پاکستان کا بیانیہ کیا ؟
09 جنوری 2020 2020-01-09

الیکشن 2013 کے بعد اندرونی و بیرونی طاقتوں کا سامنا درپیش ہوا تو مسلم لیگ ن نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے’’سول سپریمیسی‘‘ کا نعرہ لگا دیا۔ پانامہ کیسز کھلے تو عوام کی طاقت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی گئی۔ دھرنوں کا سامنا ہوا تو مریم نواز نے’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگا دیا۔ مسلم لیگ ن کے بارے میں نظریاتی جماعت ہونے کی غلط فہمی یوں تو بہت سے دانشوروں کو بھی ہوئی مگر وہ بھی اندر سے جانتے تھے کہ ن لیگ نظریات پر نہ سہی مگر میاں نواز شریف کی ضدی طبعیت کے باعث ضرور ڈٹی رہے گی۔ میاں نواز شریف 3 مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں، ملک میں اس سے بڑا عہدہ تو کوئی نہیں ہو سکتا مگر وزیر اعظم رہنے کے باوجود جب انھوں نے محسوس کیا کہ طاقت کا اصل سرچشمہ وزیر اعظم نہیں ہے تو انھوں نے سول سپریمیسی کے نام پراصل طاقت کے حصول کے لئے جدوجہد شروع کر دی۔ اس جدوجہد کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام کے ساتھ ساتھ انکے کارکن اور جمہوریت پسند سیاسی وسماجی رہنما بھی انکے بیانیے’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کواصل بیانیہ مان کر انکے ساتھ کھڑے ہو گئے مگر ماضی کی طرح میاں نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر اپنے کارکنوں اور اپنے ماننے والوں کو مایوس کیا اور اپنے ہی بیانیے سے پھر گئے۔ ڈیل ہو یا ڈھیل پاکستان کی تاریخ میں کبھی طاقت کے حصول کے لئے اور کبھی طاقتور سے بچنے کے لئے ڈیلز بھی ہوتی رہی ہیں اور ڈھیل بھی ملتی رہی ہے۔ جمہوریت کی تعریف پڑھیں تو پیپلز’’فرسٹ‘‘ یعنی عوام پہلے کا بیانیہ ملتا ہے مگر بادشاہت کی تاریخ دیکھیں تو ’’کنگ فرسٹ‘‘ یعنی بادشاہ پہلے اور رائل فیملی سیکنڈ یعنی دوسرے نمبر پر شاہی خاندان کا بیانیہ ملتا ہے۔ اس لئے جانے دیجیے اور بند کیجیے یہ ماتم کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ چل بسا ہے۔ سب جانتے تھے کہ یہ بیانیہ کبھی عوام کے لئے تھا ہی نہیں بلکہ طاقت کے حصول کے لئے تھا۔ چلیں ایک اور بیانیہ یادکرتے ہیں کوئی تھا جو کہتا تھا’’اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے‘‘ اور پھر انکے جانشین چند روز قبل تک سلیکٹڈ وزیراعظم کی گردان بھی الا پتے نظر آئے مگر روٹی کپڑا مکان اور پھر زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کا نعرہ تو شاید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے ساتھ ہی دفن ہو گیا تھا۔ اسے بھی چھوڑ دیتے ہیں حکمران جماعت کا بیانیہ ہی دیکھ لیں، وزیر اعظم آج بھی اپنی تقریروں میں یہ کہتے نظرآتے ہیں کہ وہ این آراو نہیں دیں گے، کسی کو نہیں چھوڑیں گے اور پھر یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے تو کسی کو نہیں چھوڑنا البتہ ادارے خود مختار ہیں۔ میرے لیے تو یہ فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہے کہ میں عوام کو معصوم کہوں یا 3 بڑی سیاسی جماعتوں کی عقل کوداد دوں۔ مجھے تو یہ بھی سوچنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے بیانیے کو کیا نام دینا ہے جو اپنے کردار کی ادائیگی کے باوجود معاوضہ نہ ملنے پر سراپا احتجاج ہیں۔ چلیں چھوڑیں سب نعروں کو سب مفروضوں کو اور بیانیوں کو ہم اپنے بابائے قوم ’’قائداعظم محمد علی جناح‘‘ کے بیانیے پر چلتے ہیں جو فرماتے ہیں:

’’ہم سب پاکستانی ہیںاورہم میں سے کوئی بھی سندھی،بلوچی،بنگالی،پٹھان یا پنجابی نہیںہے۔ ہمیں صرف اورصرف اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہیے‘ ‘(جون 1948)

قائداعظم کے بیانیے کو دیکھا جائے تو سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کے بل پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے مفاہمتی پالیسی اپنانا خوش آئند ہے۔ قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے ترمیمی بلز کے مطابق اب چیف آف سروسز کے مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار وزیراعظم کوحاصل ہو گا۔ وزیراعظم ملک کے اندرونی و بیرونی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے صدر مملکت کو چیف آف سروسز کی مدت ملازمت میں توسیع کی ہدایت جاری کریں گے۔ نئی ترامیم کے مطابق کسی سروس چیف کی توسیع کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا جبکہ توسیع کا دورانیہ مدت ملازمت کے برابر بھی ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی وجوہات پر نظرڈالی جائے تو ہمیں نہ صرف اندرونی عدم استحکام کا سامنا ہے بلکہ ہمسایہ ملک میں’’ شہریت قانون‘‘ کے نفاذ کے بعد نہتے کشمیری مسلمان بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے دفاع کو سب سے بڑا خطرہ بھارت سے رہا ہے جو آج خود اپنی غلط پالیسیوں کے باعث خانہ جنگی کا شکار ہو چکا ہے۔ بھارت جو پاکستان کو خطے میں تنہا کرنے کی بات کرتا تھا آج خود مسلمان دشمن پالیسیوں پر تنقید کا سامنا کر رہا ہے۔ ان حالات میں جب دشمن کمزور دور سے گزر رہا ہو پاکستان کی جانب سے درست حکمت عملی اسے خطے میں مستحکم پوزیشن مہیا کر سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکی تنازع کی بات کی جائے تو یہ مان لینا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہو گا کہ پاکستان کا امریکہ اور ایران کے تنازعے میں کوئی کردار نہیں ہو گا۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور پاکستان کے وزیر خارجہ بھی باقاعدہ پالیسی کا اعلان کر چکے ہیں کہ پاکستان کسی علاقائی تنازعے میں فریق نہیں بنے گا کیونکہ پاکستان کبھی بھی آگ کو بھڑکانے کی پالیسی پر عمل پیرا نہیں رہا۔ وزیر خارجہ اور اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پالیسی بیانات درست ہیں مگرپاکستان کی تاریخ دیکھیں تو امریکہ کی جنگ میں وطن عزیز کو براہ راست یا بالواسطہ گھسیٹا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس سے قبل بھی ایران اور سعودیہ کے درمیان مفاہمت کا کردار ادا کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں مگر اب امریکہ کی جانب ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے ذریعے جلتی پر تیل کا کام کیا گیا ہے۔ اس لیے پاکستان لاکھ جان چھڑا لے اگر اس آگ کو قابو کرنے میں کامیابی نہ ملی تو پاکستان کو فریق بننا پڑے گا۔ ماضی کی طرح پاکستان کو مرضی سے یا جبراَ کسی ایک کو ہی چننا ہوگا۔ ان حالات میں تمام محب وطن پاکستانیوں کو مان لینا چاہیے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اگر اپنے بیانیے کو دفنا کر آرمی ایکٹ میں ترمیم کی متفقہ منظوری دی گئی ہے تو یہی ریاست، سیاست و جمہوریت سب سے حق میں ہے۔


ای پیپر