ایران امریکہ آمنے سامنے… پاکستان کہاں کھڑا ہے
09 جنوری 2020 2020-01-09

مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے ہاتھوں ایران کے کمانڈو جنرل قاسم سلیمانی کے 3 جنوری کو قتل کے بعد آگ اور بارود کا جو طوفان سر اٹھاتا نظر آ رہا ہے کیا وہ باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہو جائے گا یا امریکہ اور ایران ایک دوسرے کی چند فوجی اور سٹرٹیجک نوعیت کی چند ترجیحات تباہ کرنے پر اکتفا کریں گے… اپنی اپنی جنگی انائوں کو تسکین دے دیں گے… یہ آج کی عالمی سیاست کا سب سے بڑا سوال ہے… ایران کی اسلامی انقلابی حکومت سخت بدلہ لینے کا تاثر قائم کئے بغیر اپنے مشتعل عوام کو تسلی دے سکتی ہے نہ دنیا کی نظروں میں واحد سپر طاقت کے مقابلے میں اپنی مزاحمتی قوت کا لوہا منوا سکتی ہے… دوسری جانب طاقت ور ترین امریکہ کے خودپرست صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا بھی ملتا جلتا حال ہے… انہیں ملک کے اندر مواخذے (impeachment) کا سامنا ہے اور 2020ء کا صدارتی انتخاب بھی جیتنا ہے… ایران کے ایک اہم ترین جنرل کی جان تو انہوں نے اچانک عراق کے دارالحکومت بغداد کے ہوائی اڈے پر ڈرون حملہ کر کے لے لی لیکن اس واقعے نے شرق اوسط کے بڑے حصے کے اندر جنگ کے شعلوں کو جو ہوا دی ہے اس کے نتائج کو کس طرح سمیٹ پائیں گے تاکہ خطرناک اور پورے علاقے کو بھسم کر کے رکھ دینے والی جنگ بھی نہ چھڑے اور خطے کے اندر امریکہ کی دہشت بھی قائم رہے۔ اس کے مفادات محفوظ رہیں اور اسرائیل کی سلامتی پر کسی قسم کی آنچ نہ آئے…یہ وہ مسئلہ جس کا لمحہ موجود کے اندر برخود غلط ڈونالڈ ٹرمپ کو سامنا ہے… بلاشبہ ان کی زیرکمان دنیا کی طاقت ور ترین جنگی مشینری ہے جو نہایت اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجی سے لیس ہے… دولت کے انبار لگے ہوئے ہیں… احساس برتری ہے کہ قابو میں نہیں آ رہا لیکن کیا امریکہ بہادر کی اخلاقی ساکھ کا بھی وہی عالم ہے ہرگز نہیں… امریکہ ترقی پذیر ملکوں کی حکومتوں کو تو زیر کر سکتا ہے، انہیں آلہ کار بھی بنا سکتا ہے… ایسا کرنا اس کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے… اس کی وہ جسے کبھی تیسری دنیا کہاجاتا تھا اس کے اندر ساری سیاست اسی کھیل کے گرد گھومتی ہے لیکن اپنا اعتبار اور اعتماد دونوں کھو چکا ہے…یہاں تک کہ اس کے قدیم اتحادی یورپی ملک جو ترقی کی دوڑ میں اس سے زیادہ پیچھے نہیں جنرل قاسم سلیمانی پر ایک تیسرے ملک میں اچانک اور خطرناک نتائج کے حامل جان لیوا حملے کی خبر سن کر حیران رہ گئے… صدر ٹرمپ نے اپنے قدیمی اتحادیوں کو اعتماد میں لینا ضروری نہ سمجھا… صرف اسرائیلی حکومت کو ایک حد تک مشاورت کے قابل خیال کیا… جبکہ اندرون ملک یہ حال ہے مقابلے کی کی ڈیموکریٹک پارٹی کے پیشتر اراکین کانگریس، صدارتی امیدواروں اور پورے کا پورا ذمہ دار میڈیا ان کے اقدام سے نالاں نظر آتا ہے… اس عالم اور کیفیت میں ایران کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ دینا آسان معلوم نہیں ہوگا… یہ نائن الیون والا معاملہ نہیں… تب امریکہ نے یک دم اور کامیابی کے ساتھ مظلومیت کا تاثر ابھار لیا تھا… پوری قوم متحد ہو گئی تھی… تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنما یکجا ہو گئے تھے… پورے کا پورا یورپ نیٹو کا اتحادی بن کر مدد اور تعاون کے لئے چلا آیا تھا… اسامہ بن لادن ولن تھا اور دنیا کا کوئی ملک اس کی کھل کر حمایت کرنے کے لئے تیار نہ تھا… موجودہ صورت حال یکسر مختلف ہے… ایران کے حامی ممالک بھی ہیں اور مخالف بھی رائے عامہ بٹی ہوئی ہے… کوئی ایک ملک امریکی فوجوں کے شانہ بشانہ لڑنے کے لئے اپنی سپاہ بھیجنے کے لئے تیار نہیں… الاّ یہ کہ طاقت اور پیسے کے زور پر اس کی حکومت کو مجبور کر دیا جائے… ان حالات میں جنگ لڑنا ممکن نہیں… البتہ ڈونالڈ ٹرمپ صاحب کشیدگی کے شعلوں کو برابر جلتا رکھنا چاہتے ہیں تاکہ خطے کے لوگ امریکہ سے دہشت زدہ رہیں اور اندرون امریکہ کی سیاست میں کم از کم اپنے سفید فام ووٹروں کو (جنہوں نے انہیں 2016ء میں کامیاب کرایا تھا) باور کرا سکیں کہ ان کا صدر امریکہ کی عظمت کے مینار کو آگ کے شعلوں سے دہکتا رکھے گا… کم و بیش اسی کیفیت سے ایران کے حکمران آیت اللہ صاحبان دوچار ہیں… جنرل قاسم سلیمانی جیسے کامیاب گوریلا جرنیل کہ جس نے شام و

عراق وغیرہ کے اندر ایرانی فوجی طاقت کی دھاک بٹھا رکھی تھی امریکہ کے ہاتھوں اچانک قتل نے ان کی قومی اور ریاستی انا کو شدید طور پر زخمی کیا ہے… بدلہ وہ یقینا لینا چاہتے ہیں اور اپنے عوام اور دنیا کو ایسا کرتا ہوا بھی دکھنا چاہتے ہیں… لیکن صف بندی کر کے امریکہ کے خلاف پوری جنگ چھیڑ دینا ان کے بس کا بھی روگ نہیں… وہ بھی لڑائی کا درمیانی راستہ اختیار کرنا … وہ راستہ کیا ہو گا اور بدلہ کس طرح لیاجا سکے گا اس پر ایران کی حکمران قوت کا غوروخوض جاری ہے… تاہم یہ امر طے ہے کہ اس واقعہ کے نتیجے میں ایران کے گردوپیش کے خطے اور ممالک کے اندر خطرناک صورت حال برقرار رہے گی… امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے رہیں گے… پاکستان بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا…

یہ فتنہ نیا نہیں… آگ اور شعلوں کا یہ کھیل پہلی مرتبہ نہیں کھیلا جا رہا… اس کی تاریخ کم از کم ایک صدی پرانی ہے… سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کر دیا گیا تھا… اسے کئی ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا تھا… تیل کے ذخائر نئے نئے دریافت ہوئے تھے… برطانیہ اور فرانس جیسی یورپی طاقتوں نے اس خطے کے اندر جہاں تیل کا ایک کنواں ملا ریاست قائم کر دی… عرب قوم پرستی کے جذبات کو خوب خوب اچھالا گیا… پھر 1917ء کے خفیہ معاہدہ بالفور کے ذریعے اسرائیلی ریاست کے قیام کی منصوبہ بندی کی گئی… 1948ء میں یہودیوں کے علیحدہ وطن کے نام پر اس نے جنم لیا اور خنجر لے کر تیل کی دولت سے مالا مال عرب ملکوں کے سینے پر آن بیٹھی… دنیا کی کمان امریکہ کے ہاتھوں میں آن چکی تھی… اس نے اپنے مفادات کے محافظ کے طور پر اسرائیل کو پالنے پوسنے میں کوئی کسر روا نہ رکھی… 1956ء کی جنگ سویز ہوئی… جون 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ نے بقیہ فلسطین اور کئی عرب علاقوں پر قبضہ کر لیا… اکتوبر 1973ء میں بارسوم بڑی جنگ چھڑ گئی… مصر نے اس کے نتیجے میں نہر سویز تو واپس لے لی لیکن امریکہ کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ کا معاہدہ کر کے جھاگ کی طرح بیٹھ گیا… اسرائیل امریکہ کی سرپرستی میں علاقے کی بڑی طاقت بن گیا… 1979ء میں انقلاب ایران برپا ہوا… اس نے امریکی سپر طاقت کو سرعام للکارا… اسرائیل کی نابودی کے فلک شگاف نعرے لگائے… کشیدگی نے عرب ممالک سے نکل کر دنیائے عجم کے ایک اہم مسلمان ملک کو حصہ دار بنا لیا… یہاں تک کی کہانی اپنی جگہ لیکن تنازع کی موجودہ شکل کا آغاز2003ء میں اس وقت ہوا جبکہ امریکہ کے ٹرمپ کی مانند ری پبلکن صدر بش نے صدام حسین کے عراق پر غلط الزام لگا کر فوجی یلغار کر دی کہ اس نے اپنے زیرسایہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ذخائر چھپا رکھے ہیں… اس کی پاداش میں عراق جیسا ملک امریکہ کی قابض فوج کے تسلط میں چلا گیا… لیکن تعجب کی بات یہ تھی جنوبی عراق میں بسنے والی اکثریت کی حامل شیعہ آبادی کی مذہبی اور سیاسی قیادت نے خاموشی کے ساتھ اپنے ملک پر امریکی جارحیت کی حمایت کر دی اور اس کے فوجی قبضے کو برداشت کر لیا… مقصد یہ تھا نتیجے میں عراق کے اندر سنیوں کی جگہ شیعوں کی حکومت قائم ہو جائے گی… امریکہ نے بھی ان کے جذبات کو انگیخت دی… اس کی نگرانی میں انتخابات ہوئے اور شیعہ اکثریت والی انتظامیہ نے اقتدار سنبھال لیا… خانہ جنگی پہلے سے شروع ہو چکی تھی… اب اس نے شدت اختیار کر لی… کرد شمالی عراق کے اندر نیم خودمختار انتظامیہ کے مالک بن گئے… جنوب شیعوں کے تصرف میں تھا… وسطی عراق میں سنیوں کی اکثریت تھی امریکہ کی من پسند لیکن ایران دوست مرکزی حکومت وجود میں آ گئی… ایران نے اس صورت حال کا بھرپور فائدہ اٹھایا… اپنا رسوخ پورے خطے کے ممالک کے اندر یعنی عراق کے علاوہ شام لبنان اور یمن میں بھی بڑھا دیا… 2011ء کی نام نہاد عرب بہار نے بقیہ کسر پوری کر دی… شام خانہ جنگی کا شکار ہوگیا… جہاں ایران نے روس کے ساتھ مل کر اور امریکہ کے مقابلے میں صدر بشارالاسد کا کھل کر ساتھ دیا… یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کو سعودی عرب کے مقابلے میں لاکھڑا کیا… لبنان میں ایران کی حامی حزب اللہ بڑی مقامی طاقت بن گئی… اس کے ساتھ ایران کا ایٹمی پروگرام پیش رفت دکھاتا ہوا امریکہ کی نظروں میں خطرے کی علامت بن گیا… تب 2015ء میں اس وقت امریکی صدر باراک اوبامہ نے یورپی ممالک کے ساتھ مل کر ایران کو ایٹمی معاہدہ کرنے پر مجبور کیا… کشیدگی قدرے کم ہوئی… لیکن 2016ء میں ڈونالڈ ٹرمپ نے برسراقتدار آنے کے بعد اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر توڑ ڈالا… اور ایران کو کھلے عام للکارا بندے دے پتر بن جائو ورنہ میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں… یہ ہے وہ صورت حال جو 3 جنوری کو ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کے قتل پر منتج ہوئی ہے… ایرانی سیخ پا ہیں اور امریکہ تلا ہوا ہے…

پاکستان نے اصولی طور پر درست مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ کسی بھی فریق کو اپنی سرزمین استعمال کرنے نہیں دے گا… لیکن ہماری ستر سال کی تاریخ بتاتی ہے ہم ایک مضبوط اور جاندار اصولی بیانیہ پیش کرنے کے بعد خاص طور پر امریکہ کے دبائو میں پیچھے ہٹنے کو بھی تیار ہو جاتے ہیں… نائن الیون کے بعد جو کچھ ہوا وہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے… اب کیا ہو گا… تب مشرف کی فوجی حکومت تھی… اب عمران خان کی سویلین اور منتخب کہلانے والی سول انتظامیہ برسراقتدار ہے… لیکن طرفہ تماشا ملاحظہ کیجئے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد امریکہ کے وزیر خارجہ پومپیو نے ہمارے وزیراعظم یا وزیر خارجہ کی بجائے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو براہ راست ٹیلیفون کر کے اعتماد میں لیا ہے… اس کا کیا مطلب ہے… اس کے ساتھ صدر ٹرمپ نے امریکہ کے اندر پاکستان کے فوجی افسروں کی تربیت کے پروگرام کو بحال کر دیا ہے… یعنی امریکہ اب بھی ہماری عسکری قوت کے ساتھ براہ راست معاملات طے کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے… بہتر ہو گا اس نازک علاقائی مسئلے پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جائے… اس کے بعد دونوں ایوانوں کی مشترکہ دفاعی کمیٹی معاملات کو پوری طرح ہاتھ میں لے اور ملک کے اعلیٰ تر مفادات کو سامنے رکھنے کے لئے تمام اداروں کی رہنمائی کے لئے پالیسی تیارے کرے۔


ای پیپر