مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات
09 جنوری 2020 2020-01-09

امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کے نتیجے میں ایرانی القدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت نے امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ دونوں طرف سے اٹھایا جانے والا کوئی بھی جارحانہ قدم مشرق وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑکا سکتا ہے۔

جنرل سلیمانی کی ہلاکت واضح طور پر امریکی جارحیت ہے۔ امریکہ نے یہ قدم اٹھا کر دنیا کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اسے عالمی قوانین ، ضابطوں، معاہدوں اور کنونشنوں کی رتی بھر بھی پرواہ نہیں ہے۔ اسے عالمی معاہدوں اور ضابطوں کا کوئی پاس نہیں ہے۔ وہ جہاں اور جیسے چاہے گا اپنے سامراجی مفادات کے حصول اور تحفظ کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کرے گا۔ اسے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ اس کے اقدامات کے نتیجے میں کوئی ملک یا خطہ عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے۔ جنگ کتنے ہزار یا لاکھ لوگوں کو نگلتی ہے۔ تہذیب اور سماج برباد ہوتے ہیں۔ اچھے خاصے مہذب، مادی لحاظ سے مضبوط اور ترقی کرتے سماج واپس پتھر کے دور میں دھکیل دیئے جاتے ہیں۔ انسانیت، تہذیب، ترقی، جمہوریت ، انسانی وقار اور عظمت، انسانی حقوق اور زندہ رہنے کا حق وغیرہ سب نعرے ہیں۔ امریکہ ان نعروں کو بھی اپنے سامراجی مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اصل مقصد اپنے سامراجی مفادات کا تحفظ اور حصول ہے۔ یہی وجہ ہے امریکہ نے دنیا میں سب سے زیادہ عدم استحکام پیدا کیا ہے۔ جنگیں مسلط کی ہیں۔ مذہبی ، فرقہ وارانہ، نسلی اور دیگر تعصبات کو استعمال کر کے مختلف سماجوں اور ممالک کو تاراج کیا ہے۔ یہ سب کچھ دنیا پر امریکی غلبے اور تسلط کو قائم کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے کیا ہے۔ امریکی اقدامات اور پالیسیاں دنیا میں عدم استحکام پھیلانے کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ امریکہ کا سامراجی کردار جنگوں، تنازعات اور باہمی جھگڑوں کی بڑی وجہ ہے۔ کبھی جمہوریت اور کبھی آمریت کی حمایت کر کے امریکی حکمران اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔

جنرل قاسم سلیمانی کا قتل بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔ جنرل سلیمانی کے قتل کے پیچھے دو واضح امریکی مقاصد نظر آتے ہیں۔ جنرل سلیمانی کا مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے خلاف مزاحمت کو منظم کرنے اور ایران کی حامی مسلح قوتوں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار رہا۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کو بچانے اور امریکہ کی حامی قوتوں کے خلاف کامیاب مزاحمت کو منظم کرنے میں جنرل سلیمانی کا نمایاں کردار تھا۔ اسی طرح حماس، حوثی باغیوں اور عراق میں ایران کی حامی ملیشیاء کو پروان چڑھانے اور مضبوط کرنے میں ان کا فیصلہ کن کردار تھا۔

ایران کو یہ احساس تھا کہ وہ براہ راست جنگ میں شاید امریکی فوجی طاقت کا سامنا نہ کر سکے۔ امریکہ کو جنگی سازو سامان اور ٹیکنالوجی میں ایران پر واضح برتری حاصل ہے۔ 1979ء کے انقلاب کے بعد ایران نے بھی اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کی کوشش کی اور ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس فوجی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے ایران نے خطے میں شیعہ ملیشیاز کے قیام اور پہلے سے موجود قوتوں کو منظم کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔ پراکسی قوتوں کے ذریعے ایران کے دفاع کی حکمت عملی اب تک کامیاب رہی ہے۔ پراکسی فورسز کی موجودگی نے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اثر و رسوخ اور پہنچ میں اضافہ کیا۔ یمن میں حوثی فورسز سعودی عرب کے یمن میں مفادات کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ حزب اللہ اسرائیل کے لیے لبنان میں مسلسل سردرد بنی ہوئی ہے اور اسرائیل کو حزب اللہ کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ اسی طرح حماس غزہ میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے۔ ایران کی حامی شیعہ فورسز عراق میں اپنی قوت میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ 2003ء میں امریکہ کے حملے اور صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کا اثر ورسوخ عراق میں بڑھا ہے۔ ایران کی مدد کے بغیر عراق میں استحکام برقرار رکھنا مشکل امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عراق میں تعاون کے بدلے صدر اوباما اور 5 بڑی یورپی قوتوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا تھا۔ جس کا ایک طرف مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا تھا تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں ایران کے کردار کو ایک حد تک تسلیم کرنا تھا۔ اس معاہدے کے خلاف ری پبلکن پارٹی اور اسرائیلی حکومت نے سخت ردعمل دیا تھا۔ سعودی عرب بھی اس معاہدے سے خوش نہیں تھا۔ صدر اوباما کی صدارت کے دوسرے دور میں صدر اوباما اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان سرد مہری بڑھ گئی تھی مگر صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں نئی گرم جوشی پیدا ہوئی۔ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی قبضے اور ظلم و جبر پر مبنی پالیسیوں کی حمایت کرکے انہیں دوام بخشا۔

اسرائیل مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی کا اہم مہرہ ہے۔ یہی وجہ ہے امریکی حکمران اسرائیلی جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور عالمی قوانین اور معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزی کو مسلسل نظر انداز کرتا ہے۔ فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی درپردہ حمایت کرتا ہے۔ اسرائیل مسلسل فلسطینیوں کے معاشی ، سیاسی اور جمہوری حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کر رہا ہے مگر امریکہ خاموش ہے۔ا مریکہ نے اسرائیل کو خطے کے پولیس مین کے طور پر پروان چڑھایا ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت ایرانی حکومت کی پالیسی کا اہم جزو ہے۔ اسرائیل اور امریکہ دونوں ایران کو اپنے مفادات کے راستے میں اہم رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ امریکی پالیسی ایران کے ساتھ کھلی اور براہ راست جنگ نہیں ہے بلکہ ایران کے ساتھ کشیدگی کو برقرار رکھ کر اس پر دباؤ بڑھانا ہے۔ اقتصادی پابندیاں بھی اسی دباؤ کا حصہ ہیں۔ امریکی پالیسی کا دوسرا پہلو ایران میں حکومت کی تبدیلی ہے۔ امریکہ ایران میں ایسی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے جو اس کے مفادات کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے بلکہ ان مفادات کی محافظ ہو۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران میں شاہ ایران جیسی حکومت کو برسراقتدار لایا جائے۔

امریکہ نے جہاں حکومت بدلنی ہوتی ہے تو وہاں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ معاشی بحران کو جنم دیتا ہے۔اقتصادی پابندیاں عائد کرنا معاشی سبوتاژ اور بحران امریکہ کی پالیسی کا حصہ ہیں۔ اس وقت ایران پر امریکہ نے جس قسم کی سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔

امریکہ کو جنگ سے زیادہ دلچسپی ایران کو راہ راست پر لانے میں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ حوثی باغی یمن میں سعودی عرب کی خواہشات اور بالادستی کو تسلیم کریں اور مزاحمت ترک کر دیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ایران کی جانب سے بشار الاسد کو فراہم کی جانے والی مدد بند کی جائے اور وہاں سے القدس فورس کو واپس بلایا جائے۔ امریکہ کی خواہش ہے کہ شام میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کی جائے جو اسرائیل کے خلاف مزاحمت نہ کرے۔ امریکہ جہاں مشرق وسطیٰ میں اپنے معاشی اور سیاسی سامراجی مفادات کا تحفظ اور حصول چاہتا ہے، وہیں پر اسرائیل کی مشرق وسطیٰ میں بالادستی اور غلبے کی راہ میں موجود ہر رکاوٹ کو ہٹانا چاہتا ہے۔ امریکی سامراجی مداخلت اور پالیسیاں مشرق وسطیٰ کے عدم استحکام کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔


ای پیپر