کثرتِ کلام میں قائدانہ بحران 
09 جنوری 2021 2021-01-09

 ہمارے خاتم النبیین محمد مصطفیٰ کا فرمان ہے، کہ علم کھوئی ہوئی میراث سمجھ کرمومنوں کو جہاں سے ملے لے لیں، افلاطون کہتے ہیں کہ کسی کی قلتِ عقل کا اُس کے کثرت کلام سے اندازہ لگائیں، اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کا فرمان ہے کہ جس شخص کا عقل کامل ہوتا ہے، وہ کم بولتا ہے۔ 

قارئین کرام، ان اقوال اکابرین اُمت مسلمہ کا جائزہ اگر ہم موجودہ دور کی حکومت اور حزب اختلاف کے رہنماﺅں کے بیانات، اور شب وروز پریس کانفرنسوں کے سوال جواب کے تناظر میں دیکھیں، تو اپوزیشن کے ایک لیڈر کے بیان کا جواب کم ازکم پنتالیس پنتالیس معاون خصوصی اور مشیران کرام کے مسلسل اور ہرلمحہ میڈیا کے ہرچینل پر دکھائے جاتے ہیں حتیٰ کہ اب خاتون کے اینٹیں توڑنے کے مظاہرے، فٹ بال کو کک لگانے، گورنر پنجاب کو کرکٹ میں آﺅٹ کرنے، اور مخالفین کو باکسنگ کا مقابلہ کرنے، اور باکسر عامر خان کے ساتھ بیٹھ کر اور اس کا ہاتھ لہراکر دھمکیاں دینے، کے مظاہرے بہتر سال میں میرے ہم وطنوں نے پہلی دفعہ دیکھے ہیں، گو کبھی میں سوچتا ہوں، کہ لوگوں کی سوچ شاید صدیوں پہلے بھی ایسی ہی ہو، وہ اپنے اذہان وقلوب میں اپنے تئیں یہ عقدہ حل کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہوں گے، کہ اسلام تو ایک مکمل ضابطہ¿ حیات ہے، لیکن کیا وجہ ہے، کہ حکمرانوں کے بارے میں اور ان کے طریقہ ہائے انتخاب میں واضح بلکہ دوٹوک الفاظ میں اس کی نشاندہی کیوں نہیں کی گئی۔ ہمارے ہادی برحق کی پیش گوئی کے مطابق خلافت، ملوکیت میں تو تبدیل ہوگئی، اور حضور کے فرمان کے مطابق امت جاہ وحشم اور زروجواہر کے پیچھے اس کے جائز وناجائز حصول کے درپے ہوگئی، اور ایسی صورت حال محض احکامات اسلامی سے ردگردانی اور کم فہمی کی وجہ سے پیدا ہوئی اور قانون کی عمل داری اور اس سے پہلوتہی کے نتیجے میں جنگ جمل جیسے واقعات ظہور پذیر ہوئے، جن کے بارے میں جان کر ہرمسلک کے لوگ اب بھی تڑپ اُٹھتے ہیں، دراصل اکثر حکمرانوں کا یہ زعم اور تکبر اُنہیں مسلسل اس بات پر آمادہ اور تیار کرتارہتا ہے، کہ پورے ملک میں اِس عقل کل کا کوئی متبادل ہی نہیں، اور حکمرانی کا یہی جنون اور اختیارات کے استعمال کا نشہ اسے عمر کی قیدوبند اور تقاضوں سے لاپرواکردیتا ہے۔ گو ہمارے مذہب میں قانون حکمرانی کی تشریح اس طرح سے نہیں کی گئی جیسا کہ نماز وزکوٰة کے بارے میں ہمیں تفصیلی احکامات ملتے ہیں، تاہم اس ضمن میں میں کامل یقین رکھتا ہوں کہ حکمران اور اس کے انتخاب کا طریقہ اور فارمولا ہمیں وضاحت سے بتادیا گیا۔ 

مسلمان کیلئے لازم ہے، کہ اگر وہ تین ہوں، تو آپس میں ایک کو اپنا امیر مقرر کردیں، اور اس کے احکامات کی بجاآوری میں کسی قسم کے تساہل کا مظاہرہ نہ کریں، اس طرح سے ہمیں اطاعت حکمران کا بھی درس دیا گیا۔ مسلمانوں کیلئے عملی زندگی میں اسلام کے مکمل نفاذ کی جو بار بار تلقین کی گئی ظاہر ہے، ایک امیر کیلئے اور خصوصاً مسلمانوں کے امیرکیلئے باعمل ہونا کتنا ضروری ہے، اور بنیادی اہمیت کا حامل ہے، لیکن اسلامی طریقہ انتخاب میں جوچیز ہمیں دوسروں کے طریقہ انتخاب سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی امارت، اور حکمرانی کیلئے کوئی بھی شخص خود کو پیش نہیں کرسکتا، یہ ایک سیدھا اور آسان نسخہ ہے، کہ جسے صدق دل سے اپنانے کے نتیجے میں ہم بہت بڑی قباحتوں اور امت مسلمہ کے اجتماعی نقصانات اور دوررس منفی نتائج سے اپنی قوم وملک کو مامون اور محفوظ بناسکتے ہیں، ہمارے اسلاف کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ خود کو حکمرانی کیلئے پیش کرنے والوں کی نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ ان پر آئندہ کیلئے قدغن لگائی گئی۔ 

ہماری سابقہ تاریخ کا درخشاں پہلو ایک ایسا عمل ہے کہ جس کی نظیر دنیا کی کوئی تاریخ پیش نہیں کرسکتی اور وہ یہ ہے کہ حاکمِ وقت کو اپنی ذاتی زندگی کیلئے بھی عوام کے سامنے جوابدہی کیلئے پیش ہونا پڑتا تھا، اور قاضی اکثر حکمرانوں کو بلاچون وچرا اپنی عدالت میں بلاکر عام شہری جیسی جواب طلبی کیلئے استفسار کرتے تھے۔ 

اپنی فرض نمازیں پڑھ کر سوشل میڈیا پہ ڈالنے کا مقصد ریاکاری کے سوا اور کیا ہے، فرض اللہ سبحانہ و تعالیٰ کیلئے ہوتے ہیں، نہ کہ عوام کے دکھاوے کیلئے، جس ملک کے شیخ الاسلام کو یہ بھی پتہ نہ ہو، کہ امامت نماز کرسی پہ بیٹھ کر نہیں کرائی جاسکتی، تو پھر ان کے پیچھے نماز عید ادا کرنے والوں سے کیا گلہ ؟

ایک اور بنیادی نکتہ متبادل قیادت کی تربیت اور تیاری ہے، کہ جس کے فقدان اور جس سے عدم دلچسپی کے باعث قوموں نے بحیثیت مجموعی بحرانوں کا سامنا کیا، اور اس کے خطرناک بلکہ بھیانک نتائج ملک کو بھگتنے پڑے، اور عالمی تاریخ اقتدار جمہور وآمریت اس کی گواہ ہے ، ہماری ملکی تاریخ میں حضرت قائداعظم محمدعلی جناحؒ، بانی وطن ہی ایسی شخصیت تھے، جنہوں نے متبادل قیادت تیارکی تھی، لیکن ملک دشمن نااہل عناصر نے اس سلسلے میںنبی آخر الزمان کو ظالمانہ طریقے سے فراموش کردیا، اس کے بعد جو بھی قیادت آئی، اس نے متبادل قیادت خاک تیار کرنی تھی، کیونکہ اس کی تو اپنی ہی سیاسی تربیت نہیں ہوئی تھی، اوردہائیوں کی کاوش اقتدار پر پانی پھرجاتا ہے ۔تربیت رسول کی تابناکیوں کے بارے میں حکیم الامت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں ۔

مشرق نہیں گولذت نظارہ سے محروم

 لیکن صفت عالم لاہوت ہے خاموش

 پھر ہم کو اسی سینہ¿ روشن میں چھپا لے

 اے مہرباں تاب نہ کرہم کوفراموش! 


ای پیپر