مسلم لیگ ن تنقید کی زد میں…!
09 جنوری 2020 2020-01-09

قومی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو الیکٹرونک میڈیا کے اینکر پرسنز اور تجزیہ نگاروں اور اخبارات کے کالم نگاروں اور قلم کاروں کی طرف سے اکثر تنقید و تنقیص کا سامنا کر نا پڑتا رہتا ہے۔ تو کبھی کبھار وہ ان کی طرف سے تعریف و تحسین کے مستحق بھی ٹھہرائے جاتے ہیں۔ یہ تنقید و تنقیص یا تعریف و تحسین خالص میرٹ اور اُصولوں کی بنیاد پر ہو تو اس میں کوئی قباحت نہیں لیکن اس کی بنیاد اگر ذاتی پسند و نا پسند، کوئی منفعت ، لالچ یا کسی مخصوص مقصد یا ٹارگٹ کا حصول ہو تو پھر تنقید و تنقیص یا تعریف و تحسین کا سار ا سلسلہ ہی مشکوک اور بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے ۔ ان دنوں مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت کو دونوں طرح کچھ اصولی بنیا د پر اور کچھ محض ذاتی مخالفت اور پر خاش کی بنیا د پر تنقید کا نشانہ بننا پڑ رہا ہے ۔ مسلم لیگ ن اور اس کے قائدین کے لیے یہ صورت حال کیوں بنی ہے اس کی وجہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل کی پارلیمنٹ (قومی اسمبلی) سے اتفاق رائے سے منظوری کے لیے مسلم لیگ ن کی غیر مشروط آمادگی اور اس کا فوری اظہار ہے ۔ مسلم لیگ ن کو تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے تیار کردہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل کی پارلیمنٹ سے منظوری کے لیے اتفاق رائے کا فی الفور اظہار کرنا چاہیے تھا یا نہیں اس پر بحث کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ جوں ہی پچھلی جمعرات کو اس بل کی اتفاق رائے سے منظوری کے لیے حکومتی وفد نے مسلم لیگ ن کے قائدین جن میں مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف ، پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیرمین رانا تنویر حسین اور سابق سپیکر قومی اسمبلی و حا ل ممبرقومی اسمبلی سر دار ایاذ صادق نمایاں تھے سے ملاقات کی تو مسلم لیگی قائدین نے ترمیمی بل کی اتفاق رائے سے منظوری کے لیے فی الفور حمایت کا اعلان ہی نہیں کر دیا بلکہ مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے یہ صراحت کرنا بھی ضروری سمجھا کہ "نواز شریف کی ہدایت پر ان کی جماعت توسیع کے حق میں ووٹ ڈال رہی ہے " خواجہ آصف نے مزید یہ بتانا بھی ضروری سمجھا کہ مسلم لیگ کی لندن میں موجود قیادت نے ایک آدھ ماہ قبل اپنے مشاورتی اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی تھی۔

مسلم لیگ ن کی طرف سے ترمیمی بل کی حمایت کا بظاہر عجلت میں کیا جانے والا فیصلہ سامنے آنے کی دیر تھی کہ اس پر مختلف حلقوں کی طرف سے تنقید اور نکتہ چینی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اپوزیشن جماعتوں جن میں پیپلز پارٹی سر فہرست ہے نے اگر چہ پارلیمانی قواعد و ضوابط پر عمل در آمد کے بعد بل کی اتفاق رائے سے منظوری کا اعلان کر دیا تھا لیکن عوام میں اپنی "جمہوری ساکھ" کو برقرار رکھنے کے لیے مسلم لیگ ن پر یہ اعتراض کرنا بھی ضروری سمجھا کہ مسلم لیگ ن نے ترمیمی بل کی اتفاق رائے سے منظوری کے حوالے سے اس کو اعتماد میں نہیں

لیا۔ اس بنا پر پیپلز پارٹی کی طرف سے بل کی حمایت یا مخالفت کوئی معنی نہیں رکھتی اور اس بل کی منظوری کی قومی اسمبلی میںموجود پیپلز پارٹی کے 54 ارکان مخالفت بھی کریں تب بھی بڑی اپوزیشن جماعت ( مسلم لیگ ن) کی حمایت کی بنا پر اس کی منظوری کو نہیں روکا جا سکتا ۔ اس لیے و ہ اس بل کی اتفاق رائے سے منظوری پر صاد کر رہی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان کی طرف سے بھی مسلم لیگ ن پر یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ اس نے ترمیمی بل کی اتفاق رائے سے منظوری کی حمایت کا اعلان کرنے سے قبل ان سے مشورہ کرنا یا ان کو اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھا۔ اسی طرح بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں اور ان کے راہنماوں سنیٹر میر حاصل بزنجو اور سینٹر عثمان کاکڑ کی طرف سے مسلم لیگ ن کے قائدین پر اسی طرح کے اعتراضات وارد کیے گئے جن میں بہر کیف ایک وزن بنتا ہے کہ مسلم لیگ ن ان قوم پرست جماعتوں اور ان کے قائدین کے ساتھ اچھے ورکنگ ریلیشن برقرار رکھنے اور باہمی تعاون کی دعویدار ہے۔

اس سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ بعض حلقوں کے مسلم لیگ ن پر اعتراضات میں کچھ وزن بنتا ہے کہ مسلم لیگ ن نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری کے لیے اتفاق رائے کے اظہار میں کسی حد تک عجلت کا مظاہر ہ کیا ہے۔ مسلم لیگی قائدین بالخصوص پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ وہ اس ترمیمی بل کی حمایت سے قبل پارلیمانی قواعد و ضوابط پر عمل در آمد کو ضروری قرار دیتے جیسے پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کیا کہ پیپلز پارٹی ترمیمی بل کی اتفاق رائے سے منظوری کے حق میں ہے لیکن اس کے لیے پارلیمانی قواعد و ضوابط کی پابند ی ضروری ہے۔ مسلم لیگ ن کے قائدین کو شاید اپنی غلطی یا جلد بازی کا احساس ہوگیا اور وہ ایک طرف خواجہ آصف کے نام میاں محمد نواز شریف کے خط کا معاملہ سامنے لیکر آگئے جس میں میاں محمد نواز شریف نے ہدایت جاری کی کہ ترمیمی بل کی اتفاق رائے سے منظوری سے قبل پارلیمانی قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کی ٹھوس یقین دہانی حاصل کی جائے تو دوسری طرف مسلم لیگی قائدین نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے جمعہ کی رات کو ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کرکے ان سے قومی اسمبلی کا اجلا س پیر ،منگل تک ملتوی کرنے کی درخواست کی تاکہ بل کی منظوری کے لیے پارلیمانی قواعد و ضوابط پر عمل در آمد کی ان کی شرط کسی حد تک پوری ہو سکے۔ اسی بنا پر بل کو دوبارہ قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی میں نئے سرے سے زیر بحث لانے کے لیے بھیج دیا گیا اور دفاعی کمیٹی نے پیر کو دوبارہ اتفاق رائے سے اس کی منظوری بھی دے دی۔ اسی دوران میڈیا کے بعض حلقوں میں کچھ اس طرح کی خبریں بھی سامنے آئیں کہ مسلم لیگ ن کے اندر سے بھی بعض قائدین جن میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق جو نیب کی حراست میں ہیں نے ترمیمی بل کی اتفاق رائے سے منظوری سے متعلق مسلم لیگ ن کی اپنی اعلیٰ ترین قیادت (میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف) کی ہدایت پر اختیار کردہ موقف پر اعتراضات کیے اور بقول ایک ثقہ اور مستند خبر نگار کے جس خط کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ میاں محمد نواز شریف نے خواجہ آصف کے نام لکھا وہ حقیقت میں جناب شاہد خاقان عباسی کا تیار کردہ تھا جو انہوں نے میاں محمد نوازشریف کی ہدایت پر ان کی طرف سے خواجہ آصف کے نام لکھا ہوا ظاہر کیا۔

یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ مسلم لیگ ن نے آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کی اتفاق رائے سے منظوری کے اعلان میں ایک طرح کی عجلت سے کام لیا ہے تو اس سے صرف مسلم لیگی حلقے ہی مخمصے کا شکار نہیں ہوئے ہیں بلکہ عوام میں بھی مسلم لیگ کے موقف کے بارے میں کسی حد تک مایوسی اور پثرمژدگی کی صورت حال نے جنم لیا ہے ۔اس کے ساتھ مسلم لیگ ن کے سویلین بالا دستی اور اس کے "ووٹ کو عزت دو" کے نعرے سے اتفاق رکھنے والے بعض پر خلوص حامیوں کو بھی مسلم لیگ ن کے آرمی ایکٹ کے ترمیمی بل کے بارے میں اختیار کردہ موقف پر کم از کم ایک طرح کی حیرانی یا پشیمانی ضرورہوئی ہے۔ اس ضمن میں "نئی بات" کے گروپ ایڈیٹر سینر صحافی اور صائب الرائے شخصیت محترم عطا الرحمان کا نئی بات میں "قائداعظم ڈٹے رہتے" کے عنوان سے چھپنے والے کالم میں بیان کردہ خیالات اہمیت کے حامل ہیں۔تو ایک دوسری معتبر ، مستند اور ٹھوس فکر و سوچ کی مالک شخصیت محترم خورشید ندیم کا ایک قومی معاصر میں "سیاسی رومان کا المناک انجام" کے عنوان سے چھپنے والا رومان پر ور کالم بھی اسی طرح کے خیالات و افکار کی ترجمانی کرتا ہے۔ محترم خورشید ندیم نے اپنے کالم میں میاں محمد نواز شریف اور عمران خان کی حالیہ برسوں میں سوچ اور فکر کا جائزہ لیتے ہوئے لکھاہے کہ میاں محمد نواز شریف عوام کی حاکمیت کے نعرے کو آگے لیکر چلے ہیں تو عمران خان نے روایتی سیاست سے نجات کے نعرے کا پرچار کیا ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عمران خان نے اقتدار کے حصول کے لیے اپنے نظریات اور فکر کو تج دیا تو میاں محمد نواز شریف پے در پے مسائل ، مشکلات اور بالادست حلقوں کی مخالفتوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنے نظریات اور افکار سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو کر بالاخر اپنے بھائی اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کے مفاہمتی سیاست کے فارمولے سے اتفاق کرنے پر تیار ہوئے اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کا ان کی جماعت کا حالیہ موقف ان کی اسی سوچ کی غمازی کر تا ہے۔آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل کی اتفاق رائے سے منظوری معروضی حالات میں کس حد تک ضروری تھی اور مسلم لیگ نے اس بارے میں جو موقف اختیار کیا اس حوالے سے چند مزید گزارشات کا تذکرہ انشاء اللہ اگلے کالم میں کیا جائے گا۔


ای پیپر