کیا بھارت کو لگام دی جا سکتی ہے ؟
09 جنوری 2020 (21:32) 2020-01-09

22 سے 24 فروری 1974ءکو جب اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد پاکستان کے شہر لاہور میں ہوا تو بھٹو اور شاہ فیصل کی دُھوم مچ گئی۔ یہ اس لیے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہوا کہ یہ دوسرا اجلاس تھا۔ پہلا اجلاس 22 سے 25ستمبر 1969ءمیں مراکش کے شہر (رباط) میں ہوا تھا۔ ایک اور غیرمعمولی اجلاس 23سے 24مارچ 1997ءمیں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوا تھا اور اب اپریل 2020ءمیں ایک اور اجلاس پاکستان میں بلانے کی تیاری کی جارہی ہے اور یہ اجلاس محض وزراءخارجہ کی سطح کا اجلاس ہو گا جس میں سعودیہ، متحدہ عرب امارات کی ریاستیں، بحرین، ترکی اور انڈونیشیا کی شرکت بھی متوقع ہے۔

کہا جارہا ہے کہ یہ ”اسلامک سمٹ“ کا اجلاس پاکستان کے ”ملائیشیا سمٹ“ میں نہ جانے کے انعام کے طور پر منعقد کرایا جارہا ہے جبکہ حکومتی سطح پر اس کا اظہار نہیں کیا گیا۔ ایک خاص بات کہ اجلاس کا ایجنڈا ”کشمیر لاک ڈاﺅن کے خاتمے کے لیے دباﺅ ڈالنا ہے“ یہ بڑا اچھا ”لالی پاپ“ ہے جو کہ پاکستان سے مذاق سے کم نہیں، کیا اسلامی سمٹ کو یہ یقین ہے کہ اپریل تک کشمیر کا لاک ڈاﺅن رہے گا جبکہ کم وبیش ڈیڑھ سو دن سے زیادہ کا عرصہ اب تک گزر چکا ہے یعنی او۔آئی۔سی ممالک یا دوسرے لفظوں میں اسلامی دُنیا کو یہ یقین ہے کہ مزید 120دن تک بھی کشمیر کا لاک ڈاﺅن جاری رہے گا۔ یہ اجلاس جنوری میں ہی کیوں نہ بلالیا گیا؟ تاکہ بھارت پر اور مودی تیلی گجراتی قاتل پر جلدی دباﺅ ڈالا جاسکے۔ کیا اسلامی دُنیا مزید چارماہ کشمیریوں کو قیدی بنا کر رکھنے پر رضامند نظر آرہی ہے؟

وزراءخارجہ کا سالانہ ایک اجلاس تو معمول کے مطابق ہوتا ہی ہے، اب یہ اجلاس اگر 2020ءمیں پاکستان میں ہو جائے گا تو اس میں کون سی اہمیت یا غیرمعمولی بات ہے سوائے اس کے کہ کشمیر پر بات ہو گی۔ عرض یہ ہے کہ کشمیر اب صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ پوری اسلامی دُنیا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ چلیے مان لیتے ہیں کہ یہ بڑا اہم اجلاس ہو گا، کیا اس سے کشمیر لاک ڈاﺅن ختم ہو جائے گا، اگر یہ اُس وقت تک خدانخواستہ جاری رہا تو کیا اُس اجلاس سے کشمیر کی متنازعہ شقوں (35-A/370) کا خاتمہ ہو جائے گا جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مودی کو سعودیہ میں غیرمعمولی حیثیت حاصل ہے، اُسے سعودیہ میں میڈل پیش کیے جاتے ہیں۔ مندر کے لیے بڑی وسیع جگہ فراہم کر کے اسلام کو پھیلایا جارہا ہے یا محدود کیا جارہا ہے۔

کیا رسول عربی کی پاک دھرتی مندروں کے لیے وقف کرنے کے لیے رہ گئی ہے، یقینا وہاں مندر میں گھنٹیاں اور ”ٹل“ بھی بجتے ہونگے ”تُوتیاں“ اور شہنائیاں بجتی ہونگی اور بھجن بھی گائے جاتے ہونگے اور نزدیک ہی کوئی مسجد بھی ہو گی اور مسلمانوں کے گھر بھی ہونگے۔

دوسری طرف سعودی تیل کا چین کے بعد بڑا خریدار بھارت ہے اور سعودیہ کی معیشت کا انحصار تیل پر ہے، بڑا اہم سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا سعودیہ بھارت کو ناراض کرے گا؟ دُنیا جانتی ہے کہ ممالک کے تعلقات کا انحصار اب صرف معاشی سطح کا ہے، کوئی بھی ملک یہ نہیں چاہے گا کہ اُس کی معیشت پر کوئی زد پڑے، یہ اجلاس جو کہ سربراہی سطح کا نہیں بلکہ وزراءخارجہ کی سطح کا اجلاس ہے۔

پاکستان کی طرف سے شاہ محمود قریشی پاکستان کی قیادت کریں گے اور وزراءخارجہ کی سطح کا اجلاس سال میں ایک دفعہ بلایا جاتا ہے، اب فرق صرف اتنا ہے کہ جگہ بدل گئی ہے یعنی اس دفعہ اجلاس پاکستان میں ہورہا ہے تو کیا بھارت کو اس سے کوئی فرق پڑے گا بلکہ ہوسکتا ہے کہ بھارتی وزیرخارجہ اس اجلاس میں شرکت ہی نہ کرے، ایسے میں صرف قرارداد پاس کی جاسکتی ہے جسے مذمتی قرارداد کا نام دے دیا جائے گا اور ”ٹائیں ٹائیں فِش“۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کو لگام دی جاسکے اور ایسا صرف معاشی ناکہ بندی سے ہی ہوسکتا ہے جبکہ بھارت کو متنازعہ قانون پاس کرنے کے ضمن میں بہت سا ملکی وغیرملکی معاشی خسارہ ہورہا ہے، ایسے میں اگر ہمت کر کے ایران اور سعودیہ تیل کی سپلائی بھارت کو معطل کردیں تو بھارت کو تیل دیگر ممالک سے بہت مہنگے داموں اور دیر سے ملے گا اور اُس پر اخراجات بھی زیادہ آئیں گے جس سے بھارت میں تیل کی قیمتیں ایک دم آسمان پر جائیں گی اور بھارت میں فسادات کا دور چل رہا ہے اس میں ایک مسئلہ یہ بھی شامل ہو جائے گا اور تیل ہر شخص کی پہیہ چلنے کی ضرورت ہے۔ پورے بھارت سے احتجاج اُٹھے گا تو مودی کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے لیکن تیل کی سپلائی روکنے پر کسی صورت غور نہیں ہو گا کیونکہ مسلم اُمہ بعد میں اور معیشت پہلے ہے۔

میڈیا میں اب بھی اور اپریل میں بھی یہ غلغلہ اُٹھے گا اور اُٹھا ہے کہ پاکستان کو بڑی کامیابی مل گئی کہ بھارت میں متنازعہ شہریت بِل اور کشمیر کی صورتحال پر غور کے لیے او۔آئی۔سی کو متحرک کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ملائیشیا سمٹ میں شرکت نہ کرنے پر انعام کے طور پر او۔آئی۔سی کا خصوصی اجلاس پاکستان میں بلانے کی یقین دہانی کرا دی۔ میں سمجھتا ہوں کہ محض ایک نمائشی اجلاس ہو گا جس کا بہت زیادہ ڈھنڈورا پیٹا جائے گا اور نمائشی مذمتی قرارداد پاس کی جائے گی جس کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی اور نہ ہی مودی یا بھارت کو اس سے فرق پڑے گا بلکہ پاکستان کو اب آگے کا سوچنا ہو گا کہ مودی پاکستان کے ساتھ کیا کرسکتا ہے یعنی پانی روک سکتا ہے بلکہ اُس نے بگلیہار ڈیم میں پانی روک بھی دیا ہے۔ متنازعہ بِل اور کشمیر کی صورتحال کا تو جو ہو گا سو گا لیکن پانی رُکنے سے پاکستان پر جو براہ راست اثرات مرتب ہونگے اُس پر غور کرنا ضروری ہے بلکہ پاکستان کو اب یہ سوچنا ہو گا کہ بھارت میں معاشی بگاڑ سمیت ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ بھارت کو اپنی ہی پڑ جائے۔

موجودہ پاکستانی حکومت کے مختصر دور میں تین اہم بھارتی فیصلے یعنی بابری مسجد کا فیصلہ ہندوﺅں کے حق میں۔ کشمیر کی متنازعہ شقوں 35-A/370 کا اطلاع اور کشمیر میں 150 سے زیادہ دنوں کا کرفیو/ لاک ڈاﺅن اور متنازعہ بھارتی شہریت بِل، یہ فیصلے کسی بڑے بریک ڈاﺅن کا پیش خیمہ لگتے ہیں۔ کیا مودی پاکستان کی ایٹمی حیثیت کو للکار رہا ہے یا اُس نے پاکستان پر ”متبادل“ غیراعلانیہ جنگ چھیڑ رکھی ہے یعنی بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کو اُکسایا جارہا ہے کہ وہ فساد کی طرف آئیں جس سے پاکستان میں اشتعال انگیزی پیدا ہو حالانکہ اس سے بھارتی معیشت کافی متاثر ہو چکی ہے۔ دسمبر میں سیاحوں کی آمد میں بھارت میں 60فیصد کمی ہو چکی ہے۔ فون کمپنیوں کو روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں کروڑوں کا جھٹکا لگ رہا ہے۔ مظاہروں سے سرمایہ کاری متاثر ہورہی ہے اور سٹاک ایکسچینج میں بھی اُتار چڑھاﺅ جاری ہے۔

یورپی سیاح رائٹرز کو بتا رہے ہیں کہ وہ اپنا سیاحتی دورہ مختصر کر کے واپس جارہے ہیں۔ تاج محل کے قریب واقع ہوٹلز اور گیسٹ ہاﺅسز ویران نظر آتے ہیں۔ آسام کی ٹورسٹ انڈسٹری کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ آسام میں سیاحوں کی آمد میں 90فیصد کمی ہو چکی ہے۔ ایک ہفتے کے دوران دو لاکھ ملکی وغیرملکی سیاحوں نے تاج محل آنے کا دورہ منسوخ کردیا ہے، ایسے میں اگر او۔آئی۔سی بھی ”گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا“ دے دے تو بڑی بات ہو گی۔

او۔آئی۔سی یعنی ”آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن“ کا قیام 1969ءمیں عمل میں آیا، اُس وقت اس کے ممبران کی تعداد 57تھی۔ او۔آئی۔سی کی ترجمانی تین زبانوں میں ہوتی ہے یعنی عربی، انگریزی اور فرانسیسی۔ براعظم ایشیا کے 27ممالک اس میں شامل ہیں جبکہ یورپ کا صرف ایک ملک البانیہ اس میں شامل ہے۔ اس وقت جو صورتحال پاکستان کو درپیش ہے یقینا اس کا ادراک حکومتی حلقوں اور افواج پاکستان کو ہے لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان بھی بھارت کے خلاف جنگ کے متبادل حربے اپنائے تاکہ مودی کو مزید کھل کھیلنے کا موقع نہ مل سکے جبکہ وہ بغیر رُکے چوتھا فیصلہ بھی پاکستان کے خلاف پانی روکنے کی صورت میں کرچکا ہے جو کہ پاکستان کو بنجر کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ او۔آئی۔سی اجلاس میں اس پر بھی کھل کر بات ہونی چاہیے کیونکہ دریائے چناب میں بھارت 50ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کا پابند ہے، اُمید ہے کہ او۔آئی۔سی اجلاس میں مستقبل کے خدشات پر بھی بات کی جائے گی۔


ای پیپر