رہتی ہیں۔ لکھا ہے ....”عرفان صدیقی ولد احمد بخش۔ تاریخ وفات 6اکتوبر 2011ء“ مجھے ہمیشہ احسان دانش کا شعر یاد آجاتا ہے 

قبرکے چوکھٹے خالی ہیں انہیں مت بھولو

جانے کب کون سی تصویر لگادی جائے 


ای پیپر