ایران: امریکہ کے لیے نئی دلدل تیار ہے
09 جنوری 2020 2020-01-09

قوموں کو سمجھنے کے لیے ان کے جغرافیہ کے ساتھ ساتھ تاریخ کا مطالعہ بھی ضروری ہوتا ہے۔ 80ء کی دہائی میں جب آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ جاری کیا اور رشدی کے سر کی قیمت مقرر کی تو آنے والے وقت میں کئی دہائیوں تک مغربی دنیا کا مسئلہ یہ تھا کہ اگر ایران اپنا وہ فتویٰ واپس لے لے تو اس کے ساتھ تعلقات کا آغازہو سکتا ہے۔ لیکن اس وقت تک امام خمینی کا انتقال ہو چکا تھا اور ان کے روحانی جانشین کا مؤقف تھا کہ وہ یہ فتویٰ منسوخ نہیں کر سکتے۔ یہ سلسلہ 9/11 تک چلتا رہا اُس کے بعد دنیا کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہوئی جو پہلے سے کہیں زیادہ ہنگامہ خیز تھا۔ افغانستان اور عراق پر براہ راست حملوں کے بعد امریکہ کا اگلا ہدف ایران تھا مگر عراق اور افغانستان میں پیش آنے والے حالات مشکلات اور کھربوں روپے کے اخراجات کی وجہ سے امریکہ ایسا کرنے سے باز رہا۔ امریکہ میں ری پبلیکن اور ڈیموکریٹ دونوں پارٹیوں کی حکومتوں کے دوران معاملات جوں کے توں چلتے رہے لیکن اس تمام عرصہ میں ایران امریکہ کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتا رہا اس کی بڑی وجہ اسرائیل ہے کیونکہ امریکہ میں موجود یہودی لابی ہمیشہ امریکی انتخابی ریس میں پیسہ لگاتی ہے اور ان کی پیسے کے بل بوتے پر بننے والا صدر ان کا محتاج ہوتا ہے اسے دوبارہ منتخب ہونے کے لیے ان کی مدد درکار ہوتی ہے۔ اسرائیل کے تناظر میں دیکھا جائے تو پورے مڈل ایسٹ میں وہ ایران کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے لہٰذا ہر اسرائیلی حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ امریکہ کو مجبور کیا جائے کہ وہ ایران کو سبق سکھائے۔

سابق امریکی صدر بارک اوباما کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ ان کے دور میں 2015ء میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان نیو کلیئر معاہدہ ہوا کہ ایران ایٹم بم نہیں بنائے گا اور اس سے اقتصادی پابندیاں اٹھالی جائیں گی ڈونالڈ ٹرمپ نے برسراقتدار آتے ہی سب سے پہلے تو اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کیا اور ایران کے ساتھ جنگ کے سے حالات پیدا کر دیئے اور مڈل ایسٹ مین ایران کے مخالف سعودی عرب کو 100 ارب ڈالر کا اسلحہ بیچنے کے معاہدے کیے اور ایران پر معاشی پابندیاں دوبارہ بحال کر دی گئیں۔

اس اثناء میں ایران نے مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کر دیا جہاں سب سے پہلے تو لبنان میں حزب اللہ کو فوجی امداد اور اسلحہ فراہم کیا گیا حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ جنگ میں اپنی میزائل سلاحیت سے اسرائیل کا ناقابل شکست امیج خاک میں ملا دیا دوسری طرف سعودی اور امریکی اپنی تمام تر طاقت کے باوجود شام میں بشار الاسد کی حکومت نہیں گرا سکے کیونکہ شام کی حکومت کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔ عراق پر

کھربوں روپے خرچ کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ آج عراق کی برسراقتدار حکومت ایران کے ساتھ ہے۔ 2015ء میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے یمن میں جو ایڈونچر کیا تھا ایران نے وہاں حوثی باغیوں کا ساتھ دیا اور امریکہ اور سعودیہ سر توڑ کوشش کے باوجود حوثیوں کو شکست نہیں دے سکے ان کے اندر اتنی طاقت موجود ہے کہ وہ جب چاہیں سعودی عرب پر حملہ کر سکتے ہیں۔ امریکہ کو مسئلہ یہ ہے کہ اس کی اتنی فوجی طاقت کے باوجود صرف ایران کی وجہ سے اسے مشرق وسطیٰ میں کامیابی نہیں مل رہی۔

مشرق وسطیٰ کی اس ساری صورت حال کے پیچھے کنٹرول کرنے میں ایران کی جانب سے صرف ایک دفاع کام کر رہا تھا جس کا توڑ امریکہ کے پاس نہیں تھا اور وہ تھا میجر جنرل قاسم سلیمانی جو ایرانی پاسداران انقلاب فوج کے القدس بریگیڈ کا کمانڈر تھا جو اس ہفتے بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ جنرل قاسم کی وجہ سے امریکہ کو مڈل ایسٹ میں ہر محاذ پر شکست کا سامنا تھا لہٰذا اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ایک خفیہ معاہدے کے تحت اس قتل کا فیصلہ ہوا جس پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔ اس واقعہ کے بہت سے پہلو ہیں۔ ایران کے روحانی پیشواء علی خامنہ ای نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کا فتویٰ جاری کرتے ہوئے ان کے سر کی قیمت 80 کروڑ ڈالر مقررکر دی ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کو آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ایران کا نمبر ٹو سمجھا جاتا تھا آیت اللہ کے وہ بہت قریب تھے اور آیت اللہ خامنہ ای نے انہیں زندہ شہید کا خطاب دیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار صدارت کے امیدوار ہیں اور امریکہ میںیہ الیکشن کا سال ہے ہر الیکشن کے موقع پر امریکی صدر عالمی سطح پر کوئی ایسا ایڈونچر کرتا ہے جس سے اُسے عوام کے ووٹ حاصل ہو جائیں ایرانی جنرل کو مارنے کے لیے جو وقت کا انتخاب کیا گیا ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ یاد رہے کہ 2012ء میں باراک اوباما نے دوبارہ الیکشن جیتنے کے لیے ایبٹ آباد آپریشن کیا تھا جس میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت ہوئی جسے اوباما نے کیش کروا لیا۔ مگر سوال یہ ہے جنرل قاسم دہشت گرد نہیں تھے وہ ایک مخالف ملک کے حاضر سروس جرنیل تھے اور ان پر حملہ جنیوا کے جنگی جرائم اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام دنیا بھر میں خصوصاً مشرق وسطیٰ میں نئی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہو گا۔ ایران نے انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔

عراقی پارلیمنٹ میں فوری طور پر ایک قرار داد منظور کر لی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ عراق سے نکل جائے ۔ یہ ایران کی بہت بڑی کامیابی ہے جس کا کریڈٹ جنرل سلیمانی کو جاتا ہے جس نے وہاں مقامی عراقی ملیشیاء قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس حملے نے ایران اور عراق کو امریکہ کے خلاف باہم متحد کر دیا ہے امریکہ کی گزشتہ 16سال کی کارکردگی زیرو ہو گئی ہے۔

اس واقعہ کے بعد افغانستان میں طالبان امریکہ مفاہمتی عمل کو نقصان پہنچے گا۔ طالبان ویسے تو امریکہ اور ایران دونوں کے مخالف ہیں اور 2001ء میں طالبان حکومت کے خاتمے میں ایران امریکہ کی خاموش حمایت کر رہا تھا مگر موجود حالات یہ ہیں کہ ایران طالبان کو قائل کرلے گا کہ وہ امن عمل سے الگ ہو جائیں اور دونوں مل کر افغانستان میں امریکہ کو شکست دیں افغانستان کے ہزارہ قبائل شیعہ ہیں اور ایران کے ساتھ ہیں۔ طالبان کے اندر میں شیعہ گروپ موجود ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ طالبان سمجھتے ہیں کہ امریکہ ان کے کسی بھی لیڈر کو دھوکے سے قتل کروا سکتا ہے۔ طالبان کے سابق امیر ملا منصور جب ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تو وہ ایران سے پاکستان میں داخل ہو رہے تھے۔ اس وقت طالبان مائنڈ سیٹ امریکہ سے زیادہ ایران سے قریب ہے۔

ایران کے لیے اس وقت بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان کے پاس جنرل قاسم سلیمانی کامتبادل نہیں ہے۔ شام لبنان عراق اور یمن میں گروپوں کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات تھے ان کے جانشینوں کو اس لیول پر پہنچنے کے لیے کئی سال کا عرصہ اور باہمی اعتماد درکار ہو گا۔ دوسری طرف ایران پر معاشی پابندیوں کی بحالی کی وجہ سے ایران کو ان ممالک میں عسکری کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بجٹ کے مسائل سنگین ہو جائیں گے۔ البتہ اگر ڈونالڈ ٹرمپ الیکشن ہار جاتے ہیں تو اس کے بعد ممکن ہے کہ تعلقات میں تناؤ کی شدت میں کمی آجائے کیونکہ ڈیموکریٹ پارٹی جس نے ایران سے معاہدہ کیا تھا اگر وہ واپس آ گئے تو ہو سکتا ہے اس معاہدے کی بحالی پر کام شروع ہو جائے۔

حملے کے فوری بعد وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا پاکستانی آرمی چیف کو فون کرنا ہر سطح پر موضوع بحث ہے جس کی وجہ سے آئی ایس پی آر کو وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا کہ ہماری سر زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی پاکستان میں شیعہ برادری نے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ میں پالیسی بیان دیا ہے کہ ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ یہی بہترین راستہ ہے ورنہ پاکستان کی اندرونی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

مشرق وسطیٰ میں ایران کا سب سے بڑا حریف سعودی عرب حیرت انگیز طور پر اس واقعہ کے بعد اتنا خوش نظر نہیں آتا۔ سعودی عرب کی طرف سے اس موقع پر ایران مخالف بیان نہ دینا کافی معنی خیز ہے۔ اس سے عراقی وزیراعظم کے اس بیان کو تقویت ملتی ہے کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جنرل قاسم کو امریکہ نے اس لیے مارا ہے کہ وہ عراقی وزیراعظم کے لیے کوئی پیغام لے کر آ رہا تھا کیونکہ عراق اپنے تئیں ایران اور سعودی عرب میں صلح کرانے کی کوشش میں مصروف تھا۔


ای پیپر